hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

19. وکالہ کا بیان

سنن الدارقطني

4226
Sunan Al Daraqutni
4226 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى نُعَيْمٍ - يَعْنِى وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِى الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّى أُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى خَيْبَرَ فَأَحْبَبْتُ التَّسْلِيمَ عَلَيْكَ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى يَكُونُ ذَلِكَ آخِرَ مَا أَصْنَعُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَقَالَ لِى « إِذَا أَتَيْتَ وَكِيلِى بِخَيْبَرَ فَخُذْ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا ». قَالَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِى فَقَالَ « خُذْ مِنْهُ ثَلاَثِينَ وَسْقًا فَوَاللَّهِ مَا لآلِ مُحَمَّدٍ بِخَيْبَرَ تَمْرَةٌ غَيْرُهَا فَإِنِ ابْتَغَى مِنْكَ آيَةً فَضَعْ يَدَكَ عَلَى تَرْقُوَتِهِ ». وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ.
4226 ۔ حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میرا خیبر جانے کا ارادہ ہوا ‘ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا آپ اس وقت مسجد میں موجود تھے ‘ میں نے آپ کو سلام کیا ‘ پھر میں نے عرض کی : میں خیبرجانا چاہ رہاہوں ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ میں آپ کو سلام کردوں اور یہ سلام مدینہ منورہ میں میرا آخری عمل ہو ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : جب تم خیبر میں میرے وکیل کے پاس جاؤگے تو اس سے پندرہ وسق وصول کرنا۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : جب میں وہاں سے مڑ کر جانے لگا تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : تم اس سے تیس وسق لینا ‘ اللہ کی قسم ! محمد کے گھروالوں کے لیے خیبر میں صرف وہی کھجوریں ہیں ‘ اگر وہ تم سے کوئی نشانی (یعنی ثبوت) مانگے تو تم اپنا ہاتھ اس کی ہنسلی پر رکھ دینا۔ اس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
خبرواحد ‘ عمل کو لازم کردیتی ہے
4227
Sunan Al Daraqutni
4227 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى بِاللَّهِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَسُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ عِنْدَ أَبِى طَلْحَةَ يَشْرَبُونَ مِنْ شَرَابِ بُسْرٍ وَتَمْرٍ أَوْ قَالَ رُطَبٍ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنَ الشَّرَابِ حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ مِنْهُمْ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَلاَ هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالُوا يَا أَنَسُ أَكْفِئْ مَا فِى إِنَائِكَ وَمَا قَالُوا حَتَّى نَتَبَيَّنَ. قَالَ فَكَفَأْتُهُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى بِاللَّهِ هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ يُوجِبُ الْعَمَلَ.
4227 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ‘ حضرت ابی بن کعب اور حضرت سہیل بن بیضاء (رض) ‘ حضرت ابوطلحہ (رض) کے پاس بیٹھ کر کھجور اور چھوہاروں کی بنی ہوئی شراب پی رہے تھے۔ میں ان حضرات کو شراب پلارہا تھا ‘ انھوں نے وہ شراب لینا چاہی تو اسی دوران ایک مسلمان وہاں سے گزرا اور بولا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرام قراردے دیا گیا ہے ‘ تو ان سب نے کہا : اے انس ! اپنے برتن میں موجود شراب کو بہادو ‘ انھوں نے یہ بات اس وقت کہی جب ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا تو حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس شراب کو بہادیا۔
شیخ ابوعبداللہ یعنی عبیداللہ بن عبدالصمد ‘ یہ فرماتے ہیں : یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خبرواحد عمل کو لازم کردیتی ہے۔
4228
Sunan Al Daraqutni
4228 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَظِيمِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ رَغْبَانَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الشِّعْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ كَلاَمٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ ».
4228 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شعر کا تذکرہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ کلام کی طرح ہے ‘ اچھا شعراچھا ہوتا ہے اور براشعربرا ہوتا ہے۔
4229
Sunan Al Daraqutni
4229 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا مِثْلَهُ.
4229 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4230
Sunan Al Daraqutni
4230 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلاَمِ حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلاَمِ وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِ الْكَلاَمِ ».
4230 ۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : شعرکلام کی طرح ہے ‘ اچھا شعراچھے کلام کی طرح ہے اور براشعربرے کلام کی طرح ہے۔
4231
Sunan Al Daraqutni
4231 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ الشَّامِىُّ مِنْ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « حَسَنُ الشِّعْرِ كَحَسَنِ الْكَلاَمِ وَقَبِيحُ الشِّعْرِ كَقَبِيحِ الْكَلاَمِ ».
4231 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اچھا شعراچھے کلام کی طرح ہے اور براشعربرے کلام کی طرح ہے۔
4232
Sunan Al Daraqutni
4232 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ح.وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَدَمِىُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الأَحْمَرُ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ جَمِيعًا عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ ».
4232 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں : مسلمان پر جزیہ دینا لازم نہیں ہے۔
4233
Sunan Al Daraqutni
4233 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ جَمِيعًا عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ ».
4233 ۔ قابوس اپنے والد کے حوالے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مسلمان پر جزیہ دینا لازم نہیں ہے۔
4234
Sunan Al Daraqutni
4234 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِى يَزِيدَ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِى وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ».
4234 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : دعوی کرنے والے پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور جس شخص کے خلاف دعوی کیا گیا ہو ‘ اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔
4235
Sunan Al Daraqutni
4235 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لاَدَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنِ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ».
4235 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق دیناشروع کردیا جائے تو لوگ دوسروں کی جانوں اور اموال کے بارے میں دعوے کرنے لگیں گے۔ جس شخص کے خلاف دعوی کیا گیا ہو ‘ اس پر صرف قسم اٹھانا لازم ہے۔