Sunan Darimi
19. جہاد کا بیان
سنن الدارمي
2283
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرْنَا فَقُلْنَا لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى لَعَمِلْنَاهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ قَالَ يَحْيَى فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ
حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کرام میں بیٹھے ہوئے گفتگو کررہے تھے۔ ہم نے یہ کہا اگر ہمیں علم ہوجاتا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے تو ہم وہ عمل سرانجام دیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " آسمان و زمین میں جو کچھ موجود ہے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) غالب اور حکمت والا ہے "۔ (راوی کہتے ہیں) یہ مکمل سورت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سورت ہمیں پڑھ کر سنائی اور پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی) ابوسلمہ بیان کرتے ہیں حضرت ابن سلام نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی) حضرت یحییٰ کہتے ہیں ابوسلمہ نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی) یحیحی نے ہمیں یہ پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی کہتے ہیں) اوزاعی نامی راوی نے یہ پوری سورت ہمیں پڑھ کر سنائی (امام دارمی فرماتے ہیں) محمد جو اس حدیث کے روایت میں میرے استاد ہیں انھوں نے یہ پوری سورت ہمیں پڑھ کر سنائی۔
2284
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : " جو اپنے گھر سے صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور اس کے کلمات کی تصدیق کرنے کے نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس بات کا کفیل ہوجاتا ہے کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردے گا یا اسے اس کے اسی مسکن کی طرف اجریا غنیمت کے ہمراہ واپس لے آئے جہاں سے وہ نکلا تھا۔
2285
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ کون ساجہادافضل ہے ؟ جواب دیا گیا جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور آدمی کا خون بہادیا جائے۔ (یعنی اسے شہید کردیا جائے) ۔
2286
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے۔ جواب دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ عرض کی گئی پھر اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کی گئی پھر کون سا ہے ؟ آپ نے جواب دیا وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ نہ کیا جائے۔
2287
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهُوَ قَدْرُ مَا تَدُرُّ حَلَبَهَا لِمَنْ حَلَبَهَا
حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص اپنی اونٹنی کے دودھ اتر آنے کی مدت کے برابر عرصے کے لیے اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اس سے مراد یہ ہے کہ جتنے عرصے میں دودھ دوہنے والے کے لیے اونٹنی کا دودھ اتر آئے۔
2288
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً قُلْنَا بَلَى قَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ أَوْ قَالَ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ قَالَ فَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ قَالَ فَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے پاس تشریف لائے وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں بتاؤں لوگوں کی قدرومنزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ ہم نے عرض کی جی ہاں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ لے (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں کہ اپنے گھوڑے کو اللہ کی راہ میں پکڑ لے) یہاں تک کہ وہ فوت ہوجائے یا شہید کردیا جائے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو اس سے بعد کا مرتبہ رکھتا ہے ؟ ہم نے عرض کی جی یا رسول اللہ فرمایا وہ شخص جو کسی الگ تھلگ کسی گھاٹی پر رہے نماز ادا کرے زکوۃ ادا کرے لوگوں کے شر سے محفوظ رہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا میں قدرومنزلت کے اعتبار سے سب سے بدتر شخص کے بارے میں بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی جی یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ اسے کچھ نہ دے۔
2289
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الرَّجُلِ سِتِّينَ سَنَةً
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ایک آدمی کا اللہ کی صف میں کھڑے ہونادوسرے آدمی کی ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے۔
2290
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَنَّ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَرَّ عَلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَوْ حَبِيبٌ مَرَّ عَلَى مَالِكٍ وَهُوَ يَقُودُ فَرَسًا يَمْشِي فَقَالَ ارْكَبْ حَمَلَكَ اللَّهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
حضرت عبداللہ بن سلیمان بیان کرتے ہیں حضرت مالک بن عبداللہ حضرت حبیب بن مسلمہ کے یا شاید حضرت حبیب حضرت مالک کے پاس سے گزرے وہ اپنے گھوڑے کو لے کر چل رہے تھے اور خود پیدل جارہے تھے انھوں نے سوال کیا آپ اس سواری پر خود سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص کے قدم اللہ کی راہ میں گرد آلود ہوجائیں اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ کو حرام کردیتا ہے۔
2291
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں صبح کرنا یا اللہ کی راہ میں شام کرنا دنیا میں موجود ہر چیز سے افضل ہے۔
2292
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَ وَجْهِهِ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
حضرت ابوسعید خدری (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہیں جو شخص اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور جہنم کے درمیان ستر ہزار برس کا فاصلہ کردیتا ہے۔