Sunan Darimi
2. پاکی کا بیان
سنن الدارمي
648
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نُهِينَا أَنْ نَبْتَدِئَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَقْدُمَ الْبَدَوِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَجَثَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَسُولَكَ أَتَانَا فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي رَفَعَ السَّمَاءَ وَبَسَطَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي السَّنَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا فِي أَمْوَالِنَا الزَّكَاةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَكَ زَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ إِلَى الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا وَلَا أُجَاوِزُهُنَّ قَالَ ثُمَّ وَثَبَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ صَدَقَ الْأَعْرَابِيُّ دَخَلَ الْجَنَّةَ
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں جب ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ ہم آغاز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کریں یعنی آپ سے غیرضروری سوال نہ کریں تو ہماری یہ خواہش ہوتی تھی کہ کوئی بدوی یا سمجھدار دیہاتی آئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی سوال کرے اور ہم آپ کے پاس موجود ہوں ایک مرتبہ اسی طرح ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ بولا اے محمد۔ آپ کا مبلغ ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس نے سچ کہا ہے وہ دیہاتی بولا اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو بلند کیا اور زمین کو بچھا دیا ہے اور پہاڑوں کو نصب کیا ہے کیا اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا ہاں۔ وہ دیہاتی بولا آپ کے مبلغ نے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا فرض ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا ہے۔ دیہاتی بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں۔ وہ دیہاتی بولا آپ کے مبلغ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا ہے پھر وہ دیہاتی بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے آپ نے جواب دیا جی ہاں۔ وہ بولا آپ کے مبلغ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ ہمیں اپنے مال میں سے زکوۃ بھی دینا ہوگی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے کیا اللہ نے اس کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا جی ہاں۔ وہ دیہاتی بولا آپ کے مبلغ نے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم میں سے جس شخص کی استطاعت ہو اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اس نے ٹھیک کہا ہے۔ وہ دیہاتی بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے کیا اللہ نے اس کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا جی ہاں۔ اس دیہاتی نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے حق کے ہمراہ میں ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھوڑوں گا اور کسی میں اضافہ نہیں کروں گا راوی کہتے ہیں پھر وہ دیہاتی اٹھ کر چلا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اس دیہاتی نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہوگا۔
649
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ وَعَلَيْكَ وَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِكَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتِي إِلَيْكَ وَمُنَاشِدُكَ فَمُشَدِّدٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ قَالَ خُذْ عَنْكَ يَا أَخَا بَنِي سَعْدٍ قَالَ مَنْ خَلَقَكَ وَخَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأَجْرَى بَيْنَهُنَّ الرِّزْقَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّا وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ لِمَوَاقِيتِهَا فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّا وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَنَرُدَّهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ أَمَّا الْخَامِسَةُ فَلَسْتُ بِسَائِلِكَ عَنْهَا وَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَعْمَلَنَّ بِهَا وَمَنْ أَطَاعَنِي مِنْ قَوْمِي ثُمَّ رَجَعَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کی اے بنوعبدالمطلب کے غلام تم پر سلام ہو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا تم پر بھی وہ دیہاتی بولا میرا تعلق آپ کے ننھیالی عزیزوں، بنوسعد بن بکر سے ہے اور میں آپ کی خدمت میں اپنی قوم کے نمائندے کے طور پر آیا ہوں میں نے آپ سے کچھ سوالات کرنے ہیں میرے الفاظ کچھ سخت ہوسکتے ہیں میں آپ کو قسم دے کر دریافت کروں گا اور قسم میں میرے الفاظ سخت ہوں گے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے بنوسعد سے تعلق رکھنے والے فرد تم پریشان نہ ہو۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا آپ کو کس نے پیدا کیا ہے اور آپ سے پہلوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور آپ کے بعد جو آئیں گے ان کو کون پیدا کرے گا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اللہ تعالیٰ ۔ وہ دیہاتی بولا میں آپ کو اسی کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کیا اس نے آپ کو مبعوث کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا سات آسمانوں اور سات زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور ان میں کس نے رزق جاری کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے۔ وہ دیہاتی بولا میں آپ کو اسی کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو مبعوث کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ وہ بولا ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے کہ اور آپ کے مبلغین نے بھی ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں جو مخصوص اوقات میں ہیں ادا کیا کریں میں اسی ذات کی قسم دے کر پوچھتاہوں جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے کیا اسی نے آپ کو حکم دیا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ وہ دیہاتی بولا ہم نے آپ کے مکتوب میں یہ بات پائی ہے اور آپ کے مبلغین نے ہمیں یہ ہدایت کہ ہے کہ ہم اپنے مال کا کچھ حصہ زکوۃ کے طور پر ادا کریں اور اسے فقراء کو دیدیں میں اسی ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اسی نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ پھر وہ دیہاتی بولا پانچویں چیز اس کے بارے میں آپ سے پوچھوں گا نہیں اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی شک ہے پھر وہ بولا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معوث کیا ہے میں ان سب باتوں پر ضرور بالضرور عمل کروں گا اور وہ شخص جو بھی میری قوم میں میری اطاعت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر اس نے سچ کہا ہے تو ضرور بالضرور جنت میں داخل ہوگا۔
650
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ قَالَ لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ إِنِّي أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَعْبُدَهُ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَتْ آبَاؤُنَا تَعْبُدُهَا مِنْ دُونِهِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَهِكَ وَإِلَهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهِ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً الزَّكَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْحَجَّ وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا وَيُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا نَاشَدَهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرِيضَةَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَا أَزِيدُ وَلَا أُنْقِصُ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ فَأَتَى إِلَى بَعِيرِهِ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ أَنْ قَالَ بِاسْتِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى قَالُوا مَهْ يَا ضِمَامُ اتَّقِ الْبَرَصَ وَاتَّقِ الْجُنُونَ وَاتَّقِ الْجُذَامَ قَالَ وَيْلَكُمْ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ مَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ
حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں بنوسعد بن بکر نامی افراد کے قبیلے نے ضمام بن ثعلبہ کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے اپنے اونٹ کو مسجد کے دروازے پر بٹھایا پھر باندھ دیا اور مسجد کے اندر آگئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ضمام صحت مند آدمی تھا ان کے جسم پر بہت زیادہ بال تھے انھوں نے دو چوٹیاں بنا رکھی تھیں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر ٹھہرے اور دریافت کیا آپ میں سے عبدالمطلب کے صاحبزادے کون ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا میں ہوں اس نے دریافت کیا محمد۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ وہ بولا اے عبدالمطلب کے بیٹے میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا اور ان سوالات میں لفظ کچھ سخت ہوں گے لیکن آپ برا نہیں مانیں گے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں برا نہیں مانوں گا تم جو چاہو سوال کرو۔ وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جو آپ کا بھی معبود ہے جو لوگ آپ سے پہلے آئے ان کا بھی معبود ہے اور جو لوگ بعد میں آئیں گے ان کا بھی معبود ہے کیا اللہ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے۔ وہ بولا میں آپ کو اسی اللہ کی قسم دیتا ہوں جو آپ کا بھی معبود ہے اور جو لوگ آپ سے پہلے تھے ان کا بھی معبود ہے اور جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے ان کا بھی معبود ہے کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کے ساتھ اس کو شریک نہ کریں اور باطل معبودوں سے علیحدگی اختیار کرلیں جن کی ہمارے آباؤ اجداد اللہ کی بجائے عبادت کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اللہ جانتا ہے ایساہی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے اسلام کے فرض احکام کو ایک ایک کر کے ذکر کیا زکوۃ کا تذکرہ کیا روزے کا حج کا تمام شرعی احکام کا تذکرہ کیا اور ہر فرض کا ذکر کرتے ہوئے وہ اسی طرح کی قسم دیتا رہا جیسے پہلے دی تھی یہاں تک کہ وہ فارغ ہو کر بولا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ بھی گواہی دتیاہوں کہ بیشک حضرت محمد اللہ کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ اور میں ان فرائض کو سر انجام دوں گا اور آپ نے مجھے جن باتوں سے منع کیا ہے میں ان سے اجتناب کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے یہ بھی کہا کہ میں اس میں کوئی کمی پیشی نہیں کروں گا پھر وہ اپنے لوگوں کے پاس گیا تو جب وہ مڑ گیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں داخل ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ شخص اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کی لگام کھولی اور پھر مدینہ منورہ سے چلا گیا جب وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور لوگ اس کے پاس اکٹھے ہوئے اس شخص نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا لات و عزی بہت ہی برے ہیں لوگ بولے، اے ضمام خاموش رہو۔ پھلبہری سے بچو، پاگل پن سے بچو، ضمام نے جواب دیا تمہارا ستیاناس ہو اللہ کی قسم یہ دو بت کوئی نقصان یا نفع نہیں پہنچا سکتے بیشک اللہ نے رسول کو مبعوث کیا ہے اور اس کی طرف کتاب نازل کردی ہے جس کے ذریعے وہ تمہیں اس بیماری سے نجات دینا چاہتا ہے جس میں میں اور تم مبتلا ہیں میں یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بیشک حضرت محمد اس کے خاص بندے اور رسول ہیں میں ان کی خدمت میں تمہارے پاس وہ احکام لے کر آیا ہوں جن کا انھوں نے تمہیں حکم دیا ہے اور جن باتوں سے منع کیا ہے راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم اسی دن شام ہونے سے پہلے حاضرین میں موجود ہر مرد اور عورت مسلمان ہوئی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے یہ بھی فرمایا کہ ضمام بن ثعلبہ سے افضل کسی قوم کے نمائندے کے بارے میں ہمیں نہیں پتا۔
651
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَآَنِ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالْوُضُوءُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ وَكُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
حضرت ابومالک اشعری نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں طہارت نصف ایمان ہے اور الحمدللہ میزان یعنی نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اور لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین میں موجود خلا کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ برہان ہے وضو روشنی ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص روزانہ اپنے نفس کا سودا کرتا ہے یا تو وہ اپنے آپ کو شیطان سے آزاد کروا لیتا ہے یا ہلاکت کا شکار کردیتا ہے۔
652
Sunan Darimiحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ قَالَ عَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ وَيَدُهُ فِي يَدِي سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ
جرمی نہدی بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا، راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا اور آپ کا دست اقدس میرے ہاتھ میں تھا وہ باتیں یہ تھیں۔ سبحان اللہ پڑھنا نصف میزان کے برابر ہے اور الحمدللہ پڑھنا میزان کے نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین کے خلا کو بھر دیتا ہے۔ وضو نصف ایمان اور روزہ نصف صبر ہے۔
653
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةَ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ
حضرت ثوبان نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سیدھے رہو، حالانکہ تم لوگ مکمل طور پر سیدھے نہیں رہ سکتے، یہ جان لو کہ تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں تمہارے بہترین اعمال نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں صرف مومن وضو کی حفاظت کرتا ہے۔
654
Sunan Darimiحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ
حضرت ثوبان نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں درست راستہ اختیار کرو ایک دوسرے کے قریب رہو تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرسکتا ہے۔
655
Sunan Darimiحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ سَعْدًا كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَأَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ الْآيَةَ
عکرمہ بیان کرتے ہیں حضرت سعد تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کرلیا کرتے تھے جبکہ حضرت علی (رض) ہر نماز کے وقت از سر نو وضو کیا کرتے تھے اور اپنے اس عمل کی تائید میں قرآن کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے " جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنے چہروں اور بازوؤں کو دھو لو "۔
656
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ تَوَضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ قَالَ حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ عَلَى ذَلِكَ قُوَّةً فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ
محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے صاحبزادے عبداللہ سے دریافت کیا آپ کے علم کے مطابق کیا حضرت ابن عمر (رض) ہر نماز کے وقت از سر نو وضو کرتے تھے خواہ وہ پہلے سے باوضو ہوں یا نہ ہوں۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا تھا تو انھوں نے جواب دیا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو اسماء بنت زید بن خطاب نے یہ بات بتائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے انھیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا حکم دیا ہے خواہ وہ انسان باوضو ہو یا بےوضو ان میں یہ صلاحیت ہے کہ ہر وہ نماز کے وقت وضو کرلیا کریں۔ اسی لیے وہ کسی بھی نماز کے وقت وضوترک نہیں کرتے۔
657
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ إِنِّي عَمْدًا صَنَعْتُ يَا عُمَرُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد فَدَلَّ فِعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ الْآيَةَ لِكُلِّ مُحْدِثٍ لَيْسَ لِلطَّاهِرِ وَمِنْهُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ابن بریدہ بیان اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے لیے از سر نو وضو کیا کرتے تھے یہاں تک کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کیں۔ اور اس دن آپ نے موزوں پر مسح کیا حضرت عمر نے آپ کی خدمت میں عرض کی آج میں نے آپ کو ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا اے عمر میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے اس فرمان کا تعلق بےوضو شخص کے ساتھ ہے با وضو شخص کے ساتھ نہیں اللہ کا فرمان ہے " جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنے چہرے دھو لیا کرو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ وضو ٹوٹنے پر ہی لازم ہوتا ہے۔