hadith book logo

Sunan Darimi

18. دیت کا بیان

سنن الدارمي

2245
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجُرْحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ بَيْنَ أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا
حضرت ابوشریح خزاعی بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص قتل ہوجائے یا زخمی ہوجائے اسے تین میں اسے ایک بات کا اختیار ہے اگر وہ چوتھی بات کا ارادہ کرے گا تو تم اس کا ہاتھ پکڑ لو یا تو وہ قصاص لے یا معاف کردے یادیت لے اگر وہ اس میں کچھ لے لیتا ہے پھر اس کے بعد بھی کچھ اور مانگتا ہے تو اس کے لیے جہنم ہوگا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
2246
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ مَنْ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ فَإِنَّهُ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد اعْتَبَطَ قَتَلَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ
ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط لکھا تھا اور اس خط میں یہ بات تحریر کی کہ جو شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے اور قتل کی گواہی ثابت ہوجائے اس کا قصاص لیا جائے گا البتہ مقتول کے ورثاء راض ہوں تو وہ دیت لے سکتے ہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ " اعتبط " سے مراد کسی وجہ کے بغیر قتل کرنا ہے۔
2247
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى خَيْبَرَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْمِيرَةَ بِخَيْبَرَ قَالَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَتُلَّتْ عُنُقُهُ حَتَّى نُخِعَ ثُمَّ طُرِحَ فِي مَنْهَلٍ مِنْ مَنَاهِلِ خَيْبَرَ فَاسْتُصْرِخَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَغَيَّبُوهُ ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَتَقَدَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنَا عَمِّهِ مَعَهُ حُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُحَيِّصَةُ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا وَهُوَ صَاحِبُ الدَّمِ وَذَا قَدَمٍ فِي الْقَوْمِ فَلَمَّا تَكَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُبْرَ الْكُبْرَ قَالَ فَاسْتَأْخَرَ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ثُمَّ هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ نُسَلِّمُهُ إِلَيْكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ عَلَى مَا لَا نَعْلَمُ مَا نَدْرِي مَنْ قَتَلَهُ إِلَّا أَنَّ يَهُودَ عَدُوُّنَا وَبَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قُتِلَ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَبُرَءَاءُ مِنْ دَمِ صَاحِبِكُمْ ثُمَّ يَبْرَءُونَ مِنْهُ قَالُوا مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ مَا فِيهِمْ أَكْبَرُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ بِمِائَةِ نَاقَةٍ
حضرت سہل بن ابوحثمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن سہل جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا وہ اپنی قوم کے چند افراد کے ہمراہ خیبر تشریف لے گئے انھوں نے وہاں خبیر میں کچھ کام کرنا تھا اس دوران حضرت عبداللہ کو قتل کردیا گیا ان کی گردن گھونٹ دی گئی اور خیبر کے ایک تالاب میں پھینک دیا گیا ان کے ساتھی انھیں تلاش کرتے ہوئے وہاں آئے انھیں وہاں سے نکالا قتل کے وقت یہ لوگ ان کے پاس موجود نہیں تھے پھر یہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ منورہ آئے اور ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل آگے بڑھے یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں خاص مقام رکھتے تھے ان کے دو چچا زاد بھی ان کے ساتھ تھے جن کا نام حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود تھا عبدالرحمن بات شروع کرنے لگے وہ عمر میں سب سے کم تھے اور خون کے وارث بھی وہی تھے اور اپنی قوم میں نمایاں مقام بھی رکھتے تھے جب انھوں نے بات شروع کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پہلے بڑے کو موقع دیا جائے وہ پیچھے ہوگئے حضرت حویصہ نے بات شروع کی پھر عبدالرحمن نے بات شروع کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لوگ قاتل کا نام لو اور اس بارے میں حلف اٹھاؤ پچاس مرتبہ حلف اٹھاؤ میں اسے تمہارے سپرد کر دوں گا انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کیسے حلف اٹھاسکتے ہیں جب کہ ہمیں پتاہی نہیں ہے کہ کس نے انھیں قتل کیا ہے البتہ یہودی ہمارے دشمن ہیں اور یہ قتل بھی ان کے درمیان ہوا ہے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ وہ تمہارے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر تمہارے ساتھی کے قتل سے بری الذمہ ہوجائیں گے۔ انھوں نے عرض کی ہم یہودیوں کی قسم قبول نہیں کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک کسی گناہ کی بات پر قسم اٹھانا جھوٹی قسم اٹھانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس سے ان حضرات کو سو اونٹنیاں دیت کے طور پر ادا کیں۔
2248
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ
ابوبکر (رض) بن محمد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط لکھا اس میں یہ بات تحریر کی تھی مرد کو عورت کے عوض میں قتل کیا جاسکتا ہے۔
2249
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَبُعِثَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
حضرت انس بیان کرتے ہیں ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا اس سے دریافت کیا گیا کہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے فلاں نے ؟ یا فلاں نے جب ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کیا اس یہودی کو بلایا گیا اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔
2250
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عَلِمْتَ شَيْئًا مِنْ الْوَحْيِ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ الرَّجُلَ فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِمُشْرِكٍ
حضرت ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کی خدمت میں عرض کی اے امیرالمومنین آپ وحی کے بارے میں کسی ایسی چیز کا علم رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو انھوں نے جواب دیا نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے میں ایسی کسی بات کا علم نہیں رکھتا بلکہ یہ فہم ہے جو قرآن پڑھنے والے شخص کو عطاکی جاتی ہے اور صحیفے میں موجود کچھ احکام ہیں راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا صحیفے میں کیا حکم موجود ہے انھوں نے جواب دیا دیت کا ہے قیدی کو آزاد کرنے کا ہے اور یہ حکم ہے کہ کسی مسلمان کو کسی مشرک کے عوض قتل نہیں کیا جائے گا۔
2251
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَونٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُقَادُ بِالْوَلَدِ الْوَالِدُ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مسجد میں حدود قائم نہیں کی جاسکتی اور کسی باپ کو اس کے بیٹے کے عوض میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔
2252
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ قَالَ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَدِيثَ وَكَانَ يَقُولُ لَا يُقْتَلُ حُرٌّ بِعَبْدٍ
حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کردے ہم بھی اسے قتل کریں گے اور جو اس کی ناک کاٹ دے ہم بھی اس کی ناک کاٹیں گے راوی بیان کرتے ہیں پھر حسن اس حدیث کو بھول گئے اور پھر وہ یہ فتوی دینے لگے کسی آزاد شخص کو غلام کے عوض میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔
2253
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَوْفٍ عَنْ حَمْزَةَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ أَتَعْفُو قَالَ لَا قَالَ فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ قَالَ لَا قَالَ فَتَقْتُلُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ فَتَرَكَهُ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ قَدْ عَفَا عَنْهُ
حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں میں اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا کہ جب ایک قاتل شخص کو آپ کی خدمت میں لایا گیا جسے قتل کے جرم میں پکڑا گیا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتول کے ولی سے کہا کیا تم اسے معاف کردوگے اس نے جواب دیا نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم دیت وصول کرو گے تو اس نے عرض کی نہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو اس نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم اسے معاف کردو تو تمہارے گناہ اور تمہارے مقتول کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں چلے جائیں گے راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے اسے چھوڑ دیا میں نے دیکھا کہ وہ خود اس قاتل کے تسمے کھول رہا تھا جس کو اس نے معاف کیا تھا۔
2254
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ أَوْ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور کسی کو ناحق قتل کرنا۔ راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں جھوٹی قسم اٹھانا۔