hadith book logo

Muawtta Imam Malik

32. مکاتب کے بیان میں

موطأ مالك

1170
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ کِتَابَتِهِ شَيْئٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کَانَا يَقُولَانِ الْمُکَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ کِتَابَتِهِ شَيْئٌ قَالَ مَالِک وَهُوَ رَأْيِي قَالَ مَالِک فَإِنْ هَلَکَ الْمُکَاتَبُ وَتَرَکَ مَالًا أَکْثَرَ مِمَّا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ کِتَابَتِهِ وَلَهُ وَلَدٌ وُلِدُوا فِي کِتَابَتِهِ أَوْ کَاتَبَ عَلَيْهِمْ وَرِثُوا مَا بَقِيَ مِنْ الْمَالِ بَعْدَ قَضَائِ کِتَابَتِهِ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے مکاتب غلام رہے گا جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتابت میں سے باقی رہے۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار کہتے تھے مکاتب غلام ہے جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتاب میں سے باقی ہے۔ کہا مالک نے میری رائے یہی ہے کہ اگر مکاتب اپنی بدل کتابت سے زیادہ مالک چھوڑ کر مرجائے اور اپنی اولاد کو جو حالت کتابت میں پیدا ہوئی تھی یا عقدکتابت میں داخل تھی چھوڑ جائے تو پہلے اس کے مالک میں سے بدل کتابت ادا کریں گے پھر جس قدر بچ رہے گا اس کی وارث مکاتب کی اولاد ہوگی۔
1171
Muawtta Imam Malik
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ مُکَاتَبًا کَانَ لِابْنِ الْمُتَوَکِّلِ هَلَکَ بِمَکَّةَ وَتَرَکَ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنْ کِتَابَتِهِ وَدُيُونًا لِلنَّاسِ وَتَرَکَ ابْنَتَهُ فَأَشْکَلَ عَلَی عَامِلِ مَکَّةَ الْقَضَائُ فِيهِ فَکَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِکِ أَنْ ابْدَأْ بِدُيُونِ النَّاسِ ثُمَّ اقْضِ مَا بَقِيَ مِنْ کِتَابَتِهِ ثُمَّ اقْسِمْ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَمَوْلَاهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ أَنْ يُكَاتِبَهُ إِذَا سَأَلَهُ ذَلِكَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ أَحَدًا مِنْ الْأَئِمَّةِ أَكْرَهَ رَجُلًا عَلَى أَنْ يُكَاتِبَ عَبْدَهُ وَقَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا فَإِذَا قُضِيَتْ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا ذَلِكَ أَمْرٌ أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ لِلنَّاسِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَيْهِمْ قَالَ مَالِك و سَمِعْت بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ إِنَّ ذَلِكَ أَنْ يُكَاتِبَ الرَّجُلُ غُلَامَهُ ثُمَّ يَضَعُ عَنْهُ مِنْ آخِرِ كِتَابَتِهِ شَيْئًا مُسَمًّى قَالَ مَالِك فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَأَدْرَكْتُ عَمَلَ النَّاسِ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى خَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ثُمَّ وَضَعَ عَنْهُ مِنْ آخِرِ كِتَابَتِهِ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ تَبِعَهُ مَالُهُ وَلَمْ يَتْبَعْهُ وَلَدُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُمْ فِي كِتَابَتِهِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُهُ سَيِّدُهُ وَلَهُ جَارِيَةٌ بِهَا حَبَلٌ مِنْهُ لَمْ يَعْلَمْ بِهِ هُوَ وَلَا سَيِّدُهُ يَوْمَ كِتَابَتِهِ فَإِنَّهُ لَا يَتْبَعُهُ ذَلِكَ الْوَلَدُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ فِي كِتَابَتِهِ وَهُوَ لِسَيِّدِهِ فَأَمَّا الْجَارِيَةُ فَإِنَّهَا لِلْمُكَاتَبِ لِأَنَّهَا مِنْ مَالِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ وَرِثَ مُكَاتَبًا مِنْ امْرَأَتِهِ هُوَ وَابْنُهَا إِنَّ الْمُكَاتَبَ إِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ كِتَابَتَهُ اقْتَسَمَا مِيرَاثَهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَإِنْ أَدَّى كِتَابَتَهُ ثُمَّ مَاتَ فَمِيرَاثُهُ لِابْنِ الْمَرْأَةِ وَلَيْسَ لِلزَّوْجِ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْءٌ قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُ عَبْدَهُ قَالَ يُنْظَرُ فِي ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ إِنَّمَا أَرَادَ الْمُحَابَاةَ لِعَبْدِهِ وَعُرِفَ ذَلِكَ مِنْهُ بِالتَّخْفِيفِ عَنْهُ فَلَا يَجُوزُ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا كَاتَبَهُ عَلَى وَجْهِ الرَّغْبَةِ وَطَلَبِ الْمَالِ وَابْتِغَاءِ الْفَضْلِ وَالْعَوْنِ عَلَى كِتَابَتِهِ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ وَطِئَ مُكَاتَبَةً لَهُ إِنَّهَا إِنْ حَمَلَتْ فَهِيَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَتْ كَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ وَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ عَلَى كِتَابَتِهَا فَإِنْ لَمْ تَحْمِلْ فَهِيَ عَلَى كِتَابَتِهَا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ إِنَّ أَحَدَهُمَا لَا يُكَاتِبُ نَصِيبَهُ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِذَلِكَ صَاحِبُهُ أَوْ لَمْ يَأْذَنْ إِلَّا أَنْ يُكَاتِبَاهُ جَمِيعًا لِأَنَّ ذَلِكَ يَعْقِدُ لَهُ عِتْقًا وَيَصِيرُ إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ مَا كُوتِبَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ يَعْتِقَ نِصْفُهُ وَلَا يَكُونُ عَلَى الَّذِي كَاتَبَ بَعْضَهُ أَنْ يَسْتَتِمَّ عِتْقَهُ فَذَلِكَ خِلَافُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ قَالَ مَالِك فَإِنْ جَهِلَ ذَلِكَ حَتَّى يُؤَدِّيَ الْمُكَاتَبُ أَوْ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ رَدَّ إِلَيْهِ الَّذِي كَاتَبَهُ مَا قَبَضَ مِنْ الْمُكَاتَبِ فَاقْتَسَمَهُ هُوَ وَشَرِيكُهُ عَلَى قَدْرِ حِصَصِهِمَا وَبَطَلَتْ كِتَابَتُهُ وَكَانَ عَبْدًا لَهُمَا عَلَى حَالِهِ الْأُولَى قَالَ مَالِك فِي مُكَاتَبٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَأَنْظَرَهُ أَحَدُهُمَا بِحَقِّهِ الَّذِي عَلَيْهِ وَأَبَى الْآخَرُ أَنْ يُنْظِرَهُ فَاقْتَضَى الَّذِي أَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ بَعْضَ حَقِّهِ ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا لَيْسَ فِيهِ وَفَاءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ قَالَ مَالِك يَتَحَاصَّانِ مَا تَرَكَ بِقَدْرِ مَا بَقِيَ لَهُمَا عَلَيْهِ يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِقَدْرِ حِصَّتِهِ فَإِنْ تَرَكَ الْمُكَاتَبُ فَضْلًا عَنْ كِتَابَتِهِ أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَا بَقِيَ مِنْ الْكِتَابَةِ وَكَانَ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ فَإِنْ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ وَقَدْ اقْتَضَى الَّذِي لَمْ يُنْظِرْهُ أَكْثَرَ مِمَّا اقْتَضَى صَاحِبُهُ كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ وَلَا يَرُدُّ عَلَى صَاحِبِهِ فَضْلَ مَا اقْتَضَى لِأَنَّهُ إِنَّمَا اقْتَضَى الَّذِي لَهُ بِإِذْنِ صَاحِبِهِ وَإِنْ وَضَعَ عَنْهُ أَحَدُهُمَا الَّذِي لَهُ ثُمَّ اقْتَضَى صَاحِبُهُ بَعْضَ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ بَيْنَهُمَا وَلَا يَرُدُّ الَّذِي اقْتَضَى عَلَى صَاحِبِهِ شَيْئًا لِأَنَّهُ إِنَّمَا اقْتَضَى الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ لِلرَّجُلَيْنِ بِكِتَابٍ وَاحِدٍ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ فَيُنْظِرُهُ أَحَدُهُمَا وَيَشِحُّ الْآخَرُ فَيَقْتَضِي بَعْضَ حَقِّهِ ثُمَّ يُفْلِسُ الْغَرِيمُ فَلَيْسَ عَلَى الَّذِي اقْتَضَى أَنْ يَرُدَّ شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ ایک مکابت ابن متوکل کا مکہ میں مرگیا اور کچھ بدل کتابت اس پر باقی رہ گیا تھا اور لوگوں کا قرض بھی تھا اور ایک بیٹی چھوڑ گیا تو مکہ کے عامل کو اس باب میں حکم کرنا دشوار ہو تو اس نے عبدالملک بن مروان کو لکھا عبدالملک نے اس کے جواب میں لکھا کہ پہلے لوگوں کا قرض ادا کر پھر جس قدر بدل کتابت باقی رہ گیا ہے اس کو ادا کر بعد اس کے جو کچھ بچے وہ اس کی بیٹی اور مولیٰ کو تقسیم کر دے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے اگر غلام اپنے مولیٰ کو کہے مجھ کو مکاتب کردے تو مولیٰ پر ضروری نہیں خواہ مخواہ مکاتب کرے اور میں نے کسی عالم سے نہیں سنا کہ مولیٰ پر جبر ہوگا اپنے غلام کے مکاتب کرنے پر اور جب وہ شخص اس نے اللہ جل جلالہ کے اس قول کو بیان کرتا کہ مکاتب کرو اپنے غلاموں کو اگر اس میں بہتری جانو تو وہ یہ آئیتیں پڑھتے جب تم احرام کھول ڈالو شکار کرو۔ جب نماز ہوجائے تو پھیل جاؤ زمین میں اور اللہ کا فضل ڈھونڈو۔ کہا مالک بلکہ یہ امر اذن کے واسطے ہے نہ کہ وجودجوب کے واسطے۔ کہا مالک نے میں نے بعض اہل علم سے سنا اس آیت کی تفسیر میں (دو تم اپنے مکاتبوں کو اس مالک سے جو دیا تم کو اللہ تعالیٰ نے) کہتے تھے مراد اس آیت سے یہ ہے کہ آدمی اپنے غلام کو مکاتب کرے پھر اس کے بدل کتابت میں سے کچھ معاف کردے۔ کہا مالک نے میں نے یہ اچھا سنا اور اسی پر لوگوں کو عمل کرتے ہوئے پایا۔ کہا مالک نے جب غلام مکاتب ہوجائے اس کا مال اسی کو ملے گا۔ مگر اولاد اس کے عقد کتابت میں داخل نہ ہوگی البتہ جب شرط لگائے تو اولاد بھی داخل ہوگی۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے غلام کو مکاتب کیا اور اس غلام کی ایک لونڈی تھی جو حاملہ تھی اس سے مگر حمل کا حال نہ غلام کو معلوم تھا نہ مولیٰ کو تو وہ بچہ جب پیدا ہوگا مکاتب کو نہ ملے گا بلکہ مولیٰ کو ملے گا البتہ لونڈی مکاتب ہی کی رہے گی کیونکہ وہ اس کا مال ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت اپنا مکاتب چھوڑ کر مرگئی اور اس کے دو وارث ہیں ایک خاوند اور ایک لڑکا اس عورت کا پھر مکاتب مرگیا قبل ادا کرنے بدل کتابت کے تو خاوند اور لڑکا موافق کتاب اللہ کے اس کی میراث کو تقسیم کرلیں گے۔ (ایک ربع خاوند کا ہوگا اور باقی بیٹے کا) اور جو بعد ادا کرنے بدل کتابت کے مرا تو میراث اس کی سب بیٹے کو ملے گی خاوند کو کچھ نہ ملے گا۔ کہا مالک نے اگر مکاتب اپنے غلام کو مکاتب کرے تو دیکھیں گے اگر اس نے رعایت کے طور پر بدل کتابت کم ٹھہریا ہے تو یہ کتابت جائز نہ ہوگی اور جو بدل کتابت اپنا فائدہ دیکھ کر ٹھہرایا ہے تو جائز ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص اپنی مکاتبہ لونڈی سے صحبت کرے اور وہ حاملہ ہوجائے تو اس لونڈی کو اختیار ہے چاہے وہ ام ولد بن کر رہے چاہے اپنی کتابت قائم رکھے اگر حاملہ نہ ہو تو وہ مکاتب رہے گی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو غلام دو آدمیوں میں مشترکہ ہو اس کو کوئی مکاتب نہیں کرسکتا اگرچہ دوسراشریک اجزات بھی دے بلکہ دونوں شریک مل کر مکاتب کرسکتے ہیں کیونکہ اگر ایک شرفیک اپنے حصہ کو مکاتب کردے گا اور مکاتب بدل کتابت ادا کردے گا تو اس قدر حصہ آزاد ہوناپڑے گا اب اس شریک پر جس نے کچھ حصہ آزاد کیا لام نہیں کہ دوسرے شریک کو ضمانت دے کر اس کی آزادی پوری کرے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت ادا کرنے کا وہ عتاق میں ہے نہ کی کتابت میں۔ کہا مالک نے اگر اس شریک کو یہ مسئلہ معلوم نہ ہو وہ اپنے حصہ کو مکاتب کرکے کل یا بعض بدل کتابت وصول کرے تو جس قعف وصول کیا ہو اس کو وہ اور اس کا شریک اپنے حصوں کو موافق بانٹ لیں کتابت باطل ہوجائے گی اور وہ مکاتب بدستور غلام رہے گا۔ کہا مالک نے جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو پھر ایک آدمی ان میں سے اس کو مہلت دے اور دوسرانہ دے اور جس شخص نے مہلت نہ دی وہ اپنا کچھ حق وصول کرلے بعد اس کے مکاتب مرجائے اور اس قدر مال نہ چھوڑے کہ اس کے بدل کتابت کو کافی ہو تو جس قدر مال چھوڑ گیا ہے تو پہلے دونوں شریک اپنے اپنے بقایا وصول کر کے جو کچھ بچے گا برابر بانٹ لیں گے۔ اگر مکاتب عاجز ہوگا اور جس شخص نے مہلت نہ دی اس نے دوسرے شریک کی نسبت کچھ زیادہ وصول کرلیا ہے تو غلام دونوں میں آدھا آدھا مشترک رہے گا اور جس نے زیادہ لیا ہے وہ اپنے شریک کو کچھ نہ پھیرے گا کیونکہ اس نے اپنے شریک کی اجازت سے لیا ہے۔ اگر ایک نے اپنا حصہ معاف کردیا تھا اور دوسرے نے کچھ وصول کیا پھر غلام عاجز ہوگیا تو وہ غلام دونوں میں مشترک رہے گا اور جس نے کچھ وصول کرلیا ہے وہ دوسرے شریک کو کچھ نہ دے گا کیونکہ اس نے اپنا حق وصول کیا اس کی مثال یہ ہے کہ دو آدمیوں کا قرض ایک ہی دستاویز کی فو سے ایک آدمی پر ہو پھر ایک شخص اس کو مہلت دے اور دوسرا حرض کرکے کچھ وصول کرلے بعد اس کے قرض دار مفلس ہوجائے پھر جس شخص نے وصول کرلیا ہے وہ دوسرے شریک کو اس میں سے کچھ نہ دے گا۔
1172
Muawtta Imam Malik
بَاب الْحَمَالَةِ فِي الْكِتَابَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كُوتِبُوا جَمِيعًا كِتَابَةً وَاحِدَةً فَإِنَّ بَعْضَهُمْ حُمَلَاءُ عَنْ بَعْضٍ وَإِنَّهُ لَا يُوضَعُ عَنْهُمْ لِمَوْتِ أَحَدِهِمْ شَيْءٌ وَإِنْ قَالَ أَحَدُهُمْ قَدْ عَجَزْتُ وَأَلْقَى بِيَدَيْهِ فَإِنَّ لِأَصْحَابِهِ أَنْ يَسْتَعْمِلُوهُ فِيمَا يُطِيقُ مِنْ الْعَمَلِ وَيَتَعَاوَنُونَ بِذَلِكَ فِي كِتَابَتِهِمْ حَتَّى يَعْتِقَ بِعِتْقِهِمْ إِنْ عَتَقُوا وَيَرِقَّ بِرِقِّهِمْ إِنْ رَقُّوا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ لَمْ يَنْبَغِ لِسَيِّدِهِ أَنْ يَتَحَمَّلَ لَهُ بِكِتَابَةِ عَبْدِهِ أَحَدٌ إِنْ مَاتَ الْعَبْدُ أَوْ عَجَزَ وَلَيْسَ هَذَا مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِنْ تَحَمَّلَ رَجُلٌ لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ بِمَا عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ ثُمَّ اتَّبَعَ ذَلِكَ سَيِّدُ الْمُكَاتَبِ قِبَلَ الَّذِي تَحَمَّلَ لَهُ أَخَذَ مَالَهُ بَاطِلًا لَا هُوَ ابْتَاعَ الْمُكَاتَبَ فَيَكُونَ مَا أُخِذَ مِنْهُ مِنْ ثَمَنِ شَيْءٍ هُوَ لَهُ وَلَا الْمُكَاتَبُ عَتَقَ فَيَكُونَ فِي ثَمَنِ حُرْمَةٍ ثَبَتَتْ لَهُ فَإِنْ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ رَجَعَ إِلَى سَيِّدِهِ وَكَانَ عَبْدًا مَمْلُوكًا لَهُ وَذَلِكَ أَنَّ الْكِتَابَةَ لَيْسَتْ بِدَيْنٍ ثَابِتٍ يُتَحَمَّلُ لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ بِهَا إِنَّمَا هِيَ شَيْءٌ إِنْ أَدَّاهُ الْمُكَاتَبُ عَتَقَ وَإِنْ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَمْ يُحَاصَّ الْغُرَمَاءَ سَيِّدُهُ بِكِتَابَتِهِ وَكَانَ الْغُرَمَاءُ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ سَيِّدِهِ وَإِنْ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ رُدَّ عَبْدًا مَمْلُوكًا لِسَيِّدِهِ وَكَانَتْ دُيُونُ النَّاسِ فِي ذِمَّةِ الْمُكَاتَبِ لَا يَدْخُلُونَ مَعَ سَيِّدِهِ فِي شَيْءٍ مِنْ ثَمَنِ رَقَبَتِهِ قَالَ مَالِك إِذَا كَاتَبَ الْقَوْمُ جَمِيعًا كِتَابَةً وَاحِدَةً وَلَا رَحِمَ بَيْنَهُمْ يَتَوَارَثُونَ بِهَا فَإِنَّ بَعْضَهُمْ حُمَلَاءُ عَنْ بَعْضٍ وَلَا يَعْتِقُ بَعْضُهُمْ دُونَ بَعْضٍ حَتَّى يُؤَدُّوا الْكِتَابَةَ كُلَّهَا فَإِنْ مَاتَ أَحَدٌ مِنْهُمْ وَتَرَكَ مَالًا هُوَ أَكْثَرُ مِنْ جَمِيعِ مَا عَلَيْهِمْ أُدِّيَ عَنْهُمْ جَمِيعُ مَا عَلَيْهِمْ وَكَانَ فَضْلُ الْمَالِ لِسَيِّدِهِ وَلَمْ يَكُنْ لِمَنْ كَاتَبَ مَعَهُ مِنْ فَضْلِ الْمَالِ شَيْءٌ وَيَتْبَعُهُمْ السَّيِّدُ بِحِصَصِهِمْ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ الْكِتَابَةِ الَّتِي قُضِيَتْ مِنْ مَالِ الْهَالِكِ لِأَنَّ الْهَالِكَ إِنَّمَا كَانَ تَحَمَّلَ عَنْهُمْ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يُؤَدُّوا مَا عَتَقُوا بِهِ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ كَانَ لِلْمُكَاتَبِ الْهَالِكِ وَلَدٌ حُرٌّ لَمْ يُولَدْ فِي الْكِتَابَةِ وَلَمْ يُكَاتَبْ عَلَيْهِ لَمْ يَرِثْهُ لِأَنَّ الْمُكَاتَبَ لَمْ يُعْتَقْ حَتَّى مَاتَ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ امر اتفاقی ہے کہ چند غلام اگر ایک ہی عقد میں مکاتب کئے جائیں تو ایک کا بار دوسرے کو اٹھانا پڑے گا اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو بدل کتابت کم نہ ہوگا اگر کوئی ان میں سے عاجز ہو کر ہاتھ پاؤں چھوڑ دے تو اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ موافق طاقت کے اس سے مزدوری کرائیں اور بدل کتابت کے ادا کرنے میں مددلیں اگر سب آزاد ہوں گے وہ بھی آزاد ہوگا اور جو سب غلام ہوں گے وہ بھی غلام ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ امر اتفاقی ہے کہ بدل کتابت کی ضمانت نہیں ہوسکتی تو غلام کو جب مولیٰ مکاتب کرے تو بدل کتابت کی ضمانت اگر غلام عاجز ہوجائے یا مرجائے کسی سے نہیں لے سکتا نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے کیونکہ اگر کوئی شخص مکاتب کے بدل کتابت کا ضامن ہو اور مولیٰ اس پیچھا کرے ضامن سے بدل کتابت وصول کرے تو یہ وصول کرنا ناجائز طور پر ہوگا کیونکہ ضامن نے نہ مکاتب کو خرید کیا تاکہ جو مالک دیا ہے اس کے عوض میں آجائے نہ مکاتب آزاد ہوا کہ وہ مالک اس کی آزادی کا بدلہ ہو بلکہ مکاتب جب عاجز ہوگیا تو پھر اپنے مولیٰ کا غلام ہوگیا اس کی وجہ یہ ہے کہ کتابت دین صحیح نہیں جس کی ضمانت درست ہو۔ کہا مالک نے جب غلام ایک ہی عقد میں مکتب کئے جائیں اور ان میں آپس میں ایسی قرابت نہ ہو جس کے سبب سے ایک دوسرے وارث نہ ہوں تو وہ سب ایک دوسرے کے کفیل ہوں گے کوئی ان میں سے بغیر دوسرے کے آزاد نہ ہو سکے گا۔ یہاں تک کہ بدل کتابت پوراپورا ادار کردیں اگر ان میں سے کوئی مرجائے اور اس قدر مال چھوڑ گیا جو وسب کے بدل کتابت سے زیادہ ہے تو اس مال میں سے بدل کتابت ادا کیا جائے گا اور جو کچھ بچ رہے گا مولیٰ لے لے گا اس کے ساتھیوں کو نہ ملے گا پھر ایک غلام کی آزادی میں جس قدر روپیہ اس مال میں صرف ہوا ہے اس کو مولیٰ ہر ایک غلام سے مجرالے گا۔ کیونکہ جو غلام مرگیا ہے وہ ان کا کفیل تھا جس قدر روپیہ اس کا ان کی آزادی میں اٹھا ان کو ادا کرنا پڑے گا۔ اگر اس مکاتب کا جو مرگیا کوئی آزادلڑکا ہو جو حالت کتابت میں پیدا نہ ہوا ہو نہ عقد کتابت اس پر واقع ہوا ہو تو وہ اس کا وارث نہ ہوگا کیونکہ مکاتب مرتے وقت آزاد نہ تھا۔
1173
Muawtta Imam Malik
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُقَاطِعُ مُكَاتَبِيهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْمُكَاتَبِ يَكُونُ بَيْنَ الشَّرِيكَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يُقَاطِعَهُ عَلَى حِصَّتِهِ إِلَّا بِإِذْنِ شَرِيكِهِ وَذَلِكَ أَنَّ الْعَبْدَ وَمَالَهُ بَيْنَهُمَا فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ إِلَّا بِإِذْنِ شَرِيكِهِ وَلَوْ قَاطَعَهُ أَحَدُهُمَا دُونَ صَاحِبِهِ ثُمَّ حَازَ ذَلِكَ ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَلَهُ مَالٌ أَوْ عَجَزَ لَمْ يَكُنْ لِمَنْ قَاطَعَهُ شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ مَا قَاطَعَهُ عَلَيْهِ وَيَرْجِعَ حَقَّهُ فِي رَقَبَتِهِ وَلَكِنْ مَنْ قَاطَعَ مُكَاتَبًا بِإِذْنِ شَرِيكِهِ ثُمَّ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ فَإِنْ أَحَبَّ الَّذِي قَاطَعَهُ أَنْ يَرُدَّ الَّذِي أَخَذَ مِنْهُ مِنْ الْقِطَاعَةِ وَيَكُونُ عَلَى نَصِيبِهِ مِنْ رَقَبَةِ الْمُكَاتَبِ كَانَ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا اسْتَوْفَى الَّذِي بَقِيَتْ لَهُ الْكِتَابَةُ حَقَّهُ الَّذِي بَقِيَ لَهُ عَلَى الْمُكَاتَبِ مِنْ مَالِهِ ثُمَّ كَانَ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِ الْمُكَاتَبِ بَيْنَ الَّذِي قَاطَعَهُ وَبَيْنَ شَرِيكِهِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِهِمَا فِي الْمُكَاتَبِ وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا قَاطَعَهُ وَتَمَاسَكَ صَاحِبُهُ بِالْكِتَابَةِ ثُمَّ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ قِيلَ لِلَّذِي قَاطَعَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَرُدَّ عَلَى صَاحِبِكَ نِصْفَ الَّذِي أَخَذْتَ وَيَكُونُ الْعَبْدُ بَيْنَكُمَا شَطْرَيْنِ وَإِنْ أَبَيْتَ فَجَمِيعُ الْعَبْدِ لِلَّذِي تَمَسَّكَ بِالرِّقِّ خَالِصًا قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُقَاطِعُهُ أَحَدُهُمَا بِإِذْنِ صَاحِبِهِ ثُمَّ يَقْتَضِي الَّذِي تَمَسَّكَ بِالرِّقِّ مِثْلَ مَا قَاطَعَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ يَعْجِزُ الْمُكَاتَبُ قَالَ مَالِك فَهُوَ بَيْنَهُمَا لِأَنَّهُ إِنَّمَا اقْتَضَى الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ وَإِنْ اقْتَضَى أَقَلَّ مِمَّا أَخَذَ الَّذِي قَاطَعَهُ ثُمَّ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ فَأَحَبَّ الَّذِي قَاطَعَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى صَاحِبِهِ نِصْفَ مَا تَفَضَّلَهُ بِهِ وَيَكُونُ الْعَبْدُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ أَبَى فَجَمِيعُ الْعَبْدِ لِلَّذِي لَمْ يُقَاطِعْهُ وَإِنْ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا فَأَحَبَّ الَّذِي قَاطَعَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى صَاحِبِهِ نِصْفَ مَا تَفَضَّلَهُ بِهِ وَيَكُونُ الْمِيرَاثُ بَيْنَهُمَا فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي تَمَسَّكَ بِالْكِتَابَةِ قَدْ أَخَذَ مِثْلَ مَا قَاطَعَ عَلَيْهِ شَرِيكُهُ أَوْ أَفْضَلَ فَالْمِيرَاثُ بَيْنَهُمَا بِقَدْرِ مِلْكِهِمَا لِأَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ حَقَّهُ قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُقَاطِعُ أَحَدُهُمَا عَلَى نِصْفِ حَقِّهِ بِإِذْنِ صَاحِبِهِ ثُمَّ يَقْبِضُ الَّذِي تَمَسَّكَ بِالرِّقِّ أَقَلَّ مِمَّا قَاطَعَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ثُمَّ يَعْجِزُ الْمُكَاتَبُ قَالَ مَالِك إِنْ أَحَبَّ الَّذِي قَاطَعَ الْعَبْدَ أَنْ يُرَدَّ عَلَى صَاحِبِهِ نِصْفَ مَا تَفَضَّلَهُ بِهِ كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَهُمَا شَطْرَيْنِ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَرُدَّ فَلِلَّذِي تَمَسَّكَ بِالرِّقِّ حِصَّةُ صَاحِبِهِ الَّذِي كَانَ قَاطَعَ عَلَيْهِ الْمُكَاتَبَ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ الْعَبْدَ يَكُونُ بَيْنَهُمَا شَطْرَيْنِ فَيُكَاتِبَانِهِ جَمِيعًا ثُمَّ يُقَاطِعُ أَحَدُهُمَا الْمُكَاتَبَ عَلَى نِصْفِ حَقِّهِ بِإِذْنِ صَاحِبِهِ وَذَلِكَ الرُّبُعُ مِنْ جَمِيعِ الْعَبْدِ ثُمَّ يَعْجِزُ الْمُكَاتَبُ فَيُقَالُ لِلَّذِي قَاطَعَهُ إِنْ شِئْتَ فَارْدُدْ عَلَى صَاحِبِكَ نِصْفَ مَا فَضَلْتَهُ بِهِ وَيَكُونُ الْعَبْدُ بَيْنَكُمَا شَطْرَيْنِ وَإِنْ أَبَى كَانَ لِلَّذِي تَمَسَّكَ بِالْكِتَابَةِ رُبُعُ صَاحِبِهِ الَّذِي قَاطَعَ الْمُكَاتَبَ عَلَيْهِ خَالِصًا وَكَانَ لَهُ نِصْفُ الْعَبْدِ فَذَلِكَ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْعَبْدِ وَكَانَ لِلَّذِي قَاطَعَ رُبُعُ الْعَبْدِ لِأَنَّهُ أَبَى أَنْ يَرُدَّ ثَمَنَ رُبُعِهِ الَّذِي قَاطَعَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يُقَاطِعُهُ سَيِّدُهُ فَيَعْتِقُ وَيَكْتُبُ عَلَيْهِ مَا بَقِيَ مِنْ قَطَاعَتِهِ دَيْنًا عَلَيْهِ ثُمَّ يَمُوتُ الْمُكَاتَبُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ قَالَ مَالِك فَإِنَّ سَيِّدَهُ لَا يُحَاصُّ غُرَمَاءَهُ بِالَّذِي عَلَيْهِ مِنْ قَطَاعَتِهِ وَلِغُرَمَائِهِ أَنْ يُبَدَّءُوا عَلَيْهِ قَالَ مَالِك لَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ أَنْ يُقَاطِعَ سَيِّدَهُ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ فَيَعْتِقُ وَيَصِيرُ لَا شَيْءَ لَهُ لِأَنَّ أَهْلَ الدَّيْنِ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ سَيِّدِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِجَائِزٍ لَهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ عَبْدَهُ ثُمَّ يُقَاطِعُهُ بِالذَّهَبِ فَيَضَعُ عَنْهُ مِمَّا عَلَيْهِ مِنْ الْكِتَابَةِ عَلَى أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ مَا قَاطَعَهُ عَلَيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِذَلِكَ بَأْسٌ وَإِنَّمَا كَرِهَ ذَلِكَ مَنْ كَرِهَهُ لِأَنَّهُ أَنْزَلَهُ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ يَكُونُ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ وَيَنْقُدُهُ وَلَيْسَ هَذَا مِثْلَ الدَّيْنِ إِنَّمَا كَانَتْ قَطَاعَةُ الْمُكَاتَبِ سَيِّدَهُ عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ مَالًا فِي أَنْ يَتَعَجَّلَ الْعِتْقَ فَيَجِبُ لَهُ الْمِيرَاثُ وَالشَّهَادَةُ وَالْحُدُودُ وَتَثْبُتُ لَهُ حُرْمَةُ الْعَتَاقَةِ وَلَمْ يَشْتَرِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ وَلَا ذَهَبًا بِذَهَبٍ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ قَالَ لِغُلَامِهِ ائْتِنِي بِكَذَا وَكَذَا دِينَارًا وَأَنْتَ حُرٌّ فَوَضَعَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنْ جِئْتَنِي بِأَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَأَنْتَ حُرٌّ فَلَيْسَ هَذَا دَيْنًا ثَابِتًا وَلَوْ كَانَ دَيْنًا ثَابِتًا لَحَاصَّ بِهِ السَّيِّدُ غُرَمَاءَ الْمُكَاتَبِ إِذَا مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَدَخَلَ مَعَهُمْ فِي مَالِ مُكَاتَبِهِ
حضرت ام سلمہ اپنے مکاتبوں سے قطاعت کرتیں سونے چاندی پر۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ امر اتفاقی ہے کہ جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو ایک شریک کو جائز نہیں کہ بغیر دوسرے شریک کی اذن کے اپنے حصے کی قطاعت کرے کیونکہ غلام اور اس کا مالک دونوں میں مشترک ہے ایک کو نہیں پہنچتا کہ اس کے مال میں تصرف کرے بغیر دوسرے شریک کے پوچھے ہوئے اگر ایک شریک نے قطاعت کے بغیر دوسرے سے پوچھے ہوئے اور زرقطاعت وصول کرلیا بعد اس کے مکاتب کچھ مال چھوڑ کر مرگیا تو قطاعت کرچکا اس کو اس مکاتب کے مالک میں استحقاق نہ ہوگا نہ یہ ہوسکے گا کہ زرقطاعت کو پھیر دے اور اس مکاتب کو پھر غلام کرلے البتہ جو شخص اپنے شریک کے اذن سے قطاعت کرے پھر مکاتب عاجز ہوجائے اور قطاعت کرنے والا یہ چاہے کہ زر قطاعت پھیر کر اس غلام کا اپنے حصے کے موافق مالک ہوجائے تو ہوسکتا ہے۔ اگر مکاتب مرجائے اور مال چھوڑ جائے تو جس شریک نے قطاعت نہیں کی اس کا بدل کتابت ادا کرکے جو کچھ مال بچے گا اس کو دونوں شریک اپنے حصے کے موافق بانٹ لیں گے اگر ایک نے قطاعت کی اور دوسرے نے نہ کی اور دوسرے نے ننہ کی بعد اس کے مکاتب عاجز ہوگیا تو جس نے قطاعت کی اس سے کہا جائے گا اگر تجھ کو منظور ہے تو جس قدر روپیہ تو نے قطاعت کا لیا ہے اس کا آدھا اپنے شریک کو پھیر دے غلام تم دونوں میں مشرت رہے گا ورنہ پورا غلام اس شخص کا ہوجائے گا جس نے قطاعت نہیں کی۔ کہا مالک نے جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو ایک آدمی ان میں سے قطاعت کرے دوسرے کے اذن سے پھر جس نے قطاعت نہیں کی وہ بھی اسی قدر غلام سے وصول کرے جتنا قطاعت کرنے والے نے وصول کیا ہے یا اس سے زیادہ بعد اس کے مکاتب عاجز ہوجائے تو قطاعت والا قطاعت نہ کرنے والے سے کچھ پھیر نہ سکے گا اگر دوسرے شریک نے قطاعت سے کم وصول کیا پھر غلام عاجز ہوگیا تو قطاعت والے کو اختیار ہے اگر چاہے تو جتنی قطاعت زیادہ ہے اس کا نصف اپنے شریک کو دے کر غلام میں آدھم ساجھا کریں اگر نہ دے تو سارا غلام دوسرے شریک کا جائے گا اگر مکاتب مرجائے اور مال چھوڑ گیا اور قطاعت والے نے چاہا کہ جتنا زیادہ لیا ہے اس کا نصف اپنے شریک کو پھیر دے اور میراث میں شریک ہوجائے تو ہوسکتا ہے اور جس نے قطاعت نہیں کی وہ بھی مکاتب سے قطاعت کے برابریا اس سے زیادہ وصول کرچکا ہے اس صورت میں میراث دونوں کے ملے گی کیونکہ ہر ایک نے اپنا حق وصول کرلیا۔ کہا مالک نے جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو ایک اس سے قطاعت کرے اپنے حق کے نصف پر دوسرے کے اذن سے پھر جس نے قطاعت نہیں کی وہ بھی مکاتب سے قطاعت سے کم وصول کرے بعد اس کے مکاتب عاجز ہوجائے تو قطاعت والا اگر چاہے جتنی قطاعت زیادہ ہے اس کا آدھا اپنے شریک کو دے کر غلام میں آدھم ساجھا کرلیں ورنہ اس قدر حصہ غلام کا دوسرے شریک کا ہوجائے گا۔ کہا مالک نے اس کی شرح یہ ہے کہ مثلا ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو دونوں مل کر اس کو مکاتب کریں پھر ایک شریک اپنے نصف حق پر غلام سے قطاعت کرلے یعنی پورے غلام کے ربع پر بعد اس کے مکاتب عاجز ہوجائے تو جس نے قطاعت کی ہے اس سے کہا جائے گا کہ جس قدر تو نے زیادہ لیا ہے اس کا نصف اپنے شریک کو پھیر دے اور غلام میں آدھم ساجھا رکھ اگر وہ انکار کرے تو قطاعت والے کا ربع غلام بھی اس شریک کو مل جائے گا اس صورت میں اس شریک کے تین ربع ہوں گے اور اس کا ایک ربع۔ کہا مالک نے اگر مکاتب سے اس مولیٰ قطاعت کرے اور وہ آزاد ہوجائے اور جس قدر قطاعت کا روپیہ مکاتب پر رہ جائے وہ اس پر قرض ہے بعد اس کے مکاتب مرجائے اور وہ مقروض ہو لوگوں کا تو مولیٰ دوسرے قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا بلکہ اس مال میں سے پہلے اور قرض خواہ اپنا قرضہ وصول کریں گے۔ کہا مالک نے جو مکاتب مقروض ہو اس سے مولیٰ قطاعت نہ کرے ایسا نہ ہو کہ وہ غلام آزاد ہوجائے بعد اس کے سارا مال اس کا قرض خواہوں کو مل جائے مولیٰ کو کچھ نہ ملے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے اگر کوئی شخص اپنے غلام کو مکاتب کرے پھر اس سے سونے پر قطاعت کرے اور بدل کتابت معاف کردے اس شرط سے کہ زر قطاعت فی الفوردے دے تو اس میں کچھ قباحت نہیں ہے اور جس شخص نے اس کو مکروہ رکھا ہے اس نے یہ خیال کیا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کا میعادی قرضہ کسی پر ہو وہ اس کے بدلے میں کچھ نقد لے کر قرضہ چھوڑ دے حالانکہ یہ قرض کی مثل نہیں ہے بلکہ قطاعت اس لئے ہوتی ہے کہ غلام جلد آزاد ہوجائے اور اس کے لئے میراث اور شہادت اور حدود لازم آجائیں اور حرمت عتاقہ ثابت ہوجائے اور یہ نہیں لے کہ اس نے روپیوں کو روپیوں کے عوض میں یا سونے کو سونے کے عوض میں خریدا بلکہ اس کی مثال یہ ہے۔ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا تو مجھے اس قدر اشرفیاں لادے اور تو آزاد ہے پھر اس سے کم کرکے کہا اگر اتنے بھی لادے تو بھی تو آزاد ہے۔ کیونکہ بدل کتابت دین صحیح نہیں ہے ورنہ جب مکاتب مرجاتا تو مولیٰ بھی اور قرض خواہوں کے برابر اس کے مال کا دعویٰ دار ہوتا ہے۔
1174
Muawtta Imam Malik
بَاب جِرَاحِ الْمُكَاتَبِ قَالَ مَالِك أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْمُكَاتَبِ يَجْرَحُ الرَّجُلَ جَرْحًا يَقَعُ فِيهِ الْعَقْلُ عَلَيْهِ أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنْ قَوِيَ عَلَى أَنْ يُؤَدِّيَ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ مَعَ كِتَابَتِهِ أَدَّاهُ وَكَانَ عَلَى كِتَابَتِهِ فَإِنْ لَمْ يَقْوَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ عَجَزَ عَنْ كِتَابَتِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يُؤَدِّيَ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ قَبْلَ الْكِتَابَةِ فَإِنْ هُوَ عَجَزَ عَنْ أَدَاءِ عَقْلِ ذَلِكَ الْجَرْحِ خُيِّرَ سَيِّدُهُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يُؤَدِّيَ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ فَعَلَ وَأَمْسَكَ غُلَامَهُ وَصَارَ عَبْدًا مَمْلُوكًا وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُسَلِّمَ الْعَبْدَ إِلَى الْمَجْرُوحِ أَسْلَمَهُ وَلَيْسَ عَلَى السَّيِّدِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُسَلِّمَ عَبْدَهُ قَالَ مَالِك فِي الْقَوْمِ يُكَاتَبُونَ جَمِيعًا فَيَجْرَحُ أَحَدُهُمْ جَرْحًا فِيهِ عَقْلٌ قَالَ مَالِك مَنْ جَرَحَ مِنْهُمْ جَرْحًا فِيهِ عَقْلٌ قِيلَ لَهُ وَلِلَّذِينَ مَعَهُ فِي الْكِتَابَةِ أَدُّوا جَمِيعًا عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ فَإِنْ أَدَّوْا ثَبَتُوا عَلَى كِتَابَتِهِمْ وَإِنْ لَمْ يُؤَدُّوا فَقَدْ عَجَزُوا وَيُخَيَّرُ سَيِّدُهُمْ فَإِنْ شَاءَ أَدَّى عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ وَرَجَعُوا عَبِيدًا لَهُ جَمِيعًا وَإِنْ شَاءَ أَسْلَمَ الْجَارِحَ وَحْدَهُ وَرَجَعَ الْآخَرُونَ عَبِيدًا لَهُ جَمِيعًا بِعَجْزِهِمْ عَنْ أَدَاءِ عَقْلِ ذَلِكَ الْجَرْحِ الَّذِي جَرَحَ صَاحِبُهُمْ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا أُصِيبَ بِجَرْحٍ يَكُونُ لَهُ فِيهِ عَقْلٌ أَوْ أُصِيبَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِ الْمُكَاتَبِ الَّذِينَ مَعَهُ فِي كِتَابَتِهِ فَإِنَّ عَقْلَهُمْ عَقْلُ الْعَبِيدِ فِي قِيمَتِهِمْ وَأَنَّ مَا أُخِذَ لَهُمْ مِنْ عَقْلِهِمْ يُدْفَعُ إِلَى سَيِّدِهِمْ الَّذِي لَهُ الْكِتَابَةُ وَيُحْسَبُ ذَلِكَ لِلْمُكَاتَبِ فِي آخِرِ كِتَابَتِهِ فَيُوضَعُ عَنْهُ مَا أَخَذَ سَيِّدُهُ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهُ كَأَنَّهُ كَاتَبَهُ عَلَى ثَلَاثَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَكَانَ دِيَةُ جَرْحِهِ الَّذِي أَخَذَهَا سَيِّدُهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَإِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ إِلَى سَيِّدِهِ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَهُوَ حُرٌّ وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَقَدْ عَتَقَ وَإِنْ كَانَ عَقْلُ جَرْحِهِ أَكْثَرَ مِمَّا بَقِيَ عَلَى الْمُكَاتَبِ أَخَذَ سَيِّدُ الْمُكَاتَبِ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ وَعَتَقَ وَكَانَ مَا فَضَلَ بَعْدَ أَدَاءِ كِتَابَتِهِ لِلْمُكَاتَبِ وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ إِلَى الْمُكَاتَبِ شَيْءٌ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ فَيَأْكُلَهُ وَيَسْتَهْلِكَهُ فَإِنْ عَجَزَ رَجَعَ إِلَى سَيِّدِهِ أَعْوَرَ أَوْ مَقْطُوعَ الْيَدِ أَوْ مَعْضُوبَ الْجَسَدِ وَإِنَّمَا كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ عَلَى مَالِهِ وَكَسْبِهِ وَلَمْ يُكَاتِبْهُ عَلَى أَنْ يَأْخُذَ ثَمَنَ وَلَدِهِ وَلَا مَا أُصِيبَ مِنْ عَقْلِ جَسَدِهِ فَيَأْكُلَهُ وَيَسْتَهْلِكَهُ وَلَكِنْ عَقْلُ جِرَاحَاتِ الْمُكَاتَبِ وَوَلَدِهِ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي كِتَابَتِهِ أَوْ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ يُدْفَعُ إِلَى سَيِّدِهِ وَيُحْسَبُ ذَلِكَ لَهُ فِي آخِرِ كِتَابَتِهِ
کہا مالک نے اگر مکاتب کسی شخص کو ایسا زخمی کرے جس میں دیت واجب ہو تو اگر مکاتب اپنے بدل کتابت کے ساتھ دیت بھی ادا کرسکے تو دیت ادا کردے وہ مکاتب بنا رہے گا اگر اس پر قدر نہ ہو تو اپنی کتابت سے عاجز ہوا کیونکہ دیت کا ادا کرنا کتابت پر مقدم ہے پھر جب دیت دینے سے عاجز ہوجائے تو اس کے مولیٰ کو اختیار ہے اگر چاہے تو دیت ادا کردے اور مکاتب کو غلام سمجھ کر رکھ لے اب وہ بدستور اس کا غلام ہوجائے گا اگر چاہے تو خود مکاتب کو اس شخص کے حوالے کر جو زخمی ہوا ہے مگر مولیٰ پر لازم نہیں ہے کہ غلام دے ڈالنے سے زیادہ اور کچھ اپنا نقصان کرے۔ کہا مالک نے اگر چند غلام ایک ساتھ مکاتب ہوں پھر ان میں سے ایی غلام کسی شخص کو زخمی کرے تو سب غلاموں سے کہا چائے گا دیت ادا کرو اگر ادا کریں گے اپنی کتابت پر قائم رہیں گے اگر نہ کریں گے سب کے سب عاجز سمجھے جائیں گے چاہے جس غلام نے زخمی کیا ہے اس کو حوالے کردے باقی غلام بدستور مولیٰ کے غلام ہوجائیں گے کیونکہ وہ دیت دینے سے عاجز ہوگئے۔ کہا مالک نے اس کی شرح یوں ایک شخص انے اپنے غلاموں کو تین ہزار درہم پر مکاتب کیا اور اس کے زخم کی دیت ایک ہزار درہم وصول پائی تو اب جب وہ مکاتب دوہزار درہم ادا کردے گا آزاد ہوجائے گا اگر مولیٰ کے اس غلام پر ہزارہی درہم بابت کتابت کے باقی تھے کہ ایک ہزار درہم دیت کے پائے تو ہو آزاد ہوجائے گا اور جس قدر درہم باقی تھے اس سے زیادہ دیت کے درہم پائے تو مولیٰ جتنے باقی تھے اتنے لے کر باقی مکاتب کو پھیر دے گا اور مکاتب آزاد ہوجائے گا یہ درست نہیں کہ مکاتب کی دیت اسی کو حوالہ کردیں وہ کھاپی کر برابر کردے پھر اگر عاجز ہوجائے تو کا نالنگڑالولا ہو کر اپنے مولیٰ کے پاس آئے کیونکہ مولیٰ نے اس کو اختیاردیا تھا اس کے مال اور کمائی پر نہ اپنی اولاد کی قیمت یا اپنی دیت پر کہ وہ کھاپی کر برابر کردے بلکہ مکاتب کی دیت اور اس کی اولاد کی دیت جو حالت کتابت میں پیدا ہوئی یا ان پر عقد کتابت ہوا مولیٰ کو دی جائے گی اور اس کے بدل کتابت میں مجرا ہوگی۔
1175
Muawtta Imam Malik
بَاب بَيْعِ الْمُكَاتَبِ قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي مُكَاتَبَ الرَّجُلِ أَنَّهُ لَا يَبِيعُهُ إِذَا كَانَ كَاتَبَهُ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ إِلَّا بِعَرْضٍ مِنْ الْعُرُوضِ يُعَجِّلُهُ وَلَا يُؤَخِّرُهُ لِأَنَّهُ إِذَا أَخَّرَهُ كَانَ دَيْنًا بِدَيْنٍ وَقَدْ نُهِيَ عَنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ قَالَ وَإِنْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبَ سَيِّدُهُ بِعَرْضٍ مِنْ الْعُرُوضِ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ الْبَقَرِ أَوْ الْغَنَمِ أَوْ الرَّقِيقِ فَإِنَّهُ يَصْلُحُ لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَشْتَرِيَهُ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ عَرْضٍ مُخَالِفٍ لِلْعُرُوضِ الَّتِي كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ عَلَيْهَا يُعَجِّلُ ذَلِكَ وَلَا يُؤَخِّرُهُ قَالَ مَالِك أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْمُكَاتَبِ أَنَّهُ إِذَا بِيعَ كَانَ أَحَقَّ بِاشْتِرَاءِ كِتَابَتِهِ مِمَّنْ اشْتَرَاهَا إِذَا قَوِيَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى سَيِّدِهِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهُ بِهِ نَقْدًا وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَهُ نَفْسَهُ عَتَاقَةٌ وَالْعَتَاقَةُ تُبَدَّأُ عَلَى مَا كَانَ مَعَهَا مِنْ الْوَصَايَا وَإِنْ بَاعَ بَعْضُ مَنْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبَ نَصِيبَهُ مِنْهُ فَبَاعَ نِصْفَ الْمُكَاتَبِ أَوْ ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ سَهْمًا مِنْ أَسْهُمِ الْمُكَاتَبِ فَلَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ فِيمَا بِيعَ مِنْهُ شُفْعَةٌ وَذَلِكَ أَنَّهُ يَصِيرُ بِمَنْزِلَةِ الْقَطَاعَةِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُقَاطِعَ بَعْضَ مَنْ كَاتَبَهُ إِلَّا بِإِذْنِ شُرَكَائِهِ وَأَنَّ مَا بِيعَ مِنْهُ لَيْسَتْ لَهُ بِهِ حُرْمَةٌ تَامَّةٌ وَأَنَّ مَالَهُ مَحْجُورٌ عَنْهُ وَأَنَّ اشْتِرَاءَهُ بَعْضَهُ يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْهُ الْعَجْزُ لِمَا يَذْهَبُ مِنْ مَالِهِ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ اشْتِرَاءِ الْمُكَاتَبِ نَفْسَهُ كَامِلًا إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ مَنْ بَقِيَ لَهُ فِيهِ كِتَابَةٌ فَإِنْ أَذِنُوا لَهُ كَانَ أَحَقَّ بِمَا بِيعَ مِنْهُ قَالَ مَالِك لَا يَحِلُّ بَيْعُ نَجْمٍ مِنْ نُجُومِ الْمُكَاتَبِ وَذَلِكَ أَنَّهُ غَرَرٌ إِنْ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ بَطَلَ مَا عَلَيْهِ وَإِنْ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ وَعَلَيْهِ دُيُونٌ لِلنَّاسِ لَمْ يَأْخُذْ الَّذِي اشْتَرَى نَجْمَهُ بِحِصَّتِهِ مَعَ غُرَمَائِهِ شَيْئًا وَإِنَّمَا الَّذِي يَشْتَرِي نَجْمًا مِنْ نُجُومِ الْمُكَاتَبِ بِمَنْزِلَةِ سَيِّدِ الْمُكَاتَبِ فَسَيِّدُ الْمُكَاتَبِ لَا يُحَاصُّ بِكِتَابَةِ غُلَامِهِ غُرَمَاءَ الْمُكَاتَبِ وَكَذَلِكَ الْخَرَاجُ أَيْضًا يَجْتَمِعُ لَهُ عَلَى غُلَامِهِ فَلَا يُحَاصُّ بِمَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنْ الْخَرَاجِ غُرَمَاءَ غُلَامِهِ قَالَ مَالِك لَا بَأْسَ بِأَنْ يَشْتَرِيَ الْمُكَاتَبُ كِتَابَتَهُ بِعَيْنٍ أَوْ عَرْضٍ مُخَالِفٍ لِمَا كُوتِبَ بِهِ مِنْ الْعَيْنِ أَوْ الْعَرْضِ أَوْ غَيْرِ مُخَالِفٍ مُعَجَّلٍ أَوْ مُؤَخَّرٍ قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يَهْلِكُ وَيَتْرُكُ أُمَّ وَلَدٍ وَأَوْلَادًا لَهُ صِغَارًا مِنْهَا أَوْ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا يَقْوَوْنَ عَلَى السَّعْيِ وَيُخَافُ عَلَيْهِمْ الْعَجْزُ عَنْ كِتَابَتِهِمْ قَالَ تُبَاعُ أُمُّ وَلَدِ أَبِيهِمْ إِذَا كَانَ فِي ثَمَنِهَا مَا يُؤَدَّى بِهِ عَنْهُمْ جَمِيعُ كِتَابَتِهِمْ أُمَّهُمْ كَانَتْ أَوْ غَيْرَ أُمِّهِمْ يُؤَدَّى عَنْهُمْ وَيَعْتِقُونَ لِأَنَّ أَبَاهُمْ كَانَ لَا يَمْنَعُ بَيْعَهَا إِذَا خَافَ الْعَجْزَ عَنْ كِتَابَتِهِ فَهَؤُلَاءِ إِذَا خِيفَ عَلَيْهِمْ الْعَجْزُ بِيعَتْ أُمُّ وَلَدِ أَبِيهِمْ فَيُؤَدَّى عَنْهُمْ ثَمَنُهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ثَمَنِهَا مَا يُؤَدَّى عَنْهُمْ وَلَمْ تَقْوَ هِيَ وَلَا هُمْ عَلَى السَّعْيِ رَجَعُوا جَمِيعًا رَقِيقًا لِسَيِّدِهِمْ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَبْتَاعُ كِتَابَةَ الْمُكَاتَبِ ثُمَّ يَهْلِكُ الْمُكَاتَبُ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ كِتَابَتَهُ أَنَّهُ يَرِثُهُ الَّذِي اشْتَرَى كِتَابَتَهُ وَإِنْ عَجَزَ فَلَهُ رَقَبَتُهُ وَإِنْ أَدَّى الْمُكَاتَبُ كِتَابَتَهُ إِلَى الَّذِي اشْتَرَاهَا وَعَتَقَ فَوَلَاؤُهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ لَيْسَ لِلَّذِي اشْتَرَى كِتَابَتَهُ مِنْ وَلَائِهِ شَيْءٌ
کہا مالک نے جو شخص اپنے غلام کو روپیوں اشرفیوں پر مکاتب کرے وہ اس کی کتابت کو کسی اسباب کے بدلے میں بیچے مگر نقدا نقد وعدے پر نہیں کیونکہ اگر وعدہ کرے گا تو کالی کی بیع بعوض کالی کے ہوجائے گی یعنی دین کی بعوض دین کے اور اگر کسی مال پر مکاتب کیا ہو جیسے اونٹ یا گائے یا بکریاں یا غلاموں پر تو مشتری (خریدنے والا) کو جائز ہے کہ روپیہ اشرفی دے کر اس کی کتابت خرید لے یا دوسری جنس دے کر سوا اس جنس کے جس پر مکاتب ہوا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ دام نقدا نقد دے دیر نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر چند شریک ہیں ایک مکاتب میں ان میں سے ایک شریک نے اپنا حصہ کتابت بیچنا چاہا ثلث یا ربع یا نصف تو مکاتب کو مثل شفیع کے یہ جبر نہیں پہنچتا کہ اس حصے کو خودخریدے کیونکہ یہ خرید مثل قطاعت کے ہے اور مکاتب کو یہ درست نہیں کہ اپنے شریک سے قطاعت کرلے مگر اور شریکوں کے اذن سے اور اس قدر حصہ خریدنے سے اس کو پوری آزادی بھی حاصل نہیں ہوتی اور اپنے مال پر قادر نہیں ہے بلکہ تھوڑا حصہ خریدنے میں یہ بھی خیال ہے کہ عاجز ہوجائے کیونکہ اس کا مال اس خرید میں صرف ہوجائے گا اور یہ اس کی مثل نہیں ہے کہ مکاتب اپنے تئیں پورا پورا خرید لے ہاں جس صورت میں باقی شرکاء بھی اجازت دیں تو اوروں سے زیادہ اس کو اس حصے کے خریدنے کا استحقاق ہوگا۔ کہا مالک نے مکاتب کی قسط کی بیع درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکہ ہے اس واسطے کہ اگر مکاتب عاجز ہوگیا تو اس کے ذمے جو روپیہ تھا باطل ہوگیا اور اگر مکاتب مرگیا یا مفلس ہوگیا اور اس پر لوگوں کے قرضے ہیں تو جس شخص نے اس کی قسط خریدی تو وہ قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا بلکہ مثل مکاتب کے مولیٰ کے ہوگا اور مولیٰ مکاتب کے قرض خواہوں کے برابر نہیں ہوتا اسی طرح خراج مولیٰ کا اگر غلام کے ذمے پر جمع ہوجائے تب بھی مولیٰ اور قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا۔ کہا مالک نے مکاتب اگر اپنی کتابت کو خرید لے نقد روپیہ اشرفی کے بدلے میں یا کسی اسباب کے بدلے میں جو بدل کتابت کی جنس سے نہ ہو یا اسی جنس سے مؤ جل ہو یا معجل ہو تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر مکاتب مرجائے اور اپنی ام ولد اور اولاد صغار کو جو اسی ام ولد سے ہو یا کسی اور عورت سے چھوڑ جائے اور اولاد اس کی محنت مزدوری پر قادر نہ ہو اور کتابت سے عاجز ہوجانے کا خوف ہو تو ام ولد کو بیچ ڈالیں گے جب اس کی قیمت اس قدر ہو کہ بدل کتابت پورا پورا ادا ہو سکے کیونکہ مکاتب کو اگر خوف ہوتا عجز کا تو وہ اس ام ولد کو بیچ سکتا ہے اسی طرح اولاد پر جب خوف ہوگا عجز کا تو ان کے باپ کی ام ولد بیچی جائے گی اور وہ آزاد ہوجائیں گے اگر اس ولد کی قیمت بدل کتابت کو مکتفی نہ ہو اور ام ولد سے محنت مزدوری نہ ہو سکے نہ مکاتب کی اولاد سے تو سب کے سب اپنے مولیٰ کے غلام ہوجائیں گے۔ کہا مالک نے جو شخص مکاتب کی کتابت خریدے پھر مکاتب مرجائے قبل اپنی کتابت ادا کرنے کے تو جس شخص نے کتابت خریدی ہے وہی اس کا وارث ہوگا اگر مکاتب عاجز ہوجائے تو اسی کا غلام ہوجائے گا اور اگر مکاتب نے بدل کتابت اس شخص کو ادا کردیا اور عاجز ہوگیا تو ولاء اس شخص کو ملے گی جس نے اس کو مکاتب کیا تھا نہ کہ اس شخص کو جس نے اس کی کتابت خریدی تھی۔
1176
Muawtta Imam Malik
بَاب سَعْيِ الْمُكَاتَبِ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ كَاتَبَ عَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى بَنِيهِ ثُمَّ مَاتَ هَلْ يَسْعَى بَنُو الْمُكَاتَبِ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ أَمْ هُمْ عَبِيدٌ فَقَالَا بَلْ يَسْعَوْنَ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ وَلَا يُوضَعُ عَنْهُمْ لِمَوْتِ أَبِيهِمْ شَيْءٌ قَالَ مَالِك وَإِنْ كَانُوا صِغَارًا لَا يُطِيقُونَ السَّعْيَ لَمْ يُنْتَظَرْ بِهِمْ أَنْ يَكْبَرُوا وَكَانُوا رَقِيقًا لِسَيِّدِ أَبِيهِمْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمُكَاتَبُ تَرَكَ مَا يُؤَدَّى بِهِ عَنْهُمْ نُجُومُهُمْ إِلَى أَنْ يَتَكَلَّفُوا السَّعْيَ فَإِنْ كَانَ فِيمَا تَرَكَ مَا يُؤَدَّى عَنْهُمْ أُدِّيَ ذَلِكَ عَنْهُمْ وَتُرِكُوا عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى يَبْلُغُوا السَّعْيَ فَإِنْ أَدَّوْا عَتَقُوا وَإِنْ عَجَزُوا رَقُّوا قَالَ مَالِك فِي الْمُكَاتَبِ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ مَالًا لَيْسَ فِيهِ وَفَاءُ الْكِتَابَةِ وَيَتْرُكُ وَلَدًا مَعَهُ فِي كِتَابَتِهِ وَأُمَّ وَلَدٍ فَأَرَادَتْ أُمُّ وَلَدِهِ أَنْ تَسْعَى عَلَيْهِمْ إِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَيْهَا الْمَالُ إِذَا كَانَتْ مَأْمُونَةً عَلَى ذَلِكَ قَوِيَّةً عَلَى السَّعْيِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ قَوِيَّةً عَلَى السَّعْيِ وَلَا مَأْمُونَةً عَلَى الْمَالِ لَمْ تُعْطَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ وَرَجَعَتْ هِيَ وَوَلَدُ الْمُكَاتَبِ رَقِيقًا لِسَيِّدِ الْمُكَاتَبِ قَالَ مَالِك إِذَا كَاتَبَ الْقَوْمُ جَمِيعًا كِتَابَةً وَاحِدَةً وَلَا رَحِمَ بَيْنَهُمْ فَعَجَزَ بَعْضُهُمْ وَسَعَى بَعْضُهُمْ حَتَّى عَتَقُوا جَمِيعًا فَإِنَّ الَّذِينَ سَعَوْا يَرْجِعُونَ عَلَى الَّذِينَ عَجَزُوا بِحِصَّةِ مَا أَدَّوْا عَنْهُمْ لِأَنَّ بَعْضَهُمْ حُمَلَاءُ عَنْ بَعْضٍ
عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا جو شخص اپنے لئے اور اپنے بیٹوں کو مکاتب کرے اور پھر مرجائے تو اس کے بیٹے بدل کتابت کے ادا کرنے میں محنت مزدوری کریں گے یا غلام رہیں گے انہوں نے کہا سعی کریں گے اپنے باپ کی کتابت میں اور ان کے باپ کے مرجانے کی وجہ سے بدل کتابت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر مکاتب کے بیٹے کمسن ہوں محنت مزدوری نہ کرسکیں تو ان کے بڑے ہونے کا انتظار نہ کیا جائے گا اور اپنے باپ کے مولیٰ کے غلام ہوجائیں گے مگر جس صورت میں مکاتب اس قدر مال چھوڑ جائے جو ان کے بلوغ تک کی قسطوں کو کافی ہو اس صورت میں بلوغ تک انتظار کیا جائے گا بعد بلوغ کے اگر بدل کتابت کو ادا کردیں تو آزاد ہوجائیں گے اور اگر عاجز ہوجائیں تو غلام ہوجائیں گے۔ کہا مالک نے اگر مکاتب مرجائے اور اس قدر مال چھوڑ جائے جو بدل کتابت کو مکتفی نہ ہو اور اپنی اولاد اور ام ولد کو جو کتابت میں داخل ہو چھوڑ جائے پھر ام ولد یہ چاہے وہ مال لے کر اولاد کے اور اپنے آزاد کرنے میں محنت مزدوری کرے تو اگر وہ ام ولد معتبر اور مشقت محنت پر قادر ہو تو وہ مال اس کے حوالے کیا جائے گا ورنہ وہ مال مولیٰ لے لے گا اور ام ولد اور مکاتب کی اولاد غلام ہوجائیں گے مولیٰ کے۔ کہا مالک نے اگر چند غلام ایک ہی وقت میں مکاتب کئے جائیں اور ان میں آپس میں کوئی قرابت نہ ہو پھر بعض ان میں سے عاجز ہوجائیں اور بعض محنت مزدوری کر کے بدل کتابت ادا کریں تو سب آزاد ہوجائیں گے پھر جن لوگوں نے محنت مزدوری کی ہے وہ ان لوگوں سے عاجز ہوگئے تھے ان کا حصہ پھیر لیں گے۔
1177
Muawtta Imam Malik
عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرَهُ يَذْکُرُونَ أَنَّ مُکَاتَبًا کَانَ لِلْفُرَافِصَةِ بْنِ عُمَيْرٍ الْحَنَفِيِّ وَأَنَّهُ عَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ جَمِيعَ مَا عَلَيْهِ مِنْ کِتَابَتِهِ فَأَبَی الْفُرَافِصَةُ فَأَتَی الْمُکَاتَبُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَدَعَا مَرْوَانُ الْفُرَافِصَةَ فَقَالَ لَهُ ذَلِکَ فَأَبَی فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِذَلِکَ الْمَالِ أَنْ يُقْبَضَ مِنْ الْمُکَاتَبِ فَيُوضَعَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَقَالَ لِلْمُکَاتَبِ اذْهَبْ فَقَدْ عَتَقْتَ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ الْفُرَافِصَةُ قَبَضَ الْمَالَ قَالَ مَالِك فَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا أَدَّى جَمِيعَ مَا عَلَيْهِ مِنْ نُجُومِهِ قَبْلَ مَحِلِّهَا جَازَ ذَلِكَ لَهُ وَلَمْ يَكُنْ لِسَيِّدِهِ أَنْ يَأْبَى ذَلِكَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ يَضَعُ عَنْ الْمُكَاتَبِ بِذَلِكَ كُلَّ شَرْطٍ أَوْ خِدْمَةٍ أَوْ سَفَرٍ لِأَنَّهُ لَا تَتِمُّ عَتَاقَةُ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ بَقِيَّةٌ مِنْ رِقٍّ وَلَا تَتِمُّ حُرْمَتُهُ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ وَلَا يَجِبُ مِيرَاثُهُ وَلَا أَشْبَاهُ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ وَلَا يَنْبَغِي لِسَيِّدِهِ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَيْهِ خِدْمَةً بَعْدَ عَتَاقَتِهِ قَالَ مَالِك فِي مُكَاتَبٍ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَأَرَادَ أَنْ يَدْفَعَ نُجُومَهُ كُلَّهَا إِلَى سَيِّدِهِ لِأَنْ يَرِثَهُ وَرَثَةٌ لَهُ أَحْرَارٌ وَلَيْسَ مَعَهُ فِي كِتَابَتِهِ وَلَدٌ لَهُ قَالَ مَالِك ذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ لِأَنَّهُ تَتِمُّ بِذَلِكَ حُرْمَتُهُ وَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ وَيَجُوزُ اعْتِرَافُهُ بِمَا عَلَيْهِ مِنْ دُيُونِ النَّاسِ وَتَجُوزُ وَصِيَّتُهُ وَلَيْسَ لِسَيِّدِهِ أَنْ يَأْبَى ذَلِكَ عَلَيْهِ بِأَنْ يَقُولَ فَرَّ مِنِّي بِمَالِهِ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن وغیرہ سے روایت ہے کہ فرافصۃ بن عمیر کا ایک مکاتب تھا جو مدت پوری ہونے سے پہلے سب بدل کتابت لے کر آیا فرافصہ نے اس کے لینے سے انکار کیا مکاتب مروان کے پاس گیا جو حاکم تھا مدینہ کا اس سے بیان کیا مروان نے فرافصہ کو بلا بھیجا اور کہا بدل کتابت لے لے فرافصہ نے انکار کیا مروان نے حکم کیا کہ مکاتب سے وہ مال لے کر بیت المال میں رکھا جائے اور مکاتب سے کہا جا تو آزاد ہوگیا جب فرافصہ نے یہ حال دیکھا تو مال لے لیا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ مکاتب اگر اپنی سب قسطوں کو مدت سے پیشتر ادا کر دے تو درست ہے اس کے مولیٰ کو درست نہیں کہ لینے سے انکار کرے کیونکہ مولیٰ اس کے سبب سے ہر شرط کو اور خدمت کو اس کے ذمے سے اتار دیتا ہے اس لئے کہ کسی آدمی کی آزادی پوری نہیں ہوتی جب تک اس کی حرمت تمام نہ ہو اور اس کی گواہی جائز نہ ہو اور اس کو میراث کا استحقاق نہ ہو اور اس کے مولیٰ کو لائق نہیں کہ بعد آزادی کے اس پر کسی کام یا خدمت کی شرط لگائے۔ کہا مالک نے جو مکاتب سخت بیمار ہوجائے اور یہ چاہے کہ سب قسطیں اپنے مولیٰ کو ادا کر کے آزاد ہوجائے تاکہ اس کے وارث میراث پائیں جو پہلے سے آزاد ہیں اس کی کتابت میں داخل نہیں ہیں تو مکاتب کو یہ امر درست ہے کیونکہ اس سے اس کی حرمت پوری ہوتی ہے اور اس کی گواہی درست ہوتی ہے اور جن آدمیوں کے قرضہ کا اقرار کرے وہ اقرار جائز ہوتا ہے اور اس کی وصیت درست ہوتی ہے اور اس کے مولیٰ کو انکار نہیں پہنچتا اس خیال سے کہ اپنا مال بچانا چاہتا ہے۔
1178
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الْمُكَاتَبِ إِذَا عَتَقَ حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ مُكَاتَبٍ كَانَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ فَمَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا كَثِيرًا فَقَالَ يُؤَدَّى إِلَى الَّذِي تَمَاسَكَ بِكِتَابَتِهِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ مَا بَقِيَ بِالسَّوِيَّةِ قَالَ مَالِك إِذَا كَاتَبَ الْمُكَاتَبُ فَعَتَقَ فَإِنَّمَا يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِمَنْ كَاتَبَهُ مِنْ الرِّجَالِ يَوْمَ تُوُفِّيَ الْمُكَاتَبُ مِنْ وَلَدٍ أَوْ عَصَبَةٍ قَالَ وَهَذَا أَيْضًا فِي كُلِّ مَنْ أُعْتِقَ فَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ لِأَقْرَبِ النَّاسِ مِمَّنْ أَعْتَقَهُ مِنْ وَلَدٍ أَوْ عَصَبَةٍ مِنْ الرِّجَالِ يَوْمَ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ بَعْدَ أَنْ يَعْتِقَ وَيَصِيرَ مَوْرُوثًا بِالْوَلَاءِ قَالَ مَالِك الْإِخْوَةُ فِي الْكِتَابَةِ بِمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ إِذَا كُوتِبُوا جَمِيعًا كِتَابَةً وَاحِدَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَدٌ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ أَوْ وُلِدُوا فِي كِتَابَتِهِ أَوْ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ هَلَكَ أَحَدُهُمْ وَتَرَكَ مَالًا أُدِّيَ عَنْهُمْ جَمِيعُ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ كِتَابَتِهِمْ وَعَتَقُوا وَكَانَ فَضْلُ الْمَالِ بَعْدَ ذَلِكَ لِوَلَدِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ
سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ ایک مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو ایک شخص ان میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے پھر مکاتب مرجائے اور بہت سا مال چھوڑ جائے تو سعید نے کہا جس نے آزاد نہیں کیا اس کا بدل کتابت ادا کر کے باقی جو کچھ بچے گا دونوں شخص بانٹ لیں گے۔ کہا مالک نے جب مکاتب آزاد ہوجائے تو اس کا وارث وہ شخص ہوگا جس نے مکاتب کیا یا مکاتب کے قریب سے قریب رشتہ دار مردوں میں سے جس دن مکاتب مرا ہے لڑکا ہو یا اور عصبہ۔ کہا مالک نے اس طرح جو شخص آزاد ہوجائے تو اس کی میراث اس شخص کو ملے گی جو آزاد کرنے والے کا قریب سے قریب رشتہ دار ہو لڑکا ہو یا اور کوئی عصبہ جس دن وہ غلام مرا ہے۔ کہا مالک نے اگر چند بھائی کٹھا مکاتب کردیئے جائیں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو جو کتابت میں پیدا ہوئی ہو یا عقد کتابت میں داخل ہو تو وہ بھائی آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اگر ان میں سے کسی کا لڑکا ہوگا جو کتابت میں پیدا ہوا ہو یا اس پر عقد کتابت واقع ہوا ہو اور وہ مرجائے تو پہلے اس کے مال میں سے سب کا بدل کتابت ادا کر کے جو کچھ بچ رہے گا وہ اس کی اولاد کو ملے گا اس کے بھائیوں کو نہ ملے گا۔
1179
Muawtta Imam Malik
بَاب الشَّرْطِ فِي الْمُكَاتَبِ حَدَّثَنِي مَالِك فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدَهُ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ فِي كِتَابَتِهِ سَفَرًا أَوْ خِدْمَةً أَوْ ضَحِيَّةً إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ سَمَّى بِاسْمِهِ ثُمَّ قَوِيَ الْمُكَاتَبُ عَلَى أَدَاءِ نُجُومِهِ كُلِّهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا قَالَ إِذَا أَدَّى نُجُومَهُ كُلَّهَا وَعَلَيْهِ هَذَا الشَّرْطُ عَتَقَ فَتَمَّتْ حُرْمَتُهُ وَنُظِرَ إِلَى مَا شَرَطَ عَلَيْهِ مِنْ خِدْمَةٍ أَوْ سَفَرٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يُعَالِجُهُ هُوَ بِنَفْسِهِ فَذَلِكَ مَوْضُوعٌ عَنْهُ لَيْسَ لِسَيِّدِهِ فِيهِ شَيْءٌ وَمَا كَانَ مِنْ ضَحِيَّةٍ أَوْ كِسْوَةٍ أَوْ شَيْءٍ يُؤَدِّيهِ فَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ يُقَوَّمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَيَدْفَعُهُ مَعَ نُجُومِهِ وَلَا يَعْتِقُ حَتَّى يَدْفَعَ ذَلِكَ مَعَ نُجُومِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّ الْمُكَاتَبَ بِمَنْزِلَةِ عَبْدٍ أَعْتَقَهُ سَيِّدُهُ بَعْدَ خِدْمَةِ عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا هَلَكَ سَيِّدُهُ الَّذِي أَعْتَقَهُ قَبْلَ عَشْرِ سِنِينَ فَإِنَّ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ خِدْمَتِهِ لِوَرَثَتِهِ وَكَانَ وَلَاؤُهُ لِلَّذِي عَقَدَ عِتْقَهُ وَلِوَلَدِهِ مِنْ الرِّجَالِ أَوْ الْعَصَبَةِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِطُ عَلَى مُكَاتَبِهِ أَنَّكَ لَا تُسَافِرُ وَلَا تَنْكِحُ وَلَا تَخْرُجُ مِنْ أَرْضِي إِلَّا بِإِذْنِي فَإِنْ فَعَلْتَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِغَيْرِ إِذْنِي فَمَحْوُ كِتَابَتِكَ بِيَدِي قَالَ مَالِك لَيْسَ مَحْوُ كِتَابَتِهِ بِيَدِهِ إِنْ فَعَلَ الْمُكَاتَبُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ وَلْيَرْفَعْ سَيِّدُهُ ذَلِكَ إِلَى السُّلْطَانِ وَلَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ أَنْ يَنْكِحَ وَلَا يُسَافِرَ وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَرْضِ سَيِّدِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ اشْتَرَطَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ يُكَاتِبُ عَبْدَهُ بِمِائَةِ دِينَارٍ وَلَهُ أَلْفُ دِينَارٍ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَيَنْطَلِقُ فَيَنْكِحُ الْمَرْأَةَ فَيُصْدِقُهَا الصَّدَاقَ الَّذِي يُجْحِفُ بِمَالِهِ وَيَكُونُ فِيهِ عَجْزُهُ فَيَرْجِعُ إِلَى سَيِّدِهِ عَبْدًا لَا مَالَ لَهُ أَوْ يُسَافِرُ فَتَحِلُّ نُجُومُهُ وَهُوَ غَائِبٌ فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ وَلَا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ وَذَلِكَ بِيَدِ سَيِّدِهِ إِنْ شَاءَ أَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ
کہا مالک نے جس شخص نے اپنے غلام کو مکاتب کیا سونے یا چاندی پر اور اس کی کتابت میں کوئی شرط لگا دی سفر یا خدمت یا اضحیہ کی لیکن اس شرط کو معین کردیا پھر مکاتب اپنے قسطوں کے ادا کرنے پر مدت سے پہلے قادر ہوگیا اور اس نے قسطیں ادا کردیں مگر یہ شرط اس پر باقی ہے تو وہ آزاد ہوجائے گا اور حرمت اس کی پوری ہوجائے گی اب اس شرط کو دیکھیں گے اگر وہ شرط ایسی ہے جو مکاتب کو خود ادا کرنا پڑتی ہے (جیسے سفر یا خدمت کی شرط) تو یہ مکاتب پر لازم نہ ہوگی اور نہ مولیٰ کو اس شرط کے پورا کرنے کا استحقاق ہوگا اور جو شرط ایسی ہے جس میں کچھ دینا پڑتا ہے جیسے اضحیہ یا کپڑے کی شرط تو یہ مانند روپوں اشرفیوں کے ہوگی اس چیز کی قمیت لگا کر وہ بھی اپنی قسطوں کے ساتھ ادا کر دے گا جب تک ادا نہ کرے گا آزاد نہ ہوگا۔ کہا مالک نے مکاتب مثل اس غلام کے ہے جس کو مولیٰ آزاد کر دے دس برس تک خدمت کرنے کے بعد اگر مولیٰ مرجائے اور دس برس نہ گزرنے ہوں تو ورثاء کی خدمت میں دس برس پورے کرے گا اور ولاء اس کی اسی کو ملے گی جس نے اس کی آزادی ثابت کی یا اس کی اولاد کو مردوں میں سے یا عصبہ کو۔ کہا مالک نے جو شخص اپنے مکاتب سے شرط لگائے تو سفر نہ کرنا یا نکاح نہ کرنا یا میرے ملک میں سے باہر نہ جانا بغیر میرے پوچھے ہوئے اگر تو ایسا کرے گا تو تیری کتابت باطل کردینا میرے اختیار میں ہوگا۔ اس صورت میں کتابت کا باطل کرنا اس کے اختیار میں نہ ہوگا اگرچہ مکاتب ان کاموں میں سے کوئی کام کرے اگر مکاتب کی کتابت کو مولیٰ باطل کرے تو مکاتب کو چاہیے کہ حاکم کے سامنے فریاد کرے وہ حکم کر دے کہ کتابت باطل نہیں ہوسکتی مگر اتنی بات ہے کہ مکاتب کو نکاح کرنا یا سفر کرنا یا ملک سے باہر جانا بغیر مولیٰ کے پوچھے ہوئے درست نہیں ہے خواہ اس کی شرط ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اپنے غلام کو سو دینار کے بدلے میں مکاتب کرتا ہے اور غلام کے پاس ہزار دینار موجود ہوتے ہیں تو وہ نکاح کر کے ان دیناروں کو مہر کے بدلے میں تباہ ہو کر پھر عاجز ہو کر مولیٰ کے پاس آتا ہے نہ اس کے پاس مول ہوتا ہے نہ اور کچھ اس میں سراسر مولیٰ کا نقصان ہے یا مکاتب سفر کرتا ہے اور قسطوں کے دن آجاتے ہیں لیکن وہ حاضر نہیں ہوتا تو اس میں مولیٰ کا حرج ہوتا ہے اسی نظر سے مکاتب کو درست نہیں کہ بغیر مولیٰ کے پوچھے ہوئے نکاح کرے یا سفر کرے بلکہ ان امورات کا اختیار کرنا مولیٰ کو ہے چاہے اجازت دے چاہے منع کرے۔