hadith book logo

Sunan Darimi

15. طلاق کا بیان۔

سنن الدارمي

2162
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
نافع، حضرت ابن عمر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے اپنی اہلیہ طلاق دے دی وہ خاتون اس وقت حالت حیض میں تھی حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو انھوں نے فرمایا اسے ابن عمر (رض) کو یہ حکم دو کہ اس عورت سے رجوع کرلے اور اسے اپنے پاس رکھے یہاں کہ اسے حیض آجائے پھر پاک ہوجائے پھر اگر وہ (ابن عمر) چاہے تو اس عورت کو روک لے اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔
2163
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَذْكُرُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعٌ أَوْ حَامِلٌ
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا جب حضرت ابن عمر (رض) نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تھی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے ابن عمر (رض) کو ہدایت کرو کہ وہ اس عورت سے رجوع کرلے اور پھر اس عورت کو اس وقت طلاق دے جب وہ پاکی کی حالت میں ہو۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابن مبارک نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں (یا وہ حاملہ ہو) ۔
2164
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں حضرت عمر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی اور پھر ان سے رجوع کرلیا تھا۔
2165
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَأَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ أَنْكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ لَيْسَ عِنْدَنَا هَذَا الْحَدِيثُ بِالْبَصْرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ
حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے سیدہ حفصہ کو طلاق دے دی تھی اور پھر ان سے رجوع کرلیا تھا۔ امام ابومحمد دارمی بیان کرتے ہیں حضرت مدینی نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے
ہمارے نزدیک یہ حدیث حمید نامی محدث سے منقول ہے۔
2166
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ الْحَكَمُ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَفْصِلُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ وَلَا عَتَاقَ حَتَّى يَبْتَاعَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ مَنْ سُلَيْمَانُ قَالَ أَحْسَبُ كَاتِبًا مِنْ كُتَّابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ
حکم بیان کرتے ہیں یحییٰ بن حمزہ نے مجھ سے بیان کیا میں یہ بات یقین سے کرسکتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اہل یمن کو خط کے ذریعے یہ حکم بھیجا تھا کہ قرآن کو صرف باوضو ہاتھ لگاسکتا ہے اور شادی سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی اور (غلام یا کنیز) کو خرید نے سے پہلے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے راوی سلیمان بن ابوداؤد جنہوں نے زہری سے یہ روایت نقل کی ہے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو امام ابومحمد دارمی نے کہا میرا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمربن عبدالعزیز کے سیکرٹری تھے۔
2167
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى الْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي قَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ فَنَادَى خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَرَى مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رفاعہ قرظی کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت حضرت ابوبکر (رض) نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں موجود تھے اور خالد بن سعید بن عاص دروازے پر موجود تھے کہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دی جائے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ میں رفاعہ کی اہلیہ تھی انھوں نے مجھے طلاق بتہ دے دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے دریافت کیا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ تم دوبارہ رفاعہ کے پاس چلی جاؤ ؟ نہیں (یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا) جب تک تمہارا دوسرا شوہر تمہارا شہد نہ چکھ لے اور تم اس کا شہد نہ چکھ لو خالد بن سعید نے بلند آواز میں حضرت ابوبکر (رض) سے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ یہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی موجودگی میں کس طرح کی باتیں کرتی ہے۔
2168
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رِفَاعَةُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَدَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنْ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَتِي هَذِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ أَوْ قَالَ تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رفاعہ یہ ایک صاحب ہیں جو بنوقریظہ سے تعلق رکھتے تھے " نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اس خاتون کے ساتھ عبدالرحمن بن زید نے شادی کرلی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم ان کی حیثیت میری چادر کے پلو جیسی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے اس خاتون سے کہا کہ شاید تم یہ چاہتی ہو کہ تم رفاعہ کے پاس چلی جاؤ ؟ نہیں (ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا) جب تک وہ (تمہارا دوسرا شوہر) تمہارا شہد نہ چکھ لے (راوی کو شک ہے شایدیہ الفاظ ہیں) یہاں تک کہ تم اس کا شہد نہ چکھ لو۔
2169
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا
مسروق بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے (بیوی کو) اختیاردیئے جانے کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق ہوگئی تھی۔
2170
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ
حضرت ثوبان روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو خاتون کسی تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبوحرام ہوگی "۔
2171
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَهَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ هَمَّ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَكَانَتْ جَارَةً لَهُ وَأَنَّ ثَابِتًا ضَرَبَهَا فَأَصْبَحَتْ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى إِنْسَانًا فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٌ فَأَتَى ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ خُذْ مِنْهَا وَخَلِّ سَبِيلَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي كُلُّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ فَأَخَذَ مِنْهَا وَقَعَدَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا
عمرہ بیان کرتی ہیں حبیبہ بنت سہل کے ساتھ ثابت بن قیس نے شادی کرلی اس خاتون کو پتہ چلا کہ نبی اکرم اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں وہ خاتون نبی کی پڑوسی تھی ایک مرتبہ ثابت بن قیس نے اس کی پٹائی کردی اگلے دن صبح سویرے میں وہ خاتون نبی کے دروازے پر موجود تھی۔ جب نبی باہر تشریف لائے اور کسی انسان کو دیکھا تو دریافت کیا کون ہے ؟ تو اس نے عرض کی میں حبیبہ بنت سہل ہوں نبی نے فرمایا کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے اس نے عرض کی کہ میں اور ثابت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ راوی بیان کرتے ہیں ثابت نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انھیں ہدایت کی تم اس سے اپنا دیا ہوا مہر وصول کرلو اور اسے آزاد کردو۔ اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ انھوں نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے۔ راوی بیان کرتی ہیں حضرت ثابت نے وہ سب کچھ وصول کیا اور وہ خاتون واپس اپنے خاندان میں چلی گئی۔