Sunan Al Daraqutni
2. جمعہ کا بیان
سنن الدارقطني
1558
Sunan Al Daraqutni1558 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِى مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِىُّ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ مَرِيضٌ أَوْ مُسَافِرٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِىٌّ أَوْ مَمْلُوكٌ فَمَنِ اسْتَغْنَى بِلَهْوٍ أَوْ تِجَارَةٍ اسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهُ غَنِىٌّ حَمِيدٌ ».
1558: حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہیـ: جو شخص اللہ تعالیٰ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتاہو، اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ اداکرنالازم ہے ‘ البتہ بیمار شخص ‘ مسافرشخص ‘ عورت ‘(نابالغ) بچے اور غلام کا حکم مختلف ہے (ان پر جمعہ فرض نہیں) توجوشخص کسی دلچسپی کی چیزیا تجارت کی وجہ سے اس سے بےنیازی اختیارکرے (یعنی اسے ادانہ کرے) تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے بےنیازی اختیار کرے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے اور لائق حمد ہے۔
1559
Sunan Al Daraqutni1559 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِى الْعَنْبَسِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ فِى جَمَاعَةٍ إِلاَّ عَلَى أَرْبَعٍ عَبْدٍ مَمْلُوكٍ أَوْ صَبِىٍّ أَوْ مَرِيضٍ أَوِ امْرَأَةٍ ».
1559ـ: طارق بن شہاب ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سب لوگوں پر جمعہ پڑھنا واجب ہے ‘ صرف چارپر نہیں ہے : غلام شخص ‘(نابالغ) بچہ ‘ بیمار اور عورت۔
1560
Sunan Al Daraqutni1560 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِى افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ ».
1560: حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :(ہم دنیا میں) بعد میں آنے والے ہیں اور قیامت کے دن آگے ہونے والے ہوں گے ‘ اس کی وجہ یہ ہے : ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد کتاب دی گئی ‘ تو یہ وہ دن ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لازم کیا تھا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کی تو اس بارے میں لوگ ہمارے پیروکار ہیں ‘ یہودیوں کا دن کل (ہفتے کا دن ہے) اور عیسائیوں کا دن کے بعد والا (اتوارکادن) ہے۔
1561
Sunan Al Daraqutni1561 - قُرِئَ عَلَى أَبِى عِيسَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَارُونَ الأَنْبَارِىِّ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ إِسْحَاقُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بِبَالِسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ فِى كُلِّ ثَلاَثَةٍ إِمَامٌ وَفِى كُلِّ أَرْبَعِينَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ جُمُعَةً وَأَضْحًى وَفِطْرًا وَذَلِكَ أَنَّهُمْ جَمَاعَةٌ . قَالَ وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنِ الزُّهْرِىِّ.
1561ـ (رح) : عطاء بن ابی رباح ‘ حضرت جابربن عبداللہ (رض) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : یہ طریقہ چلا آرہا ہے ‘ جب تین لوگ موجودہوں تو ان میں سے ایک امام ہوگا اور جہاں چالیس لوگ یا اس سے زیادہ وہ لوگ ہوں تو وہاں جمعہ کی نماز بھی ہوگی، عیدالضحیٰ کی نماز بھی ہوگی اور عیدالفطر کی نماز بھی ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے : یہ لوگ ایک جماعت شمار ہوتے ہیں۔
1562
Sunan Al Daraqutni1562 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْهَيَّاجِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « عَلَى الْخَمْسِينَ جُمُعَةٌ لَيْسَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ ». جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَتْرُوكٌ.
1562ـ (رح) : حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :(جس بستی میں) پچاس افراد ہوں ‘ ان پر جمعہ لازم ہوگا ‘ اس سے کم پر واجب نہیں ہوگا۔ اس روایت کا راوی جعفربن زبیرمتروک ہے۔
1563
Sunan Al Daraqutni1563 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَامِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « عَلَى الْخَمْسِينَ جُمُعَةٌ ».
:1563 حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : پچاس افراد پر جمعہ پڑھنالازم ہے۔
1564
Sunan Al Daraqutni1564 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ عَلَى الْمُسَافِرِ جُمُعَةٌ ».
:1564 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مسافرشخص پر جمعہ پڑھنا لازم نہیں ہے۔
1565
Sunan Al Daraqutni1565 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَدَمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُنَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ الطَّعَامَ حَتَّى نَزَلُوا بِالْبَقِيعِ فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا وَانْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَيْسَ مَعَهُ إِلاَّ أَرْبَعُونَ رَجُلاً أَنَا مِنْهُمْ - قَالَ - وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ). لَمْ يَقُلْ فِى هَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ أَرْبَعِينَ رَجُلاً غَيْرُ عَلِىِّ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنٍ وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ حُصَيْنٍ فَقَالُوا لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً.
:1565 حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مربتہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے ‘ اسی دوران ایک قافلہ آیا جو اناج لے کر آیا تھا اور وہ قافلہ کھلے میدان میں ٹھہر گیا ‘ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کی طرف چلے گئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑگئے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف چالیس افرادرہ گئے ‘ جن میں ‘ میں بھی شامل تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کی : اور جب انھوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز کو دیکھاتو اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں قیام کی حالت میں چھوڑگئے۔ صرف علی بن عامرنامی راوی نے اس روایت میں چالیس افراد کی موجودگی کا تذکرہ کیا ہے، جبکہ دیگرراویوں نے یہ بات ذکر کی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف بارہ افرادرہ گئے تھے۔
1566
Sunan Al Daraqutni1566 - حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ فَذَكَرَهُ وَقَالَ لَمْ يَبْقَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. الْحَدِيثَ.
:1566 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن کھڑے ہو کرخطبہ دے رہے تھے ‘ اس دوران قافلہ آیا (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ‘ جس کے بعد یہ الفاظ ہیں :) حضرت جابر (رض) نے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) عنمابھی شامل تھے۔
1567
Sunan Al Daraqutni1567 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى أُمَامَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ قَائِدَ أَبِى حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الأَذَانَ صَلَّى عَلَى أَبِى أُمَامَةَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ - قَالَ - فَمَكَثَ كَذَلِكَ حِينًا لاَ يَسْمَعُ الأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ إِلاَّ فَعَلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَةِ أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لأَبِى أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ مَا هُوَ قَالَ أَىْ بُنِىَّ هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِالْمَدِينَةِ فِى هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِى بَيَاضَةَ يُقَالُ لَهُ نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ قَالَ قُلْتُ وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَرْبَعُونَ رَجُلاً .
1567 محمد بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبدالرحمن بن کعب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کو ساتھ لے کرجایا کرتا تھا ‘ جب ان کی بینائی رخصت ہوگئی تھی ‘ ایک مرتبہ میں انھیں لے کر جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے گیا ‘ تو انھوں نے اذان کی آواز سننے کے بعد حضرت ابوامامہ کے لیے دعائے رحمت کی اور دعائے مغفرت کی اور پھر کچھ دیراسی حالت میں رہے وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنا کرتے تھے ‘ وہ ایساہی کیا کرتے تھے ‘ میں نے ان سے دریافت کیا : اے اباجان ! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو حضرت ابوامامہ (رض) کے لیے دعائے استغفار کرتے ہیں ‘ اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : اے میرے بیٹے ! وہ (حضرت ابوامامہ (رض)) پہلے فرد ہیں جنہوں نے مدینہ میں بنو بیاضہ کے پتھر یلے میدان کی پست زمین میں جمعہ کے آغاز کیا تھا ‘ اس جگہ کا نام ” نقیع الخضمات “ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ تو انھوں نے جواب دیا : چالیس افراد تھے۔