Sunan Darimi
21. خرید وفروخت کا بیان
سنن الدارمي
2419
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُتَشَابِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى فَيُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
حضرت نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حلال اور حرام واضح ہیں ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ ہیں جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں جو شخص ان چیزوں سے بچ جائے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ رکھے گا۔ جو شخص ان چیزوں میں مبتلا ہوجائے گا وہ حرام میں بھی مبتلا ہوجائے گا اس کی مثال اس چرواہے کی طرح ہے جو کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا رہے تو اس بات کا امکان رہے گا کہ وہ اس چراگاہ میں داخل ہوجائے گا ۔ بیشک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بیشک اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ خبردار جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے تو سارا جسم ٹھیک رہے گا اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجائے گا خبردار وہ دل ہے۔
2420
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ مَا تَحْفَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ مَسْأَلَةٍ لَا أَدْرِي مَا هِيَ فَقَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ
ابوحوراء بیان کرتے ہیں میں نے حضرت حسن بن علی (رض) سے دریافت کیا کہ آپ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہوئی کوئی بات یاد رکھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا ہاں ایک شخص نے آپ سے کوئی سوال کیا تھا مجھے نہیں معلوم وہ سوال کیا تھا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر اس چیز کو اپناؤ جو شک میں مبتلا نہ کرے۔
2421
Sunan Darimiحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ الْفِهْرِيِّ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَابِصَةَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهُ وَقَالَ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ يَا وَابِصَةُ ثَلَاثًا الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ
حضرت وابصہ بن معبد اسدی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت وابصہ سے ارشاد فرمایا تم نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرتے ہو انھوں نے فرمایا جی ہاں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر کے انھیں حضرت وابصہ کے سینے پر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا اپنے آپ سے پوچھو اپنے دل سے پوچھو۔ اے وابصہ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی نیکی وہ ہے جس سے تمہارا نفس مطمئن ہو اور تمہارا دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو تمہارے من میں کھٹکے تمہارا سینہ اس کے بارے میں متردد ہو خواہ لوگ اس کے بارے میں تمہیں کوئی فتوی دیں۔
2422
Sunan Darimiحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ فَقَالَ أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا کا بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی میں لوگوں کو آپ کے سامنے سے ہٹارہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا خبردار زمانہ جاہلیت کا ہر سود کالعدم ہے خبردار بیشک اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا ہے کہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جائے گا وہ عباس بن عبدالمطلب کا وصول کرنے والا سود ہے تمہارا اصل مال تمہارے پاس رہے گا۔ نہ تم زیادتی کرو اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی کی جائے۔
2423
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ
حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
2424
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ بِحَلَالٍ أَمْ بِحَرَامٍ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب کوئی شخص اپنے حاصل ہونے والے مال کے بارے میں کوئی بھی پروا نہیں کرے گا کہ وہ حلال ہے یا حرام ہے۔
2425
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ مَا يَأْكُلُ الرَّجُلُ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا انسان جس کھانے کا سب سے زیادہ مستحق ہے وہ اس کی اپنی پاکیزہ کمائی ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی پاکیزہ کمائی کا حصہ ہے۔
2426
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ حَتَّى إِذَا اشْرَأَبُّوا قَالَ التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنْ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ يَقُولُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رِفَاعَةَ وَإِنَّمَا هُوَ إِسْمَعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ
اسماعیل بن رفاعہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت المعلی میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے تاجروں کے گروہ۔ جب وہ لوگ متوجہ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز تاجروں کو گناہ گار لوگوں کی صورت میں اکٹھا کیا جائے گا۔ ماسوائے اس تاجر کے جو اللہ سے ڈرے اور نیکی کرے اور سچ بولے۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابونعیم نامی راوی نے ایک راوی کا نام عبیداللہ بن رفاعہ ذکر کیا ہے حالانکہ وہ راوی اسماعیل بن عبید بن رفاعہ ہے۔
2427
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ قَالَ عَبْد اللَّهِ لَا عِلْمَ لِي بِهِ إِنَّ الْحَسَنَ سَمِعَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ هَذَا هُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ
حضرت ابوسعید (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء کے ساتھ ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ حضرت حسن نے یہ حدیث حضرت ابوسعید (رض) سے سنی ہے یا نہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی ابوحمزہ ابراہیم کے ساتھی ہیں اور ان کا نام میمون اعور ہے۔
2428
Sunan Darimiحَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی اختیار کرنے کی بیعت کی تھی۔