Sunan Darimi
25. وصیت کا بیان۔
سنن الدارمي
3046
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کسی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو اس نے اس کی وصیت کرنی ہو اور وہ چیز اس کے پاس دو راتیں گزار دے ماسوائے اس کے کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری موجود ہو۔
3047
Sunan Darimiحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ
حسن بیان کرتے ہیں مومن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے۔
3048
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ مَا فَعَلَ أَبُوكَ قُلْتُ مَاتَ قَالَ فَهَلْ أَوْصَى فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ كَانَ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد و قَالَ غَيْرُهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو
قاسم بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ثمامہ بن حزن نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے جواب دیا ان کا انتقال ہوگیا انھوں نے دریافت کیا انھوں نے وصیت کردی تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص وصیت کردیتا ہے تو اس کی زکوۃ کے حوالے سے جو کمی ہو یہ وصیت اسے پورا کردیتی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی قاسم بن عمر (رض) کو دیگر محدثین نے قاسم بن عمر (رض) نے روایت کیا ہے۔
3049
Sunan Darimiحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَانَ يُقَالُ مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا أَنْ لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ
شعبی ارشاد فرماتے ہیں جو شخص کوئی وصیت کرے اور اس میں کوئی کمی زیادتی یا ناانصافی نہ کرے تو اسے اتناہی اجر ملتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی میں اس چیز کو صدقہ کرتا۔
3050
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ قَزَعَةَ قَالَ قِيلَ لِهَرِمِ بْنِ حَيَّانَ أَوْصِهْ قَالَ أُوصِيكُمْ بِالْآيَاتِ الْأَوَاخِرِ مِنْ سُورَةِ النَّحْلِ وَقَرَأَ ابْنُ حَيَّانَ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ إِلَى قَوْلِهِ وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ
ابوقزعہ بیان کرتے ہیں ہرم بن حیان سے کہا گیا آپ ہمیں کوئی وصیت کریں انھوں نے جواب دیا میں تمہیں سورت نحل کی آخری آیت کی وصیت کرتا ہوں پھرا بن حیان نے ان آیات کی تلاوت کی۔
" اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دانائی اور اچھے واعظ کے ذریعے دعوت دو اور ان لوگوں کے ساتھ اچھی طرح بحث کرو بیشک تمہارا پروردگار زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے بارے میں بھی زیادہ بہتر جانتا ہے اگر تم انھیں جواب دینا چاہتے ہو تو تم انھیں اسی طرح جواب دو جیسے تمہیں دیا گیا تھا اور اگر تم صبر سے کام لو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے تم صبر کرو اور صبر صرف اللہ کی طرف سے ہوسکتا ہے تم ان کے بارے میں غم گین نہ ہو اور جس فریب کاری سے کام لے رہے ہیں اس کے بارے میں تنگی کا شکار نہ ہو۔ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور جو نیکی کرتے ہیںَ
" اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دانائی اور اچھے واعظ کے ذریعے دعوت دو اور ان لوگوں کے ساتھ اچھی طرح بحث کرو بیشک تمہارا پروردگار زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہے اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے بارے میں بھی زیادہ بہتر جانتا ہے اگر تم انھیں جواب دینا چاہتے ہو تو تم انھیں اسی طرح جواب دو جیسے تمہیں دیا گیا تھا اور اگر تم صبر سے کام لو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے تم صبر کرو اور صبر صرف اللہ کی طرف سے ہوسکتا ہے تم ان کے بارے میں غم گین نہ ہو اور جس فریب کاری سے کام لے رہے ہیں اس کے بارے میں تنگی کا شکار نہ ہو۔ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور جو نیکی کرتے ہیںَ
3051
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ الْيَامِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ فَقَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و قَالَ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامَةٍ
طلحہ بن مصرف یامی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت کی تھی انھوں نے جواب دیا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا لازم کیوں کیا گیا یا انھیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا انھوں نے جواب دیا آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی مکمل طور پر پیروی کرتے تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے کوئی بھی حکم پائیں تو اسے اپنے ناک میں لگام کے طور پر لگائیں یعنی اس کی مکمل پیروی کریں۔
3052
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ قَالَ الْخَيْرُ الْمَالُ كَانَ يُقَالُ أَلْفًا فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ
قتادہ کے بارے میں منقول ہے انھوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تو اگر وہ بھلائی چھوڑ کر جارہا ہو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کردے یہ بات متقین پر لازم ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں یہاں بھلائی سے مراد مال ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ خواہ وہ ایک ہزار ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ (وصیت کرنی چاہیے)
3053
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ أَوْصَى ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ أَوْ هَذَا ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ أَنْ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمْ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَرْغَبُوا أَنْ يَكُونُوا مَوَالِيَ الْأَنْصَارِ وَإِخْوَانَهُمْ فِي الدِّينِ وَأَنَّ الْعِفَّةَ وَالصِّدْقَ خَيْرٌ وَأَتْقَى مِنْ الزِّنَا وَالْكَذِبِ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فِي مَرَضِي هَذَا قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ ثُمَّ ذَكَرَ حَاجَتَهُ
محمد بن سیرین کے بارے میں منقول ہے انھوں نے وہی وصیت کی تھی جو محمد بن ابی عمرہ نے اپنے بچوں اور اہل خانہ کو کی تھی۔ اور وہ قرآن کی یہ آیت تھی۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان اصلاح قائم رکھو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ اور انھوں نے وہ وصیت بھی کی تھی جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کی تھی جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے۔ اور اس بات کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے بھی اے میرے بچو بیشک اللہ نے تمہارے لیے ایک خاص دین کو پسند کرلیا ہے لہٰذا تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا۔ انھوں نے اپنے اہل خانہ کو یہ وصیت کی تھی وہ انصار کے حمایتی اور دینی بھائی بن کر رہیں گے بیشک پاکیز سیرت اور سچائی بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والی ہے جھوٹ کے مقابلے میں۔ اگر میری اس بیماری کے دوران میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے اور میری اس وصیت کو تبدیل کرنے سے پہلے میں مرجاؤں تو یہ کردینا پھر انھوں نے اس کام کا تذکرہ کیا۔
3054
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ هَكَذَا كَانُوا يُوصُونَ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَأَنْ يُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمْ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَأَوْصَى إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا أَنَّ حَاجَتَهُ كَذَا وَكَذَا
انس بیان کرتے ہیں پہلے اس طرح کی وصیت کی جاتی تھی یہ وہ وصیت ہے جو فلاں بن فلاں نے کی ہے اور وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بیشک حضرت محمد اللہ کے خاص بندے اور رسول ہیں بیشک قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ ان لوگوں کو زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص اپنے بعض اہل خانہ کو وصیت کرتا تھا وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور اپنے درمیان بھلائی کو برقرار رکھیں گے اور اللہ کے اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اگر وہ مومن ہیں اور انھیں بھی وصیت کرتا تھا جو حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب نے اپنے بچوں کو کی تھی۔ اے بچو۔ بیشک اللہ نے تمہارے لیے دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا۔ اور وہ یہ بھی وصیت کرتا تھا کہ اگر اس بیماری کے دوران میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے یعنی وہ فوت ہوجائیں تو اس کا یہ کام کردیا جائے اور اس کے بعد وہ کام کا ذکر کردیا کرتا تھا۔
3055
Sunan Darimiحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ مَكْحُولٍ حِينَ أَوْصَى قَالَ تَشَهُّدُ هَذَا مَا شَهِدَ بِهِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ عَلَى ذَلِكَ يَحْيَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَيَمُوتُ وَيُبْعَثُ وَأَوْصَى فِيمَا رَزَقَهُ اللَّهُ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ وَهُوَ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُغَيِّرْ شَيْئًا مِمَّا فِي هَذِهِ الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ هَذِهِ وَصِيَّةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ
مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ جب انھوں نے وصیت کی تو یہ بولے میں اس بات کی گواہی دیتاہوں اور تم بھی اس پر گواہی دو ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور طاغوت کا انکار کرتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو اس عقیدے پر زندہ رہیں گے اور اس پر ان کی موت ہوگی اور اسی پر انھیں زندہ کیا جائے گا پھر انھوں نے یہ وصیت کی کہ اللہ نے انھیں جو رزق عطا کیا ہے وہ جو چھوڑ کر جارہے ہیں اگر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے تو اسے اس طرح کیا جائے اگر وہ اس وصیت میں مرنے سے پہلے کوئی اور تبدیلی نہیں کرتے۔
مکحول روایت کرتے ہیں یہ حضرت ابودرداء کی وصیت ہے۔
مکحول روایت کرتے ہیں یہ حضرت ابودرداء کی وصیت ہے۔