hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

13. نکاح کا بیان

سنن الدارقطني

3456
Sunan Al Daraqutni
3457 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا قَالَتْ وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَلْقَتِهَا أَرْسِلِى إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِى مِنْهُ وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِى تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِى نَجَابَةِ الْوَلَدِ فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ قَالَتْ وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّتْ لَيَالِى بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا فَتَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِى كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدَتْهُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ فَتُسَمِّى مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا وَكُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُنَّ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوُا الْقَافَةَ لَهُمْ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِى يَرَوْنَ فَالْتَاطَهُ وَدَعَاهُ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ إِلاَّ نِكَاحَ أَهْلِ الإِسْلاَمِ الْيَوْمَ.
3457 ۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طریقے سے ہوتے تھے ، ایک نکاح کا طریقہ وہ تھا جو آج کل لوگوں میں رائج ہے ، آدمی کسی دوسرے شخص کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجتا تھا اور اس کو مہر دیتا ہے اور اس کے ساتھ نکاح کرلیتا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نکاح کا دوسرا طریقہ یہ تھا کوئی شخص اپنی بیوی سے جب وہ اس شخص سے طلاق لینے کے بعد پاک ہوجاتی تھی یہ کہتا تھا تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس کے ساتھ صحبت کرلو ، وہ شخص اس دوران اپنی بیوی سے الگ رہتا تھا، اور اس کے بیوی کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہیں کرتا تھا جب تک اس دوسرے شخص سے اس عورت کا حمل ظاہر نہ ہوجاتا تھا، جس کے ساتھ اس عورت نے صحبت کی تھی ، جب عورت کا حمل ظاہرہوجاتاتو اس کا اصل شوہر اس کے ساتھ صحبت کرلیتا۔ اگر اسے اس کی خواہش ہوتی وہ شخص اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد کسی بڑے خاندان کے فرد کا نطفہ ہو، اس نکاح کو ، نکاح استبضاع، کا نام دیاجاتا تھا۔
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ کچھ لوگ اکٹھتے ہوئے ان کی تعداد دس سے کم ہوتی وہ سب کسی عورت کے پاس جاتے اور وہ سب اس کے ساتھ صحبت کرتے پھر وہ حاملہ ہوجاتی اور آخر کار بچے کو جنم دیتی بچے کو جنم دینے کے کچھ دن بعد وہ ان سب کو بلواتی ان سب میں سے کوئی بھی شخص آنے سے انکار نہیں کرسکتا تھا، جب وہ لوگ اس عورت کے پاس اکٹھتے ہوتے تو وہ عورت ان سے کہتی، تم لوگ جانتے ہو کہ تم نے کیا کیا تھا ؟ میں نے ایک بچے کو جنم دیا ہے ، اے فلاں ! یہ تمہارا بیٹا ہے ، وہ عورت ان افراد میں سے جس کا چاہتی اس شخص کا نام لیتی، تو اس کے بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ لاحق کردیاجاتا وہ شخص اب اس بچے کا انکار نہیں کرسکتا تھا۔
چوتھا طریقہ یہ تھا کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر کسی عورت کے پاس جاتے وہ عورت اپنے ہاں آنے والے کسی شخص ک روک نہیں سکتی تھی، یہ جسم فروش عورتیں ہوا کرتی تھیں، انھوں نے اپنے دروازوں پر مخصوص جھنڈے لگائے ہوئے ہوتے تھے جوان (کے پیشے ) کا علامتی نشان ہوتا تھا، جو شخص ان کے ہاں جانا چاہتا وہ چلاجاتا، جب ان میں سے کوئی ایک عورت حاملہ ہوتی اور بچے کو جنم دیتی تو سب لوگوں کو اس کے پاس اکٹھاکیاجاتا پھر کسی قیافہ شناس کو بلایاجاتا وہ اس عورت کے بچے کو اس شخص کے ساتھ لاحق کردیتا، جس کے ساتھ وہ بچہ مشابہت رکھتا ، پھر لوگ اس بچے کو اس شخص کے بیٹے کے طور پر بلاتے اور وہ شخص اس سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔
3457
Sunan Al Daraqutni
3458 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ أَخْبَرَنِى ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِى الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ لَمْ يَرْوِهِ إِلاَّ ابْنُ وَهْبٍ . زَعَمُوا أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ حِينَ حَدَّثَهُ بِهِ أَصْبَغُ بَرَكَ مِنَ الْفَرَحِ وَقَالَ أَصْبَغُ فِى حَدِيثِهِ أَرْسِلِى إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِى مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِى تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِى نَجَابَةِ الْوَلَدِ فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ .قَالَ الصَّاغَانِىُّ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَصْبَغَ حَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ أَرْسِلِى إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَرْضِعِى مِنْهُ وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِى تَسْتَرْضِعُ مِنْهُ وَكَانَ هَذَا يُسَمَّى نِكَاحَ الاِسْتِرْضَاعِ - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهَذَا الصَّوَابُ - وَقَالَ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ .
3458 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) زمانہ جاہلیت میں چار طرح کے نکاح ہوتے تھے (اس کے بعد انھوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ) ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : (شوہر اپنی بیوی سے یہ کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو پھر تم اس کے ساتھ صحبت کرلو اس دوران اس عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا اور عورت کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرتا جب تک اس شخص سے حمل ظاہر نہ ہوجاتا جس کے ساتھ عورت نے صحبت کی تھی ، جب عورت کا حمل ظاہر ہوجاتا تو شوہراس کے ساتھ صحبت کرلیتا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی وہ ایسا اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد نجیب ہو، اس نکاح کو، نکاح استبضاع، کا نام دیا گیا تھا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ، تاہم اسمیں یہ الفاظ ہیں (شوہر بیوی سے کہتا : ) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس سے حاملہ ہوجاؤ، عورت کا شوہر عورت سے الگ رہتا اس وقت تک اس کے ساتھ صحبت نہ کرتا جب تک دوسرے شخص سے عورت کا حمل ظاہر نہ ہوجاتا اس نکاح کو، نکاح استرضاع، کا نام دیا گیا۔
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ درست ہے۔ (اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا تو زمانہ جاہلیت کے نکاح (کے مختلف طریقوں ) کو ختم کردیا۔
3458
Sunan Al Daraqutni
3459 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى فَرْوَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ الْبَدَلُ فِى الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ تَنْزِلُ لِى عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِى وَأَزِيدُكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (وَلاَ أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ ) قَالَ فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِىُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عُيَيْنَةُ فَأَيْنَ الاِسْتِئْذَانُ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ قَالَ مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ الَّتِى إِلَى جَنْبِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ». قَالَ أَفَلاَ أَنْزِلُ لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ قَالَ « يَا عُيَيْنَةُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ ». قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَذَا قَالَ « هَذَا أَحْمَقُ مُطَاعٌ وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لَسَيِّدُ قَوْمِهِ ».
3459 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا، تم مجھے اپنی بیوی کے س اتھ صحبت کرنے دو میں تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دیتاہوں میں تمہیں مزید (فائدہ ) دوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : (ولاان تبدل بھن من ازواج ولواعجبک حسنھن) ۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عیینہ بن حصن فزاری (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سیدہ عائشہ (رض) کے ہاں موجود تھے ، عیینہ اجازت لیے بغیر اندر آگئے تو نبی کریم نے ان سے فرمایا : اے عیینہ ، تم نے اجازت کیوں نہیں لی ؟ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ جب سے میں بالغ ہوا میں نے مضر قبیلہ کے کسی فرد کے ہاں اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اس نے یہ بھی کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے ؟ نبی کریم نے فرمایا یہ عائشہ ہے ، جو تمام اہل ایمان کی ماں ہے، اس نے کہا : کیا میں اس کی جگہ تبدیل کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ خوبصورت عورت نہ دوں ؟ نبی کریم نے فرمایا اے عیینہ ! اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے ۔
راوی کہتے ہیں) جب وہ شخص چلا گیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے دریافت کیا یارسول اللہ ، یہ کون تھا ؟ نبی کریم نے فرمایا یہ ایک احمق رہنما تھا، تم نے اس کی (جوذہنی حالت) دیکھی ہے اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔
3459
Sunan Al Daraqutni
3460 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِىٍّ ».
3460 ۔ ابوبردہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
3460
Sunan Al Daraqutni
3461 حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ يُثْبِتُ حَدِيثَ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ وَقَالَ إِنَّمَا فَاتَنِى مَا فَاتَنِى مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ مَا فَاتَنِى اتِّكَالاً مِنِّى عَلَى حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ .
3461 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
3461
Sunan Al Daraqutni
3462 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمَذَانِىُّ الْقَاضِى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِنَانٍ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ فَقِيلَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ يُوقِفَانِهِ عَلَى أَبِى بُرْدَةَ. فَقَالَ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ .
3462 ۔ عبدالرحمن ہمذانی نے اپنی سند کے حوالے سے اسے اسرائیل سے اس طرح نقل کیا ہے جیسے ابن سنان نے نقل کیا ہے۔
محمد بن مخلد کہتے ہیں : عبدالرحمن ہمذانی سے کہا گیا، شعبہ اور سفیان دونوں نے اسے ابوبردہ تک، موقوف، روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ تو انھوں نے فرمایا : اسرایئل نے ابواسحاق کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ میرے نزدیک سفیان اور شعبہ سے منقول روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
3462
Sunan Al Daraqutni
3463 حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِىٍّ أَبُو عَلِىٍّ حَدَّثَنَا صَالِحٌ جَزَرَةُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِىُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِىٍّ يَقُولُ كَانَ إِسْرَائِيلُ يَحْفَظُ حَدِيثَ أَبِى إِسْحَاقَ كَمَا يَحْفَظُ سُورَةَ الْحَمْدِ. قَالَ صَالِحٌ إِسْرَائِيلُ أَتْقَنُ فِى أَبِى إِسْحَاقَ خَاصَّةً.
3463 ۔ دعلج بن احمر نے اپنی سند کے ہمراہ عبدالرحمن بن مہدی کا یہ فرمان نقل کیا ہے : اسرائیل کو ابواسحاق کی روایات اسی طرح یاد تھیں جس طرح انھیں سورة فاتحہ یاد تھی۔
صالح فرماتے ہیں : اسرائیل بطور خاص ابواسحاق کی روایات کو زیادہ محفوظ طور پر (نقل کرتے ہیں ) ۔
3463
Sunan Al Daraqutni
3464 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ بْنِ أَبِى مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِىٍّ ».
3464 ۔ ابوبردہ اپنے والد (حضرت ابوموسی اشعری (رض)) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
3464
Sunan Al Daraqutni
3465 - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنِى عَمِّى حَدَّثَنَا ابْنُ الأَصْبَهَانِىِّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِى هَارُونَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِىٍّ وَشُهُودٍ وَمَهْرٍ إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.
3465 ۔ ابوسعید فرماتے ہیں : ولی ، گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا، البتہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کا نکاح ان کے بغیر بھی ہوسکتا ہے) ۔
3465
Sunan Al Daraqutni
3466 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِىُّ مَنْ لاَ وَلِىَّ لَهُ ».
3466 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جو عورت ولی کے بغیر اجازت نکاح کرلے اس کا نکاح باطل ہوگا، اس کا نکاح باطل ہوگا، اس کا نکاح باطل ہوگا، اگر مرد اس کے ساتھ صحبت کرلے تو مرد کے اس عمل کی وجہ سے اس عورت کو مہر ملے گا، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہوجائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔