hadith book logo

Sunan Darimi

12. مشروبات کا بیان

سنن الدارمي

1996
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے معراج کی رات میں " ایلیا " کے مقام پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا تھا اور دوسرا دودھ کا تھا۔ آپ نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور دودھ والا پیالہ پکڑ لیا۔ حضرت جبرائیل بولے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ جس نے آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی اگر آپ شراب پکڑ لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
1997
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ مَا هَذَا فَخَرَجْتُ فَقُلْتُ هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ لِيَ اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا قَالَ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ قَالَ وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا الْآيَةَ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوطلحہ کے ہاں ساقی گری کررہا تھا اس وقت شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوگیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اعلان کرنے کا حکم دیا اس نے اعلان کیا حضرت ابوطلحہ نے مجھ سے کہا جاؤ اور دیکھو کیا اعلان ہورہا ہے ؟ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں باہر آیا اور واپس آکر انھیں بتایا ایک شخص اعلان کررہا ہے کہ شراب حرام قرار دے دی گئی حضرت ابوطلحہ نے مجھے یہ ہدایت کی جاؤ اور اسے بہادو۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں مدینہ کی گلیوں کے اندر شراب بہہ رہی تھی حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں ان دنوں کھجور کی شراب استعمال کی جاتی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا جو لوگ ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی ان کا کیا انجام ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے ان پر اس بات کا کوئی گناہ نہیں ہے جو پہلے کھا پی چکے جبکہ وہ پرہیزگاری اختیار کرچکے ہوں اور ایمان لا چکے ہوں۔
1998
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ فَلَمْ يُسْقَهَا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پیے اور پھر اس سے توبہ نہ کرے وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اسے وہ نہیں پلائی جائے گی۔
1999
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ الْوَهْطُ فَإِذَا هُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ ذَلِكَ الْفَتَى بِشُرْبِ الْخَمْرِ فَقُلْتُ خِصَالٌ بَلَغَتْنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَلَمَّا أَنْ سَمِعَهُ الْفَتَى يَذْكُرُ الْخَمْرَ اخْتَلَجَ يَدَهُ مِنْ يَدِ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت عبداللہ بن دیلمی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو کے طائف میں موجود باغ، جس کا نام وھط تھا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بازو میں بازو ڈال کر چل رہے تھے اس نوجوان پر یہ الزام تھا کہ وہ شراب پیتا ہے میں نے کہا آپ کے حوالے سے مجھے ایک بات کا پتا چلا ہے کہ آپ اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب پئے گا اس کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوگی عبداللہ دیلمی بیان کرتے ہیں جب اس نوجوان نے شراب کا ذکر سنا تو حضرت عبداللہ بن عمرو سے اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا اے اللہ میں کسی شخص کے لیے یہ بات جائز قرار نہیں دیتا کہ وہ میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ایک مرتبہ شراب پئے گا اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہ ہوگی اگر وہ توبہ کرلیتا ہے ہے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرے گا راوی کہتے ہیں مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا (اگر وہ شخص شراب پیتا ہے) تو اللہ کے ذمے یہ بات لازم ہوگی کہ وہ قیامت کے دن اس شخص کو دوزخیوں کی پیپ پلائے۔
2000
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ
حضرت جابر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے۔ جہاں شراب پی جاتی ہو۔
2001
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنْيَةٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
حضرت عبداللہ بن عمر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شخص احسان جتانے والا شخص (والدین کا) نافرمان شخص اور ہمیشہ شراب پینے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
2002
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
حضرت عبداللہ بن عمر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں (والدین کا) نافرمان احسان جتانے والا شخص اور ہمیشہ شراب پینے شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔
2003
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا أَنْ يَصْنَعَهَا فَقَالَ إِنَّهَا دَوَاءٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَيْسَتْ دَوَاءً وَلَكِنَّهَا دَاءٌ
حضرت وائل بیان کرتے ہیں حضرت سوید بن طارق نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے انھیں شراب بنانے سے منع کردیا انھوں نے عرض کی یہ دوا کے طور پر بنائی جاتی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ دوا نہیں ہے یہ بیماری ہے۔
2004
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنائی جاتی ہے کھجور اور انگور۔
2005
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْبِتْعِ قَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شہد سے بنی ہوئی شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا ہر وہ چیز جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔