Sunan Al Daraqutni
8. صدقہ فطر کا بیان
سنن الدارقطني
2042
Sunan Al Daraqutni2042 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَبْسِىُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلاَنِىُّ حَدَّثَنِى سَيَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّدَفِىُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « زَكَاةُ الْفِطْرِ طُهْرَةٌ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ فَهِىَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَهِىَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ ».
2042 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے صدقہ فطر روزہ دار خاص کے لیے لغو اور رفث سے پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے اور غریب آدمی کو کھانے کے طور پر مل جاتا ہے جو شخص اسے نماز سے پہلے اداکردے گا ‘ تو یہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو شخص اسے نماز کے بعد اداکرے گا ‘ تو یہ عام صدقہ ہے۔
اس روایت کے رادیوں میں کوئی بھی مجروح نہیں ہے۔
اس روایت کے رادیوں میں کوئی بھی مجروح نہیں ہے۔
2043
Sunan Al Daraqutni2043 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى الْحَسَنُ بْنُ الْقَاسِمِ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُعَلَّى حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا أَبِى وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ عَلِىِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّ بَعْضَ الْبَادِيَةِ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالُوا هَلْ عَلَيْنَا زَكَاةُ الْفِطْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هِىَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ ».
2043 امام زین العابدین (رض) اپنے والد (حضرت امام حسین علیہ السلام) کے حوالے سے حضرت علی (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کچھ دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے دریافت کیا کیا ہم پر صدقہ فطر کی ادائیگی لازم ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ ہر چھوٹے ‘ بڑے ‘ آزاد ‘ غلام مسلمان پر لازم ہے ‘ جو کھجور کا ‘ جو کا یانپیرکا ایک صاع ہوگا۔
2044
Sunan Al Daraqutni2044 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حُرٍّ وَعَبْدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
2044 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مسلمان کو ‘ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ‘ نابالغ ہو یا بالغ ‘ کھجورکا ایک صاع یاجوکا ایک صاع ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
2045
Sunan Al Daraqutni2045 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ زَنْجَوَيْهِ سَوَاءً. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَالَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . وَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَعُمَرُ بْنُ نَافِعٍ وَالْمُعَلَّى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِىُّ وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَرُوِىَ عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ كَذَلِكَ.
2045 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں لفظ ” مسلمانوں “ کا اضافہ ہے۔
2046
Sunan Al Daraqutni2046 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
2046 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مسلمان شخص پر خواہ وہ غلام ہو یا آزاد ‘ مردہو یا عورت ہو ‘ نابالغ ہو یا بالغ ہو ‘ کھجور کا یاک صاع یاجوکا ایک صاع رمضان کے بعد صدقہ فطر کے طور پر اداکرنالازم قراردیا ہے۔
2047
Sunan Al Daraqutni2047 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنِ الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ.
2047 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ایک صاع یاجوکا ایک صاع دینالازم قراردیا ہے ‘ جو صدقہ فطر کے طورپرہرغلام یا آزاد ‘ مذکر اور مونث ‘ ہرنابالغ اور بالغ مسلمان کی طرف سے ادا کیا جائے گا۔ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا ہے ‘ لوگوں کے نماز عید پڑھنے جانے سے پہلے اسے ادا کردیا جائے۔
2048
Sunan Al Daraqutni2048 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْمَحَامِلِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ.
2048 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر میں کھجورکا ایک صاع یاجوکا ایک صاع ہر مسلمان خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ آزادہویاغلام کی طرف سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
2049
Sunan Al Daraqutni2049 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ رِشْدِينَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ ».
2049 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے صدقہ فطر کی ادائیگی ہر آزاد اور غلام مسلمان پر فرض ہے جو کھجور کا ایک صاع یاجوکا ایک صاع ہوگا۔
2050
Sunan Al Daraqutni2050 - وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
2050 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ایک صاع بطور صدقہ فطر کی ادائیگی ہر مسلمان پر لازم قراردی ہے۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
2051
Sunan Al Daraqutni2051 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِىُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
2051 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر آزاد یا غلام ‘ مذکریامؤنث مسلمان پر کھجورکا ایک صاع یاجوکا ایک صاع بطورصدقہ فطر لازمی قراردیا ہے۔