hadith book logo

Sunan Darimi

22. اجازت لینے کا بیان

سنن الدارمي

2515
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ وَلَأَفْعَلَنَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا وَأَنَا فِي قَوْمٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ فَزِعٌ مِنْ وَعِيدِ عُمَرَ إِيَّاهُ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ مِنْكُمْ رَجُلًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا شَهِدَ لِي بِهِ قَالَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ أَخْبِرْهُ أَنِّي مَعَكَ عَلَى هَذَا وَقَالَ ذَاكَ آخَرُونَ فَسُرِّيَ عَنْ أَبِي مُوسَى
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے حضرت عمر کے ہاں داخل ہونے کی تین مرتبہ اجازت مانگی انھیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر نے دریافت کیا آپ واپس کیوں چلے گئے انھوں نے جواب دیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے اگر مل جائے تو ٹھیک ہے۔ حضرت عمر بولے ہاں تو آپ اپنے ساتھ کوئی ایسا شخص لائے جاو اس بات کی گواہی دے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ورنہ میں پھر آپ کو سخت سزادوں گا۔ حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری ہمارے پاس تشریف لائے میں اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر نے انھیں جو دھمکی دی تھی وہ اس سے گھبرائے ہوئے تھے وہ ہمارے پاس آکرکھڑے ہوئے اور بولے میں آپ حضرات کو قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آپ میں جس شخص نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سنا ہے وہ میرے حق میں گواہی دے۔ حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں میں نے سر اٹھایا اور بولا کہ آپ انھیں بتادیں کہ میں اس بارے میں آپ کے ساتھ ہوں دوسرے لوگوں نے بھی یہ بات کہی تو حضرت ابوموسی (رض) خوش ہوگئے۔
2516
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ بَابَهُ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا قَالَ أَنَا أَنَا فَكَرِهَ ذَاكَ
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں آیا میں نے آپ کے دروازے پر دستک دی آپ نے دریافت کیا کون ہے میں نے عرض کی میں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں میں۔ راوی کہتے ہیں یعنی آپ نے اس جواب کو ناپسند کیا۔
2517
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ يَذْكُرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا أَوْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ قَالَ سُفْيَانُ قَوْلُهُ أَوْ يُخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ مَا أَدْرِي شَيْءٌ قَالَهُ مُحَارِبٌ أَوْ شَيْءٌ هُوَ فِي الْحَدِيثِ
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص رات کے وقت سفر سے سیدھا اپنی بیوی کے پاس چلا جائے یا اس کے کردار کی ٹوہ لینے کی کوشش کرے یا اس کی خامیاں تلاش کرے۔ سفیان بیان کرتے ہیں اس روایت میں یہ الفاظ اس کے کردار میں عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرے یا اس کی خامیاں تلاش کرنے کی کوشش کرے مجھے نہیں پتہ اس کی کیا حثییت ہے یہ محارب نامی راوی کے الفاظ ہیں یا حدیث کا حصہ ہیں۔
2518
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے آئے اور بولے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکل کھڑا ہوا جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی بات آپ کی زبانی میں نے یہ سنی آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو سلام کو عام کرو کھانا کھلاؤ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو اور اس وقت نماز ادا کر جب لوگ سو رہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
2519
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ
حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں جب اس سے ملاقات ہو تو سلام کرے جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے جب دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے جب اس کا انتقال ہوجائے تو جنازے میں شریک ہو اور اس کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے اور اس کی غیرموجودگی میں اس کے لیے خیرخواہی سے کام لے۔
2520
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِىءٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَائِمُ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ
حضرت فضالہ بن زید نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سوار شخص پیدل شخص کو سلام کرے گا اور کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے کو سلام کرے گا اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں گے۔
2521
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ قُلْ عَلَيْكَ
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کوئی یہودی سلام کرے السام علیک تمہیں موت آجائے تو تم جواب دو وعلیک۔ تمہیں بھی موت آجائے۔
2522
Sunan Darimi
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
سیار بیان کرتے ہیں میں حضرت ثابت کے ہمراہ جارہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انھیں سلام کیا پھر حضرت ثابت نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ حضرت انس کے ساتھ جارہے تھے ان کا گزر بچوں کے پاس سے ہوا تو انھوں نے ان کو سلام کیا اور حضرت انس نے یہ حدیث بیان کی کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جارہے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچوں کو سلام کیا۔
2523
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنِي شَهْرٌ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ فِي نِسْوَةٍ مَرَّ عَلَيْهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن مایہ بنوعبداشہل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں وہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ وہ چند خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان خواتین کو سلام کیا۔
2524
Sunan Darimi
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عائشہ (رض) یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں سیدہ عائشہ (رض) نے جواب دیا ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ چیز دیکھ لیتے تھے جو میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔