hadith book logo

Muawtta Imam Malik

43. کتاب حدوں کے بیان میں

موطأ مالك

1460
Muawtta Imam Malik
حَدَّثَنَا مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ الْيَهُودُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ ثُمَّ قَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَکَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَی الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تورات میں کیا حکم ہے رجم کا ؟ یہودیوں نے کہا ہم میں جو کوئی زنا کرے اس کو ہم رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں عبداللہ بن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں رجم ہے لاؤ تم تورات کو پڑھو اس کو، انہوں نے تورات کو کھولا اور ایک شخص نے ان میں سے اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھ لیا اور اس کے اول اور آخر کی آیتیں پڑھیں عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے جو ہاتھ اٹھایا تو رجم کی آیت نکلی تب سب یہودی کہنے لگے کہ سچ کہا عبداللہ بن سلام نے آیت رجم کی موجود ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا رجم کا تو وہ مرد اور عورت رجم کئے گئے عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں نے مرد کو دیکھا کہ وہ عورت کی طرف جھکتا تھا اس کو بچانے پتھروں سے۔
1461
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ لَهُ إِنَّ الْأَخِرَ زَنَی فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ هَلْ ذَکَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي فَقَالَ لَا فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ فَتُبْ إِلَی اللَّهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّی أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِأَبِي بَکْرٍ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمْ تُقْرِرْهُ نَفْسُهُ حَتَّی جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ الْأَخِرَ زَنَی فَقَالَ سَعِيدٌ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلُّ ذَلِکَ يُعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا أَکْثَرَ عَلَيْهِ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَهْلِهِ فَقَالَ أَيَشْتَکِي أَمْ بِهِ جِنَّةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِکْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ فَقَالُوا بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک شخص اسلم کے قبیلے کا ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے (اپنی طرف اشارہ کرکے) زنا کیا ابوبکر (رض) نے کہا تو نے یہ بات اور کسی سے تو بیان نہیں کیا بولا نہیں ابوبکر (رض) نے کہا تو توبہ کر اللہ سے اور چھپا رہ اللہ کے پردے میں کیونکہ اللہ جل جلالہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی اس کو تسکین نہ ہوئی وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا حضرت عمر سے بھی ایسا ہی کہا جیسا کہ ابوبکر (رض) سے کہا تھا حضرت عمر نے بھی وہی جواب دیا پھر بھی اس کو تسکین نہ ہوئی پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نالائق نے زنا کیا تین بار اس نے کہا اور تینوں بار رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا جب بہت اس نے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کیا یہ بیمار ہوگیا ہے یا اس کو جنون ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ تندرست ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا نکاح ہوا ہے یا نہیں لوگوں نے کہا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے حکم کیا اس کو سنگسار کرنے کا وہ سنگسار کردیا گیا۔
1462
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ هَزَّالٌ يَا هَزَّالُ لَوْ سَتَرْتَهُ بِرِدَائِکَ لَکَانَ خَيْرًا لَکَ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ يَزِيدُ هَزَّالٌ جَدِّي وَهَذَا الْحَدِيثُ حَقٌّ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہا ایک شخص کو جو اسلم کے قبیلے سے تھا اس کا نام ہزال تھا کہ اے ہزال اگر اس خبر کو تو چھپا لیتا تو تیرے واسطے بہتر ہوتا یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو ایک مجلس میں بیان کیا جس میں یزید بن عنیم بن ہزال اسلمی بیٹھے تھے تو یزید نے کہا کہ ہزال میرے دادا تھے اور یہ حدیث سچ ہے۔
1463
Muawtta Imam Malik
حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِهِ بِالزِّنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِاعْتِرَافِهِ عَلَی نَفْسِهِ
ابن شہاب کہتے تھے کہ ایک شخص نے اقرار کیا زنا کا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور چار بار اقرار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے رجم کرنے کا حکم کیا وہ رجم کیا گیا ابن شہاب نے کہا کہ اسی وجہ سے آدمی اپنے پر جو اقرار کرے اس کا مواخذہ ہوتا ہے۔
1464
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبِي حَتَّى تَضَعِي فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبِي حَتَّى تُرْضِعِيهِ فَلَمَّا أَرْضَعَتْهُ جَاءَتْهُ فَقَالَ اذْهَبِي فَاسْتَوْدِعِيهِ قَالَ فَاسْتَوْدَعَتْهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک عورت (غامدیہ) آئی رسول اللہ ﷺ کے پاس اور کہا میں نے زنا کیا اور وہ حاملہ تھی آپ نے فرمایا جب وضع حمل ہوجائے تو آنا جب اس نے (بچہ) جنا تو پھر آئی آپ نے فرمایا جب دودھ چھڑا لینا تو آنا پھر جب وہ دودھ پلاچ کی تو آئی آپ نے فرمایا جا لڑکے کو کسی کے سپرد کردے (حفاظت اور پرورش کے واسطے وہ سپرد کرکے پھر آئی تب رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا اور وہ رجم کی گئی۔
1465
Muawtta Imam Malik
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أَأُمْهِلُهُ حَتَّی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا میں اس کو مہلت دوں چار گواہ جمع کرنے تک آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔
1466
Muawtta Imam Malik
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ تَکَلَّمْ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُکَ وَجَارِيَتُکَ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنْ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ کے پاس ایک بولا یا رسول اللہ آپ فیصلہ کیجیے ہمارا موافق کتاب اللہ کے اور دوسرا شخص جو زیادہ سمجھدار تھا وہ بولا ہاں یا رسول اللہ فیصلہ کیجیے کتاب اللہ کے اور اجازت دیجیے مجھے بات کرنے کی آپ نے فرمایا اچھا بولو اس نے کہا میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے میں نے سو بکریاں اس کی طرف سے فدیہ دیں اور ایک لونڈی دی پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں اور ایک برس جلاوطنی اور رجم اس کی عورت پر ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم دنوں کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے موافق کرتا ہوں تیری بکریاں اور لونڈی تیرا مال ہے اس کو لے لے اور اس کے بیٹے کو سو کوڑے مارنے کا حکم کیا اور ایک برس تک جلاوطن کیا اور حکم کیا انیس اسلمی کو کہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جا اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اس کو رجم کر اس نے زنا کا اقرار کیا وہ رجم کی گئی۔
1467
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ الرَّجْمُ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا أُحْصِنَ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الْاعْتِرَافُ
عبداللہ بن عباس (رض) نے سنا حضرت عمر (رض) سے کہا فرماتے تھے کہ رجم اللہ کی کتاب میں ہے سچ ہے جو شخص زنا کرے مرد ہو یا عورت وہ محصن ہو تو وہ رجم کیا جائے گا جب ثابت ہو چار گواہوں سے یا عورت پر حمل سے یا مرد اور عورت دونوں پر اقرار سے۔
1468
Muawtta Imam Malik
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالشَّامِ فَذَکَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ إِلَی امْرَأَتِهِ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَأَتَاهَا وَعِنْدَهَا نِسْوَةٌ حَوْلَهَا فَذَکَرَ لَهَا الَّذِي قَالَ زَوْجُهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا لَا تُؤْخَذُ بِقَوْلِهِ وَجَعَلَ يُلَقِّنُهَا أَشْبَاهَ ذَلِکَ لِتَنْزِعَ فَأَبَتْ أَنْ تَنْزِعَ وَتَمَّتْ عَلَی الْاعْتِرَافِ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَرُجِمَتْ
ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا جب کہ آپ ﷺ شام میں تھے اس نے بیان کیا کہ میں نے اپنی عورت کے ساتھ ایک مرد کو پایا آپ نے ابو واقد کو بھیجا کہ عورت سے جا کر پوچھے وہ عورت کے پاس گئے اس کے پاس اور عورتیں بیٹھی تھیں انہوں نے کہا وہ جو اس کے خاوند نے حضرت عمر (رض) سے بیان کیا تھا اور یہ بھی کہہ دیا کہ خاوند کے کہنے سے تجھے مواخذہ نہ ہوگا اس کو سکھانے بھی لگے اس قسم کی باتیں تاکہ وہ اقرار نہ کرے لیکن اس نے نہ مانا اور اقرار کیا زنا کا حضرت عمر (رض) نے اس کو رجم کا حکم کیا اور رجم کی گئی۔
1469
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ لَمَّا صَدَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ مِنًی أَنَاخَ بِالْأَبْطَحِ ثُمَّ کَوَّمَ کَوْمَةً بَطْحَائَ ثُمَّ طَرَحَ عَلَيْهَا رِدَائَهُ وَاسْتَلْقَی ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ اللَّهُمَّ کَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَانْتَشَرَتْ رَعِيَّتِي فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مُضَيِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ سُنَّتْ لَکُمْ السُّنَنُ وَفُرِضَتْ لَکُمْ الْفَرَائِضُ وَتُرِکْتُمْ عَلَی الْوَاضِحَةِ إِلَّا أَنْ تَضِلُّوا بِالنَّاسِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَضَرَبَ بِإِحْدَی يَدَيْهِ عَلَی الْأُخْرَی ثُمَّ قَالَ إِيَّاکُمْ أَنْ تَهْلِکُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ زَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي کِتَابِ اللَّهِ تَعَالَی لَکَتَبْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ فَإِنَّا قَدْ قَرَأْنَاهَا قَالَ مَالِک قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَمَا انْسَلَخَ ذُو الْحِجَّةِ حَتَّی قُتِلَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ قَوْلُهُ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ يَعْنِي الثَّيِّبَ وَالثَّيِّبَةَ فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْسَ ذَلِکَ عَلَيْهَا إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا وَقَالَ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ کَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ فَالْحَمْلُ يَکُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَا رَجْمَ عَلَيْهَا فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر لوٹے منیٰ سے تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا ابطح میں اور ایک طرف کنکریوں کا ڈھیر لگا کر چادر کو اپنے اوپر ڈال دیا اور چت لیٹ گئے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے پروردگار بہت عمر ہوئی میری اور گھٹ گئی قوت میرے اور پھیل گئے رعیت میری (یعنی ملکوں ملکوں خلافت اور حکومت پھیل گئی دوردراز تک لوگ رعایا ہوگئے) اب اٹھا لے مجھ کو اپنی طرف اس حال میں کہ تیرے احکام کو ضائع نہ کروں اور عبادت میں کوتاہی نہ کروں پھر مدینہ میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ سنایا فرمایا اے لوگوں جتنے طریقے تھے سب کھل گئے اور جتنے فرائض تھے سب مقرر ہوگئے اور ڈالے گئے تم صاف سیدھی راہ پر مگر ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ دائیں بائیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا پھر فرمایا نہ یہ ہو کہ تم بھول جاؤ رجم کی آیت کو کوئی یہ کہنے لگے ہم دو حدوں کو اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے دیکھو رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ہے اور ہم نے بھی بعد آپ ﷺ کے رجم کیا ہے قسم اس ذات پاک کی جس کے اختیار میں میری جان ہے اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے بڑھا دیا کتاب اللہ میں تو میں اس آیت کو قرآن میں لکھوا دیتا اور محصنہ عورت جب زنا کریں تو سنگسار کرو ان کو، ہم نے اس آیت کو پڑھا ہے سعید بن مسیب نے کہا کہ پھر ذی الحجہ کا مہینہ نہ گزرا تھا کہ حضرت عمر (رض) قتل کئے گئے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عثمان کے پاس ایک عورت آئی جس کا بچہ چھ مہینے میں پیدا ہوا تھا آپ نے اس کے رجم کا حکم کیا حضرت علی نے فرمایا کہ اس پر رجم نہیں ہوسکتا اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اپنی کتاب میں آدمی کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوتا ہے اور دوسری جگہ فرماتا ہے مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں جو شخص رضاعت کو پورا کرنا چاہے تو حمل کے چھ مہینے ہوئے اس وجہ سے رجم نہیں ہے۔ حضرت عثمان نے یہ سن کر لوگوں کو بھیجا اس عورت کے پیچھے (تاکہ اس کو رجم نہ کریں) دیکھا تو وہ رجم ہوچکی تھی۔