hadith book logo

Sunan Darimi

11. کھانے کا بیان

سنن الدارمي

1934
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ
حضرت عمر بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اپنے آگے سے کھانا شروع کرو۔
1935
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ أَخْبَرَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چھ اصحاب کے ہمراہ کھانا کھا رہے تھے کہ اسی دوران ایک دیہاتی آیا اس نے دو لقمے اکٹھے کھا لئے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تو اس نے بسم اللہ پڑھ لی تھی تو یہ تمہارے لیے کافی ہے جب کوئی شخص کھانا کھانے لگے تو بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے اور اگر وہ بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کھانے کے دوران جب یاد آئے تو یہ کہنا چاہیے بسم اللہ اولہ واخرہ۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1936
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَسِيرَةٌ قَالَ قَالَ أَبِي لِأُمِّي لَوْ صَنَعْتِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً وَقَالَ بِيَدِهِ يُقْلِلُ فَانْطَلَقَ أَبِي فَدَعَاهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا ثُمَّ قَالَ خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا فَلَمَّا طَعِمُوا دَعَا لَهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ
حضرت عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں انھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کچھ عرصہ رہنے کا شرف حاصل ہوا میرے والد نے میری والدہ سے کہا اگر تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا تیار کرو تو یہ مناسب ہوگا انھوں نے ثرید تیار کردیا اور ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرکے بتایا کہ یہ تھوڑا ہے میرے والد گئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلا لائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک کھانے کے اوپر رکھا اور فرمایا اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو انھوں نے کناروں سے کھانا شروع کردیا جب سب لوگوں نے کھانا کھالیا تو آپ نے ان کے لیے دعا کی۔ اے اللہ ان کی مغفرت فرما ان پر رحم کر ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔
1937
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْ رَبِّنَا
حضرت ابوامامہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی چیز کھاتے یا کچھ پیتے یہ دعا کرتے تھے۔ " ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے ایسی حمد جو بہت زیادہ پاکیزہ ہو اور اس میں برکت موجود ہو اس میں کفر نہ ہو اور اسے دھتکارا نہ جائے اور ہمارا پروردگار اس سے بےنیازی اختیار نہ کرے۔
1938
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُرَّةَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ
سنان بن سنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے۔
1939
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص کھانا کھالے تو اسے اپنی تینوں انگلیاں چاٹ لینی چاہیے۔
1940
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ أَوْ يُلْعِقَهَا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص کھانا کھالے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ پونچھے جب تک اپنی انگلیاں چاٹ نہ لے۔
1941
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ هُوَ مُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ طَعَامًا فَدَعَوْنَاهُ فَأَكَلَ مَعَنَا ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ
ام عاصم بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام نبیشہ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم کھانا کھا رہے تھے ہم نے انھیں دعوت دی انھوں نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا اور پھر ارشاد فرمایا ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ بات ارشاد فرمائی جو شخص کسی پیالے میں کچھ کھائے اور پھر اسے چاٹ لے یعنی پیالے کو اچھی طرح صاف کردے تو وہ پیالہ اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے۔
1942
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْسَحْ عَنْهَا التُّرَابَ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ وَلْيَأْكُلْهَا
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کا لقمہ نیچے گرجائے تو اس سے مٹی صاف کرکے اللہ کا نام لے کر کھا لینا چاہیے۔
1943
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ كَانَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ يَتَغَدَّى فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ مَا بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ أَكَلَهَا فَجَعَلَ أُولَئِكَ الدَّهَاقِينُ يَتَغَامَزُونَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ مَا تَرَى مَا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمُ يَقُولُونَ انْظُرُوا إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الطَّعَامِ وَإِلَى مَا يَصْنَعُ بِهَذِهِ اللُّقْمَةِ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَدَعُ مَا سَمِعْتُ بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمِ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِنَا لُقْمَةٌ أَنْ يُمِيطَ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَأَنْ يَأْكُلَهَا
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت معقل بن یسار کھانا کھا رہے تھے ان کا ایک لقمہ نیچے گرگیا انھوں نے اسے اٹھایا اور اس پر لگی ہوئی مٹی صاف کیا پھر اسے کھالیا وہاں موجود چند خوشحال لوگوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کرنا شروع کردیا لوگوں نے حضرت معقل سے کہا یہ آپ نے دیکھا کہ یہ عجیب لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں ان صاحب کی طرف دیکھیں ان کے سامنے اتنا سارا کھانا موجود ہے پھر بھی نیچے سے اٹھا کر کھا رہے ہیں حضرت معقل نے جواب دیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی جو بات سنی ہے انھیں اس عجمیوں کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کرسکتا ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے اس کی مٹی صاف کرکے کھا لینا چاہیے۔