hadith book logo

Sunan Darimi

10. شکار کا بیان

سنن الدارمي

1918
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کتے کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا تمہارا کتا جس شکار کو پکڑ لے اسے کھالو کیونکہ کتے کا اسے پکڑنا ہی اسے ذبح کرنا ہے اور اگر تمہیں اپنے کتے کے ہمراہ ایک اور کتا ملے اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس شکار کو دوسرے کتے نے کیا ہوگا اور اسے قتل کیا ہوگا تو تم شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا۔
حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لاٹھی سے شکار کے بارے میں دریافت کیا تو اس کے بعد اسی کے مثل حدیث ہے۔
1919
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص شکار کے استعمال کے لیے یا جانوروں کی حفاظت کے لیے کتے کے علاوہ کوئی اور کتا پالے تو اس کے عمل میں روزانہ دو قیراط کم ہوں گے۔
1920
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ يُحَدِّثُ نَاسًا مَعَهُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالُوا أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
سائب بن یزید بیان کرتے ہیں انھوں نے مسجد کے دروازے کے پاس سفیان بن ابوزہیر کو بہت سے لوگوں کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے انھوں نے بیان کیا ہے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کھیت یا جانور کی حفاظت کے علاوہ کسی کتے کو پالے گا اس کے عمل میں روزانہ ایک قیراط اجر وثواب کم ہوگا۔ لوگوں نے دریافت کیا کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہے انھوں نے جواب دیا ہاں اس مسجد کے پروردگار کی قسم ایسا ہی ہے۔
1921
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالِي وَلِلْكِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الزَّرْعِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ
حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر آپ نے فرمایا میرا کتوں کے ساتھ کیا واسطہ پھر آپ نے جانوروں کی دیکھ بھال اور شکار کے لیے استعمال ہونے والے کتے کو پالنے کی رخصت عطاکی۔
1922
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔
1923
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا وَلَكِنْ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الْبَهِيمُ الْأَسْوَدُ كُلُّهُ
حضرت عبداللہ بن مغفل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر کتے (جانوروں کی ایک مخصوص قسم کا) گروہ نہ ہوتے تو میں ان سب کو مارنے کا حکم دیتا تاہم تم ان میں سے ہر سیاہ کتے کو مار دو ۔ سعید بن عامر بیان کرتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ البھیم سے مراد وہ کتا ہے جو مکمل طور پر سیاہ ہو۔
1924
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ
شعبی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عدی بن حاتم کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لاٹھی کے ذریعے شکار کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جب تم اس کی دھار کے ذریعے کسی (جانور کو شکار کرو تو اسے کھالو) اور جب اسے عرض میں (یعنی لاٹھی کے طور پر) استعمال کرکے جانور کو مارو تو وہ لاٹھی کے ذریعے مرا ہوا جانور ہوگا۔ اسے تم نہ کھاؤ۔
1925
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ
حضرت عبداللہ بن ابواوفی بیان کرتے ہیں ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سات ایسے غزوات میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے جس میں ہم ٹڈی کھایا کرتے تھے۔
1926
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ قِرَاءَةً عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ہم لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیا کریں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اس کا پانی پاک ہوتا ہے اور اس کا مردار حلال ہوتا ہے۔
1927
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ حَتَّى أَتَيْنَا الْبَحْرَ وَقَدْ قَذَفَ دَابَّةً فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلْعًا مِنْ أَضْلَاعِهَا فَوَضَعَهُ ثُمَّ حَمَلَ أَطْوَلَ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ عَلَى أَعْظَمِ بَعِيرٍ فِي الْجَيْشِ فَمَرَّ تَحْتَهُ هَذَا مَعْنَاهُ
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم تین سو افراد کو ایک مہم پر روانہ کیا ہم شدید بھوک کا شکار ہوگئے یہاں تک کہ ہم جب سمندر کے پاس پہنچے تو سمندر نے ایک جانور اگل دیا۔ ہم نے اس جانور کا گوشت کھانا شروع کردیا یہاں تک کہ ہمارے جسم صحت مند ہوگئے حضرت ابوعبیدہ جو ہمارے لشکر کے امیر تھے نے اس جانور کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور پھر لشکر میں موجود سب سے طویل شخص کو سب سے اونچے اونٹ پر بٹھایا وہ شخص اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں یہ اس حدیث کا مفہوم ہے)