hadith book logo

Muawtta Imam Malik

35. کتاب قرض کے بیان میں

موطأ مالك

1280
Muawtta Imam Malik
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَی الْعِرَاقِ فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَی أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَقْدِرُ لَکُمَا عَلَی أَمْرٍ أَنْفَعُکُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ ثُمَّ قَالَ بَلَی هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُسْلِفُکُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَکُونُ الرِّبْحُ لَکُمَا فَقَالَا وَدِدْنَا ذَلِکَ فَفَعَلَ وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُمَا الْمَالَ فَلَمَّا قَدِمَا بَاعَا فَأُرْبِحَا فَلَمَّا دَفَعَا ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ قَالَ أَکُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ مِثْلَ مَا أَسْلَفَکُمَا قَالَا لَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَکُمَا أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَسَکَتَ وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا يَنْبَغِي لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا لَوْ نَقَصَ هَذَا الْمَالُ أَوْ هَلَکَ لَضَمِنَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَدِّيَاهُ فَسَکَتَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِ عُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا فَقَالَ عُمَرُ قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا فَأَخَذَ عُمَرُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِهِ وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ
زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت ہے کہ کہ عبداللہ بن عبیداللہ بیٹے حضرت عمر بن خطا کے ایک لشکر کے ساتھ نکلے جہاد کے واسطے عراق کی طرف جب لوٹے تو ابومویس اشعری کے پاس گئے جو حاکم تھے بصرے کے انہوں نے کہا مرحبا اور سہلا پھر کہا کاش میں تم کو کچھ نفع پہنچا سکتا تو پہنچاتا میرے پاس کچھ روپیہ ہے اللہ کا جس کو میں بھیجنا چاہتا ہوں حضرت عمر کے پاس تو میں وہ روپے تم کو قرض دے دیتا ہوں اس کا اسباب خرید لو عراق سے پھر مدینہ میں اس مال کو بیچ کر اصل روپیہ حضرت عمر کو دیدینا اور نفع تم لے لینا انہوں نے کہا ہم بھی یہ چاہتے ہیں ابوموسیٰ نے ایسا ہی کیا اور حضرت عمر کو لکھ بھیجا کہ ان دونوں سے اصل روپیہ وصول کرلیجئے گا جب دونوں مدینہ کو آئے انہوں نے مال بیچا اور نفع حاصل کیا پھر اصل مال لے کر حضرت عمر کے پاس گئے حضرت عمر نے پوچھا کی ابومویس نے لشکر کے سب لوگوں کو اتنا اتنا روپیہ قرض دیا تھا انہوں نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا پھر تم کو امیرالمومنین کا بیٹا سمجھ کر یہ روپیہ دیا ہوگا اصل روپیہ اور نفع دونوں دے دو عبداللہ تو چپ ہو رہے اور عبیداللہ نے کہا اے امیر المومنین تم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اگر مال تلف ہوتا یا نقصان ہوتا تو ہم ضمان دیتے حضرت عمرنے کہا نہیں دے دو عبداللہ چپ ہو رہے عبیداللہ نے پھر جواب دیا اتنے میں ایک شخص حضرت عمر کے مصاحبوں میں سے بولا اے امیر المومنین تم اس کو مضاربت کردو تو بہتر ہے حضرت عمر نے کہا میں نے کیا پھر حضرت نے اصل مال اور نصف نفع لیا اور عبداللہ اور عبیداللہ نے آدھا نفع لیا۔
1281
Muawtta Imam Malik
عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْطَاهُ مَالًا قِرَاضًا يَعْمَلُ فِيهِ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا
حضرت عثمان بن عفان کو مال دیا مضاربت کے طور پر تاکہ یعقوب محنت کریں اور نفع میں شریک ہوں۔
1282
Muawtta Imam Malik
بَاب مَا يَجُوزُ فِي الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك وَجْهُ الْقِرَاضِ الْمَعْرُوفِ الْجَائِزِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ الْمَالَ مِنْ صَاحِبِهِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ وَنَفَقَةُ الْعَامِلِ فِي الْمَالِ فِي سَفَرِهِ مِنْ طَعَامِهِ وَكِسْوَتِهِ وَمَا يُصْلِحُهُ بِالْمَعْرُوفِ بِقَدْرِ الْمَالِ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ إِذَا كَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنْ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُعِينَ الْمُتَقَارِضَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ إِذَا صَحَّ ذَلِكَ مِنْهُمَا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَشْتَرِيَ رَبُّ الْمَالِ مِمَّنْ قَارَضَهُ بَعْضَ مَا يَشْتَرِي مِنْ السِّلَعِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ صَحِيحًا عَلَى غَيْرِ شَرْطٍ قَالَ مَالِك فِيمَنْ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ وَإِلَى غُلَامٍ لَهُ مَالًا قِرَاضًا يَعْمَلَانِ فِيهِ جَمِيعًا إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّ الرِّبْحَ مَالٌ لِغُلَامِهِ لَا يَكُونُ الرِّبْحُ لِلسَّيِّدِ حَتَّى يَنْتَزِعَهُ مِنْهُ وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنْ كَسْبِهِ
کہا مالک نے مضاربت اس طور پر درست ہے کہ آدمی ایک شخص سے روپیہ لے اس شرط پر کہ محنت کرے گا لیکن اگر نقصان ہو تو اس پر ضمان نہ ہوگا اور مضاربت کا خریچ سفر کی حالت میں کھانے پینے سواری کا دستور کے موافق اسی مال میں سے دیا جائے گا نہ کہ اقامت کی حالت میں۔ کہا مالک نے اگر مضا رب رب المال کی مدد کرے یا رب المال کی دستور کے موافق بغیر شرط کے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر رب المال مضا رب سے کوئی چیز خرید لے بغیر شرط کے تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر رب المال ایک غیر شخص اور ایک اپنے غلام کو مال دے مضاربت کے طور پر اس شرط سے کہ دونوں محنت کریں درست ہے اور غلام کے حصہ کا نفع غلام کے پاس رہے گا مگر جب مولیٰ اس سے لے لے تو مولیٰ کا ہوجائے گا۔
1283
Muawtta Imam Malik
بَاب الْقِرَاضِ فِي الْعُرُوضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُقَارِضَ أَحَدًا إِلَّا فِي الْعَيْنِ لِأَنَّهُ لَا تَنْبَغِي الْمُقَارَضَةُ فِي الْعُرُوضِ لِأَنَّ الْمُقَارَضَةَ فِي الْعُرُوضِ إِنَّمَا تَكُونُ عَلَى أَحَدِ وَجْهَيْنِ إِمَّا أَنْ يَقُولَ لَهُ صَاحِبُ الْعَرْضِ خُذْ هَذَا الْعَرْضَ فَبِعْهُ فَمَا خَرَجَ مِنْ ثَمَنِهِ فَاشْتَرِ بِهِ وَبِعْ عَلَى وَجْهِ الْقِرَاضِ فَقَدْ اشْتَرَطَ صَاحِبُ الْمَالِ فَضْلًا لِنَفْسِهِ مِنْ بَيْعِ سِلْعَتِهِ وَمَا يَكْفِيهِ مِنْ مَئُونَتِهَا أَوْ يَقُولَ اشْتَرِ بِهَذِهِ السِّلْعَةِ وَبِعْ فَإِذَا فَرَغْتَ فَابْتَعْ لِي مِثْلَ عَرْضِي الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَلَعَلَّ صَاحِبَ الْعَرْضِ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى الْعَامِلِ فِي زَمَنٍ هُوَ فِيهِ نَافِقٌ كَثِيرُ الثَّمَنِ ثُمَّ يَرُدَّهُ الْعَامِلُ حِينَ يَرُدُّهُ وَقَدْ رَخُصَ فَيَشْتَرِيَهُ بِثُلُثِ ثَمَنِهِ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَيَكُونُ الْعَامِلُ قَدْ رَبِحَ نِصْفَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَرْضِ فِي حِصَّتِهِ مِنْ الرِّبْحِ أَوْ يَأْخُذَ الْعَرْضَ فِي زَمَانٍ ثَمَنُهُ فِيهِ قَلِيلٌ فَيَعْمَلُ فِيهِ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ فِي يَدَيْهِ ثُمَّ يَغْلُو ذَلِكَ الْعَرْضُ وَيَرْتَفِعُ ثَمَنُهُ حِينَ يَرُدُّهُ فَيَشْتَرِيهِ بِكُلِّ مَا فِي يَدَيْهِ فَيَذْهَبُ عَمَلُهُ وَعِلَاجُهُ بَاطِلًا فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ فَإِنْ جُهِلَ ذَلِكَ حَتَّى يَمْضِيَ نُظِرَ إِلَى قَدْرِ أَجْرِ الَّذِي دُفِعَ إِلَيْهِ الْقِرَاضُ فِي بَيْعِهِ إِيَّاهُ وَعِلَاجِهِ فَيُعْطَاهُ ثُمَّ يَكُونُ الْمَالُ قِرَاضًا مِنْ يَوْمَ نَضَّ الْمَالُ وَاجْتَمَعَ عَيْنًا وَيُرَدُّ إِلَى قِرَاضٍ مِثْلِهِ
کہا مالک نے مضاربت در نہیں درست ہے مگر سونے چاندی اور اسباب میں درست نہیں کیونکہ اسباب میں مضارب دو طرح پر ہوگی ایک یہ کہ رب المال مضارب کو اسباب دے اور کہے اس کو بیچ کر اس کے داموں میں مضاربت کر یہ درست نہیں کیونکہ اس میں رب المال کا ایک خاص فائدہ ہوا وہ یہ کہ اس کا اسباب بغیر وقت کے بک گیا دوسری شکل یہ ہے کہ رب المال مضارب کو اسباب میں دے کر یہ کہے اس اسباب کے بدلے میں اور اسباب خرید کر کے تجارت کر جب معاملہ ختم کرنا منظور ہو تو جیسا اسباب میں نے دیا ہے ویسا ہی اسباب خرید کر کے دینا جو بچ رہے وہ ہم تم بانٹ لیں گے یہ بھی درست نہیں کیوکنہ اس میں دھوکا ہے شاید جس وقت یہ اسباب رب المال نے مضارب کو دیا ہے گراں ہو پھر جس وقت ارزاں خریدے تو مضارب راس المال میں سے نفع کمالے گا شاید جس وقت رب المال نے دیا ہے اس وقت ارزاں ہو۔ پھر معاملہ ختم ہوتے وقت گراں ہوجائے تو مضارب کا صل اور نفع سب اس کی خرید میں صرف ہوجائے اور مضارب کی کوشش اور محنت برباد ہوجائے اس پر بھی اگر کوئی اس طرح مضاربت کرے تو پہلے مضارب کو اس اسباب کے بیچنے کے دستور کے موافق اجرت دلا کر جس روز سے راس المال نقد ہوا ہے مضارب قائم کریں گے پھر معاملہ ختم ہوتے وقت بھی اس قدر نقد کو راس المال سمجھیں۔
1284
Muawtta Imam Malik
بَاب الْكِرَاءِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهِ مَتَاعًا فَحَمَلَهُ إِلَى بَلَدِ التِّجَارَةِ فَبَارَ عَلَيْهِ وَخَافَ النُّقْصَانَ إِنْ بَاعَهُ فَتَكَارَى عَلَيْهِ إِلَى بَلَدٍ آخَرَ فَبَاعَ بِنُقْصَانٍ فَاغْتَرَقَ الْكِرَاءُ أَصْلَ الْمَالِ كُلَّهُ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ فِيمَا بَاعَ وَفَاءٌ لِلْكِرَاءِ فَسَبِيلُهُ ذَلِكَ وَإِنْ بَقِيَ مِنْ الْكِرَاءِ شَيْءٌ بَعْدَ أَصْلِ الْمَالِ كَانَ عَلَى الْعَامِلِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى رَبِّ الْمَالِ مِنْهُ شَيْءٌ يُتْبَعُ بِهِ وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْمَالِ إِنَّمَا أَمَرَهُ بِالتِّجَارَةِ فِي مَالِهِ فَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَتْبَعَهُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْمَالِ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ يُتْبَعُ بِهِ رَبُّ الْمَالِ لَكَانَ ذَلِكَ دَيْنًا عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ الْمَالِ الَّذِي قَارَضَهُ فِيهِ فَلَيْسَ لِلْمُقَارِضِ أَنْ يَحْمِلَ ذَلِكَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ
کہا مالک نے اگر مضارب اسباب خرید کر کے ایک شہر میں لے گیا وہاں نہ بکا اور نقصان سمجھ کو دوسرے شہر کو لے گیا وہاں پر نقصان سے بکا اور راس المال سب کرایہ پر صرف ہوگیا بلکہ اور کچھ کرایہ باقی رہ گیا تو مضارب اس کو اپنی ذات سے ادا کرے رب المال سے نہیں لے سکتا۔
1285
Muawtta Imam Malik
بَاب مَا لَا يَجُوزُ فِي الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك إِذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَسَأَلَهُ أَنْ يُقِرَّهُ عِنْدَهُ قِرَاضًا إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ حَتَّى يَقْبِضَ مَالَهُ ثُمَّ يُقَارِضُهُ بَعْدُ أَوْ يُمْسِكُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ أَعْسَرَ بِمَالِهِ فَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَخِّرَ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَزِيدَهُ فِيهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَهَلَكَ بَعْضُهُ قَبْلَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ ثُمَّ عَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ فَأَرَادَ أَنْ يَجْعَلَ رَأْسَ الْمَالِ بَقِيَّةَ الْمَالِ بَعْدَ الَّذِي هَلَكَ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ قَالَ مَالِك لَا يُقْبَلُ قَوْلُهُ وَيُجْبَرُ رَأْسُ الْمَالِ مِنْ رِبْحِهِ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَأْسِ الْمَالِ عَلَى شَرْطِهِمَا مِنْ الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك لَا يَصْلُحُ الْقِرَاضُ إِلَّا فِي الْعَيْنِ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ وَلَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْعُرُوضِ وَالسِّلَعِ وَمِنْ الْبُيُوعِ مَا يَجُوزُ إِذَا تَفَاوَتَ أَمْرُهُ وَتَفَاحَشَ رَدُّهُ فَأَمَّا الرِّبَا فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ فِيهِ إِلَّا الرَّدُّ أَبَدًا وَلَا يَجُوزُ مِنْهُ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ وَلَا يَجُوزُ فِيهِ مَا يَجُوزُ فِي غَيْرِهِ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
کہا مالک نے اگر ایک شخص کا قرض دوسرے پر آتا ہو پھر قرضدار یہ کہے قرضخواہ سے تو اپنا روپیہ مضاربت کے طور پر رہنے دے میرے پاس تو یہ درست نہیں بلکہ قرض خواہ کو چاہیے کہ اپنا روپیہ وصول کرلے پھر اختیار ہے خواہ مضاربت کے طور پردے یا اپنے پاس رکھ چوڑے کیونکہ قبل روپیہ وصول کرنے کے اس کو مضاربت کردینے میں ربا کا شبہ ہے گویا قرضدار نے مہلت لے کر قرض میں زیادتی کی۔ کہا مالک نے ایک شخص نے دوسرے کو روپیہ دیا مضاربت کے طور پر پھر اس میں سے کچھ روپیہ تلف ہوگیا قبل تجارت شروع کرنے کے پھر مضا رب نے جس قدر روپیہ بچا تھا اس میں تجارت کرکے نفع کمایا اب مضا رب یہ چاہے کہ رائس المال اسی کو قرار دے جو بچ رہا تھا بعد نقصان کے اور جس قدر اس سے زیادہ ہو اس کو نفع سمجھ کر آدھوں آدھ بانٹ لے تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ رائس المال کی تکمیل کرکے جو کچھ بچے گا اس کو شرط کے موافق تقسیم کرلیں گے۔ کہا مالک نے مضاربت درست نہیں مگر چاندی اور سونے میں اور اسباب وغیرہ میں درست نہیں لیکن قراض اور بیوع میں اگر فساد قلیل ہو اور فسخ ان کا دشوار ہو تو جائز ہوجائیں گے برخلاف ربا کے کہ وہ قلیل وکثیر حرام ہے کسی طرح جائز نہیں کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اگر تم توبہ کرو ربا سے تو تم کو اس مال ملے گا نہ ظلم کرو نہ ظلم کئے جاؤ۔
1286
Muawtta Imam Malik
بَاب التَّعَدِّي فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَعَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ ثُمَّ اشْتَرَى مِنْ رِبْحِ الْمَالِ أَوْ مِنْ جُمْلَتِهِ جَارِيَةً فَوَطِئَهَا فَحَمَلَتْ مِنْهُ ثُمَّ نَقَصَ الْمَالُ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ أُخِذَتْ قِيمَةُ الْجَارِيَةِ مِنْ مَالِهِ فَيُجْبَرُ بِهِ الْمَالُ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ بَعْدَ وَفَاءِ الْمَالِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا عَلَى الْقِرَاضِ الْأَوَّلِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَفَاءٌ بِيعَتْ الْجَارِيَةُ حَتَّى يُجْبَرَ الْمَالُ مِنْ ثَمَنِهَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَتَعَدَّى فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً وَزَادَ فِي ثَمَنِهَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك صَاحِبُ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ بِيعَتْ السِّلْعَةُ بِرِبْحٍ أَوْ وَضِيعَةٍ أَوْ لَمْ تُبَعْ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ السِّلْعَةَ أَخَذَهَا وَقَضَاهُ مَا أَسْلَفَهُ فِيهَا وَإِنْ أَبَى كَانَ الْمُقَارَضُ شَرِيكًا لَهُ بِحِصَّتِهِ مِنْ الثَّمَنِ فِي النَّمَاءِ وَالنُّقْصَانِ بِحِسَابِ مَا زَادَ الْعَامِلُ فِيهَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَخَذَ مِنْ رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ فَعَمِلَ فِيهِ قِرَاضًا بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ إِنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ إِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ وَإِنْ رَبِحَ فَلِصَاحِبِ الْمَالِ شَرْطُهُ مِنْ الرِّبْحِ ثُمَّ يَكُونُ لِلَّذِي عَمِلَ شَرْطُهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ الْمَالِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ تَعَدَّى فَتَسَلَّفَ مِمَّا بِيَدَيْهِ مِنْ الْقِرَاضِ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ قَالَ مَالِك إِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ عَلَى شَرْطِهِمَا فِي الْقِرَاضِ وَإِنْ نَقَصَ فَهُوَ ضَامِنٌ لِلنُّقْصَانِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاسْتَسْلَفَ مِنْهُ الْمَدْفُوعُ إِلَيْهِ الْمَالُ مَالًا وَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ إِنَّ صَاحِبَ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ شَرِكَهُ فِي السِّلْعَةِ عَلَى قِرَاضِهَا وَإِنْ شَاءَ خَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا وَأَخَذَ مِنْهُ رَأْسَ الْمَالِ كُلَّهُ وَكَذَلِكَ يُفْعَلُ بِكُلِّ مَنْ تَعَدَّى
کہا مالک نے اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا پھر اصل مال یا نفع میں سے لونڈی خرید کر اس سے وطی کی اور وہ حاملہ ہوگئی اب مال میں نقصان ہوا تو مضارب کے ذاتی مال میں سے اس لونڈی کی قیمت لے کر نقصان کو پورا کریں گے جو کچھ بچ رہے گا وہ شرط کے موافق مضارب اور رب المال کا ہوگا اگر اس سے بھی نقصان پورا نہ ہو تو لونڈی کو بیچ کر نقصان پورا کریں گے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے یہ قصور کیا کہ اسباب خریدنے میں انپی طرف سے خواہ مخواہ اس کی قیمت بڑھا دی تو رب المال کو اختیار ہے چاہے اس اسباب کو رہنے دے اور جس قدر مضارب نے راس المال سے زیادہ دیا ہے وہ ادا کردے چاہے مضارب کا شریک ہوجائے اس مال میں کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت کسی اور کو مضاربت کے طور پر دیا بغیر رب المال کے پوچھے ہوئے تو وہ مال کا ضامن ہوجائے گا اگر اس میں نقصان ہو تو مضارب اپنی ذات سے ادا کرے گا اگر نفع ہو تو رب المال اپنا راس المال اور نفع شرط کے موافق لے لے گ بعد اس کے جو بچ رہے گا اس میں مضارب اور مضارب کا شریک ہوں گے۔ کہا مالک نے اگر مضارب مال مضاربت میں سلف کر کے کوئی اسباب اپنے لئے خریدے اگر اس میں نفع ہوگا تو مضارب اور رب المال شرط کے موافق اس میں شریک ہوں گے اگر نقصان ہوگا تو مضارب کو نقصان کا ضمان دینا ہوگا کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت میں سلف کر کے اپنے لئے کوئی اسباب خریدا تو رب المال کو اختیار ہے خواہ اس مال میں شریک ہوجائے یا اس مال کو چھوڑ دے اور اپنا راس المال مضارب سے پھیر لے اسی طرح جو مضارب قصور کرے تو رب المال کو اپنا مال پھیر لینے کا اختیار ہے۔
1287
Muawtta Imam Malik
بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ كَثِيرًا يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِذَا شَخَصَ فِيهِ الْعَامِلُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَيَكْتَسِيَ بِالْمَعْرُوفِ مِنْ قَدْرِ الْمَالِ وَيَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ إِذَا كَانَ كَثِيرًا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ بَعْضَ مَنْ يَكْفِيهِ بَعْضَ مَئُونَتِهِ وَمِنْ الْأَعْمَالِ أَعْمَالٌ لَا يَعْمَلُهَا الَّذِي يَأْخُذُ الْمَالَ وَلَيْسَ مِثْلُهُ يَعْمَلُهَا مِنْ ذَلِكَ تَقَاضِي الدَّيْنِ وَنَقْلُ الْمَتَاعِ وَشَدُّهُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ مَنْ يَكْفِيهِ ذَلِكَ وَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَسْتَنْفِقَ مِنْ الْمَالِ وَلَا يَكْتَسِيَ مِنْهُ مَا كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ إِنَّمَا يَجُوزُ لَهُ النَّفَقَةُ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ وَكَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِنْ كَانَ إِنَّمَا يَتَّجِرُ فِي الْمَالِ فِي الْبَلَدِ الَّذِي هُوَ بِهِ مُقِيمٌ فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنْ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَخَرَجَ بِهِ وَبِمَالِ نَفْسِهِ قَالَ يَجْعَلُ النَّفَقَةَ مِنْ الْقِرَاضِ وَمِنْ مَالِهِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِ الْمَالِ
کہا مالک نے اگر مال مضارب بہت ہو خرچہ اٹھا سکتا ہو تو مضارب کو درست ہے کہ سفر کی حالت میں اپنا کپڑا موافق دستور کے اسی مال میں سے کرے یا کسی شخص کو محنت مزدوری کے لئے نوکر رکھے جب اکیلے اس سے محنت نہ ہوسکتی ہو اور بعض کام ایسے ہیں جن کو مضارب خود نہیں کرسکتا جیسے قرضداروں سے تقاضا کرنا اسباب کی باندھا بوندھی اور اس کو اٹھاکر لے چلنا البتہ جب تک مضارب اپنے شہر میں رہے تو مضارب کے مال میں سے کھانا کپڑا نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر مضارب سفر میں اپنا ذاتی مال بھی لے کر گیا تو سفر کا خرچ حصہ رسد دونوں مال پر ڈالے۔
1288
Muawtta Imam Malik
بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ الشَّرْطِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَشَرَطَ عَلَيْهِ أَنْ لَا تَشْتَرِيَ بِمَالِي إِلَّا سِلْعَةَ كَذَا وَكَذَا أَوْ يَنْهَاهُ أَنْ يَشْتَرِيَ سِلْعَةً بِاسْمِهَا قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَطَ عَلَى مَنْ قَارَضَ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ حَيَوَانًا أَوْ سِلْعَةً بِاسْمِهَا فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ وَمَنْ اشْتَرَطَ عَلَى مَنْ قَارَضَ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ إِلَّا سِلْعَةَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ السِّلْعَةُ الَّتِي أَمَرَهُ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ غَيْرَهَا كَثِيرَةً مَوْجُودَةً لَا تُخْلِفُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ فِيهِ شَيْئًا مِنْ الرِّبْحِ خَالِصًا دُونَ صَاحِبِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا وَاحِدًا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ نِصْفَ الرِّبْحِ لَهُ وَنِصْفَهُ لِصَاحِبِهِ أَوْ ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَإِذَا سَمَّى شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ سَمَّى مِنْ ذَلِكَ حَلَالٌ وَهُوَ قِرَاضُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَلَكِنْ إِنْ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ مِنْ الرِّبْحِ دِرْهَمًا وَاحِدًا فَمَا فَوْقَهُ خَالِصًا لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ وَمَا بَقِيَ مِنْ الرِّبْحِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَلَيْسَ عَلَى ذَلِكَ قِرَاضُ الْمُسْلِمِينَ
کہا مالک نے اگر کوئی شخص دوسرے کو اپنا مال مضاربت کے طور پردے اور یہ شرط لگائے کہ فلاں فلاں قسم کا اسباب نہ خریدنا تو اس میں کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر یہ شرط لگائے کہ فلاں ہی قسم کا مال خریدنا تو مکررہ ہے۔ مگر جب وہ اسباب کثرت سے ہر فصل میں بازار میں رہتا ہو تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر رب المال مضاربت میں کچھ خاص نفع اپنے لئے مقرر کرے اگرچہ ایک درہم ہو تو درست نہیں۔ البتہ یہ درست ہے کہ مضا رب کے واسطے آدھا یا تہائی یا پاؤ نفع ٹھہرائے اور باقی اپنے لئے۔
1289
Muawtta Imam Malik
بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ مَعَهُ مَالٌ قِرَاضٌ فَهُوَ يَسْتَنْفِقُ مِنْهُ وَيَكْتَسِي إِنَّهُ لَا يَهَبُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَا يُعْطِي مِنْهُ سَائِلًا وَلَا غَيْرَهُ وَلَا يُكَافِئُ فِيهِ أَحَدًا فَأَمَّا إِنْ اجْتَمَعَ هُوَ وَقَوْمٌ فَجَاءُوا بِطَعَامٍ وَجَاءَ هُوَ بِطَعَامٍ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِمْ فَإِنْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ أَوْ مَا يُشْبِهُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِ الْمَالِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَحَلَّلَ ذَلِكَ مِنْ رَبِّ الْمَالِ فَإِنْ حَلَّلَهُ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ أَبَى أَنْ يُحَلِّلَهُ فَعَلَيْهِ أَنْ يُكَافِئَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ إِنْ كَانَ ذَلِكَ شَيْئًا لَهُ مُكَافَأَةٌ
کہا مالک نے مضارب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مضاربت کے مال میں سے کچھ ہبہ کرے یا کسی فقیر کو دے یا کسی احسان کا بدلہ ادا کرے اگر اور لوگ بھی اپنا کھانا ہے کر آئیں تو مضارب بھی اپنا کھانا لاکر ان میں شریک ہوسکتا ہے جب کہ دیدہ و دانستہ ضرورت سے زیادہ نہ لائے اگر ایسا کرے گا تو رب المال سے اجازت لینا ضروری ہے اگر رب المال نے اجازت نہ دی تو جس قدر زیادہ اس نے صرف کیا ہے اس کو مجرا کر دے۔