hadith book logo

Muawtta Imam Malik

41. کتاب دیتوں کے بیان میں

موطأ مالك

1411
Muawtta Imam Malik
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ فِي الْکِتَابِ الَّذِي کَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ أَنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ وَفِي کُلِّ أُصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِکَ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ
ابوبکر (رض) بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ بن حزم کے واسطے لکھی تھی دیتوں کے بیان میں اس میں یہ تھا کہ جان کی دیت سو اونٹ ہیں اور ناک کی جب پوری کاٹی جائے سو اونٹ ہیں اور مامومہ میں تیسرا حصہ دیت ہے اور جائفہ میں بھی تیسرا حصہ دیت کا ہے اور آنکھ کی دیت پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ کے بھی پچاس اور پیر کے بھی پچاس اور ہر انگلی کے دس اونٹ ہیں اور ہر دانت کے پانچ اونٹ اور موضحہ کی دیت پانچ اونٹ ہیں۔
1412
Muawtta Imam Malik
عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی فَجَعَلَهَا عَلَی أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَی أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ
حضرت عمر (رض) بن خطاب نے دیت کی قیمت لگائی گاؤں والوں پر تو جن کے پاس سونا رہتا ہے ان پر ہزار دینار مقرر کئے اور جن کے پاس چاندی رہتی ہے ان پر بارہ ہزرا درہم مقرر کئے۔
1413
Muawtta Imam Malik
بَاب الْعَمَلِ فِي الدِّيَةِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوَّمَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى فَجَعَلَهَا عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك فَأَهْلُ الذَّهَبِ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ مِصْرَ وَأَهْلُ الْوَرِقِ أَهْلُ الْعِرَاقِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ أَنَّ الدِّيَةَ تُقْطَعُ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ أَوْ أَرْبَعِ سِنِينَ قَالَ مَالِك وَالثَّلَاثُ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فِي الدِّيَةِ الْإِبِلُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْعَمُودِ الذَّهَبُ وَلَا الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الذَّهَبِ الْوَرِقُ وَلَا مِنْ أَهْلِ الْوَرِقِ الذَّهَبُ
کہا مالک نے سونے والے شام اور مصر کے لوگ ہیں اور چاندی والے عراق کے لوگ ہیں۔ مالک نے سنا لوگوں سے کہ دیت وصول کی جائے گی تین برس میں یا چار برس میں۔ کہا مالک نے تین سال میں وصول کرنا دیت کا مجھے بہت پسند ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ اتفاق ہے کہ سونے چاندی والوں سے دیت میں اونٹ نہ لئے جائیں گے اونٹ والوں سے سونا چاندی نہ لیا جائے گا اور سونے والے سے چاندی نہ لی جائے گی اور چاندی والے سے سونا نہ لیا جائے گا۔
1414
Muawtta Imam Malik
عَنْ ابْنَ شِهَابٍ کَانَ يَقُولُ فِي دِيَةِ الْعَمْدِ إِذَا قُبِلَتْ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً
ابن شہاب کہتے تھے قتل عمد میں کہ جب مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں تو دیت پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون اور پچس حقے اور پچیس جذعے ہوگی۔
1415
Muawtta Imam Malik
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَتَبَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا فَکَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَی مَجْنُونٍ قَوَدٌ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ میرے پاس ایک مجنوں لایا گیا ہے جس نے ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب میں لکھا کہ اسے قید کر اور اس سے قصاص نہ لے کیونکہ مجنوں پر قصاص نہیں ہے۔
1416
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک فِي الْکَبِيرِ وَالصَّغِيرِ إِذَا قَتَلَا رَجُلًا جَمِيعًا عَمْدًا أَنَّ عَلَی الْکَبِيرِ أَنْ يُقْتَلَ وَعَلَی الصَّغِيرِ نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَکَذَلِکَ الْحُرُّ وَالْعَبْدُ يَقْتُلَانِ الْعَبْدَ فَيُقْتَلُ الْعَبْدُ وَيَکُونُ عَلَی الْحُرِّ نِصْفُ قِيمَتِهِ
کہا مالک نے اگر ایک بالغ اور نابالغ نے مل کر ایک شخص کو عمداً قتل کیا تو بالغ سے قصاص لیا جائے گا اور نابالغ پر نصف دیت لازم ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح سے ایک آزاد شخص اور ایک غلام مل کر ایک غلام کو عمداً مار ڈالیں تو غلام قصاصاً قتل کیا جائے گا اور آزاد پر آدھی قیمت اس غلام کی لازم ہوگی۔
1417
Muawtta Imam Malik
عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ أَجْرَی فَرَسًا فَوَطِئَ عَلَی إِصْبَعِ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَنُزِيَ مِنْهَا فَمَاتَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِمْ أَتَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا مَاتَ مِنْهَا فَأَبَوْا وَتَحَرَّجُوا وَقَالَ لِلْآخَرِينَ أَتَحْلِفُونَ أَنْتُمْ فَأَبَوْا فَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِشَطْرِ الدِّيَةِ عَلَی السَّعْدِيِّينَ قَالَ مَالِک وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَی هَذَا
عراک بن مالک اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جو بنی سعد میں سے تھا اپنا گھوڑا دوڑایا اور ایک شخص کی انگلی جو جہینہ کا تھا کچل دی اس میں سے خون جاری ہوا اور وہ شخص مرگیا حضرت عمر (رض) نے پہلے کچلنے والے کی قوم سے کہا کہ تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اس امر پر کہ وہ شخص انگلی کچلنے سے نہیں مرا انہوں نے انکار کیا اور رک گئے پھر میت کے لوگوں سے کہا تم قسم کھاتے ہو انہوں نے بھی انکار کیا آپ نے آدھی دیت بنی سعد سے دلائی۔ کہا مالک نے اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
1418
Muawtta Imam Malik
عَنْ ابْنَ شِهَابٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانُوا يَقُولُونَ دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَکَرًا وَعِشْرُونَ حِقَّةً وَعِشْرُونَ جَذَعَةً
ابن شہاب اور سلیمان بن یسار اور ریبعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے قتل خطا کی دیت بیس بنت مخاض اور بیس بنت لبون اور بیس ابن لبون اور بیس حقے اور بیس جذعے ہیں۔
1419
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمْ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لَا يَکُونُ إِلَّا خَطَأً وَذَلِکَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَکَبِيرًا قَتَلَا رَجُلًا حُرًّا خَطَأً کَانَ عَلَی عَاقِلَةِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ قَالَ مَالِک وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لَا قَوَدَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ کَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَی بِهِ دَيْنُهُ وَتَجُوزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ فَإِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ تَکُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عَفَا عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِکَ جَائِزٌ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِکَ الثُّلُثُ إِذَا عَفَا عَنْهُ وَأَوْصَی بِهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا اگر وہ کوئی جنایت قصداً بھی کریں تو خطا کے حکم میں ہوگی ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں اور احتلام نہ ہونے لگے اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتل خطا سمجھا جائے گا اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر نصف دیت ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص خطاءً قتل کیا جائے اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کردے تو درست ہے اور اگر اتنا مال نہ ہو تو ثلث کے موافق معاف کرسکتا ہے کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔
1420
Muawtta Imam Malik
بَاب عَقْلِ الْجِرَاحِ فِي الْخَطَإِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّ الْأَمْرَ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَهُمْ فِي الْخَطَإِ أَنَّهُ لَا يُعْقَلُ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ وَيَصِحَّ وَأَنَّهُ إِنْ كُسِرَ عَظْمٌ مِنْ الْإِنْسَانِ يَدٌ أَوْ رِجْلٌ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ مِنْ الْجَسَدِ خَطَأً فَبَرَأَ وَصَحَّ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَلَيْسَ فِيهِ عَقْلٌ فَإِنْ نَقَصَ أَوْ كَانَ فِيهِ عَثَلٌ فَفِيهِ مِنْ عَقْلِهِ بِحِسَابِ مَا نَقَصَ مِنْهُ قَالَ مَالِك فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَظْمُ مِمَّا جَاءَ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى فَبِحِسَابِ مَا فَرَضَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْلٌ مُسَمًّى وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ وَلَا عَقْلٌ مُسَمًّى فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي الْجِرَاحِ فِي الْجَسَدِ إِذَا كَانَتْ خَطَأً عَقْلٌ إِذَا بَرَأَ الْجُرْحُ وَعَادَ لِهَيْئَتِهِ فَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ عَثَلٌ أَوْ شَيْنٌ فَإِنَّهُ يُجْتَهَدُ فِيهِ إِلَّا الْجَائِفَةَ فَإِنَّ فِيهَا ثُلُثَ دِيَةِ النَّفْسِ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ فِي مُنَقِّلَةِ الْجَسَدِ عَقْلٌ وَهِيَ مِثْلُ مُوضِحَةِ الْجَسَدِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الطَّبِيبَ إِذَا خَتَنَ فَقَطَعَ الْحَشَفَةَ إِنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ وَأَنَّ ذَلِكَ مِنْ الْخَطَإِ الَّذِي تَحْمِلُهُ الْعَاقِلَةُ وَأَنَّ كُلَّ مَا أَخْطَأَ بِهِ الطَّبِيبُ أَوْ تَعَدَّى إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ ذَلِكَ فَفِيهِ الْعَقْلُ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک خطا میں یہ حکم اتفاقی ہے کہ زخم کی دیت کا حکم نہ ہوگا جب تک مجروح اچھا نہ ہوجائے۔ اگر ہاتھ یا پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جائے پھر جڑ کر اچھی ہوجائے پہلے کے موافق تو اس میں دیت نہیں ہے اور اگر کچھ نقص رہ جائے تو اس میں دیت ہے نقصان کے موافق۔ اگر وہ ہڈی ایسی ہو جس میں رسول اللہ ﷺ سے دیت ثابت ہے تو اسی قدر دیت لازم ہوگی ورنہ سوچ سمجھ کر جس قدر مناسب ہو دیت دلائیں گے۔ کہا مالک نے اگر بدن میں خطاءً زخم لگ کر اچھا ہوجائے نشان نہ رہے تو دیت نہیں ہے اگر دھبہ یا عیب رہ جائے تو اس کے موافق دیت دینی ہوگی مگر جائفہ میں تہائی دیت لازم ہوگی اور منقلہ جسد میں دیت نہیں ہے جیسے موضحہ جسد میں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر جراح نے ختنہ کرتے وقت خطاء سے حشفے کو کاٹ ڈالا تو اس پر دیت ہے اور یہ دیت عاقلے پر ہوگی اسی طرح طبیب سے جو غلطی ہوجائے بھول چوک کر اس میں دیت ہے (اگر قصداً ہو تو قصاص ہے) ۔