hadith book logo

Muawtta Imam Malik

39. کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں

موطأ مالك

1318
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ قَالَ مَالِک وَتَفْسِيرُ ذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ الرَّهْنَ عِنْدَ الرَّجُلِ بِالشَّيْئِ وَفِي الرَّهْنِ فَضْلٌ عَمَّا رُهِنَ بِهِ فَيَقُولُ الرَّاهِنُ لِلْمُرْتَهِنِ إِنْ جِئْتُکَ بِحَقِّکَ إِلَی أَجَلٍ يُسَمِّيهِ لَهُ وَإِلَّا فَالرَّهْنُ لَکَ بِمَا رُهِنَ فِيهِ قَالَ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَا يَحِلُّ وَهَذَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ وَإِنْ جَائَ صَاحِبُهُ بِالَّذِي رَهَنَ بِهِ بَعْدَ الْأَجَلِ فَهُوَ لَهُ وَأُرَی هَذَا الشَّرْطَ مُنْفَسِخًا
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ روکی جائے گی رہن۔ کہا مالک نے جو شخص باغ رہن کرے ایک میعاد معین پار تو جو پھل اس باغ میں رہن سے پہلے نکل چکے تھے وہ رہن نہ ہوں گے مگر جس صورت میں مرتہن نے شرط کرلی ہو تو وہ پھل بھی رہن رہیں گے اور جو کوئی شخص حاملہ لونڈی کو رہن رکھے یا بعد رہن کے وہ حاملہ ہوجائے تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ رہن رہے گا یہی فرق ہے پھل اور بچے میں اس وسطے کہ پھل بیع میں بھی داخل نہیں ہوتے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے کھجور کے درخت بیچے تو پھل بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کو ملیں گے مگر جب مشتری (خریدنے والا) شرط کرلے۔
1319
Muawtta Imam Malik
بَاب الْقَضَاءِ فِي رَهْنِ الثَّمَرِ وَالْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِيمَنْ رَهَنَ حَائِطًا لَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَكُونُ ثَمَرُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَبْلَ ذَلِكَ الْأَجَلِ إِنَّ الثَّمَرَ لَيْسَ بِرَهْنٍ مَعَ الْأَصْلِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اشْتَرَطَ ذَلِكَ الْمُرْتَهِنُ فِي رَهْنِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا ارْتَهَنَ جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَوْ حَمَلَتْ بَعْدَ ارْتِهَانِهِ إِيَّاهَا إِنَّ وَلَدَهَا مَعَهَا قَالَ مَالِك وَفُرِقَ بَيْنَ الثَّمَرِ وَبَيْنَ وَلَدِ الْجَارِيَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ وَالْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَاعَ وَلِيدَةً أَوْ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ أَنَّ ذَلِكَ الْجَنِينَ لِلْمُشْتَرِي اشْتَرَطَهُ الْمُشْتَرِي أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ فَلَيْسَتْ النَّخْلُ مِثْلَ الْحَيَوَانِ وَلَيْسَ الثَّمَرُ مِثْلَ الْجَنِينِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخْلِ وَلَا يَرْهَنُ النَّخْلَ وَلَيْسَ يَرْهَنُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ جَنِينًا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مِنْ الرَّقِيقِ وَلَا مِنْ الدَّوَابِّ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے اگر کوئی لونڈی یا جانور بیچے اور اس کے یٹ میں بچہ ہو تو وہ بچہ مشتری (خریدنے والا) کا ہوگا خواہ مشتری (خریدنے والا) اس کی شرط لگائے یا نہ لگائے تو کھجور کا درخت جانور کی مانند نہیں نہ پھل کھجور کے بچے کے مانند ہیں۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ آدمی درخت کے پھلوں کو رہن کرسکتا ہے بغیر درختوں کے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ پیٹ کے بچے کو رہن کرے بغیر اس کی ماں کے آدمی ہو یا جانور۔
1320
Muawtta Imam Malik
بَاب الْقَضَاءِ فِي الرَّهْنِ مِنْ الْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِي الرَّهْنِ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أَمْرٍ يُعْرَفُ هَلَاكُهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ أَوْ حَيَوَانٍ فَهَلَكَ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ وَعُلِمَ هَلَاكُهُ فَهُوَ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ شَيْئًا وَمَا كَانَ مِنْ رَهْنٍ يَهْلِكُ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ فَلَا يُعْلَمُ هَلَاكُهُ إِلَّا بِقَوْلِهِ فَهُوَ مِنْ الْمُرْتَهِنِ وَهُوَ لِقِيمَتِهِ ضَامِنٌ يُقَالُ لَهُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَى صِفَتِهِ وَتَسْمِيَةِ مَالِهِ فِيهِ ثُمَّ يُقَوِّمُهُ أَهْلُ الْبَصَرِ بِذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ عَمَّا سَمَّى فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أَخَذَهُ الرَّاهِنُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا سَمَّى أُحْلِفَ الرَّاهِنُ عَلَى مَا سَمَّى الْمُرْتَهِنُ وَبَطَلَ عَنْهُ الْفَضْلُ الَّذِي سَمَّى الْمُرْتَهِنُ فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ أَبَى الرَّاهِنُ أَنْ يَحْلِفَ أُعْطِيَ الْمُرْتَهِنُ مَا فَضَلَ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ قَالَ الْمُرْتَهِنُ لَا عِلْمَ لِي بِقِيمَةِ الرَّهْنِ حُلِّفَ الرَّاهِنُ عَلَى صِفَةِ الرَّهْنِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ إِذَا جَاءَ بِالْأَمْرِ الَّذِي لَا يُسْتَنْكَرُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ إِذَا قَبَضَ الْمُرْتَهِنُ الرَّهْنَ وَلَمْ يَضَعْهُ عَلَى يَدَيْ غَيْرِهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہوں اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے جیسے زمین اور گھر اور جانور تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا بلکہ راہن کا نقصان ہوگا اور جو شئے مرہوں ایسی ہو جس کا تلف ہوناصرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ) تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا) اب اگر راہن اور مرتہن زر رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا تو خلفاً شئے مرہوں کے اوصاف اور زررہن کو بیان کر جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے اگر قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کرلے گا اگر قیمت زر رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف کرلے گا تو جس قدر مرتہن نے زر رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا اگر مرتہن نے کہا میں شئے مرہوں کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہوں کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے جب کہ وہ کوئی امرخلاف واقعہ بیان نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر ایک شئے دو آدمیوں کے پاس رہن ہو تو ایک مرتہن اپنے دین کا تقاضا کرے اور شئے مرہوں کو بیچنا چاہے اور ایک مرتہن راہن کو مہلت دے اگر شئے مرہوں ایسی ہے کہ اس کے نصف بیچ ڈالنے سے دوسرے مرتہن کا نقصان نہیں ہوتا تو آدھی بیچ کر ایک مرتہن کا دین ادا کردیں گے اور جو نقصان ہوتا ہے تو کل شئے مرہوں کو بیچ کر جو مرتہن تقاضا کرتا ہے اس کو نصف دے دیں گے اور جس مرتہن نے مہلت دی ہے وہ اگر خوشی ہے چاہے تو نصف ثمن کو راہن کے حوالہ کر دے نہیں تو حلف کرے میں نے اس واسطے مہلت دی تھی کہ شئے مرہوں اپنے حال پر میرے پاس رہے پھر اس کا حق اسی وقت ادا کردیا جائے۔ کہا مالک نے اگر غلام کو رہن رکھے تو غلام کا مال راہن لے لے گا مگر جب مرتہن شرط کرلے کہ اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہن رہے۔
1321
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ ارْتَهَنَ مَتَاعًا فَهَلَکَ الْمَتَاعُ عِنْدَ الْمُرْتَهِنِ وَأَقَرَّ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ بِتَسْمِيَةِ الْحَقِّ وَاجْتَمَعَا عَلَی التَّسْمِيَةِ وَتَدَاعَيَا فِي الرَّهْنِ فَقَالَ الرَّاهِنُ قِيمَتُهُ عِشْرُونَ دِينَارًا وَقَالَ الْمُرْتَهِنُ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَالْحَقُّ الَّذِي لِلرَّجُلِ فِيهِ عِشْرُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِک يُقَالُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الرَّهْنُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَقَامَ تِلْکَ الصِّفَةَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِهَا فَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ أَکْثَرَ مِمَّا رُهِنَ بِهِ قِيلَ لِلْمُرْتَهِنِ ارْدُدْ إِلَی الرَّاهِنِ بَقِيَّةَ حَقِّهِ وَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ أَقَلَّ مِمَّا رُهِنَ بِهِ أَخَذَ الْمُرْتَهِنُ بَقِيَّةَ حَقِّهِ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنْ کَانَتْ الْقِيمَةُ بِقَدْرِ حَقِّهِ فَالرَّهْنُ بِمَا فِيهِ
کہا مالک نے ایک شخص نے اسباب رہن رکھا وہ مرتہن کے پاس تلف ہوگیا لیکن راہن اور متہن کو زر رہن کی مقدار میں اختلاف نہیں ہے البتہ شئے مرہوں کی قیمت میں اختلاف ہے راہن کہتا ہے اس کی قیمت بیس دینار ہے۔ اور مرتہن کہتا ہے اس کی قیمت دس دینار تھی اور رہن بیس دینار ہے اور مرہن سے کہا جائے گا کہ شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے ایسی شئے کی قیمت دریافت کریں اگر وہ قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو مرتہن سے کہا جائے گا جس قدر زیادہ ہے وہ راہن کو دے اگر قیمت کم ہے تو مرتہن جس قدر کم ہے راہن سے لے لے اگر برابر ہے تو خیر قصہ چکا نہ یہ کچھ دے نہ وہ کچھ دے۔
1322
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلَيْنِ يَخْتَلِفَانِ فِي الرَّهْنِ يَرْهَنُهُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَيَقُولُ الرَّاهِنُ أَرْهَنْتُکَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيَقُولُ الْمُرْتَهِنُ ارْتَهَنْتُهُ مِنْکَ بِعِشْرِينَ دِينَارًا وَالرَّهْنُ ظَاهِرٌ بِيَدِ الْمُرْتَهِنِ قَالَ يُحَلَّفُ الْمُرْتَهِنُ حَتَّی يُحِيطَ بِقِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ لَا زِيَادَةَ فِيهِ وَلَا نُقْصَانَ عَمَّا حُلِّفَ أَنَّ لَهُ فِيهِ أَخَذَهُ الْمُرْتَهِنُ بِحَقِّهِ وَکَانَ أَوْلَی بِالتَّبْدِئَةِ بِالْيَمِينِ لِقَبْضِهِ الرَّهْنَ وَحِيَازَتِهِ إِيَّاهُ إِلَّا أَنْ يَشَائَ رَبُّ الرَّهْنِ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ الَّذِي حُلِّفَ عَلَيْهِ وَيَأْخُذَ رَهْنَهُ قَالَ وَإِنْ کَانَ الرَّهْنُ أَقَلَّ مِنْ الْعِشْرِينَ الَّتِي سَمَّی أُحْلِفَ الْمُرْتَهِنُ عَلَی الْعِشْرِينَ الَّتِي سَمَّی ثُمَّ يُقَالُ لِلرَّاهِنِ إِمَّا أَنْ تُعْطِيَهُ الَّذِي حَلَفَ عَلَيْهِ وَتَأْخُذَ رَهْنَکَ وَإِمَّا أَنْ تَحْلِفَ عَلَی الَّذِي قُلْتَ أَنَّکَ رَهَنْتَهُ بِهِ وَيَبْطُلُ عَنْکَ مَا زَادَ الْمُرْتَهِنُ عَلَی قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ حَلَفَ الرَّاهِنُ بَطَلَ ذَلِکَ عَنْهُ وَإِنْ لَمْ يَحْلِفْ لَزِمَهُ غُرْمُ مَا حَلَفَ عَلَيْهِ الْمُرْتَهِنُ
کہا مالک نے اگر شئے مرہوں موجود ہو لیکن راہن زر رہن دس دینار بیان کرے اور مرتہن بیس دینار تو مرتہن حلف اٹھائے اگر شئے مرہوں کی بیس دینار قیمت ہو تو اسی شئے مرہوں کو اپنے دین کے بدلے میں لے لے البتہ اگر راہن بیس دینارادا کر کے اپنی شئے لینا چاہے تو لے سکتا ہے اگر اس شئے مرہوں کی قیمت بیس دینار سے کم ہو تو مرتہن سے حلف لے پھر راہن کو اختیار ہے یا بیس دینار دے کر اپنی شئے لے لے یا خود بھی حلف اٹھائے کہ میں نے اتنے پر رہن کی تھی اگر حلف اٹھائے تو جس قدر شئے مرہوں کی قیمت سے مرتہن نے دین زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمے سے ساقط ہوجائے گا ورنہ دینار پڑے گا۔
1323
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک فَإِنْ هَلَکَ الرَّهْنُ وَتَنَاکَرَا الْحَقَّ فَقَالَ الَّذِي لَهُ الْحَقُّ کَانَتْ لِي فِيهِ عِشْرُونَ دِينَارًا وَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ لَمْ يَکُنْ لَکَ فِيهِ إِلَّا عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَقَالَ الَّذِي لَهُ الْحَقُّ قِيمَةُ الرَّهْنِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ وَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ قِيمَتُهُ عِشْرُونَ دِينَارًا قِيلَ لِلَّذِي لَهُ الْحَقُّ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَی صِفَتِهِ ثُمَّ أَقَامَ تِلْکَ الصِّفَةَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِهَا فَإِنْ کَانَتْ قِيمَةُ الرَّهْنِ أَکْثَرَ مِمَّا ادَّعَی فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أُحْلِفَ عَلَی مَا ادَّعَی ثُمَّ يُعْطَی الرَّاهِنُ مَا فَضَلَ مِنْ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ کَانَتْ قِيمَتُهُ أَقَلَّ مِمَّا يَدَّعِي فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أُحْلِفَ عَلَی الَّذِي زَعَمَ أَنَّهُ لَهُ فِيهِ ثُمَّ قَاصَّهُ بِمَا بَلَغَ الرَّهْنُ ثُمَّ أُحْلِفَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ عَلَی الْفَضْلِ الَّذِي بَقِيَ لِلْمُدَّعَی عَلَيْهِ بَعْدَ مَبْلَغِ ثَمَنِ الرَّهْنِ وَذَلِکَ أَنَّ الَّذِي بِيَدِهِ الرَّهْنُ صَارَ مُدَّعِيًا عَلَی الرَّاهِنِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ عَنْهُ بَقِيَّةُ مَا حَلَفَ عَلَيْهِ الْمُرْتَهِنُ مِمَّا ادَّعَی فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ نَکَلَ لَزِمَهُ مَا بَقِيَ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ
کہا مالک نے اگر وہ شئے مرہوں سے تلف ہوگئی اب اختلاف ہوا زرہن کی مقدا اور شئے مرہوں کی قیمتیں مرتہن نے کہا زر رہن بیس دینار تھا اور شئے مرہوں کی قیمت دس دینار تھی اور راہن نے کہا زر رہن دس دینار تھا اور شئے مرہوں کی قیمت بیس دینار تھی تو مرتہن سے کہیں گے شئے مرہوں کے اوصاف بیان کر جب وہ بیان کرے تو اس سے حلف لے کر نگاہ والوں سے قیمت کا اندازہ کرائیں اگر قیمت بیس دینار سے زیادہ (مثلاتیس دینار ہو) تو مرتہن سے حلف لے کر جس قدر قیمت زیادہ (مثلادس دینار) راہن کو دلادیں گے اگر قیمت بیس کم ہو (مثلا پندرہ دینار) تو مرتہن سے زر رہن پر حلف لے کر جس قدر قیمت ہے وہ گویا مرتہن کو وصول ہوچکی باقی کے واسطے راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف اٹھائے گا تو مرتہن راہن سے کچھ نہ لے سکے گا اگر حلف نہ اٹھالے تو بیس دینار میں جتنا کم ہے وہ راہن سے مرتہن کو دلادیں گے۔
1324
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَسْتَکْرِي الدَّابَّةَ إِلَی الْمَکَانِ الْمُسَمَّی ثُمَّ يَتَعَدَّی ذَلِکَ الْمَکَانَ وَيَتَقَدَّمُ إِنَّ رَبَّ الدَّابَّةِ يُخَيَّرُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ کِرَائَ دَابَّتِهِ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي تُعُدِّيَ بِهَا إِلَيْهِ أُعْطِيَ ذَلِکَ وَيَقْبِضُ دَابَّتَهُ وَلَهُ الْکِرَائُ الْأَوَّلُ وَإِنْ أَحَبَّ رَبُّ الدَّابَّةِ فَلَهُ قِيمَةُ دَابَّتِهِ مِنْ الْمَکَانِ الَّذِي تَعَدَّی مِنْهُ الْمُسْتَکْرِي وَلَهُ الْکِرَائُ الْأَوَّلُ إِنْ کَانَ اسْتَکْرَی الدَّابَّةَ الْبَدْأَةَ فَإِنْ کَانَ اسْتَکْرَاهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ثُمَّ تَعَدَّی حِينَ بَلَغَ الْبَلَدَ الَّذِي اسْتَکْرَی إِلَيْهِ فَإِنَّمَا لِرَبِّ الدَّابَّةِ نِصْفُ الْکِرَائِ الْأَوَّلِ وَذَلِکَ أَنَّ الْکِرَائَ نِصْفُهُ فِي الْبَدْأَةِ وَنِصْفُهُ فِي الرَّجْعَةِ فَتَعَدَّی الْمُتَعَدِّي بِالدَّابَّةِ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ إِلَّا نِصْفُ الْکِرَائِ الْأَوَّلِ وَلَوْ أَنَّ الدَّابَّةَ هَلَکَتْ حِينَ بَلَغَ بِهَا الْبَلَدَ الَّذِي اسْتَکْرَی إِلَيْهِ لَمْ يَکُنْ عَلَی الْمُسْتَکْرِي ضَمَانٌ وَلَمْ يَکُنْ لِلْمُکْرِي إِلَّا نِصْفُ الْکِرَائِ قَالَ وَعَلَی ذَلِکَ أَمْرُ أَهْلِ التَّعَدِّي وَالْخِلَافِ لِمَا أَخَذُوا الدَّابَّةَ عَلَيْهِ قَالَ وَکَذَلِکَ أَيْضًا مَنْ أَخَذَ مَالًا قِرَاضًا مِنْ صَاحِبِهِ فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ لَا تَشْتَرِ بِهِ حَيَوَانًا وَلَا سِلَعًا کَذَا وَکَذَا لِسِلَعٍ يُسَمِّيهَا وَيَنْهَاهُ عَنْهَا وَيَکْرَهُ أَنْ يَضَعَ مَالَهُ فِيهَا فَيَشْتَرِي الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَضْمَنَ الْمَالَ وَيَذْهَبَ بِرِبْحِ صَاحِبِهِ فَإِذَا صَنَعَ ذَلِکَ فَرَبُّ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ مَعَهُ فِي السِّلْعَةِ عَلَی مَا شَرَطَا بَيْنَهُمَا مِنْ الرِّبْحِ فَعَلَ وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ رَأْسُ مَالِهِ ضَامِنًا عَلَی الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ وَتَعَدَّی قَالَ وَکَذَلِکَ أَيْضًا الرَّجُلُ يُبْضِعُ مَعَهُ الرَّجُلُ بِضَاعَةً فَيَأْمُرُهُ صَاحِبُ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِيَ لَهُ سِلْعَةً بِاسْمِهَا فَيُخَالِفُ فَيَشْتَرِي بِبِضَاعَتِهِ غَيْرَ مَا أَمَرَهُ بِهِ وَيَتَعَدَّی ذَلِکَ فَإِنَّ صَاحِبَ الْبِضَاعَةِ عَلَيْهِ بِالْخِيَارِ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ مَا اشْتُرِيَ بِمَالِهِ أَخَذَهُ وَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ الْمُبْضِعُ مَعَهُ ضَامِنًا لِرَأْسِ مَالِهِ فَذَلِکَ لَهُ
کہا مالک نے اگر کوئی شخص جانور کرایہ پر لے اس اقرار سے کہ فلاں مقام تک جاؤں گا پھر اس سے آگے بڑھ جائے تو جانور کے مالک کو اختیار ہے کہ اگر چاہے جتنا آگے گیا ہے اتنی دور کا کرایہ دستور کے موافق اور لے لے نہیں تو اپنے جانور کی قیمت اس دن کی اور اس مقام کی جہاں تک جانا ٹھہرا تھا کرایہ دار سے لے لے اور کرایہ جو پہلے ٹھہرچکا تھا وہ بھی لے لے اگر صرف جانے پر کرایہ ہوا تھا اور جو آنے پر کرایہ ہوا تھا تو جو کرایہ ٹھہرا تھا اس کا نصف لے کیونکہ نصف کرایہ جانے کا تھا اور نصف آنے کا اور جس وقت کرایہ دارنے زیادتی کی اس وقت اس پر نصف ہی کرایہ واجب ہوا تھا اگر کرایہ دارنے آنے جانے کے لئے جانور کرایہ پر لیا اور جب جانے کی جگہ پہنچا تو وہ جانور مرگیا تو کرایہ دار پر تاوان نہ ہوگا اور مالک کو نصف کرایہ ملے گا اسی طرح اگر رب المال مضا رب کو منع کر دے کہ فلاں فلاں مال نہ خریدنا اور مضارب وہی خریدے اس خیال سے کہ میں ضمان دے دوں گا اور نفع سارا مار کھاؤں گا تو رب المال کو اختیار ہے چاہے اس سے مال میں مضاربت قائم رکھے چاہے اپنا رائس المال پھیرلے اسی طرح نضاعت میں صاحب مال اگر یہ کہے کہ فلاں فلاں مال خریدنا اور وہ شخص دوسرا مال خریدے تو صاحب مال کو اختیار ہے چاہے اسی مال کو اپنا سمجھے یا اپنا رائس المال پھیرلے۔
1325
Muawtta Imam Malik
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ قَضَی فِي امْرَأَةٍ أُصِيبَتْ مُسْتَکْرَهَةً بِصَدَاقِهَا عَلَی مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ بِهَا
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حکم دیا ایک عورت کے مہر دینے کا اس شخص پر جس نے اس سے جبرا جماع کیا تھا۔
1326
Muawtta Imam Malik
قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَغْتَصِبُ الْمَرْأَةَ بِکْرًا کَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا إِنَّهَا إِنْ کَانَتْ حُرَّةً فَعَلَيْهِ صَدَاقُ مِثْلِهَا وَإِنْ کَانَتْ أَمَةً فَعَلَيْهِ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا وَالْعُقُوبَةُ فِي ذَلِکَ عَلَی الْمُغْتَصِبِ وَلَا عُقُوبَةَ عَلَی الْمُغْتَصَبَةِ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ وَإِنْ کَانَ الْمُغْتَصِبُ عَبْدًا فَذَلِکَ عَلَی سَيِّدِهِ إِلَّا أَنْ يَشَائَ أَنْ يُسَلِّمَهُ قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک يَقُولُ الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ أَنَّ عَلَيْهِ قِيمَتَهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُؤْخَذَ بِمِثْلِهِ مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَا يَکُونُ لَهُ أَنْ يُعْطِيَ صَاحِبَهُ فِيمَا اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَکِنْ عَلَيْهِ قِيمَتُهُ يَوْمَ اسْتَهْلَکَهُ الْقِيمَةُ أَعْدَلُ ذَلِکَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ قَالَ مَالِک يَقُولُ فِيمَنْ اسْتَهْلَکَ شَيْئًا مِنْ الطَّعَامِ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ فَإِنَّمَا يَرُدُّ عَلَی صَاحِبِهِ مِثْلَ طَعَامِهِ بِمَکِيلَتِهِ مِنْ صِنْفِهِ وَإِنَّمَا الطَّعَامُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يَرُدُّ مِنْ الذَّهَبِ الذَّهَبَ وَمِنْ الْفِضَّةِ الْفِضَّةَ وَلَيْسَ الْحَيَوَانُ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ قَالَ مَالِک يَقُولُ إِذَا اسْتُوْدِعَ الرَّجُلُ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ لِنَفْسِهِ وَرَبِحَ فِيهِ فَإِنَّ ذَلِکَ الرِّبْحَ لَهُ لِأَنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ حَتَّی يُؤَدِّيَهُ إِلَی صَاحِبِهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص کسی عورت کو غصب کرے بکر ہو یا ثیبہ اگر وہ آزاد ہے تو اس پر مہر مثل لازم ہے اور اگر لونڈی ہے تو جتنی قیمت اس کی جماع کی وجہ سے کم ہوگئی دینا ہوگا اور اس کے ساتھ غصب کرنے والے کو سزا بھی ہوگی لیکن لونڈی کو سزا نہ ہوگی۔ اگر غلام نے کسی کی لونڈی غصب کرکے یہ کام کیا تو تاوان اس کے مولیٰ پر ہوگا مگر جب مولیٰ اس غلام کو جنایت کے بدلے میں دے ڈالے۔ یحییٰ نے نقل کیا کہ کہا مالک نے جو شخص مالک سے بن پوچھے اس کے جانور کو ہلاک کر دے تو اسے دن کی قیمت دینی ہوگی نہ کہ اس کے مانند اور جانو اور اسی طرح مالک کو جانور کے بدلے میں ہمیشہ اسی دن کی قیمت دی جائے گی نہ کہ جانوریہی حکم ہے اور اسباب کا۔ کہا مالک نے البتہ اگر کسی کا اناج تلف کر دے تو اسی قسم کا اتنا ہی اناج دے دے کیونکہ چاندی سونے (جن کا مثل اور بدل ہوا کرتا ہے) کے مشابہ ہے نہ کہ جانور کے۔ کہا مالک نے اگر امانت کے روپوں سے کچھ مال خریدا اور نفع کمایا تو وہ نفع اس شخص کا ہوجائے گا جس کے پاس روپے امانت تھے مالک کو دینا ضروری نہیں کیونکہ اس نے جھ امانت میں تصرف کیا تو وہ اس کا ضامن ہوگیا۔
1327
Muawtta Imam Malik
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ وَمَعْنَی قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ عَنْ مَالِک أَنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ مِثْلُ الزَّنَادِقَةِ وَأَشْبَاهِهِمْ فَإِنَّ أُولَئِکَ إِذَا ظُهِرَ عَلَيْهِمْ قُتِلُوا وَلَمْ يُسْتَتَابُوا لِأَنَّهُ لَا تُعْرَفُ تَوْبَتُهُمْ وَأَنَّهُمْ کَانُوا يُسِرُّونَ الْکُفْرَ وَيُعْلِنُونَ الْإِسْلَامَ فَلَا أَرَی أَنْ يُسْتَتَابَ هَؤُلَائِ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ قَوْلُهُمْ وَأَمَّا مَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِکَ فَإِنَّهُ يُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ وَإِلَّا قُتِلَ وَذَلِکَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا کَانُوا عَلَی ذَلِکَ رَأَيْتُ أَنْ يُدْعَوْا إِلَی الْإِسْلَامِ وَيُسْتَتَابُوا فَإِنْ تَابُوا قُبِلَ ذَلِکَ مِنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَتُوبُوا قُتِلُوا وَلَمْ يَعْنِ بِذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْيَهُودِيَّةِ إِلَی النَّصْرَانِيَّةِ وَلَا مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ إِلَی الْيَهُودِيَّةِ وَلَا مَنْ يُغَيِّرُ دِينَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ کُلِّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ فَمَنْ خَرَجَ مِنْ الْإِسْلَامِ إِلَی غَيْرِهِ وَأَظْهَرَ ذَلِکَ فَذَلِکَ الَّذِي عُنِيَ بِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے تو اس کی گردن مارو۔ کہا مالک نے رسول اللہ ﷺ نے یہ جو فرمایا جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اس کی گردن مارو ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں جو مسلمان اسلام سے باہر ہوجائیں جیسے زنادقہ یا ان کی مانند تو جب مسلمان ان پر غلبہ پائیں تو ان کو قتل کردیں یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے ان سے توبہ کرنے کو کہیں کیونکہ ان کی توبہ کا اعتبار نہیں ہوسکتا وہ کفر کو اپنے دل میں رکھتے ہیں اور ظاہر میں اپنے تئیں مسلمان کہتے ہیں لیکن اگر مسلمان شخص (کسی شبہ کی وجہ سے) علانیہ دین اسلام سے پھر جائے تو اس سے توبہ کرائیں (اور جو شبہ ہوا ہو اس کو دور کردیں) اگر توبہ کرے تو بہتر۔ ورنہ قتل کیا جائے اور جو کافر ایک کفر کے دین کو چھوڑ کر دوسرا کفر کا دین اختیار کرے مثلا پہلے یہودی تھا پھر نصرانی ہوجائے تو اس کو قتل نہ کریں گے بلکہ جو دین اسلام کو چھوڑ کر اور کوئی دین اختیار کرے گا اسی کے لئے یہ سزا ہے۔