hadith book logo

Muawtta Imam Malik

24. کتاب ذبیحوں کے بیان میں

موطأ مالك

941
Muawtta Imam Malik
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ وَلَا نَدْرِي هَلْ سَمَّوْا اللَّهَ عَلَيْهَا أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهَا ثُمَّ كُلُوهَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا کہ بدو لوگ گوشے لے کر ہمارے پاس آتے اور ہم کو نہیں معلوم کہ انہوں نے بسم اللہ ﷺ کہی تھی یا نہیں ذبح کے وقت۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بسم اللہ کہہ کے اس کو کھالو۔ کہا مالک نے یہ حدیث ابتدائے اسلام کی ہے ،۔
942
Muawtta Imam Malik
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيَّ أَمَرَ غُلَامًا لَهُ أَنْ يَذْبَحَ ذَبِيحَةً فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهَا قَالَ لَهُ سَمِّ اللَّهَ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ قَدْ سَمَّيْتُ فَقَالَ لَهُ سَمِّ اللَّهَ وَيْحَکَ قَالَ لَهُ قَدْ سَمَّيْتُ اللَّهَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهَا أَبَدًا
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عیاش نے حکم کیا اپنے غلام کو ایک جانور ذبح کرنے کا جب وہ ذبح کرنے لگا تو عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ، غلام نے کہا میں کہہ چکا، پھر عبداللہ نے کہا بسم اللہ کہہ خرابی ہو تیرے لئے، غلام نے کہا میں کہہ چکا عبداللہ نے کہا قسم ہے اللہ کی میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا۔
943
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ کَانَ يَرْعَی لِقْحَةً لَهُ بِأُحُدٍ فَأَصَابَهَا الْمَوْتُ فَذَکَّاهَا بِشِظَاظٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ فَکُلُوهَا
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری اپنی اونٹنی چرا رہا تھا احد میں، یکایک وہ مرنے لگی تو اس نے ایک دھاری دار لکڑی سے ذبح کردیا پھر آپ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا کچھ اندیشہ نہیں کھاؤ اس کا گوشت۔
944
Muawtta Imam Malik
عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّ جَارِيَةً لِکَعْبِ بْنِ مَالِکٍ کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لَهَا بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا فَأَدْرَکَتْهَا فَذَکَّتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا فَکُلُوهَا
معاذ بن سعد سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی سلع میں، ایک بکری اس سے مرنے لگی تو اس نے پتھر سے ذبح کردی پھر آپ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا کچھ حرج نہیں کھاؤ اس کو۔
945
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبَائِحِ نَصَارَی الْعَرَبِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقُولُ مَا فَرَی الْأَوْدَاجَ فَکُلُوهُ
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ عرب کے نصاری کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں انہوں نے کہا درست ہے بعد اس کے پڑھا اس آیت کو ومن یتولہم منکم فانہ منہم۔ مالک کو پہنچا ہے کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے جو چیز کاٹ دے رگوں کو پس کھالے اس کو۔
946
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا ذُبِحَ بِهِ إِذَا بَضَعَ فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا اضْطُرِرْتَ إِلَيْهِ
سعید بن مسیب کہتے تھے جس چیز سے ذبح کیا جائے جب وہ کاٹ دے کچھ حرج نہیں کھانے میں اس کے جب ضرورت ہو۔
947
Muawtta Imam Malik
عَنْ أَبَي هُرَيْرَةَ عَنْ شَاةٍ ذُبِحَتْ فَتَحَرَّکَ بَعْضُهَا فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْکُلَهَا ثُمَّ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَتَتَحَرَّکُ وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ
ابوہریرہ (رض) سوال کیا گیا کہ ایک بکری ذبح کرتے وقت تھوڑا سا ہلی ؟ ابوہریرہ (رض) نے اس کے کھانے کا حکم دیا، پھر ابومرہ نے زید بن ثابت (رض) سے پوچھا انہوں نے کہا مردہ بھی ہلتا ہے اور منع کیا اس کے کھانے سے۔
948
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا نُحِرَتْ النَّاقَةُ فَذَکَاةُ مَا فِي بَطْنِهَا فِي ذَکَاتِهَا إِذَا کَانَ قَدْ تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعَرُهُ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ ذُبِحَ حَتَّی يَخْرُجَ الدَّمُ مِنْ جَوْفِهِ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب نحر کی جائے اونٹنی تو اس کے پیٹ کے بچے کی بھی زکاہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس بچے کے تمام اعضا پورے ہوگئے ہوں اور بال بالکل نکل آئے ہوں اگر وہ بچہ پیٹ سے زندہ نکل آئے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے تاکہ خون اس کے پیٹ سے نکل جائے۔
949
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ ذَکَاةُ مَا فِي بَطْنِ الذَّبِيحَةِ فِي ذَکَاةِ أُمِّهِ إِذَا کَانَ قَدْ تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعَرُهُ
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ زکاہ پیٹ کے بچہ کی اس کی ماں کی زکات سے ہوجائے گی جب وہ بچہ پورا ہوگیا ہو اور بال نکل آئے ہوں۔