Muawtta Imam Malik
31. کتاب عتق اور ولاء کے بیان میں
موطأ مالك
1150
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْعَبْدِ يُعْتِقُ سَيِّدُهُ مِنْهُ شِقْصًا ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ نِصْفَهُ أَوْ سَهْمًا مِنْ الْأَسْهُمِ بَعْدَ مَوْتِهِ أَنَّهُ لَا يَعْتِقُ مِنْهُ إِلَّا مَا أَعْتَقَ سَيِّدُهُ وَسَمَّى مِنْ ذَلِكَ الشِّقْصِ وَذَلِكَ أَنَّ عَتَاقَةَ ذَلِكَ الشِّقْصِ إِنَّمَا وَجَبَتْ وَكَانَتْ بَعْدَ وَفَاةِ الْمَيِّتِ وَأَنَّ سَيِّدَهُ كَانَ مُخَيَّرًا فِي ذَلِكَ مَا عَاشَ فَلَمَّا وَقَعَ الْعِتْقُ لِلْعَبْدِ عَلَى سَيِّدِهِ الْمُوصِي لَمْ يَكُنْ لِلْمُوصِي إِلَّا مَا أَخَذَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ يَعْتِقْ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ لِأَنَّ مَالَهُ قَدْ صَارَ لِغَيْرِهِ فَكَيْفَ يَعْتِقُ مَا بَقِيَ مِنْ الْعَبْدِ عَلَى قَوْمٍ آخَرِينَ لَيْسُوا هُمْ ابْتَدَءُوا الْعَتَاقَةَ وَلَا أَثْبَتُوهَا وَلَا لَهُمْ الْوَلَاءُ وَلَا يَثْبُتُ لَهُمْ وَإِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي أَعْتَقَ وَأُثْبِتَ لَهُ الْوَلَاءُ فَلَا يُحْمَلُ ذَلِكَ فِي مَالِ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ يُوصِيَ بِأَنْ يَعْتِقَ مَا بَقِيَ مِنْهُ فِي مَالِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لِشُرَكَائِهِ وَوَرَثَتِهِ وَلَيْسَ لِشُرَكَائِهِ أَنْ يَأْبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَلَى وَرَثَتِهِ فِي ذَلِكَ ضَرَرٌ قَالَ مَالِك وَلَوْ أَعْتَقَ رَجُلٌ ثُلُثَ عَبْدِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَبَتَّ عِتْقَهُ عَتَقَ عَلَيْهِ كُلُّهُ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لِأَنَّ الَّذِي يُعْتِقُ ثُلُثَ عَبْدِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ لَوْ عَاشَ رَجَعَ فِيهِ وَلَمْ يَنْفُذْ عِتْقُهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ الَّذِي يَبِتُّ سَيِّدُهُ عِتْقَ ثُلُثِهِ فِي مَرَضِهِ يَعْتِقُ عَلَيْهِ كُلُّهُ إِنْ عَاشَ وَإِنْ مَاتَ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي ثُلُثِهِ وَذَلِكَ أَنَّ أَمْرَ الْمَيِّتِ جَائِزٌ فِي ثُلُثِهِ كَمَا أَنَّ أَمْرَ الصَّحِيحِ جَائِزٌ فِي مَالِهِ كُلِّهِ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مشترک غلا میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس شخص کے پاس انتا مال کہ غلام کی قیمت دے سکے تو اس غلام کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جس قدر اس غلام میں سے آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مولیٰ اگر اپنے مرنے کے بعد اپنے غالم کا ایک حصہ جیسے ثلث یاربع یا نصف آزاد کر جائے تو بعد مولیٰ کے مرجانے کے اسی قدر حصہ جتنامولیٰ نے آزاد کیا تھا آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس حصے کی آزادی بعد مولیٰ کے مرجانے کے لازم ہوئی اور جب تک مولیٰ ازندہ تھا اس کو اختیار تھا جب مرگیا تو موافق اس کی وصیت کے اسی قدر حصہ آزاد ہوگا اور باقی غلام آزاد نہ ہوگا اس واسطے کہ وہ غیر کی ملک ہوگا تو باقی غلام غیر کی طرف سے کیونکر آزاد ہوگا نہ اس نے آزادی شروع کی اور نہ ثابت کی اور نہ اس کے واسطے ولاء ہے بلکہ یہ میت کا فعل ہے اسی نے آزاد کیا اور اسی نے اپنے لئے ولاء ثابت کی تو غیر کے مالک میں کیونکر درست ہوگا البتہ اگر یہ وصیت کر جائے کہ باقی غلام بھی اس کے مال میں سے آزاد کردیا جائے گا اور ثلث مال میں سے وہ غلام آزاد ہوسکتا ہو تو آزاد ہوجائے گا پھر اس کے شریکوں یا وارثوں کو تعرض نہیں پہنچتا کیونکہ ان کا کچھ ضرر نہیں۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی بیماری میں تہائی غلام آزاد کردیا تو وہ ثلث مال میں سے پورا آزاد ہوجائے گا کیونکہ یہ مثل اس شخص کے نہیں ہے جو اپنی تہائی غلام کی آزادی اپنی موت پر معلق کردے اس واسطے کہ اس کی آزادی قطعی نہیں جب تک زندہ ہے رجوع کرسکتا ہے اور جس نے اپنے مرض میں تہائی غلام قطعا آزاد کردیا اگر وہ زندہ رہ گیا تو کل غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ میت کا تہائی مال میں وصیت درست ہے جیسے صحیح سالم کا تصرف کل مالک میں درست ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنا غلام قطعی طور پر آزاد کردیا یہاں تک کہ اس کی شہادت ہوگئی اور اس کی حرمت پوری ہوگئی اور اس کی میراث ثابت ہوگئی اب اس کے مولیٰ کو نہیں پہنچتا کہ اس پر کسی مال یا خدمت کی شرط لگادے یا اس پر کچھ غلامی کا بوجھ ڈالے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا حصہ غلام میں سے آزاد کردے تو اس کی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو موافق حصہ کر آزاد کرے اور غلام اس کے اوپر آزاد ہوجائے گا پس جس صورت میں وہ غلام خاص اسی کی ملک ہے تو زیادہ تر اس کی آزادی پوری کرنے کا حقدار ہوگا اور غلامی کا بوجھ اس پر نہ رکھے سکے گا۔
1151
Muawtta Imam Malikعَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَسْهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَ تِلْكَ الْعَبِيدِ
حسن بصری اور محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا آپ ﷺ نے قرعہ ڈال کردو کی آزاد قائم رکھی۔
1152
Muawtta Imam Malikعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا فِي إِمَارَةِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ کُلَّهُمْ جَمِيعًا وَلَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِتِلْکَ الرَّقِيقِ فَقُسِمَتْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَی أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيَعْتِقُونَ فَوَقَعَ السَّهْمُ عَلَی أَحَدِ الْأَثْلَاثِ فَعَتَقَ الثُّلُثُ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهِ السَّهْمُ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ایک شخص نے ابان بن عثمان کی خلافت میں اپنے سب غلاموں کو آزاد کردیا اور سوا ان غلاموں کے اور کچھ مال اس شخص کے پاس نہ تھا تو ابان بن عثمان نے حکم کیا ان غلاموں کے تین حصے کئے گئے پھر جس حصے پر میت کا حصہ نکلا وہ غلام آزاد ہوگئے اور جب حصوں پر وارثوں کا نام نکلا وہ غلام رہے۔
1153
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا أُعْتِقَ تَبِعَهُ مَالُهُ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُکَاتَبَ إِذَا أَفْلَسَا أُخِذَتْ أَمْوَالُهُمَا وَأُمَّهَاتُ أَوْلَادِهِمَا وَلَمْ تُؤْخَذْ أَوْلَادُهُمَا لِأَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَمْوَالٍ لَهُمَا قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا بِيعَ وَاشْتَرَطَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مَالَهُ لَمْ يَدْخُلْ وَلَدُهُ فِي مَالِهِ قَالَ مَالِک وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِکَ أَيْضًا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَرَحَ أُخِذَ هُوَ وَمَالُهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ وَلَدُهُ
شہاب کہتے تھے کہ سنت جاری ہے اس بات پر جب غلام آزاد ہوجائے اس کا مال اسی کو ملے گا۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ ہے کہ غلام اور مکاتب جب مفلس ہوجائیں تو ان کے مالک اور ام دلد لے لیں گے مگر اولاد کو نہ لیں گے کیونکہ اولاد غلام کا مالک نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ غلام جب بیچا جائے اور خریدار اس کے مالک لینے کی طرف کرلے تو اولاد اس میں داخل نہ ہوگی۔ کہا مالک نے غلام اگر کسی کو زخمی کرے تو اس دیت میں وہ خود اور مال اس کا گرفت کیا جائے گا مگر اس کی اولاد سے مواخذہ نہ ہوگا۔
1154
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا وَلَا يَهَبُهَا وَلَا يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا فَأَعْتَقَهَا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کے بہ بیچے نہ ہبہ کر نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آسکتی ہے بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے جب مرجائے وہ آزاد ہوجائے گی۔ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا آپ نے اس کو آزاد کردیا۔
1155
Muawtta Imam Malikعَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنْ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ أَکَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَکُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَائِ فَقَالَ مَنْ أَنَا فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا
عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے پوچھا میں نے ایک بکری کہاں ہے بولی اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے غصہ آیا آخر میں آدمی تھا میں نے ایک طماچہ اس کے منہ پر جڑا میرے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا اللہ جل جلالہ کہاں ہے وہ بولی آسمان پر ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں کون ہو بولی آپ ﷺ اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا اس کو آزاد کر دے۔
1156
Muawtta Imam Malikعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ کُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً أُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا عَنْ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا قَالَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ کے وہ بولی ہاں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ بولی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کر کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے بولی ہاں تب آپ ﷺ نے فرمایا اس کو آزاد کر دے ابوہریرہ (رض) سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا ہو ولد الزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔ فضالہ بن عبید انصاری سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا وہ ولدا لزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔
1157
Muawtta Imam Malikأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ فَقَالَ لَا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا لِأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ لِأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُعْتَقَ فِيهَا نَصْرَانِيٌّ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا يُعْتَقُ فِيهَا مُكَاتَبٌ وَلَا مُدَبَّرٌ وَلَا أُمُّ وَلَدٍ وَلَا مُعْتَقٌ إِلَى سِنِينَ وَلَا أَعْمَى وَلَا بَأْسَ أَنْ يُعْتَقَ النَّصْرَانِيُّ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ تَطَوُّعًا لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً فَالْمَنُّ الْعَتَاقَةُ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرِّقَابُ الْوَاجِبَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا يُعْتَقُ فِيهَا إِلَّا رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ فِي إِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ فِي الْكَفَّارَاتِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُطْعَمَ فِيهَا إِلَّا الْمُسْلِمُونَ وَلَا يُطْعَمُ فِيهَا أَحَدٌ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجبہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے کہا نہیں۔ کہا مالک نے جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لئے اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع (بچنے والا) رعایت کرکے اس کی قیمت کم کردے گا اس صورت میں وہ پورارقبہ نہ ہوگا۔
1158
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَنْ تُوصِيَ ثُمَّ أَخَّرَتْ ذَلِکَ إِلَی أَنْ تُصْبِحَ فَهَلَکَتْ وَقَدْ کَانَتْ هَمَّتْ بِأَنْ تُعْتِقَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَيَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ الْقَاسِمُ إِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي هَلَکَتْ فَهَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا پھر صبح تک دیر کی رات کو مرگئیں اور ان کا قصد بردہ آزاد کرنے کا تھا عبدالرحمن نے کہا میں نے قاسم بن محمد سے پوچھا اگر میں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دوں تو ان کو کچھ فائدہ ہوگا قاسم نے کہا سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ماں مرگئی اگر میں اس کی طرف سے آزاد کر دں کیا اس کو فائدہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ہان۔
1159
Muawtta Imam Malikعَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِقَابًا کَثِيرَةً قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ
یحییٰ بن سعید نے کہا عبدالرحمن بن ابوبکرسوتے سوتے مرگئے حضرت عائشہ نے ان کی طرف سے بہت سے بردے آزاد کئے۔