Muawtta Imam Malik
29. کتاب الطلاق کتاب طلاق کے بیان میں
موطأ مالك
1031
Muawtta Imam Malikعَنْ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ فَمَاذَا تَرَی عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلَاثٍ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا عَنْ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَمَاذَا قِيلَ لَکَ قَالَ قِيلَ لِي إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ صَدَقُوا مَنْ طَلَّقَ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَی نَفْسِهِ لَبْسًا جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ لَا تَلْبِسُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْکُمْ هُوَ کَمَا يَقُولُونَ
ایک شخص نے ابن عباس (رض) سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہوگئی اور ستانوے طلاق سے تو نے اللہ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا۔ ، ایک شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں ابن مسعود نے کہا لوگوں نے تجھ سے کیا کہا وہ بولا مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی ابن مسعود نے کہا سچ ہے جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کردی اور جو گڑبڑ کرے گا اس کی بلا اس کے سر لگا دیں گے گڑبڑ مت کرو تاکہ ہم کو مصیبت نہ اٹھانا پڑے وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔
1032
Muawtta Imam Malikعَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لَهُ الْبَتَّةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ لَهُ کَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَوْ کَانَ الطَّلَاقُ أَلْفًا مَا أَبْقَتْ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ فَقَدْ رَمَی الْغَايَةَ الْقُصْوَی
ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں ابوبکر نے کہا ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے عمر بن عبدالعزیز نے کہا اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔
1033
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ کَانَ يَقْضِي فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ أَنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان طلاق بتہ میں تین طلاق کا حکم کرتا تھا۔
1034
Muawtta Imam Malikعَنْ کُتِبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ الْعِرَاقِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی عَامِلِهِ أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَکَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْکَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَسْأَلُکَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ حَبْلُکِ عَلَی غَارِبِکِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ لَوْ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَکَانِ مَا صَدَقْتُکَ أَرَدْتُ بِذَلِکَ الْفِرَاقَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هُوَ مَا أَرَدْتَ
حضرت عمر بن خطاب کے پاس خط لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا جبلک علی غاربک حضرت عمر خطاب نے لکھا اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکہ میں مجھ سے ملے حضرت عمر کعبہ کا طواف کر رہے تھے ایک شخص ملا اور سلام کیا پوچھا تم کون ہے آپ نے فرمایا میں وہی شخص ہوں جس نے تم نے حکم کیا تھا مکہ میں ملنے کا حضرت عمر نے کہا قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی جبلک علی غاربک سے تیری کیا مراد تھی وہ بولا اے امیر المومین اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ کی قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی حضرت عمر نے فرمایا جیسے تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔
1035
Muawtta Imam Malikعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ
حضرت علی کہتے تھے جو شخص اپنی عورت سے کہے تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاق پڑجائیں گی۔
1036
Muawtta Imam Malikعَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ خلیہ اور بریہ ان میں سے ہر ایک میں تین طلاقیں پڑ جایئیں گی۔
1037
Muawtta Imam Malikعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ تَحْتَهُ وَلِيدَةٌ لِقَوْمٍ فَقَالَ لِأَهْلِهَا شَأْنَکُمْ بِهَا فَرَأَی النَّاسُ أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْکِ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا أَوَاحِدَةً أَرَادَ أَمْ ثَلَاثًا فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً أُحْلِفَ عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ خَاطِبًا مِنْ الْخُطَّابِ لِأَنَّهُ لَا يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا وَلَا يُبِينُهَا وَلَا يُبْرِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اس نے لونڈی کے مالکوں سے کہہ دیا تم جانو تمہارا کام جانے لوگوں نے اس کو ایک طلاق سمجھا۔ ابن شہاب کہتے تھے اگر مرد عورت سے کہے میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے تو خلیہ ہے یا بریہ ہے یا بائنہ ہے تو اگر اس عورت سے صحبت کرچکا ہے تین طلاق پڑیں گی اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی اگر اس نے کہا میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہوجائے گی اب رجعت نہیں کرسکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کرسکتا ہے کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہوجاتی ہے جس سے صحبت کرچکا اور وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے۔ کہا مالک نے یہ روایت مجھے بہت پسند ہے۔
1038
Muawtta Imam Malikعَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي فِي يَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا فَمَاذَا تَرَی فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أُرَاهُ کَمَا قَالَتْ فَقَالَ الرَّجُلُ لَا تَفْعَلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنَا أَفْعَلُ أَنْتَ فَعَلْتَهُ
امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور بولا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے اپنے آپ کو تین طلاق دے لی اب کیا کہتے ہو ابن عمر نے کہا کہ طلاق پڑگئی وہ شخص بولا ایسا تو مت کرو ابن عمرو نے کہا میں نے کیا کیا تو نے اپنے آپ کیا۔
1039
Muawtta Imam Malikعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِذَا مَلَّکَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَالْقَضَائُ مَا قَضَتْ بِهِ إِلَّا أَنْ يُنْکِرَ عَلَيْهَا وَيَقُولُ لَمْ أُرِدْ إِلَّا وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ وَيَکُونُ أَمْلَکَ بِهَا مَا کَانَتْ فِي عِدَّتِهَا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے تو جب بھی طلاق عورت چاہے اپنے اوپر ڈال لے مگر جب خاوند انکار کرے اور کہے میں نے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا اور حلف کرے تو اس عورت کا مستحق ہوگا جب تک وہ عدت میں ہے۔
1040
Muawtta Imam Malikعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ مَلَّکْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ مَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ الْقَدَرُ فَقَالَ زَيْدٌ ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَکُ بِهَا
خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ زید بن ثابت کے پاس بیٹھے تھے اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے زید نے پوچھا کیوں انہوں نے کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا اس نے مجھے چھوڑ دیا زید نے کہا تو نے کیوں اختیار دیا انہوں نے کہا تقدیر میں یوں ہی تھا زید نے کہا اگر تو چاہے تو رجعت کرلے کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے ابھی تو اس کا مالک ہے۔