Sunan Darimi
8. حج کا بیان۔
سنن الدارمي
1719
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ عَنْ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا
حضرت ابوامامہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص کو کوئی ظاہری ضرورت ظالم حکمران یا شدید بیماری حج سے نہ روکے اور پھر بھی وہ حج کئے بغیر فوت ہوجائے تو پھر اس کی مرضی ہے وہ چاہے تو یہودی ہونے کی حالت میں مرے چاہے تو عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔
1720
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هِجْرَتِهِ حَجَّةً قَالَ وَقَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَجَّ قَبْلَ هِجْرَتِهِ حَجَّةً
حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد ایک مرتبہ حج کیا۔ امام ابواسحق فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت سے پہلے بھی ایک حج کیا تھا۔
1721
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعًا عُمْرَتُهُ الْأُولَى الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْ الْبَيْتِ وَعُمْرَتُهُ الثَّانِيَةُ حِينَ صَالَحُوهُ فَرَجَعَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَعُمْرَتُهُ مِنْ الْجِعْرَانَةِ حِينَ قَسَّمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتُهُ مَعَ حَجَّتِهِ
قتادہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے دریافت کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنے حج کئے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا آپ نے ایک حج کیا تھا اور چار عمرے کئے تھے آپ کا پہلا عمرہ وہ تھا جس میں مشرکین نے آپ کو بیت اللہ تک جانے نہیں دیا آپ کا دوسرا عمرہ وہ تھا جس میں مشرکین نے آپ کے ساتھ صلح کی تھی اور آپ اگلے برس تشریف لائے تھے ایک عمرہ وہ تھا جو آپ نے ذیقعدہ کے مہینے میں حنین کا مال غنیمت تقسیم کرنے کے بعد جعرانہ سے کیا تھا اور ایک عمرہ وہ تھا جو آپ نے حج کے ہمراہ کیا تھا۔
1722
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كُلِّ عَامٍ قَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لوگوں پر حج فرض کیا گیا ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ نے فرمایا نہیں اگر میں یہ کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا حج ایک مرتبہ ہے جو اس سے زیادہ کرے وہ نفلی کرے گا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1723
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَّا هَذِهِ الثَّلَاثُ فَإِنِّي سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل ذوالحلیفہ کو میقات قرار دیا ہے اور اہل شام کے لیے حجفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں میں نے خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنا ہے اور مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات قرار دیا ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1724
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ أَلَمْلَمَ هُنَّ لِأَهْلِهِنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے قرن منازل کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات قرار دیا ہے یہ وہاں رہنے والوں کے لیے میقات ہیں جو بھی شخص ان سے پرے کے علاقوں سے حج یا عمرے کے لیے آئے گا۔ اس کے لیے یہ میقات ہے اور جو شخص ان کے اندرونی علاقوں میں رہتا ہے وہ جہاں سے چاہے احرام باندھ سکتا ہے یہاں تک کہ اہل مکہ مکہ سے احرام باندھیں گے۔
1725
Sunan Darimiحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَتَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ وَهُوَ بَيْنَ قَرْنَيْ الْبِئْرِ وَقَدْ سُتِرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ فَأَمَرَّ يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس موضوع پر بحث چھڑ گئی کہ حالت احرام والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے ان حضرات نے مجھے حضرت ابوایوب کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں دریافت کروں کہ آپ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حالت احرام میں کس طرح سر دھوتے ہوئے دیکھا ہے راوی کہتے ہیں میں حضرت ابوایوب کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت دو لکڑیوں کے درمیان پردہ کرکے غسل کر رہے تھے انھوں نے ایک کپڑے کے ذریعے کپڑا تان رکھا تھا میں نے انھیں سلام کیا انھوں نے وہ کپڑا لپیٹ لیا میں نے عرض کی مجھے آپ کے چچا زاد بھائی ابن عباس نے بھیجا ہے یہ دریافت کرنے کے لیے کہ آپ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا سر مبارک احرام میں کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے تو حضرت ابوایوب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف پھیرا اور پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے آئے۔
1726
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَدَنِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَرَّدَ لِلْإِهْلَالِ وَاغْتَسَلَ
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام اتار کر غسل کیا تھا۔
1727
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ لَيْسَ لَهَا ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ وَعُمْرَتَانِ تُكَفِّرَانِ مَا بَيْنَهُمَا مِنْ الذُّنُوبِ
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں مبرور حج کا ثواب صرف جنت ہے دو عمرے ان دونوں کے درمیان ہونے والے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
1728
Sunan Darimiأَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص بیت اللہ کا حج کرے اور اس دوران عورت کے ساتھ صحبت نہ کرے اور کوئی گناہ نہ کرے وہ جب واپس آتا ہے تو اسی حالت میں ہوتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔