Muawtta Imam Malik
45. کتاب شرابوں کی بیان میں
موطأ مالك
1498
Muawtta Imam Malikعَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَائِ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ فَإِنْ کَانَ يُسْکِرُ جَلَدْتُهُ فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نکلے اور کہا میں نے فلانے کے منہ سے شراب کی بو پائی وہ کہتا ہے میں طلا (انگور کے شیرے کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہوجائے مثلا دو ثلث جل جائے ایک ثلث رہ جائے) پی اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں نشہ ہے تو اس کو حد ماروں گا حضرت عمر نے اس کو پوری حد لگائی۔
1499
Muawtta Imam Malikعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَرَی أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَکِرَ وَإِذَا سَکِرَ هَذَی وَإِذَا هَذَی افْتَرَی أَوْ کَمَا قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِينَ
ثور بن زید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے صحابہ سے مشورہ لیا خمر کی حد میں (کیونکہ حضور ﷺ نے کوئی حد معین نہیں کی تھی) حضرت علی نے فرمایا میرے نزدیک اسی کوڑے لگانے مناسب ہیں کیونکہ آدمی جب شراب پیے گا مست ہوجائے گا اور جب مست ہوجائے گا واہیات بکے گا اور جب واہیات بکے گا تو کسی کو گالی بھی دے گا ایسا ہی کیا حضرت عمر (رض) نے اسی کوڑے مقرر کئے خمر میں۔
1500
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ حَدِّ الْعَبْدِ فِي الْخَمْرِ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عَلَيْهِ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَدْ جَلَدُوا عَبِيدَهُمْ نِصْفَ حَدِّ الْحُرِّ فِي الْخَمْرِ
ابن شہاب سے پوچھا گیا غلام اگر شراب پیے تو اس کی کیا حد ہے انہوں نے کہا مجھے یہ پہنچا کہ غلام پر آزاد کی نصف حد ہے اور حضرت عمر (رض) اور عثمان اور عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے غلاموں کو آزاد کے نصف حد لگائی۔
1501
Muawtta Imam Malikعَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ إِلَّا اللَّهُ يُحِبُّ أَنْ يُعْفَی عَنْهُ مَا لَمْ يَکُنْ حَدًّا قَالَ مَالِک وَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ کُلَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا مُسْکِرًا فَسَکِرَ أَوْ لَمْ يَسْکَرْ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَدُّ
سعید بن مسیب (رض) کہتے تھے کہ کوئی گناہ نہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ معاف کردیا جائے سوائے حد کے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو کوئی ایسی شراب پئے جس میں نشہ ہو تو اس کو حد پڑے گی خواہ اس کو نشہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔
1502
Muawtta Imam Malikحَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ فَسَأَلْتُ مَاذَا قَالَ فَقِيلَ لِي نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی غزوے میں خطبہ پڑھا میں بھی آپ ﷺ کی طرف چلا سننے کے واسطے لیکن میرے پہنچنے سے پہلے آپ ﷺ فارغ ہوگئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا لوگوں نے کہا منع کیا آپ ﷺ نے نبیذ بھگونے سے توبنے اور مرتبان میں۔
1503
Muawtta Imam Malikو حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا میوہ تر کرنے سے توبنے اور مرتبان میں۔
1504
Muawtta Imam Malikعَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُشْرَبَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالزَّهْوُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا قَالَ مَالِک وَهُوَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّهُ يُکْرَهُ ذَلِکَ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ
عطا بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ گدر کھجور اور پکی کھجور ملا کر بھگوئی جائیں یا کھجور اور انگور ملا کر بھگوئے جائیں۔ ابو قتادہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے کھجور اور انگور کے ملا کر نیبذ پینے سے اور گدر اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ پینے سے۔ کہا مالک نے اس امر پر اتفاق کیا ہے ہمارے شہر کے علماء نے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے اس سے۔
1505
Muawtta Imam Malikعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے پوچھا بتع ( شہد کی شراب) کا حکم آپ ﷺ نے فرمایا جو شراب نشہ کرے وہ حرام ہے۔
1506
Muawtta Imam Malikعَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْغُبَيْرَائِ فَقَالَ لَا خَيْرَ فِيهَا وَنَهَی عَنْهَا
عطاء بن یسار سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا جوار کی شراب کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا بہتر نہیں ہے اور منع کیا اس سے۔
1507
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پئے گا پھر اس سے توبہ نہ کرے گا تو آخرت میں شراب سے محروم رہے گا۔