Sunan Darimi
20. سیر کا بیان
سنن الدارمي
2328
Sunan Darimiحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ فَكَانَ هَذَا الرَّجُلُ رَجُلًا تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَكَثُرَ مَالُهُ
حضرت صخر غامدی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا فرمائی اے اللہ میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی مہم روانہ کرتے تھے تو اسے دن کے ابتدائی حصے میں روانہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں یہ صاحب یعنی اس حدیث کے راوی حضرت صخر غامدی تاجر آدمی تھے وہ اپنے ملازمین کو دن کے ابتدائی حصے میں تجارت کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ تو ان کا مال بہت زیادہ ہوگیا تھا۔
2329
Sunan Darimiحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ
حضرت عبدالرحمن بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر پر روانہ ہوتے تو عام طور پر جمعرات کے دن روانہ ہوتے۔
2330
Sunan Darimiحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بن عاص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک سب سے بہترین ساتھی وہ شخص ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے بہتر ہو۔
2331
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ يُونُسَ وَعُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَمَا بَلَغَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا فَصَبَرُوا وَصَدَقُوا فَغُلِبُوا مِنْ قِلَّةٍ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور بہترین مہم چار سو افراد کی ہے اور اگر وہ بارہ ہزار ہوں اور صبر کرلیں اور سچ بولیں تو قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے۔
2332
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا وَقَالَ اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر فرماتے تو اسے بطور خاص اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتے اور ارشاد فرماتے اللہ کا نام لے کر جنگ شروع کرنا اور اللہ کے راستے میں لڑنا جو شخص اللہ کا انکار کرے اس سے جنگ کرنا۔ جنگ کرتے رہنا۔ بدعہدی نہیں کرنا خیانت نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔
2333
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَاثْبُتُوا وَأَكْثِرُوا ذِكْرَ اللَّهِ فَإِنْ أَجْلَبُوا وَضَجُّوا فَعَلَيْكُمْ بِالصَّمْتِ
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں دشمن کا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو جب تمہارا اس سے سامنا ہوجائے تو ثابت قدم رہنا اور اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔ اگر وہ چلائیں اور شور کریں تو تم خاموشی اختیار کرو۔
2334
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو أَيَّامَ حُنَيْنٍ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَبِكَ أُقَاتِلُ
حضرت صہیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے دن یہ دعا مانگی۔ اے اللہ میں تیری ہی مدد کے ذریعے چلتا پھرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد کے ذریعے جنگ کرتا ہوں۔
2335
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ قَالَ عَلْقَمَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر کرتے تو اسے یہ ہدایت کرتے جب تمہارا اپنے کسی مشرک دشمن سے سامنا ہو تو انھیں تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو ۔ ان میں سے جو بھی بات وہ قبول کرلیں اس کو ان کی طرف سے تم قبول کرلینا اور ان سے لڑائی سے رک جانا۔ تم انھیں اسلام کی دعوت دو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی طرف سے اسے قبول کرلینا اور لڑائی سے رک جانا۔ اگر نہ مانیں تو پھر تم انھیں دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آجائیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو تم انھیں بتا دینا کہ انھیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی ادائیگی لازم ہوگی جو مہاجرین کے ذمے لازم ہے۔ اگر وہ انکار کریں تو تم انھیں بتانا کہ وہ لوگ دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہوں گے ان پر اللہ کے وہ تمام احکام جاری ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں انھیں مال فئی اور مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو انھیں حصہ ملے گا اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو تم انھیں جزیہ ادا کرنے کا کہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرلو اور لڑائی بند کردو۔ اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد حاصل کرو اور ان سے جنگ شروع کردو۔ اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تم انھیں اللہ کے ذمے اور اس کے نبی کے ذمے کرو تو تم انھیں اللہ کا ذمہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہ دو بلکہ انھیں اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ دو اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ دو کیونکہ تم اپنے ذمے اور اپنے باپ دادا کے ذمہ کی خلاف ورزی کرو۔ یہ تمہارے حق میں اس سے کم نقصان والا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمے کی خلاف ورزی کرو۔ اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تمہیں اللہ کے حکم پر لے آئیں تو تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم پر معاہدہ نہ کرو بلکہ اپنے فیصلے پر معاہدہ کرو کیونکہ تم جانتے ہو کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم تک پہنچ جاؤ گے یا نہیں پھر تم ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2336
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ قَالَ عَبْد اللَّهِ سُفْيَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے کبھی بھی قوم کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کی جب تک انھیں دعوت نہیں دی۔ امام دارمی فرماتے ہیں سفیان نامی راوی نے ابن ابی نجیح سے یہ حدیث نہیں سنی ہے۔
2337
Sunan Darimiحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صبح کی نماز کے وقت حملہ کیا کرتے تھے آپ دھیان رکھتے تھے۔ اگر آپ کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر نہ سنائی دیتی تو حملہ کردیتے تھے۔