Sunan Darimi
9. قربانى کا بیان
سنن الدارمي
1863
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگ والے دو دنبوں کی قربانی کی آپ نے بسم اللہ پڑھی اور پھر تکبیر کہی میں نے آپ کو انھیں اپنے دست اقدس کے ذریعے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ نے اپنا پاؤں ان کے پہلو میں رکھا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے پوچھا کیا آپ نے خود یہ حدیث حضرت انس (رض) سے سنی ہے انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
1864
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ فَقَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ ثُمَّ سَمَّى اللَّهَ وَكَبَّرَ وَذَبَحَ
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کے دن دو دنبوں کی قربانی کی جب آپ نے ان دونوں کا رخ کیا تو آپ نے یہ دعا پڑھی۔ " میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو درست طور پر پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں بیشک میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ یہ تیری عطا سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے یہ محمد اور اس کی امت کی طرف سے ہے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ پڑھی اور پھر تکبیر کہہ کر انھیں ذبح کردیا۔
1865
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ
ابن مسیب بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلمہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وہ ذوالحج کے پہلے عشرے میں اپنے ناخن نہ کاٹے اور اپنے بال نہ کٹوائے۔
1866
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا أَظْفَارِهِ شَيْئًا
ام سلمہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ذوالحج کا پہلا عشرہ داخل ہوجائے جو شخص قربانی کرنا چاہتا ہو اسے اپنے بال یا ناخن نہیں کٹوانے چاہئیں۔
1867
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَّقَى مِنْ الضَّحَايَا قَالَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي
حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کس قسم کے جانور کی قربانی سے پرہیز کیا جائے آپ نے فرمایا وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ دبلا پتلا کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔
1868
Sunan Darimiحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا يُجْزِئْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ وَفِي الْأُذُنِ نَقْصٌ وَفِي الْقَرْنِ نَقْصٌ قَالَ فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ
عبید بن فیزوز بیان کرتے ہیں حضرت براء (رض) سوال کیا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی طرح کے جانور کی قربانی سے منع کیا ہے انھوں نے جواب دیا چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایک وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو اور ایک لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، وہ بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور وہ کمزور جس کے اندر مغز ہی نہ ہو۔ میں نے براء سے سوال کیا میں ایسے جانور کو بھی پسند نہیں کرتا جس کے سینگ میں کوئی نقص ہو جس کے کان میں کوئی نقص ہو اور جس کے دانت میں کوئی نقص ہو۔ حضرت براء نے جواب دیا جسے تم ناپسند کرتے ہو اسے نہ کرو لیکن اسے کسی کے لیے حرام قرار نہ دو ۔
1869
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْبَقَرَةُ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ قُلْتُ الْقَرْنُ قَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ الْعَرَجُ قَالَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
حجیہ بن عدی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا اے امیرالمومنین گائے کا کیا حکم ہے انھوں نے جواب دیا سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہے میں نے جواب دیا سینگ میں کوئی نقص ہو تو انھوں نے جواب دیا اس سے تم کو کوئی حرج نہیں ہے۔ حجیہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا لنگڑے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں انھوں نے جواب دیا اگر قربان گاہ تک پہنچ جائے پھر انھوں نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جانوروں کی آنکھ اور کان کا جائزہ لے لیا کریں۔
1870
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا خَرْقَاءَ وَلَا شَرْقَاءَ فَالْمُقَابَلَةُ مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا وَالْمُدَابَرَةُ مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ وَالْخَرْقَاءُ الْمَثْقُوبَةُ وَالشَّرْقَاءُ الْمَشْقُوقَةُ
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان کا ایک جائزہ لے لیا کریں اور ہم مقابلہ اور مدابرہ، حرقاء، شرقاء کی قربانی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں مقابلہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا کنارہ کٹا ہوا ہو، مدابرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان کا ایک حصہ کٹا ہوا ہو، خرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان چھیدا گیا ہو اور شرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کا کان پھٹا ہوا ہو۔
1871
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَأَصَابَنِي جَذَعٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک سال کا بکری کا بچہ ملا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ ہی قربان کردو۔
1872
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا أَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَسَمْتُهَا وَبَقِيَ مِنْهَا عَتُودٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِّ بِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَتُودُ الْجَذَعُ مِنْ الْمَعْزِ
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مال غنیمت دیا تاکہ میں اسے اصحاب میں تقسیم کروں میں نے انھیں تقسیم کردیا ایک سال کا بکری کا بچہ ان میں سے باقی رہ گیا میں نے اس کا ذکر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا تم اسے قربان کردو۔ امام دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ) عتود کا مطلب بکری کا ایک سال کا بچہ ہے۔