hadith book logo

Muawtta Imam Malik

30. کتاب رضاع کے بیان میں

موطأ مالك

1132
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمٍّ لِحَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ کَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ کے گھر میں ان کے پاس تھے اتنے میں حضرت عائشہ نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے گھر جانے کی اجازت چاہتا تھا حضرت عائشہ بولیں یا رسول اللہ ﷺ یہ کون شخص ہے جو آپ ﷺ کے گھر میں جانا چاہتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ فلاں شخص ہے حضرت حفصہ کے رضاعی چچا کا نام لیا جب حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میرا رضاعی چچا زندہ ہوتا تو کیا میرے سامنے آتا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے۔
1133
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّحَتَّی أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَأْذَنِي لَهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّکِ فَلْيَلِجْ عَلَيْکِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِکَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ وَقَالَتْ عَائِشَةُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
حضرت عائشہ نے کہا میرا رضاعی چچا میرے پاس آیا اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پوچھے بغیر اجازت نہ دوں گی جب رسول اللہ ﷺ آئے تو پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے تو اس کو آنے کی اجازت دے دے میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا مرد کا اس سے کیا تعلق آپ ﷺ نے فرمایا وہ تیرا چچا ہے بیشک تیرے پاس آئے گا اور یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب آیت حجاب اتر چکی تھی حضرت عائشہ نے کہا جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔
1134
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَائَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ قَالَتْ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ
حضرت عائشہ نے کہا کہ میرا رضاعی چچا افلح میرے پاس آیا آیت حجاب کے اترنے کے بعد میں نے اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جب رسول اللہ ﷺ آئے تو میں آپ ﷺ کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ ﷺ نے میرے پاس اسے آنے کی اجازت دے دی۔
1135
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ کَانَ مَصَّةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ
عبداللہ بن عباس کہتے تھے دو برس کے اندر بچہ اگر ایک دفعہ بھی دودھ چوسے تو رضاعت کی حرمت ثابت ہوگی
1136
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا غُلَامًا وَأَرْضَعَتْ الْأُخْرَی جَارِيَةً فَقِيلَ لَهُ هَلْ يَتَزَوَّجُ الْغُلَامُ الْجَارِيَةَ فَقَالَ لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ
عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا اگر ایک شخص کی دو بیبیاں ہوں ان میں سے ایک بی بی ایک لڑکے کو دودھ پلائے اور دوسری بی بی ایک لڑکی کو کیا اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی سے درست ہے جواب دیا درست نہیں کیونکہ دونوں کا باپ ایک ہی ہے۔
1137
Muawtta Imam Malik
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا رَضَاعَةَ إِلَّا لِمَنْ أُرْضِعَ فِي الصِّغَرِ وَلَا رَضَاعَةَ لِکَبِيرٍ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے رضاعت وہی ہے جو دو برس کے اندر ہو اس کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
1138
Muawtta Imam Malik
عَنْ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَی أُخْتِهَا أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَتْ أَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ حَتَّی يَدْخُلَ عَلَيَّ قَالَ سَالِمٌ فَأَرْضَعَتْنِي أُمُّ کُلْثُومٍ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْنِي غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَکُنْ أَدْخُلُ عَلَی عَائِشَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ کُلْثُومٍ لَمْ تُتِمَّ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ
حضرت عائشہ نے سالم بن عبداللہ کو جب وہ شیر خوار تھے اپنے بہن ام کلثوم کے پاس بھیجا اس لئے کہ دس بار اس کو دودھ پلائی بغیر پردہ کے میرے سامنے آجائیں سالم نے کہا ام کلثوم نے مجھ کو تین بار دودھ پلایا بعد اس کے میں بیمار ہوگیا اس لئے میں حضرت عائشہ کے سامنے نہیں جاتا کیونکہ میں نے ام کلثوم کا دس بار دودھ نہیں پیا تھا۔
1139
Muawtta Imam Malik
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَی أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ فَکَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا
صفیہ بن ابی عبید سے روایت ہے کہ ام المومنین حفصہ نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو ضب وہ شیر خوار تھے اپنی بہن فاطمہ بنت عمر بن خطاب کے پاس بھیجا تاکہ ان کو دس مرتبہ دودھ پلائیں جب وہ بڑے ہوجائیں تو اسن کے سامنے ہوا کریں فاطمہ نے عاصم کو دودھ پلادیا پھر عاصم جب بڑے ہوئے تو حضرت حفصہ ان کے سامنے ہوا کرتیں۔
1140
Muawtta Imam Malik
عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَتْهُ أَخَوَاتُهَا وَبَنَاتُ أَخِيهَا وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا مَنْ أَرْضَعَهُ نِسَائُ إِخْوَتِهَا
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ سامنے ہوتیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بہنوں اور بھیتجوں کے اور نہیں سامنے ہوتی تھیں ان لوگوں کے جن کو دودھ پلایا تھا ان کی بھاوجوں نے۔
1141
Muawtta Imam Malik
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ سَعِيدٌ کُلُّ مَا کَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ وَإِنْ کَانَتْ قَطْرَةً وَاحِدَةً فَهُوَ يُحَرِّمُ وَمَا کَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ فَإِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ يَأْکُلُهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ثُمَّ سَأَلْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ
ابراہیم بن عتبہ نے سعید بن مسیب سے پوچھا رضاعت کا حکم سعید نے کہا جو رضاعت دو برس کے اندر ہو اس سے حرمت ثابت ہوجائے گی اگرچہ ایک قطرہ ہو اور جو دو برس کے بعد اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی بلکہ وہ مثل کھانوں کے ہے ابراہم نے کہا پھر میں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔