hadith book logo

Sunan Al Daraqutni

20. نذر کا بیان

سنن الدارقطني

4240
Sunan Al Daraqutni
4240 - حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِىُّ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « النَّذْرُ نَذْرَانِ فَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لِلَّهِ فَلْيَفِ بِهِ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ».
4240 ۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : نذر دوطرح کی ہوتی ہے ‘ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے نذرمانتا ہے ‘ وہ اس کو پوراکرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق کوئی نذرمانتا ہے ‘ تو اس کا کفارہ یہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے۔
4241
Sunan Al Daraqutni
4241 - حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ الإِمَامُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْبَيَاضِىُّ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ بُكَيْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِىِّ أَوْ عَنْ خَالِهِ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لِلَّهِ يُطِيقُهُ فَلْيَفِ بِهِ » وَاللَّفْظُ لِلْمَحَامِلِىِّ .
4241 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص کوئی نذر مانتے ہوئے اس کا نام نہ لے ‘ تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہوگا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق نذر مانے ‘ تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہوگا اور جو شخص کوئی نذرمانے اور وہ نذر اس کی طاقت میں نہ ہو (یعنی اسے پورا نہ کرسکتا ہو) تو اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہوگا ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی ایسی نذر مانے جس کو وہ پورا کرسکتا ہو ‘ تو پھر وہ اسے پوراکرے۔
4242
Sunan Al Daraqutni
4242 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِى سُلَيْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ نَذْرَ إِلاَّ فِيمَا أُطِيعَ اللَّهُ وَلاَ يَمِينَ فِى غَضَبٍ وَلاَ طَلاَقَ وَلاَ عَتَاقَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ».
4242 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : نذرصرف اسی چیز کے بارے میں ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کی گئی ہو ‘ کوئی چیز غصب کرنے کے بارے میں یا جو طلاق دینایاغلام آزاد کرنا آدمی کی ملکیت میں نہ ہو ‘ تو اس کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
4243
Sunan Al Daraqutni
4243 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كُزَالٍ أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَارُونَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لاَ يُطِيقُ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ هَدْيًا إِلَى الْكَعْبَةِ فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ فِى الْمَسَاكِينِ صَدَقَةً فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْىَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْىَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِى أَمْرٍ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلْيَرْكَبْ وَلاَ يَمْشِى فَإِذَا أَتَى مَكَّةَ قَضَى نَذْرَهُ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لِلَّهِ فِيمَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَفِ بِهِ مَا لَمْ يَجْهَدْهُ ». غَالِبٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ .
4243 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی سے متعلق کسی چیز کی نذرمانے تو اس کا کفارہ وہی ہوگا جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر ہے اور جو شخص اپنے اوپر کوئی ایسی نذرلازم کرلے جسے وہ متعین نہ کرے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص اپنے مال کو کسی اور مقصد کے لیے تحفے کے طور پر خانہ کعبہ بھیجے ‘ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے۔ اور جو شخص کسی ایسے مقصد کے لیے اپنے مال کو غریبوں میں صدقہ کرے کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصوں نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر بیت اللہ تک پیدل چل کر جانالازم کرے اور وہ کسی ایسی وجہ سے ہو کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضاکاحصول نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے ‘ جو شخص کسی ایسی چیز کے ب ارے میں بیت اللہ تک پیدل چل کرجانے کی نذر اپنے اوپر لازم کرلے کہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ‘ تو وہ سوار ہو کر جائے ‘ وہ پیدل ہو کرنہ جائے جب وہ مکہ آجائے گا تو وہ اپنی نذرکوپوراکرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی ایسی نذر مانے جس کا مقصد اللہ کی رضاکاحصول ہو ‘ تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جب تک وہ نذرا سے تھکانہ دے (یعنی وہ اسے پوری کرنے سے عاجز نہ ہوجائے) ۔
4244
Sunan Al Daraqutni
4244 - حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ الإِمَامُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْبَيَاضِىُّ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُطِقْهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فَأَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ ».
4244 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص کوئی ایسی نذرمانے ‘ جسے متعین نہ کرے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص کوئی ایسی نذرمانے جسے پوری کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ وہی ہے ‘ جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے ‘ اور جو شخص کوئی ایسی نذرمانے جسے وہ پوری کرسکتا ہو ‘ تو اسے پوری کرنی چاہیے۔
4245
Sunan Al Daraqutni
4245 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخِرَقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّى قُلْتُ عَلَىَّ الْمَشْىُ إِلَى الْكَعْبَةِ . فَقَالَ سَعِيدٌ أَقُلْتَ عَلَىَّ نَذْرٌ قَالَ الرَّجُلُ لاَ. فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ شَىْءٌ.
4245 ۔ ابن حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سعید بن مسیب سے سوال کیا ‘ وہ بولا : میں نے یہ نذرمانی ہے کہ میں بیت اللہ تک پیدل چل کرجاؤں گا ‘ توسعید نے کہا : تم نے لفظ نذرماننااستعمال کیا تھا ؟ تو اس نے جواب دیا : نہیں ! توسعید نے کہا : تم پر کوئی چیزلازم نہیں ہے۔
4246
Sunan Al Daraqutni
4246 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِىٍّ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِىُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى أَبِى إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِى الشَّمْسِ فَقَالَ « مَا بَالُ هَذَا ».قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرَ أَنْ لاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَلاَ يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ. فَقَالَ « مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيَصُمْ ». وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ .- وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
4246 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابواسرائیل نامی صاحب کے پاس سے گزرے جو دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ کلام نہیں کرے گا اور سائے میں نہیں آئے گا اور بیٹھے گا نہیں اور روزہ رکھے گا۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے کہو کہ وہ بات چیت کرے ‘ سائے میں بھی آجائے ‘ بیٹھ بھی جائے اور روزہ بھی رکھ لے۔
(راوی کہتے ہیں :) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کفارہ دینے کی ہدایت نہیں کی۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے حوالے سے منقول ہے۔
4247
Sunan Al Daraqutni
4247 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ حَدَّثَنَا عَمِّى طَاهِرُ بْنُ مِدْرَارٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .- وَالزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى أَبِى إِسْرَائِيلَ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً . وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
4247 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ ابواسرائیل کے پاس سے گزرے (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے) ۔
4248
Sunan Al Daraqutni
4248 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادِ بْنِ آدَمَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ إِذْ رَأَى رَجُلاً قَائِمًا فِى الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلاَ يَقْعُدَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ وَيَصُومَ وَلاَ يَتَكَلَّمَ . فَقَالَ « مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَتَكَلَّمْ وَيَصُومُ ».
4248 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے ایک شخص کو دیکھاجودھوپ میں کھڑا ہوا تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل ہے ‘ اس نے یہ نذرمانی ہے کہ کھڑا رہے تھے ‘ بیٹھے گا نہیں ‘ سائے میں نہیں آئے گا ‘ روزہ رکھے اور کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے ‘ سائے میں بھی آجائے ‘ بات چیت بھی کرے ‘ البتہ روزہ رکھ لے۔
4249
Sunan Al Daraqutni
4249 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ يَمِينَانِ تُكَفَّرَانِ وَيَمِينَانِ لاَ تُكَفَّرَانِ فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ وَاللَّهِ لاَ يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا فَيَفْعَلُ وَالرَّجُلُ يَقُولُ وَاللَّهِ أَفْعَلُ فَلاَ يَفْعَلُ وَأَمَّا اللَّذَانِ لاَ تُكَفَّرَانِ فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ فَعَلَ وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ يَفْعَلْهُ .
4249 ۔ حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : قسمیں چارطرح کی ہوتی ہیں ‘ ان میں سے دوقسم کی قسموں کا کفارہ دیناپڑتا ہے اور دوقسم کی قسموں کا کفارہ ادا نہیں کیا جاتا۔ ایک وہ شخص جو یہ قسم اٹھاتا ہے : اللہ کی قسم ! ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے اور پھر وہ ایسا کرلینا ہے ‘ ایک وہ شخص جو یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! میں ایسا کروں گا ‘ پھر وہ ایسا نہیں کرتا ‘ جہاں تک ان دو قسموں کا تعلق ہے جن میں کفارہ نہیں دیاجاتا ‘ تو وہ یہ ہیں کہ آدمی یہ قسم اٹھائے کہ میں نے ایسا نہیں کیا اور حالانکہ اس نے ایسا کیا ہو یا آدمی یہ قسم اٹھائے کہ اس نے ایسا کیا ہے لیکن اس نے ایسانہ کیا ہو (تو اس کا کفارہ نہیں ہوگا) ۔