hadith book logo

Sunan Darimi

16. حدود کا بیان

سنن الدارمي

2194
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّغِيرِ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے نابالغ بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور دیوانہ جب تک اسے عقل نہ آجائے۔ حماد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں بےہوش جب تک اسے ہوش نہ آجائے۔
2195
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ بِكُفْرٍ بَعْدَ إِيمَانٍ أَوْ بِزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ
حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی بھی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں بہاناجائز ہے ایمان کے بعد کافر ہوجانا۔ محصن ہونے کے باوجود زنا کرنا اور کسی شخص کو قصاص کے بغیر قتل کردینا۔ تو قاتل کو بھی قتل کردیا جائے گا۔
2196
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا أَحَدَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اس کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ سے بہایا جائے گا۔ جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور اپنے دین ترک کرکے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص۔ (ان تین کو قتل کیا جائے گا) ۔
2197
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَلَّ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَنَبِهَ بِهِ فَلَحِقَهُ فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَانِي هَذَا فَاسْتَلَّ رِدَائِي مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِدَائِي لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ هَذَا قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت صفوان بن امیہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا وہ سوئے ہوئے تھے اس شخص نے ان کے سرکے نیچے سے چادر کھینچی تو ان کی آنکھ کھل گئی وہ اس کے پیچھے گئے اور اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا یہ شخص آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے چادر کھینچی۔ میں نے اس کے پیچھے جا کر اس کو پکڑ لیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ صفوان نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ میری چادر تو اتنی مہنگی نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بات تم نے اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ سوچی۔
2198
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک چوتھائی دیناریا اس سے زیادہ قیمتی چیز پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
2199
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ڈھال کی چوری کی وجہ سے ہاتھ کٹوادیا تھا اس کی قیمت تین درہم تھی۔
2200
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں قریش نے یہ ارادہ کرلیا کہ قبیلہ مخزوم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون جس نے چوری کی تھی کے بارے میں سفارش کریں انھوں نے غور شروع کیا کہ اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سفارش کرے گا تو کسی نے کہا یہ کام صرف اسامہ بن زید کرسکتے ہیں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب ہیں۔ حضرت اسامہ نے اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اللہ کی حد کے بارے میں سفارش کررہے ہو۔ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا بیشک تم سے پہلے کے بعض لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگئے کہ کیونکہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی فرد چوری کرتا تھا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی عام فرد چوری کرتا تھا تو وہ اسے سزا دیتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کٹوا دیتا۔
2201
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا لَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَى قَالَ مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَى قَالَ فَاذْهَبُوا فَاقْطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ جِيئُوا بِهِ فَقَطَعُوا يَدَهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ
حضرت ابوامیہ مخزومی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کیا تھا اور اس سے مال دستیاب نہیں ہوا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی اس نے عرض کیا، کی ہے آپ نے فرمایا کہ میرا نہیں خیال کہ کہ تم نے چوری کی ہوگی اس نے عرض کیا میں نے کی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جاؤ اور اس کے ہاتھ کاٹ دو پھر اسے لے کر آؤ لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور پھر اسے لے کر واپس آئے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ اس کی توبہ قبول کرلے اے اللہ اس کی توبہ قبول کرلے۔
2202
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ
حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے پھل اور کثر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
2203
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ
حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔