hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

11. خرید و فروخت کے مسائل و احکام

سنن الدارقطني

2759
Sunan Al Daraqutni
2759 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ وَجَدِّى وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِى عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ خَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ فَابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا ». فَقَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ فَقَالَ « لاَ رُدَّ حَتَّى تُمَيِّزَ بَيْنَهُمَا »
2759 ۔ حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں غزوہ خیبر کے موقعہ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا جس پر سوناچڑھا ہوا تھا اور قیمتی پتھر بھی لگے ہوئے تھے ایک شخص نے 7 یاشاید 9 دینار کے عوض خرید لیا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں، جب تک ان دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جاتا تو وہ شخص بولا، میں پھر پتھر لے لوں گا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں، تم اسے واپس کروجب تک ان دونوں (یعنی پتھر اور سونے) کو الگ الگ نہیں کیا جاتا۔
2760
Sunan Al Daraqutni
2760 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِى هَانِئٍ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِقِلاَدَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَأَمَرَ بِالذَّهَبِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ وَقَالَ « الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ».
2760 ۔ حضرت فضالہ بن عبید (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ہار لایا گیا جس پر سونا اور پتھرلگے ہوئے تھے تو آپ کے حکم کے تحت سونے اور پتھر کو اتارلیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا سونے اور سونے کے عوض میں برابر وزن کے ساتھ فروخت کردیاکرو۔
2761
Sunan Al Daraqutni
2761 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الزَّيَّاتِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِمُونَ فِى الثِّمَارِ فَقَالَ « أَسْلِمُوا فِى الثِّمَارِ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ». وَقَالَ ابْنُ مَهْدِىٍّ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ فَقَالَ « سَلِّفُوا فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ».
2761 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ پھلوں میں بیع سلم کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا طے شدہ مقدار کے عوض میں متعین مدت کے پھلوں میں بیع سلم کیا کرو۔
ابن مہدی نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں لوگ دویاتین سال تک بیع سلم کیا کرتے تھے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ، متعین شدہ پیمائش اور وزن کے عوض میں سلف کیا کرو۔
2762
Sunan Al Daraqutni
2762 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِى الثَّمَرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ « مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ ». لَفْظُ النَّيْسَابُورِىِّ. وَقَالَ الْمَحَامِلِىُّ فِى الطَّعَامِ وَالثَّمَرِ أَوِ النَّخْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ ».
2762 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال یادوسال کے لیے بیع سلف کیا کرتے تھے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا، جس شخص نے سلف (ادھار) سودا کرنا ہو تو وہ متعین پیمائش اور متعین وزن کے عوض میں متعین مدت کے لیے سوداکرے۔
روایت کے یہ الفاظ نیشاپوری نامی راوی کے ہیں ، محالی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ اناج کھجور یا کھجور کے درختوں کے بارے میں بیع سلف کیا کرتے تھے تو نبی نے ارشاد فرمایا، متعین مدت کے لیے کرو اور ماپی ہوئی چیز کی بیع کرو۔
2763
Sunan Al Daraqutni
2763 - حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِىُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ الأَهْوَازِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِى الثَّمَرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثِ فَقَالَ « مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ أَوْ وَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ».
2763 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ دو سال یاتین سال کے لیے کھجوروں کا ادھار سودا کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا جس شخص نے ادھارسودا کرنا ہو تو وہ متعین شدہ ماپی ہوئی چیز متعین شدہ وزن کی ہوئی چیز کے عوض میں متعین مدت تک کے لیے ادھار کرے۔
2764
Sunan Al Daraqutni
2764 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِىُّ أَبُو طَلْحَةَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فِى الثَّمَرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ فَقَالَ « مَنْ سَلَّفَ فِى ثَمَرٍ فَلْيُسْلِفْ فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ».
2764 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال یادوسال تک کے لیے ادھارسودا کیا کرتے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا جس نے کھجوروں کا ادھار سودا کرنا ہوتومتعین ماپی ہوئی یا متعین وزن کی ہوئی چیز کا اداھار سودا کرے۔
2765
Sunan Al Daraqutni
2765 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِى الثِّمَارِ فِى السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَسْلِفُوا فِى كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَأَجَلٍ مَعْلُومٍ ».
2765 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ دو سال یاتین سال تک کے لیے پھلوں کا ادھارسودا کیا کرتے تھے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا متعین ماپی ہوئی اور متین وزن کی ہوئی چیز کا متعین مدت تک کے لیے ادھارسودا کرو۔
2766
Sunan Al Daraqutni
2766 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى مَرْيَمَ عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ ». قَالَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا مُرْسَلٌ. وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ ضَعِيفٌ.
2766 ۔ مکحول مرفوع حدیث کے طور پر یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص کوئی ایسی چیز خریدتا ہے جسے اس نے دیکھا نہیں ہے تو اسے اختیار ہے جب وہ اسے دیکھ لے گا تواگرچا ہے اسے وصول کرے اور اگر چاہے تو اسے ترک کردے۔
ابوالحسن (یعنی دارقطنی ) فرماتے ہیں یہ روایت مرسل ہے اور اس کا راوی ابوبکر مریم ضعیف ہے۔
2767
Sunan Al Daraqutni
2767 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ وَمُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
2767 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
2768
Sunan Al Daraqutni
2768 - قَالَ هُشَيْمٌ وَأَخْبَرَنَا يُونُسُ وَابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى مَا وَصَفَهُ لَهُ فَقَدْ لَزِمَهُ.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ الْقَاضِى الأَهْوَازِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ حَدَّثَنَا دَاهِرُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا وَهْبٌ الْيَشْكُرِىُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا رَآهُ »قَالَ عُمَرُ وَحَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.قَالَ عُمَرُ وَأَخْبَرَنِى الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ عَنْ أَبِى حَنِيفَةَ عَنِ الْهَيْثَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يُقَالُ لَهُ الْكُرْدِىُّ يَضَعُ الأَحَادِيثَ وَهَذَا بَاطِلٌ لاَ يَصِحُّ لَمْ يَرْوِهَا غَيْرُهُ وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ سِيرِينَ مِنْ قَوْلِهِ.
2768 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ، ابن سیرین بیان کرتے ہیں جب وہ چیز اس وقت کے مطابق نہ ہو جو اس شخص نے خریدار کے سامنے بیان کی تھی تو بھی یہ سودالازم ہوجائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کوئی شخص ایسی چیز خریدتا ہے جسے اس نے دیکھا نہیں ہے تو جب اسے دیکھے گا تو اسے اختیار ہوگا (اگر وہ چاہے تو اس سودے کو ختم کردے ) ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے ۔
یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے جبکہ بعض راویوں نے اسے ابن سیرین تک موقوف روایت کے طور پر یعنی ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔