hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

18. وصیت کا بیان۔

سنن الدارقطني

4210
Sunan Al Daraqutni
4210 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِى الْعَنْبَسِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظْمِكَ لأُطَهِّرَكَ بِهِ وَلأُزَكِّيَكَ بِصَلاَةِ عِبَادِى عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ ».
4210 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اے آدم کے بیٹے ! تمہارے اندردوخصوصیات ہیں جو پہلے تم میں نہیں تھی ‘ ایک یہ کہ جب تم اپنے غصے پر قابو پاؤگے تو میں تمہارے مال میں اضافہ کردوں گا تاکہ اس طرح تمہیں پاک وصاف کروں اور دوسرایہ کہ جب تمہاری زندگی پوری ہوجائے گی تو میرے بندے تمہارے لیے دعا کرتے رہیں گے (یا نماز ہ اداکریں گے) ۔
4211
Sunan Al Daraqutni
4211 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ أَبِى خُلَيْدٍ عَنْ أَبِى حَلْبَسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَأَوْصَى فَكَانَتْ وَصِيَّتُهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا تَرَكَ مِنْ زَكَاتِهِ ».
4211 ۔ حضرت معاویہ بن قرۃ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جس شخص کی موت کا وقت قریب آجائے اور وہ کوئی وصیت کرے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حکم کے مطابق اگر اس کی وصیت ہو ‘ تو یہ اس چیز کے لیے کفارہ بن جائے گی جو وہ زکوۃ ادا نہیں کرسکا تھا۔
4212
Sunan Al Daraqutni
4212 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ابْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِى حَسَنَاتِكُمْ لِيَجْعَلَهَا لَكُمْ زَكَاةً فِى أَعْمَالِكُمْ ».
4212 ۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے موت کے قریب تمہیں تمہارے مال کا ایک تہائی حصہ ‘ صدقے کے طورپرعطاء کردیا ہے ‘ تاکہ تم اپنی نیکیوں میں اضافہ کرلو ‘ تاکہ وہ تمہارے اعمال میں پاکیزگی کا باعث بن جائے۔
4213
Sunan Al Daraqutni
4213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِىُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا حَقُّ امْرِئٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِىَ فِيهِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ».
4213 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کسی بھی شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا مال موجودہوجس میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزرجائیں (کہ اس نے وہ وصیت تحریرنہ کی ہو) اس کے وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
4214
Sunan Al Daraqutni
4214 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الدَّرْبِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِىَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ».
4214 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کسی بھی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس مال موجودہوجس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزرجائیں (کہ اس نے وصیت نہ کی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
4215
Sunan Al Daraqutni
4215 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ لَقْلُوقٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا يَنْبَغِى لِرَجُلٍ أَتَى عَلَيْهِ ثَلاَثَةٌ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِىَ فِيهِ إِلاَّ أَوْصَى فِيهِ ».
4215 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کسی بھی شخص کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس پر تین دن ایسے گزرجائیں کہ اس کے پاس ایسا مال موجودہو کہ جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو (اور اس نے وصیت نہ کی ہو) اسے بارے میں وصیت کردینی چاہیے۔
4216
Sunan Al Daraqutni
4216 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتِدِى بِاللَّهِ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِى هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الإِضْرَارُ فِى الْوَصِيَّةِ مِنَ الْكَبَائِرِ ».
4216 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : وصیت کرتے ہوئے کسی (وارث) کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔
4217
Sunan Al Daraqutni
4217 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لِيَكْتُبِ الرَّجُلُ فِى وَصِيَّتِهِ إِنْ حَدَثَ بِى حَدَثُ مَوْتٍ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِى هَذِهِ.
4217 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : آدمی کو اپنی وصیت میں یہ تحریر کرنا چاہیے کہ اگر میں اپنی وصیت کو تبدیل کیے بغیر فوت ہوگیا (تویوں ہوگا) ۔
4218
Sunan Al Daraqutni
4218 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِوَارِثٍ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ ».
4218 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو حکم مختلف ہوگا) ۔
4219
Sunan Al Daraqutni
4219 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَاسَرْجِسِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلاَّ أَنْ يُجِيزَ الْوَرَثَةُ ».
4219 ۔ حضرت عمروبن خارجہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : وصیت ‘ وارث کے لیے نہیں ہوتی البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ہوسکتی ہے) ۔