hadith book logo

Muawtta Imam Malik

40. ترکے کی تقسیم کے بیان میں

موطأ مالك

1387
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الصُّلْبِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا فِي فَرَائِضِ الْمَوَارِيثِ أَنَّ مِيرَاثَ الْوَلَدِ مِنْ وَالِدِهِمْ أَوْ وَالِدَتِهِمْ أَنَّهُ إِذَا تُوُفِّيَ الْأَبُ أَوْ الْأُمُّ وَتَرَكَا وَلَدًا رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ فَإِنْ شَرِكَهُمْ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ وَكَانَ فِيهِمْ ذَكَرٌ بُدِئَ بِفَرِيضَةِ مَنْ شَرِكَهُمْ وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْنَهُمْ عَلَى قَدْرِ مَوَارِيثِهِمْ وَمَنْزِلَةُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ الذُّكُورِ إِذَا لَمْ يَكُنْ وَلَدٌ كَمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ سَوَاءٌ ذُكُورُهُمْ كَذُكُورِهِمْ وَإِنَاثُهُمْ كَإِنَاثِهِمْ يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ فَإِنْ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ لِلصُّلْبِ وَوَلَدُ الْابْنِ وَكَانَ فِي الْوَلَدِ لِلصُّلْبِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الْابْنِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْوَلَدِ لِلصُّلْبِ ذَكَرٌ وَكَانَتَا ابْنَتَيْنِ فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ الْبَنَاتِ لِلصُّلْبِ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ لِبَنَاتِ الْابْنِ مَعَهُنَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَ بَنَاتِ الْابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ أَوْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ فَإِنَّهُ يَرُدُّ عَلَى مَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ هُوَ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ فَضْلًا إِنْ فَضَلَ فَيَقْتَسِمُونَهُ بَيْنَهُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ الْوَلَدُ لِلصُّلْبِ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِابْنَةِ ابْنِهِ وَاحِدَةً كَانَتْ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ مِمَّنْ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ السُّدُسُ فَإِنْ كَانَ مَعَ بَنَاتِ الْابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنْ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ فَلَا فَرِيضَةَ وَلَا سُدُسَ لَهُنَّ وَلَكِنْ إِنْ فَضَلَ بَعْدَ فَرَائِضِ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَضْلٌ كَانَ ذَلِكَ الْفَضْلُ لِذَلِكَ الذَّكَرِ وَلِمَنْ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَلَيْسَ لِمَنْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُمْ شَيْءٌ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ قَالَ مَالِك الْأَطْرَفُ هُوَ الْأَبْعَدُ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ جب ماں یا باپ مرجائے اور لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ جائے تو لڑکے کو دوہرا حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ ملے گا۔ اگر میت کی صرف لڑکیاں ہوں دو یا دو سے زیادہ تو دو ثلث ترکے کے اس کو ملیں گے اگر ایک ہی لڑکی ہے اس کو آدھاتر کہ ملے گا۔ اگر میت کے ذوی الفروض میں سے بھی کوئی ہو اور لڑکے لڑکیاں بھی ہوں تو پہلے ذوی الفروض کا حصہ دے کر جو بچ رہے گا اس میں سے دوہرا حصہ لڑکے کو اور ایک حصہ لڑکی کو ملے گا۔ اور جب بیٹے بیٹیاں نہ ہوں تو پوتے پوتیاں ان کی مثل ہوں گی جیسے وہ وارث ہوتے ہیں یہ بھی وارث ہوں گے اور جیسے وہ محجوب (محروم) ہوتے ہیں یہ بھی محجوب ہوں گے۔ اگر ایک بیٹا بھی موجود ہوگا تو بیٹے کی اولاد کو یعنی پوتے اور پوتیوں کو ترکہ نہ ملے گا اگر کوئی بیٹا نہ ہو لیکن دو بیٹیاں یا زیادہ موجود ہوں تو پوتیوں کو کچھ نہ پہنچے گا مگر جس صورت میں ان پوتیوں کے ساتھ کوئی پوتا بھی ہو خواہ انہی کے ہمرتبہ ہو یا ان سے بھی زیادہ دور ہو۔ (مثلا پوتے کا بیٹا یا پوتا ہو) تو بعد بیٹیوں کے حصے دینے کے اور باقی ذوی الفروض کے جو کچھ بچ رہے گا اس کو للذکور مثل حظ الانثییین کے بانٹ لیں گے اور اس پوتے کے ساتھ وہ پوتیاں جو اس سے زیادہ میت کے (رشتہ وتر کہ میں) قریب ہیں یا اس کے برابر ہیں وارث ہوں گی جو اس سے بھی زیادہ پوتیاں دور ہیں وہ وارث نہ ہوں گی۔ اور جو کچھ نہ بچے گا تو پوتیوں اور پوتے کو کچھ نہ ملے گا۔ اگر میت کی صرف ایک بیٹا ہو تو اس کو آدھا مال ملے گا اور پوتیوں کو جتنی ہوں چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر ان پوتیوں کے ساتھ کوئی پوتا بھی ہو تو اس صورت میں ذوی الفورض کے حصے ادا کردیں گے اور جو بچ رہے گا وہ للذکر مثل حظ الانثیین پوتا اور پوتیاں تقسیم کرلیں گی اور یہ پوتا ان پوتیوں کو حصہ دلادے گا جو اس کے ہمرتبہ ہوں یا اس سے زیادہ قریب ہوں مگر جو اس سے بعید ہوں گی وہ محروم ہوں گی اگر ذوی الفروض سے کچھ نہ بچے تو ان پوتے پوتیوں کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وصیت کرتا ہے تم کو اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد میں مرد کو دوہرا حصہ اور عورت کو ایک اگر سب بیٹیاں ہوں دو سے زیادہ تو ان کو دوتہائی مال ملے گا اگر ایک بیٹی ہو تو اس کو نصف ملے گا۔
1388
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ وَالْمَرْأَةِ مِنْ زَوْجِهَا قَالَ مَالِك وَمِيرَاثُ الرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ إِذَا لَمْ تَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ مِنْهُ أَوْ مِنْ غَيْرِهِ النِّصْفُ فَإِنْ تَرَكَتْ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى فَلِزَوْجِهَا الرُّبُعُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَمِيرَاثُ الْمَرْأَةِ مِنْ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ يَتْرُكْ وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ الرُّبُعُ فَإِنْ تَرَكَ وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى فَلِامْرَأَتِهِ الثُّمُنُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
کہا مالک نے جب میت کا لڑکا لڑکی یا پوتاپوتی نہ ہو تو اس کے خاوند کو آدھا مال ملے گا اگر میت کی اولاد ہے یا میت کے بیٹے کی اولاد ہے مرد ہو یا عورت تو خاوند کو ربع (چوتھائی) حصہ ملے گا بعد ادا کرنے وصیت اور دین (قرض کے اور خاوند جب مرجائے اور اولاد نہ ہو اور اس کے بیٹے کی اولاد ہو تو اس کی بی بی کو ربع (چوتھائی) حصہ ملے گا۔ اگر اولاد ہو یا بیٹے کی اولاد ہو مرد ہو یا عورت تو بیوی کو ثمن (آٹھواں حصہ اور وصیت اور دین (قرض ادا کرنے کے کیونکہ اللہ جل جلالہ ارشاد فرماتا ہے تمہارے واسطے آدھا ترکہ ہے تمہاری بیویوں کا اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو تم کو ربع (چوتھائی) ملے گا بعد وصیت اور دین کے اور عورتوں کو تمہارے ترکہ سے ربع (چوتھائی ملے گا اگر تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو ان کو ثمن (آٹھواں ملے گا بعد وصیت اور دین (قرض) ادا کرنے) کے۔
1389
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الْأَبِ وَالْأُمِّ مِنْ وَلَدِهِمَا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّ مِيرَاثَ الْأَبِ مِنْ ابْنِهِ أَوْ ابْنَتِهِ أَنَّهُ إِنْ تَرَكَ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا فَإِنَّهُ يُفْرَضُ لِلْأَبِ السُّدُسُ فَرِيضَةً فَإِنْ لَمْ يَتْرُكْ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا فَإِنَّهُ يُبَدَّأُ بِمَنْ شَرَّكَ الْأَبَ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ الْمَالِ السُّدُسُ فَمَا فَوْقَهُ كَانَ لِلْأَبِ وَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ عَنْهُمْ السُّدُسُ فَمَا فَوْقَهُ فُرِضَ لِلْأَبِ السُّدُسُ فَرِيضَةً وَمِيرَاثُ الْأُمِّ مِنْ وَلَدِهَا إِذَا تُوُفِّيَ ابْنُهَا أَوْ ابْنَتُهَا فَتَرَكَ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا أَوْ وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى أَوْ تَرَكَ مِنْ الْإِخْوَةِ اثْنَيْنِ فَصَاعِدًا ذُكُورًا كَانُوا أَوْ إِنَاثًا مِنْ أَبٍ وَأُمٍّ أَوْ مِنْ أَبٍ أَوْ مِنْ أُمٍّ فَالسُّدُسُ لَهَا وَإِنْ لَمْ يَتْرُكْ الْمُتَوَفَّى وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ وَلَا اثْنَيْنِ مِنْ الْإِخْوَةِ فَصَاعِدًا فَإِنَّ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ كَامِلًا إِلَّا فِي فَرِيضَتَيْنِ فَقَطْ وَإِحْدَى الْفَرِيضَتَيْنِ أَنْ يُتَوَفَّى رَجُلٌ وَيَتْرُكَ امْرَأَتَهُ وَأَبَوَيْهِ فَلِامْرَأَتِهِ الرُّبُعُ وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ وَهُوَ الرُّبُعُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَالْأُخْرَى أَنْ تُتَوَفَّى امْرَأَةٌ وَتَتْرُكَ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا فَيَكُونُ لِزَوْجِهَا النِّصْفُ وَلِأُمِّهَا الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ وَهُوَ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ فَمَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْإِخْوَةَ اثْنَانِ فَصَاعِدًا
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ میت اگر بیٹا یا پوچا چھوڑ جائے تو اس کے باپ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر میت کا بیٹا یا پوتا نہ ہو تو جتنے ذوی الفروض اور ہوں ان کا حصہ دے کر جو بچ رہے گا سدس (چھٹا) ہو یا سدس سے زیادہ وہ باپ کو ملے گا۔ اگر ذوی الفروض کے حصے ادا کرے سدس نہ بچے تو باپ کو سدس فرض کے طور پر دلا دیں گے۔ میت کی ماں کو جب میت کی اولاد یا اس کے بیٹے کی اولاد یا دو یا زیادہ بھائی بہنیں سگے یا سوتیلے یا مادری ہوں تو چھٹا حصہ ملے گا۔ ورنہ پورا ثلث مال ملے گا جب میت کی اولاد نہ ہو اس کے بیٹے کی اولاد ہو نہ اس کے دو بھاڑی یا دو بہنیں ہو مگر دو مسئلوں میں ایک یہ کہ میت زوجہ اور ماں باپ چھوڑ جائے تو زوجہ کو ربع ملے گا اور ماں کو جو بچ رہا اس کا ثلث یعنی کل مال کا ربع ملے گا دوسرا یہ کہ ایک عورت مرجائے اور خاوند اور ماں باپ کو چھوڑ جائے تو خاوند کو نصف ملے گا بعد اس کے جو بچ رہے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا یعنی کل مال کا سدس کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اپنی کتاب میں کہ " میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ترکے میں اگر میت کی اولاد ہو اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوں تو ماں کو تہائی حصہ ملے گا اور باقی باپ کو اور اگر میت کے بھائی ہوں یا بہنیں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا "
1390
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْإِخْوَةَ لِلْأُمِّ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ وَلَا مَعَ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ ذُكْرَانًا كَانُوا أَوْ إِنَاثًا شَيْئًا وَلَا يَرِثُونَ مَعَ الْأَبِ وَلَا مَعَ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ شَيْئًا وَأَنَّهُمْ يَرِثُونَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لِلْوَاحِدِ مِنْهُمْ السُّدُسُ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ يَقْتَسِمُونَهُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ فَكَانَ الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِي هَذَا بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اخیافی بھائی اور اخیافی بہنیں جب کہ میت کی اولاد ہو یا اس کے بیٹے کی اولاد ہو یعنی پوتے یا پوتیاں یا میت کا باپ یا دادا موجود ہو تو ترکے سے محروم رہیں گے البتہ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ترکہ پائیں گے اگر ایک بھائی اخیافی یا ایک بہن اخیافی ہو تو اس کو چھٹا حصہ ملے گا اگر دو ہوں تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اگر دو سے زیادہ ہوں تو ثلث (تہائی) مال میں سب شریک ہوں گے برابر برابر بانٹ لیں گے بہن بھی بھائی کے برابر لے گی کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے جو کلالہ ہو یا کوئی عورت مرجائے کلالہ ہو کر اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن (اخیافی جیسے سعد بن ابی وقاص کی قرأت میں ہے) ہو تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اگر اس سے زیادہ ہوں (یعنی ایک بھائی اور ایک بہن یا دو بہنیں دو بھائی یا اس سے زیادہ ہوں) تو وہ سب ثلث (تہائی) میں شریک ہوں گے (یعنی مرد اور عورت سب برابرپائیں گے۔
1391
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ شَيْئًا وَلَا مَعَ وَلَدِ الْابْنِ الذَّكَرِ شَيْئًا وَلَا مَعَ الْأَبِ دِنْيَا شَيْئًا وَهُمْ يَرِثُونَ مَعَ الْبَنَاتِ وَبَنَاتِ الْأَبْنَاءِ مَا لَمْ يَتْرُكْ الْمُتَوَفَّى جَدًّا أَبَا أَبٍ مَا فَضَلَ مِنْ الْمَالِ يَكُونُونَ فِيهِ عَصَبَةً يُبْدَأُ بِمَنْ كَانَ لَهُ أَصْلُ فَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ بَعْدَ ذَلِكَ فَضْلٌ كَانَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ يَقْتَسِمُونَهُ بَيْنَهُمْ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ذُكْرَانًا كَانُوا أَوْ إِنَاثًا لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ قَالَ وَإِنْ لَمْ يَتْرُكْ الْمُتَوَفَّى أَبًا وَلَا جَدًّا أَبَا أَبٍ وَلَا وَلَدًا وَلَا وَلَدَ ابْنٍ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى فَإِنَّهُ يُفْرَضُ لِلْأُخْتِ الْوَاحِدَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ مِنْ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ فُرِضَ لَهُمَا الثُّلُثَانِ فَإِنْ كَانَ مَعَهُمَا أَخٌ ذَكَرٌ فَلَا فَرِيضَةَ لِأَحَدٍ مِنْ الْأَخَوَاتِ وَاحِدَةً كَانَتْ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ وَيُبْدَأُ بِمَنْ شَرِكَهُمْ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَمَا فَضَلَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ كَانَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَطْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِيهَا شَيْءٌ فَاشْتَرَكُوا فِيهَا مَعَ بَنِي الْأُمِّ فِي ثُلُثِهِمْ وَتِلْكَ الْفَرِيضَةُ هِيَ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا فَكَانَ لِزَوْجِهَا النِّصْفُ وَلِأُمِّهَا السُّدُسُ وَلِإِخْوَتِهَا لِأُمِّهَا الثُّلُثُ فَلَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَشْتَرِكُ بَنُو الْأَبِ وَالْأُمِّ فِي هَذِهِ الْفَرِيضَةِ مَعَ بَنِي الْأُمِّ فِي ثُلُثِهِمْ فَيَكُونُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ كُلَّهُمْ إِخْوَةُ الْمُتَوَفَّى لِأُمِّهِ وَإِنَّمَا وَرِثُوا بِالْأُمِّ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوْ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ فَلِذَلِكَ شُرِّكُوا فِي هَذِهِ الْفَرِيضَةِ لِأَنَّهُمْ كُلَّهُمْ إِخْوَةُ الْمُتَوَفَّى لِأُمِّهِ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ سگے بھائی بہن بیٹے یا پوتے کے ہوتے ہوئے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائیں گے بلکہ سگے بھائی بہن بیٹیوں یا پوتیوں کے ساتھ وارث ہوتے ہیں۔ جب میت کا دادا یعنی باپ کا باپ زندہ نہ ہو تو جس قدر مال بعد ذوی الفروض کے حصہ دینے کے بچ رہے گا وہ سگے بہن بھائیوں کا ہوگا بانٹ لیں گے اس کو اللہ کی کتاب کے موافق للذکر مثل حظ الانثیین کے طور پر اور اگر کچھ نہ بچے گا تو کچھ نہ پائیں گے۔ کہا مالک نے اگر میت کا باپ اور دادا یعنی باپ کا باپ نہ ہو نہ اس کا بیٹاہو نہ پوتا ہو نہ بیٹے نہ پوتے صرف ایک بہن ہو سگی تو اس کو آدھا مال ملے گا اگر دوسگی بہنیں ہوں یا زیادہ تو دو ثلث (دوتہائی) ملیں گے اگر ان بہنوں کے ساتھ کوئی بھائی بھی ہو تو بہنوں کو کوئی معین حصہ نہ ملے گا۔ بلکہ اور ذوی الفروض کا فرض ادا کر کے جو بچ رہے گا وہ للذکر مثل حظ الانثیین کے طور پر بھائی بہن بانٹ لیں گے مگر ایک مسئلہ میں سگے بھائی یا بہنوں کے لئے کچھ نہیں بچتا تو وہ اخیافی بھائی بہنوں کے شریک ہوجائیں گے۔ صورت اس مسئلے کی یہ ہے ایک عورت مرجائے اور خاوند اور ماں اور سگے بھائی بہنیں اور اخیافی بھائی بہنیں چھوڑ جائے تو خاوند کو نصف اور ماں کو سدس (چھٹا) اور اخیافی بھائی بہنوں کو ثلث ملے گا اب سگے بہن بھائیوں کے واسطے کچھ نہ بچا تو ثلث (تہائی) میں وہ اخیافی بھائی بہنوں کے شریک ہوجائیں گے مگر مرد اور عورت سب کو برابر پہنچے گا اس واسطے کہ سب بھائی بہن مادری ہیں کیونکہ ماں سب کی ایک ہے۔ کیونکہ اللہ جل جلالہ، فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص کلالہ مرے اس کا بھائی ہو یا بہن تو ہر ایک کو سدس ملے گا اگر زیادہ ہوں تو سب شریک ہوں گے ثلث (تہائی) میں۔ پس حقیقی بہن بھائی بھی اخیافی بہن بھائیوں کے ساتھ شریک ہوگئے ثلث (تہائی) میں اس مسئلے میں اس لئے کہ وہ بھی مادری بھائی ہیں۔
1392
Muawtta Imam Malik
بَاب مِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مِيرَاثَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ أَحَدٌ مِنْ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ كَمَنْزِلَةِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ سَوَاءٌ ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُشَرَّكُونَ مَعَ بَنِي الْأُمِّ فِي الْفَرِيضَةِ الَّتِي شَرَّكَهُمْ فِيهَا بَنُو الْأَبِ وَالْأُمِّ لِأَنَّهُمْ خَرَجُوا مِنْ وِلَادَةِ الْأُمِّ الَّتِي جَمَعَتْ أُولَئِكَ قَالَ مَالِك فَإِنْ اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ فَكَانَ فِي بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ ذَكَرٌ فَلَا مِيرَاثَ لِأَحَدٍ مِنْ بَنِي الْأَبِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَنُو الْأَبِ وَالْأُمِّ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ الْإِنَاثِ لَا ذَكَرَ مَعَهُنَّ فَإِنَّهُ يُفْرَضُ لِلْأُخْتِ الْوَاحِدَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ وَيُفْرَضُ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ السُّدُسُ تَتِمَّةَ الثُّلُثَيْنِ فَإِنْ كَانَ مَعَ الْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ ذَكَرٌ فَلَا فَرِيضَةَ لَهُنَّ وَيُبْدَأُ بِأَهْلِ الْفَرَائِضِ الْمُسَمَّاةِ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ بَعْدَ ذَلِكَ فَضْلٌ كَانَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ فَإِنْ كَانَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ امْرَأَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ الْإِنَاثِ فُرِضَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ وَلَا مِيرَاثَ مَعَهُنَّ لِلْأَخَوَاتِ لِلْأَبِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَهُنَّ أَخٌ لِأَبٍ فَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ أَخٌ لِأَبٍ بُدِئَ بِمَنْ شَرَّكَهُمْ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ فَأُعْطُوا فَرَائِضَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ بَعْدَ ذَلِكَ فَضْلٌ كَانَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ وَلِبَنِي الْأُمِّ مَعَ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ وَمَعَ بَنِي الْأَبِ لِلْوَاحِدِ السُّدُسُ وَلِلْاثْنَيْنِ فَصَاعِدًا الثُّلُثُ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَى هُمْ فِيهِ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ سَوَاءٌ
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جب سگے بھائی بہنیں نہ ہوں تو سوتیلے بھائی بہنیں ان کی مثل ہوں گے ان کا مرد ان کے مرد کے برابر ہے اور ان کی عورت ان کی عورت کے برابر ہے۔ (تو اگر میت کا صرف ایک سوتیلا بھائی ہو تو کل مال لے لے گا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو نصف لے گی اگر دو یا تین سوتیلی بہنیں ہوں تو دو ثلث لیں گی اگر سوتیلے بھائی اور بہن بھی ہوں تو للذکرمثل حظ الانثیین کے طور پر تقسیم ہوگا) مگر سگے بھائی بہنوں میں یہ فرق ہے کہ سوتیلے بھائی بہن اخیافی بھائی بہنوں کے اس مسئلے میں شریک نہ ہوں گے جو ابھی بیان ہوا کیونکہ ان کی ماں جدا ہے۔ اگر سگی بہنیں اور سوتیلی بہنیں جمع ہوں اور سگی بہنوں کے ساتھ کوئی سگا بھائی بھی ہو تو سوتیلی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا اگر سگا بھائی نہ ہو بلکہ ایک سگی بہن ہو اور باقی سوتیلی بہنیں تو سگی بہن کو نصف ملے گا اور سوتیلی بہنوں کو سدس (چھٹا) ثلثین (دوثلث) کے پورا کرنے کے واسطے اگر سوتیلی بہنوں کے ساتھ کوئی سوتیلا بھائی بھی ہو تو ان کا کوئی حصہ معین نہ ہوگا بلکہ ذوی الفروض کو دے کر جو بچ رہے گا اس کو سوتیلے بھائی بہن للذکر مثل الانثیین کے طور پر بانٹ لیں گے اور اگر کچھ نہ بچے گا تو کچھ نہ لیں گے اگر سگی بہنیں دو ہوں یا زیادہ تو دو ثلث ان کو ملیں گے اور سوتیلی بہنوں کو کچھ نہ ملے گا مگر جب سوتیلی بہنوں کے ساتھ کوئی سوتیلا بھائی بھی ہو تو ذوی الفروض کا حصہ ادا کرکے جو کچھ بچے گا اس کو للذکرین مثل حظ الانثیین کے طور پر بانٹ لیں گے۔ اگر کچھ نہ بچے گا تو کچھ نہ ملے گا۔ اخیافی بھائی بہنوں کو خواہ سگے بھائی بہنوں کے ساتھ ہوں یا سوتیلے بھائی بہنوں کے ایک کو سدس (چھٹا) ملے گا اور دو کو ثلث مرد اور عورت ان کے سب برابر ہیں۔ جیسے اوپر گزر چکا ہے۔
1393
Muawtta Imam Malik
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ کَتَبَ إِلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْجَدِّ فَکَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ الْجَدِّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَذَلِکَ مِمَّا لَمْ يَکُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَائُ يَعْنِي الْخُلَفَائَ وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَکَ يُعْطِيَانِهِ النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ وَالثُّلُثَ مَعَ الْاثْنَيْنِ فَإِنْ کَثُرَتْ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنَقِّصُوهُ مِنْ الثُّلُثِ
معاویہ بن ابی سفیان نے لکھا زید بن ثابت کو اور پوچھا دادا کی میراث کے متعلق زید بن ثابت نے جواب لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا دادا کی میراث کے متعلق اور یہ وہ مسئلہ ہے جس میں خلفاء حکم کرتے تھے میں حاضر تھا تم سے پہلے دو خلیفاؤں کے سامنے تو ایک بھائی کے ساتھ وہ دادا کو نصف دلاتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث اگر بہت بھائی بہن ہوتے تب بھی دادا کو ثلث سے کم نہ دلاتے۔
1394
Muawtta Imam Malik
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَضَ لِلْجَدِّ الَّذِي يَفْرِضُ النَّاسُ لَهُ الْيَوْمَ
حضرت عمر (رض) بن خطاب نے دادا کو اتنا دلایا جتنا کہ آج کل لوگ دلاتے ہیں۔
1395
Muawtta Imam Malik
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ فَرَضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لِلْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّ الْجَدَّ أَبَا الْأَبِ لَا يَرِثُ مَعَ الْأَبِ دِنْيَا شَيْئًا وَهُوَ يُفْرَضُ لَهُ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ وَمَعَ ابْنِ الْابْنِ الذَّكَرِ السُّدُسُ فَرِيضَةً وَهُوَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مَا لَمْ يَتْرُكْ الْمُتَوَفَّى أُمًّا أَوْ أُخْتًا لِأَبِيهِ يُبَدَّأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَّكَهُ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ الْمَالِ السُّدُسُ فَمَا فَوْقَهُ فُرِضَ لِلْجَدِّ السُّدُسُ فَرِيضَةً قَالَ مَالِك وَالْجَدُّ وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ إِذَا شَرَّكَهُمْ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ يُبَدَّأُ بِمَنْ شَرَّكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ أَيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ أَوْ يَكُونُ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ مِنْ الْإِخْوَةِ فِيمَا يَحْصُلُ لَهُ وَلَهُمْ يُقَاسِمُهُمْ بِمِثْلِ حِصَّةِ أَحَدِهِمْ أَوْ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ أَيُّ ذَلِكَ كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ الْجَدُّ وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ تَكُونُ قِسْمَتُهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ وَتِلْكَ الْفَرِيضَةُ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا وَجَدَّهَا فَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ وَلِلْأُخْتِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ النِّصْفُ ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقْسَمُ أَثْلَاثًا لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَيَكُونُ لِلْجَدِّ ثُلُثَاهُ وَلِلْأُخْتِ ثُلُثُهُ قَالَ مَالِك وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَ الْجَدِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ سَوَاءٌ ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ فَإِنَّ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهِمْ لِأَبِيهِمْ فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ بِعَدَدِهِمْ وَلَا يُعَادُّونَهُ بِالْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَعَ الْجَدِّ غَيْرُهُمْ لَمْ يَرِثُوا مَعَهُ شَيْئًا وَكَانَ الْمَالُ كُلُّهُ لِلْجَدِّ فَمَا حَصَلَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ بَعْدِ حَظِّ الْجَدِّ فَإِنَّهُ يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ دُونَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَلَا يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ امْرَأَةً وَاحِدَةً فَإِنْ كَانَتْ امْرَأَةً وَاحِدَةً فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا مَا كَانُوا فَمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهَا دُونَهُمْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ فَرِيضَتَهَا وَفَرِيضَتُهَا النِّصْفُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ فَهُوَ لِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت عثمان بن عفان اور زید بن ثابت نے دادا کے واسطے بھائی بہنوں کے ساتھ ایک ثلث دلایا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ دادا باپ کے ہوتے ہوئے محروم ہو لیکن بیٹے اور پوتے کے ساتھ دادا کو چھٹا حصہ بطور فرض کے ملتا ہے اگر بیٹا یا پوتا نہ ہو نہ سگا بھائی بہن ہو نہ سوتیلا بہن بھائی مگر اور ذوی الفروض ہوں تو ان کا حصہ دے کر اگر چھٹا حصہ بچ رہے گا یا اس سے زیادہ تو دادا کو مل جائے گا اگر اتنا نہ بچے تو دادا کا چھٹا حصہ بطور فرض کے مقرر ہوگا۔ کہا مالک نے اگر دادا اور اس کے بھائی بہنوں کے ساتھ کوئی ذوی الفورض سے بھی ہو تو پہلے ذوی الفروض کو ان کا فرض دیں گے بعد اس کے جو بچے گا اس میں سے کئی صورتوں میں سے جو دادا کے لئے بہتر ہوگی کریں گے وہ صورتیں یہ ہیں ایک تو یہ کہ جس قدر مال بچا ہے اس کا ثلث داداکودے دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ دادا بھی مثل بھائیوں کے ایک بھائی سمجھا جائے۔ اور جس قدر حصہ ایک بھائی کا ہو اسی قدر اس کو بھی ملے۔ تیسرے یہ کہ کل مال کا سدس (چھٹا حصہ) اس کو دے دیا جائے گا ان صورتوں میں جو صورت اس کے لئے بہتر ہوگی وہ کریں گے بعد اس کے دادا کودے کر جس قدر مال بچے گا وہ بھائی بہن للذکرمثل حظ الانثیین کے طور پر تقسیم کرلیں گے مگر ایک مسئلے میں تقسیم اور طور سے ہوگی (اس کو مسئلہ اکدریہ کہتے ہیں) وہ یہ ہے ایک عورت مرجائے اور خاوند اور ماں اور سگی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے تو خاوند کو نصف اور ماں کو ثلث اور دادا کو سدس (چھٹا) اور سگی بہن کو نصف ملے گا۔ پھر دادا کو سدس (چھٹا) اور بہن کا نصف ملا کر اس کے تین حصے کریں گے دو حصے دادا کو ملیں گے اور ایک حصہ بہن کو۔ کہا مالک نے اگر دادا کے ساتھ سوتیلے بھائی ہوں تو ان کا حکم وہی ہوگا جو سگے بھائیوں کا ہے اور جب سگے بھائی بہن بھی ہوں اور سوتیلے بہن بھائی بھی ہوں تو سوتیلے صرف بھائیوں کی گنتی میں شریک ہو کر دادا کے حصے کو کم کردیں گے مگر کچھ نہ پائیں گے۔ مگر جس صورت میں سگے بھائی بہنوں کے ساتھ اخیافی یعنی مادری بھائی ہوں تو وہ بھائیوں کی گنتی میں شریک ہو کر دادا کے حصے کو کم نہ کریں گے کیونکہ اخیافی بھائی بہن دادا کے ہوتے ہوئے محروم ہیں۔ اگر دادا ہوتا اور صرف اخیافی بھائی بہن ہوتے تو کل مال دادا کو ملتا اور اخیافی بھائی بہن محروم ہوجاتے خیراب جس صورت میں دادا کے ساتھ سگے بھائی بہن اور علاقی یعنی سوتیلے بھائی بہن بھی ہوں تو جو مال بعد دادا کے حصے دینے کے بچے گا وہ سب سگے بھائی بہنوں کو ملے گا۔ اور سوتیلوں کو کچھ نہ ملے گا مگر جب سگوں میں صرف ایک بہن ہو اور باقی سب سوتیلے بھائی اور بہن ہوں تو سوتیلے بھائی اور بہنوں کے سبب سے وہ سگی بہن دادا کا حصہ کم کردی گئی پھر اپناپورا حصہ یعنی نصف لے لے گی اگر اس پر بھی کچھ بچ رہے گا تو سوتیلے بھائی اور بہن کو مثل حظ الانثیین کے طور پر تقسیم ہوگا اور اگر کچھ نہ بچے گا تو سوتیلے بھائی اور بہنوں کو کچھ نہ ملے گا۔
1396
Muawtta Imam Malik
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ الْجَدَّةُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا أَبُو بَکْرٍ مَا لَکِ فِي کِتَابِ اللَّهِ شَيْئٌ وَمَا عَلِمْتُ لَکِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ هَلْ مَعَکَ غَيْرُکَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ ثُمَّ جَائَتْ الْجَدَّةُ الْأُخْرَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ لَهَا مَا لَکِ فِي کِتَابِ اللَّهِ شَيْئٌ وَمَا کَانَ الْقَضَائُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِکِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا وَلَکِنَّهُ ذَلِکَ السُّدُسُ فَإِنْ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَکُمَا وَأَيَّتُکُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق (رض) کے پاس میراث مانگنے آئی ابوبکر (رض) نے کہا اللہ کی کتاب میں تیرا کچھ حصہ مقرر نہیں ہے اور نہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس باب میں کوئی حدیث سنی ہے تو واپس جا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ میں اس وقت موجود تھا میرے سامنے رسول اللہ ﷺ نے نانی کو چھٹا حصہ دلایا ہے ابوبکر (رض) نے کہا کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے تو محمد بن مسلمہ انصاری کھڑے ہوئے اور جیسا مغیرہ بن شعبہ نے کہا تھا ویسا ہی بیان کیا ابوبکر نے چھٹا حصہ اس کو دلا دیا پھر حضرت عمر (رض) کے وقت میں ایک دادی میراث مانگنے آئی حضرت عمر (رض) نے کہا اللہ کی کتاب میں تیرا کچھ حصہ مذکور نہیں اور پہلے جو حکم ہوچکا ہے وہ نانی کے بارے میں ہوا تھا اور میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا لیکن وہی چھٹا حصہ تو بھی لے اگر نانی بھی ہو تو دونوں سدس کا بانٹ لو اور جو تم دونوں میں سے ایک اکیلی ہو وہی چھٹا حصہ لے لے۔