hadith book logo

Sunan Darimi

3. نماز کا بیان

سنن الدارمي

1159
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ عَذْبٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ
حضرت جابر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا فرض نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک شخص کے گھر کے آگے سے گزرنے والی میٹھے پانی کی نہر کی طرح ہے۔ جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔
1160
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَاذَا تَقُولُونَ ذَلِكَ مُبْقِيًا مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالَ كَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدِي أَصَحُّ
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی شخص کے دروازے کے پاس نہر ہو۔ جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔ تم کیا کہتے ہو اس کا کوئی میل باقی رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کی اس کی میل باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازوں کی مثال بھی اسی طرح ہے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
1161
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَهِيَ حَيَّةٌ أَوْ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَجِبُ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَ وَرُبَّمَا أَخَّرَ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا تَأَخَّرُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ رُبَّمَا كَانُوا أَوْ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں حجاج نے اپنے عہد حکومت میں ایک نماز کو اپنے وقت سے تاخیر سے ادا کیا۔ ہم نے اس بارے میں حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے ذکر کیا تو حضرت جابر (رض) نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کرلیتے تھے اور جب آپ عصر ادا کرتے تو سورج ابھی روشن (راوی کو شک ہے یا شاید یہ فرمایا) چمکدار ہوتا تھا اور مغرب اس وقت ادا کرلیتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا۔ عشاء کی نماز آپ کبھی جلدی ادا کرلیتے اور کبھی تاخیر کردیتے تھے جب لوگ اکٹھے ہوجاتے تو جلدی ادا کرلیتے جب لوگ تاخیر کردیتے تو آپ بھی تاخیر سے ادا کرتے۔ صبح کی نماز آپ اندھیرے میں ہی ادا کرلیا کرتے تھے۔
1162
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِهَذَا أُمِرْتَ قَالَ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوَ أَنَّ جِبْرِيلَ أَقَامَ وَقْتَ الصَّلَاةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انھیں بتایا ایک دن حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو حضرت ابومسعود انصاری ان کے پاس آئے اور فرمایا مغیرہ یہ تم نے کیا کیا ہے ؟ تم جانتے ہو حضرت جبرائیل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے نماز ادا کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز ادا کی پھر انھوں نے دوسری نماز ادا کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز ادا کی پھر انھوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نماز ادا کی پھر انھوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نماز ادا کی پھر انھوں نے اگلی نماز ادا کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ادا کی اور پھر فرمایا مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز بولے اے عروہ آپ ذرا غور کریں آپ کیا کہہ رہے ہیں کیا حضرت جبرائیل نے نبی اکرم کو نمازوں کے اوقات کے بارے میں بتایا تھا۔ عروہ بن زبیر نے جواب دیا ایسا ہی ہے حضرت ابومسعود انصاری کے صاحبزادے یزید اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔ عروہ نے یہ بھی بتایا ہے مجھے سیدہ عائشہ (رض) نے یہ بات بتائی تھی نبی اکرم عصر کی نماز ادا کرلیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی ان کے حجرے میں موجود ہوتی تھی۔
1163
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي الْمَدِينَةَ إِنَّمَا يُجْتَمَعُ إِلَيْهِ بِالصَّلَاةِ لِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ فَهَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ بُوقًا كَبُوقِ الْيَهُودِ الَّذِينَ يَدْعُونَ بِهِ لِصَلَاتِهِمْ ثُمَّ كَرِهَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلْمُسْلِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ أَخُو بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ طَافَ بِيَ اللَّيْلَةَ طَائِفٌ مَرَّ بِي رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ هَذَا النَّاقُوسَ فَقَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ قُلْتُ نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قُلْتُ وَمَا هُوَ قَالَ تَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ كَثِيرٍ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ وَجَعَلَهَا وِتْرًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَمَّا خُبِّرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ فَلَمَّا أَذَّنَ بِلَالٌ سَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَاكَ أَثْبَتُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِيهِ سَلَمَةُ قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ کسی اعلان کے بغیر نماز کے مخصوص وقت میں اکٹھے ہوجایا کرتے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارادہ کیا کہ یہود کے بوق کی طرح ایک بوق بنایا جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایا جائے لیکن پھر آپ کو یہ اچھا نہیں لگا۔ پھر آپ نے لوگوں کو ناقوس باجا بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر مسلمانوں کو نماز کے لیے بلایا جائے اسی دوران حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ جن کا تعلق حارث بن خزرج قبیلے سے تھا انھوں نے ایک خواب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیان کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ رات خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں اوڑھی ہوئی تھی اس نے اپنے ہاتھ میں ایک باجا پکڑا ہوا تھا میں نے کہا اے اللہ کے بندے کیا تم یہ باجا فروخت کرو گے اس نے جواب دیا تم اس کا کیا کرو گے میں نے کہا ہم اس کے ذریعے نماز کے لیے بلائیں گے وہ بولا کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز کے متعلق بتاؤں میں نے پوچھا اس سے بہتر کیا چیز ہے وہ بولا تم یوں کہو۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ۔۔۔ الخ۔۔ ترجمہ۔ اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے میں یہ گواہی دیتاہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتاہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں یہ گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے رسول ہیں، میں یہ گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اسی طرح پوری اذان اس نے سنائی۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور انہی کلمات کو طاق تعداد میں کہا البتہ ان میں ان الفاظ کا اضافہ کیا۔ قدقامت الصلوۃ۔ راوی کہتے ہیں جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہوئی تو آپ نے فرمایا اللہ نے چاہا تو یہ خواب سچ ثابت ہوگا تم بلال کے پاس جاؤ اسے یہ کلمات سکھاؤ کیونکہ اس کی آواز تم سے بلند ہے۔ راوی کہتے ہیں جب حضرت بلال نے اذان دی تو حضرت عمر بن خطاب نے وہ سنی تو وہ اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے وہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نبی اکرم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے جس طرح کا خواب انھوں نے دیکھا ہے میں نے بھی ویسا ہی خواب دیکھا ہے تو نبی اکرم نے فرمایا ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے اب بات مزید پختہ ہوگئی ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : میرے والد عبداللہ بن زید نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناقوس بنانے کا حکم دیا ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) ۔
1164
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر) کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے۔
1165
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ الْقَاسِمُ وَمَا كَانَ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابن عمر سے منقول ہے۔
قاسم سیدہ عائشہ صدیقہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو موذن تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے ابن ام مکتوم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلال رات میں ہی اذان دے لیتا ہے تم لوگ اس وقت تک (سحری) کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہ سنو۔
قاسم بیان کرتے ہیں ان دونوں کے درمیان فرق یہ تھا کہ ایک صاحب اذان (دے کر اترتے تھے) دوسرے اذان دینے کے لیے مینار پر چڑھ رہے ہوتے تھے۔
1166
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ أَنَّ سَعْدًا كَانَ يُؤَذِّنُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَفْصٌ حَدَّثَنِي أَهْلِي أَنَّ بِلَالًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَالُوا إِنَّهُ نَائِمٌ فَنَادَى بِلَالٌ بِأَعْلَى صَوْتِهِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يُقَالُ سَعْدٌ الْقَرَظُ
ابن شہاب زہری حفص بن عمر موذن کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں حضرت سعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں اذان دیا کرتے تھے۔
حفص بیان کرتے ہیں میری اہلیہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے حضرت بلال فجر کی نماز کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلانے کے لیے آئے تو لوگوں نے بتایا آپ سو رہے ہیں تو حضرت بلال نے بلند آواز سے کہا : الصلوۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے) تو یہ جملہ فجر کی اذان میں شامل کرلیا گیا۔
امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں جس صاحب کا ذکر ہے انھیں سعد القراظ کہا جاتا ہے۔
1167
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأَ أَحَدُنَا وَخَرَجَ
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اقامت کے کلمات ایک مرتبہ پڑھے جاتے تھے قدقامت الصلوۃ اس جملے کو اقامت میں دو مرتبہ پڑھا جاتا تھا جب ہم اقامت سنتے تو وضو کر کے نکل کھڑے ہوتے تھے۔
1168
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت بلال کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں پڑھیں۔