607
Muawtta Imam Malikعَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْخَذُ فِي صَدَقَةِ النَّخْلِ الْجُعْرُورُ وَلَا مُصْرَانُ الْفَارَةِ وَلَا عَذْقُ ابْنِ حُبَيْقٍ قَالَ وَهُوَ يُعَدُّ عَلَی صَاحِبِ الْمَالِ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي الصَّدَقَةِ
ابن شہاب زہری نے کہا کہ کھجور کی زکوٰۃ میں جعرور (ایک قسم کی خراب کھجور ہے جو سوکھنے سے کوڑا ہوجاتی ہے) اور مصران الفارہ اور عذق بن حبیق (یہ بھی ردی کھجوروں کی قسم ہیں) نہ لی جائیں گی اور مثال ان کی بکریوں کی سی ہے کہ صاحب مال کے مال کے شمار میں سب قسم کی شمار کی جائیں گی لیکن لی نہ جائیں گی۔