hadith book logo

Sunan Darimi

26. فضائل قرآن کا بیان

سنن الدارمي

3172
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص کے دل میں قرآن موجود نہ ہو اس کی مثال ویران گھر کی طرح ہے۔
3173
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ شَيْئًا أَصْفَرَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ بَيْتٍ لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَإِنَّ الْقَلْبَ الَّذِي لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ خَرِبٌ كَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا سَاكِنَ لَهُ
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے تم اس میں سے جہاں تک ہوسکے استفادہ کرو میرے علم میں بھلائی کے حوالے سے اس گھر سے زیادہ ویران اور کوئی گھر نہیں ہے جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ موجود نہ ہو اور وہ دل جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ موجود نہ ہو یوں ویران گھر کی طرح ہے جیسے گھر ویران ہوتا ہے جس میں کوئی نہ رہتا ہو۔
3174
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَعَلَّمُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ بِتِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ بْ الم وَلَكِنْ بِأَلِفٍ وَلَامٍ وَمِيمٍ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں اس قرآن کا علم حاصل کرو کیونکہ اس کی تلاوت کے ذریعے تمہیں ہر ایک حرف کے عوض میں دس نیکیوں کا اجر دیا جائے گا میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف، ل، م میں ہر حرف کے عوض میں دس نیکیاں ملیں گی۔
3175
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ الْحَنَفِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْبَيْتَ لَيَتَّسِعُ عَلَى أَهْلِهِ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَهْجُرُهُ الشَّيَاطِينُ وَيَكْثُرُ خَيْرُهُ أَنْ يُقْرَأَ فِيهِ الْقُرْآنُ وَإِنَّ الْبَيْتَ لَيَضِيقُ عَلَى أَهْلِهِ وَتَهْجُرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ وَيَقِلُّ خَيْرُهُ أَنْ لَا يُقْرَأَ فِيهِ الْقُرْآنُ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں اگر کسی گھر میں قرآن پڑھاجائے تو وہ گھر اہل خانہ کے لیے کشاہ ہوجاتا ہے اس میں فرشتے آتے ہیں شیطان اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اس میں بھلائی زیادہ ہوجاتی ہے اور اگر کسی گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا تو وہ گھر اہل خانہ کے لیے تنگ ہوجاتا ہے فرشتے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں وہاں شیاطین بسیرا کرلیتے ہیں اور وہاں بھلائی کم ہوجاتی ہے۔
3176
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ
حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اگر قرآن مجید کو کسی چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر اسے آگ میں ڈالا جائے تو وہ جلے گا نہیں۔
3177
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ نِعْمَ الشَّفِيعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّهُ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا رَبِّ حَلِّهِ حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ فَيُحَلَّى حِلْيَةَ الْكَرَامَةِ يَا رَبِّ اكْسُهُ كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ فَيُكْسَى كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ يَا رَبِّ أَلْبِسْهُ تَاجَ الْكَرَامَةِ يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَلَيْسَ بَعْدَ رِضَاكَ شَيْءٌ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں قرآن پڑھو کیونکہ قیامت کے دن یہ بہترین سفارشی ہوگا یہ قیامت کے دن کہے گا اے میرے پروردگار اس کو بزرگی والا زیور پہنا تو اس شخص کو بزرگی کا زیور پہنایا جائے گا قرآن کہے گا اسے بزرگی کا لباس پہنا تو اس شخص کو بزرگی کا لباس پہنایا جائے گا قرآن کہے گا اے میرے رب اس شخص کو بزرگی کا تاج پہنا اے میرے رب اس سے راضی ہوجا کیونکہ تیری رضا کے بعد کسی چیز کی کوئی حثییت نہیں ہے۔
3178
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ يَقُولُ يَا رَبِّ لِكُلِّ عَامِلٍ عُمَالَةٌ مِنْ عَمَلِهِ وَإِنِّي كُنْتُ أَمْنَعُهُ اللَّذَّةَ وَالنَّوْمَ فَأَكْرِمْهُ فَيُقَالُ ابْسُطْ يَمِينَكَ فَتُمْلَأُ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ ثُمَّ يُقَالُ ابْسُطْ شِمَالَكَ فَتُمْلَأُ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ وَيُكْسَى كِسْوَةَ الْكَرَامَةِ وَيُحَلَّى بِحِلْيَةِ الْكَرَامَةِ وَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں قرآن آئے اور اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرے گا اور یہ کہے گا اے میرے رب ہر عمل کرنے والے کو اس کے کام کا معاوضہ ملتا ہے میں نے اس شخص کو لذت اور نیند سے روکا تو اس کو بزرگی عطاکر۔ اس شخص سے کہا جائے گا تم اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلاؤ اسے اللہ کی رضامندی سے بھردیا جائے گا اور پھر یہ کہا جائے گا کہ بائیں ہاتھ کو پھیلاؤ اسے بھی اللہ کی رضامندی سے بھر دیا جائے گا۔ پھر اس شخص کو کرامت کا لباس پہنایا جائے گا اور کرامت کا زیور پہنایا جائے گا اور کرامت کا تاج پہنایا جائے گا۔
3179
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ الْقُرْآنُ يَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ فَيُكْسَى حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ثُمَّ يَقُولُ رَبِّ زِدْهُ فَيُكْسَى تَاجَ الْكَرَامَةِ قَالَ فَيَقُولُ رَبِّ زِدْهُ فَإِنَّهُ فَإِنَّهُ فَيَقُولُ رِضَائِي قَالَ أَبُو مُحَمَّد قَالَ وُهَيْبُ بْنُ الْوَرْدِ اجْعَلْ قِرَاءَتَكَ الْقُرْآنَ عِلْمًا وَلَا تَجْعَلْهُ عَمَلًا
حضرت ابوصالح فرماتے ہیں قرآن اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گا اس شخص کو کرامت کا زیور پہنایا جائے گا قرآن کہے گا اے میرے رب اس میں اضافہ فرما تو اس شخص کو کرامت کا تاج پہنایا جائے گا راوی بیان کرتے ہیں پھر قرآن کہے گا اے میرے پروردگار اس میں مزید اضافہ فرما اسے یہ بھی عطا کر اسے وہ بھی عطا کر یہاں تک کہ پروردگار فرمائے گا میری رضا بھی اس شخص کو حاصل ہوگئی۔ امام دارمی فرماتے ہیں وہیب بن ورد فرماتے ہیں قرآن کی قرأت کو علم کے طور پر اختیار کرو اسے عمل کے طور پر اختیار نہ کرو۔
3180
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْفَزَارِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے جب وہ اپنے گھر کو آئے تو وہاں تین موٹی تازہ اونٹنیاں پائے لوگوں نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قرآن پاک کی تین آیات پڑھنا تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے۔
3181
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَتِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ حَبْلُ اللَّهِ وَالنُّورُ الْمُبِينُ وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ وَنَجَاةٌ لِمَنْ اتَّبَعَهُ لَا يَزِيغُ فَيَسْتَعْتِبُ وَلَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ فَاتْلُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْجُرُكُمْ عَلَى تِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ الم وَلَكِنْ بِأَلِفٍ وَلَامٍ وَمِيمٍ
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے تم اس کے دسترخوان سے جہاں تک استفادہ حاصل کرسکتے ہو کرو۔ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے اور واضح کرنے والا نور ہے اور نفع دینے والی شفا ہے جو اس کے ذریعے تمسک کرے گا اس کے لیے پناہ ہے اور جو اس کی پیروی کرے گا اس کے لیے نجات ہے وہ شخص گمراہ نہیں ہوگا کہ اس کے پیچھے جایا جائے اور ٹیڑھا نہیں ہوگا کہ اسے سیدھا کیا جائے اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور بکثرت استعمال سے یہ پرانا نہیں ہوگا تم اس کی تلاوت کرو اللہ تمہیں اس کی تلاوت کے ہر ایک حرف کے عوض میں دس نیکیاں عطا کرے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف، لام، م میں سے ہر ایک حرف کے عوض دس نیکیاں ملیں گی۔