hadith book logo

Sunan Darimi

23. دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان

سنن الدارمي

2590
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص کے لیے اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کردیتا ہے۔
2591
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دونعمتیں ہیں اور ان دونوں کے بارے میں بہت سے لوگ نقصان کا شکار ہیں۔
2592
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ
حضرت ابن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص کچھ لوگوں کے بارے میں کوئی ایسی بات سنے جسے وہ لوگ ناپسند کرتے ہوں تو اس شخص کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔
2593
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَالْآخِرَةَ عَلَيْكَ
حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نامحرم چیز کی طرف پہلی نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو کیونکہ پہلی کی تمہیں اجازت ہے لیکن دوسری کا تمہیں گناہ ہوگا۔
2594
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا قَالَ اتَّقِ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ
حضرت عبداللہ بن سفیان بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے اسلامی عمل کے بارے میں بتائیں جس کے بارے میں مجھے کسی اور سے دریافت نہ کرنا پڑے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور پھر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی پھر اس کے بعد کون سی چیز ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اس کی حفاظت کرو۔
2595
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ قَالَ قُلْ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَكْثَرُ مَا تَخَوَّفُ عَلَيَّ قَالَ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا
حضرت سفیان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے کام کا حکم دیں جس کے ذریعے میں محفوظ ہوجاؤں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم یہ اقرار کرو کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان کہتے ہیں میں نے عرض کی اے للہ کے نبی آپ کو میرے بارے میں کس بات کا زیادہ اندیشہ ہے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان پکڑ کر کہا اس کا۔
2596
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ کون سا مسلمان افضل ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ ہوں۔
2597
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَمَتَ نَجَا
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بن عاص بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پالی۔
2598
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ مَا الْغِيبَةُ قَالَ ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ وَإِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں آپ سے دریافت کیا گیا غیبت کیا چیز ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے بھائی کی اس بات کا ذکر کرو جو اسے ناپسند ہو عرض کی کی گئی اگرچہ میرے بھائی میں وہ بات موجود ہو جو میں نے بیان کی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اگر نہیں موجود تو تم نے اس پر تہمت لگائی۔
2599
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شَرَّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ وَلَا يَصْلُحُ مِنْ الْكَذِبِ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ ابْنَهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ صَدَقَ وَبَرَّ وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ كَذَبَ وَفَجَرَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا هَلْ أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ وَإِنَّ الْعَضْهَ هِيَ النَّمِيمَةُ الَّتِي تُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ
حضرت عبداللہ اس حدیث کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں سب سے بڑا خیال جھوٹ کا خیال ہے جھوٹ کسی بھی حالت میں صحیح نہیں ہے نہ ہی سنجیدگی کے ساتھ اور نہ ہی مذاق کے ساتھ اور کوئی شخص ایسا نہ کرے کہ اپنے بیٹے کے ساتھ کوئی وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے بیشک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے بیشک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے سچے شخص سے کہا جائے گا اس نے سچ بولا اور نیکی کی جبکہ جھوٹے سے کہا جائے گا کہ اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا۔ جس طرح آدمی جھوٹ بولتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ کی بارگاہ میں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ کی بارگاہ میں سچا لکھ دیا جاتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا تمہیں بتاؤں کہ غصہ کیا ہے۔ غصہ چغل خوری ہے جن کے ذریعے تم لوگوں میں فساد پھیلاسکتے ہو۔