hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

9. روزوں کا بیان

سنن الدارقطني

2121
Sunan Al Daraqutni
2121 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَتِيقٍ الْعَبْسِىُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلاَلَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنِّى رَأَيْتُهُ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ. تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
2121 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں لوگ چاند دیکھنے کے لیے نکلے ‘ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا میں نے بھی چاند دیکھ لیا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
ابن وہب سے نقل کرنے کے حوالے سے اس روایت کو مروان بن محمد نے نقل کیا ہے ‘ جو منفرد ہیں اور یہ راوی ثقہ ہیں۔
2122
Sunan Al Daraqutni
2122 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِهَذَا.
2122 یہی روایت ایک اوسند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2123
Sunan Al Daraqutni
2123 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّىُّ حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا فَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ هِلاَلِ رَمَضَانَ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهُ وَقَالاَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ . قَالاَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الإِفْطَارِ إِلاَّ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ. تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الأُبُلِّىُّ أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
2123 طاؤس بیان کرتے ہیں میں مدینہ منورہ میں موجود تھا ‘ وہاں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بھی موجود تھے ‘ ایک شخص وہاں کے گورنر کے پاس آیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی (یعنی رمضان کا چاند دیکھنے تو گور نرنے حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت تو ان دونوں نے کہا کہ اس کی گواہی کو برقرار رکھا جائے ‘ پھر ان دونوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا چانددیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔ ان دونوں حضرات نے یہ بات بھی بیان کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر کے چاند کے بارے میں دو آدمیوں کی ہی قبول کیا کرتے تھے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں ابواسمعیل حفص نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔
2124
Sunan Al Daraqutni
2124 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلاَلِ شَعْبَانَ مَا لاَ يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ رَمَضَانَ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاَثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ. هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
2124 سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کے چاند کا جتنا اہتمام کرتے تھے ‘ پھر آپ چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے ‘ اگر بادل چھائے ہوئے ہوتے تو آپ تیس دن کی گنتی پوری کرتے اور پھر روزے رکھنا شروع کرتے تھے۔ اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے۔
2125
Sunan Al Daraqutni
2125 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِىَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا. فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ إِنِّى صَائِمٌ. فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِى يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم-
2125 صلہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت عمار (رض) کے پاس موجود تھے ‘ ان کے لیے بکری کا بھنا ہواگوشت گیا اور انھوں نے کھانے کے لیے کہا تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا جو شخص اس دن روزہ رکھے (جس دن رمضان کے روزے کا شک ہو) تو اس نے حضرت ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
2126
Sunan Al Daraqutni
2126 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ الْيَوْمِ الَّذِى يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ. الْوَاقِدِىُّ غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ
2126 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ دن کے روزے رکھنے سے منع کیا ہے (وہ دن جس کے بارے میں شک ہو) عیدالفطر کا دن ‘ عیدالاضحی ‘ تشریق کے ایام۔ اس حدیث کے راویوں میں واقدی کے مقابلے میں دیگرراوی زیادہ مستند ہیں۔
2127
Sunan Al Daraqutni
2127 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَارَى النَّاسُ فِى هِلاَلِ رَمَضَانَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ الْيَوْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ غَدًا فَجَاءَ أَعْرَابِىٌّ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَزَعَمَ أَنَّهُ قَدْ رَآهُ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ » قَالَ نَعَمْ. فَأَمَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِلاَلاً فَنَادَى فِى النَّاسِ صُومُوا ثُمَّ قَالَ « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا وَلاَ تَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا ». تَابَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِى ثَوْرٍ وَزَائِدَةُ وَالثَّوْرِىُّ مِنْ رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى عَنْهُ وَقِيلَ عَنْ أَبِى عَاصِمٍ. وَأَرْسَلَهُ إِسْرَائِيلُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَابْنُ مَهْدِىٍّ وَأَبُو نُعَيْمٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِىِّ.
2127 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رمضان کے چاند کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ‘ بعض نے کہا آج نظر آجائے گا ‘ بعض نے کہا کل نظر آجائے گا ‘ ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ تو اس نے جواب دیا جی ہاں ! تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے درمیان اعلان رادیں کہ وہ روزہ رکھیں۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اسے (چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزہ رکھنا ختم کردو۔
اگر تم پر بادل چھاجائیں تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ‘ روزے رکھنا شروع کرو اور اس سے ایک دن پہلے روزہ نہ رکھو۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے۔
بعض راویوں نے اس روایت کو مرسل روایت کے طورپر بھی نقل کیا ہے۔
2128
Sunan Al Daraqutni
2128 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِى ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ رَأَيْتُ الْهِلاَلَ فَقَالَ « تَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ » قَالَ نَعَمْ. قَالَ « تَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « يَا بِلاَلُ نَادِ فِى النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا ».
2128 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں ‘ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں نے چاند دیکھا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا جی ہاں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے بلال ! لوگوں کے درمیان اعلان کردو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔
2129
Sunan Al Daraqutni
2129 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُورِينَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ الْجُعْفِىُّ. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ الْجُعْفِىُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِىٌّ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى رَأَيْتُ الْهِلاَلَ. فَقَالَ « أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّى رَسُولُ اللَّهِ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « يَا بِلاَلُ نَادِ فِى النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا ». الْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ .
2129 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں ‘ ایک دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں نے چاند دیکھا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس نے جواب دیا جی ہاں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے بلال ! لوگوں کے درمیان اعلان کردو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔
اس حدیث کا مفہوم (پہلے والی روایت کے) مفہوم کے قریب ہے۔
2130
Sunan Al Daraqutni
2130 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
2130 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔