Sunan Darimi
24. وراثت کا بیان
سنن الدارمي
2726
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَاللَّحْنَ وَالسُّنَنَ كَمَا تَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ
حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں وراثت، لغت اور مسائل کا اسی طرح علم حاصل کرو جس طرح تم قرآن مجید سیکھتے ہو۔
2727
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عُمَرُ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ فَإِنَّهَا مِنْ دِينِكُمْ
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں وراثت کا علم حاصل کرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا حصہ ہے۔
2728
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَوْ هَلَكَ عُثْمَانُ وَزَيْدٌ فِي بَعْضِ الزَّمَانِ لَهَلَكَ عِلْمُ الْفَرَائِضِ لَقَدْ أَتَى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ وَمَا يَعْلَمُهَا غَيْرُهُمَا
ابن شہاب بیان کرتے ہیں اگر حضرت عثمان غنی اور حضرت زید کچھ عرصہ پہلے فوت ہوجاتے تو علم وراثت ختم ہوجاتا کیونکہ لوگوں پر ایسا وقت بھی آیا تھا جب ان دو حضرات کے علاوہ کسی اور کے پاس یہ علم نہیں تھا۔
2729
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَالْفَرَائِضَ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَفْتَقِرَ الرَّجُلُ إِلَى عِلْمٍ كَانَ يَعْلَمُهُ أَوْ يَبْقَى فِي قَوْمٍ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں قرآن اور وراثت کا علم حاصل کرو کیونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ کسی آدمی کو اس علم کی ضرورت پیش آئے گی جسے وہ پہلے جانتا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے جنہیں وہ علم حاصل نہیں ہے۔
2730
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى مَنْ عَلِمَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يَعْلَمْ الْفَرَائِضَ فَإِنَّ مَثَلَهُ مَثَلُ الْبُرْنُسِ لَا وَجْهَ لَهُ أَوْ لَيْسَ لَهُ وَجْهٌ
حضرت ابوموسی (رض) ارشاد فرماتے ہیں جو شخص قرآن کا علم حاصل کرلے اور وراثت کا علم حاصل نہ کرے اس کی مثال ایسی ٹوپی کی سی ہے جس کا منہ نہیں ہوتا۔
2731
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُلْتُ لِعَلْقَمَةَ مَا أَدْرِي مَا أَسْأَلُكَ عَنْهُ قَالَ أَمِتْ جِيرَانَكَ
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں میں نے حضرت علقمہ سے کہا مجھے یہ سمجھ نہیں آئی میں آپ سے کس چیز کے بارے میں سوال کروں۔ انھوں نے جواب دیا تم اپنے پڑوسیوں کو فوت کرو اور ان کی وراثت کا سوال مجھ سے کرو۔
2732
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالطَّلَاقَ وَالْحَجَّ فَإِنَّهُ مِنْ دِينِكُمْ
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں وراثت، طلاق، حج کے احکام کا علم حاصل کرو کیونکہ یہ تمہارے دین کا حصہ ہیں۔
2733
Sunan Darimiحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ كَانُوا يُرَغِّبُونَ فِي تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَالْفَرَائِضِ وَالْمَنَاسِكِ
حضرت حسن بصری ارشاد فرماتے ہیں پہلے زمانے کے لوگ قرآن اور وراثت اور مناسک کی تعلیم کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
2734
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَتَعَلَّمْ الْفَرَائِضَ فَإِنْ لَقِيَهُ أَعْرَابِيٌّ قَالَ يَا مُهَاجِرُ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَفْرِضُ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ فَهُوَ زِيَادَةٌ وَخَيْرٌ وَإِنْ قَالَ لَا قَالَ فَمَا فَضْلُكَ عَلَيَّ يَا مُهَاجِرُ
حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص قرآن کا عالم ہو اسے وراثت کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے کیونکہ اگر کوئی دیہاتی شخص آن ملے اور یہ دریافت کرے اے ہجرت کرنے والے شخص کیا تو قرآن کا عالم ہے ؟ اگر وہ جواب دے ہاں تو وہ دیہاتی دریافت کرے گا کیا تو وراثت کا علم رکھتا ہے اگر وہ جواب دے ہاں تو یہ بڑی بھلائی اور بہتری کی بات ہے لیکن اگر وہ جواب دے نہیں توہ دیہاتی کہے گا اے مہاجر تجھے میرے اوپر کیا فضیلت حاصل ہے۔
2735
Sunan Darimiحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ قَالَ سَأَلْنَا مَسْرُوقًا كَانَتْ عَائِشَةُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ قَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَقَدْ رَأَيْتُ الْأَكَابِرَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ يَسْأَلُونَهَا عَنْ الْفَرَائِضِ
مسلم بیان کرتے ہیں ہم نے مسروق سے دریافت کیا کیا سیدہ عائشہ (رض) وراثت کے مسائل اچھے طریقے سے بیان کرتی تھی انھوں نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے میں نے حضرت محمد کے اکابر صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ وراثت کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کرتے تھے۔