Sunan Al Daraqutni
21. رضاعت کا بیان
سنن الدارقطني
4275
Sunan Al Daraqutni4275 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ تَرَى تُحَرِّمُ الرَّضَاعَةُ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ نَعَمْ.
4275 ۔ ابوزبیربیان کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت جابر (رض) سے دریافت کیا : آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہوجاتی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں !
4276
Sunan Al Daraqutni4276 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِىِّ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَلِىٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالاَ يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ.
4276 ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) یہ فرماتے ہیں : رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ‘ وہ حرمت کو ثابت کردیتی ہے۔
4277
Sunan Al Daraqutni4277 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِىُّ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلاَّمٍ السَّوَّاقُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِىُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.- وَأَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَحَدُهُمَا « لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ ». وَقَالَ الآخَرُ « لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَةُ وَالإِمْلاَجَتَانِ ».
4277 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ‘ جبکہ سیدہ عائشہ نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کیا ہے ‘ ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں :” ایک مرتبہ یادومرتبہ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی “۔ دوسرے راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” ایک مرتبہ منہ میں لینے یادومرتبہ منہ میں لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی “۔
4278
Sunan Al Daraqutni4278 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِى مُوسَى الْهِلاَلِىِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلاً كَانَ فِى سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا فَخَشِىَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ فِى حَلْقِهِ فَسَأَلَ أَبَا مُوسَى فَقَالَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلاَّ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَأَنْشَزَ الْعَظْمَ ».
4278 ۔ ابوموسیٰ ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفرکررہا تھا ‘ اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا ‘ لیکن اس عورت کا دودھ جاری نہیں ہوا۔ اس شخص کو اس عورت کی طرف سے اندیشہ ہوا تو اس نے اس عورت کی چھاتی کو چوسنا شروع کیا جس کی وجہ سے دودھ اس کے حلق تک پہنچ گیا ‘ اس نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے فرمایا : وہ عورت تم پر حرام ہوگئی ہے ‘ پھر وہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا ‘ ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : وہی رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے جو گوشت پیداکرے اور ہڈیوں کی نشوونماکاباعث بنے (یعنی جو کم عمری میں ہو) ۔
4279
Sunan Al Daraqutni4279 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْكَاتِبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلاَ الرَّضْعَتَانِ ».
4279 ۔ حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ایک مرتبہ یادومرتبہ (ایک گھونٹ) پی لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
4280
Sunan Al Daraqutni4280 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْكَرْخِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ وَلاَ يُحَرِّمُ إِلاَّ مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ ». قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِذَا دَخَلَتْ قَطْرَةٌ وَاحِدَةٌ فِى جَوْفِ الصَّبِىِّ وَهُوَ صَغِيرٌ حَرُمَتْ عَلَيْهِ. وَقَالَ عُثْمَانُ إِلاَّ مَا فَتَقَ الأَمْعَاءَ مِنَ اللَّبَنِ . وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
4280 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ایک مرتبہ یادومرتبہ چوس لینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ حرمت اس کے ذریعے ثابت ہوتی ہے جو انتڑیوں کو سیراب کردے۔
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کے سامنے ذکر کی تو وہ بولے : جب دودھ کا ایک قطرہ بھی بچے کے پیٹ تک پہنچ جائے جبکہ وہ ابھی چھوٹا ہو ‘ تو اس کے لیے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
جبکہ عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ صرف اسی کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے جو دودھ انتڑیوں کو سیراب کردے۔ انھوں نے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نقل نہیں کیا۔
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کے سامنے ذکر کی تو وہ بولے : جب دودھ کا ایک قطرہ بھی بچے کے پیٹ تک پہنچ جائے جبکہ وہ ابھی چھوٹا ہو ‘ تو اس کے لیے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
جبکہ عثمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ صرف اسی کے ذریعے حرمت ثابت ہوتی ہے جو دودھ انتڑیوں کو سیراب کردے۔ انھوں نے اس کے علاوہ اور کوئی لفظ نقل نہیں کیا۔
4281
Sunan Al Daraqutni4281 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلاً كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِى سَفَرٍ.فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِىُّ لاَ يَمُصُّ فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ - قَالَ - حَتَّى وَجَدَ طَعْمَ لَبَنِهَا فِى حَلْقِهِ فَأَتَى أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِىَّ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ حَرُمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ فَأَتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَنْتَ الَّذِى تُفْتِى هَذَا بِكَذَا وَكَذَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ رِضَاعَ إِلاَّ مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ ».
4281 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی سفر کررہی تھی ‘ اس عورت نے بچے کو جنم دیا۔ وہ بچہ دودھ نہیں چوس سکاتو اس عورت کے شوہرنے اس عورت کے دودھ کو چوسناشروع کیا ‘ یہاں تک کہ اسے اس دودھ کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس ہوا ‘ وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہوگئی ہے۔ پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا ‘ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ‘ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس آئے اور بولیـ: آپ نے یہ ‘ یہ فتوی دیا ہے ‘ جبکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : رضاعت وہی ہوتی ہے جو ہڈی کو مضبوط کرتی ہے اور گوشت کو پیدا کرتی ہے۔
4282
Sunan Al Daraqutni4282 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَنْ أَبِى عَطِيَّةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِى مُوسَى فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِى وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ حَلْقِى شَىْءٌ سَبَقَنِى فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِى قَالَ نَعَمْ أَبَا مُوسَى.فَشَدَّدَ عَلَىَّ. فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ أَرَضِيعٌ هَذَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى لاَ تَسْأَلُونِى مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ .
4282 ۔ ابوعطیہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس آیا اور بولا : میری بیوی کی چھاتی میں ورم آگیا تھا ‘ میں نے اسے چوساتو میرے حلق میں تھوڑسادودھ چلا گیا تو حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے اسے سخت ڈانٹا ‘ پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے دریافت کیا : کیا تم نے میرے علاوہ بھی کسی سے یہ مسئلہ دریافت کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابوموسیٰ (رض) سے بیان کیا ہے اور انھوں نے مجھے اس بارے میں سخت ڈانٹا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ‘ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس آئے اور بولے : کیا یہ شخص دودھ پینے والابچہ ہے ؟ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے فرمایا : جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں تم لوگ مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو۔
4283
Sunan Al Daraqutni4283 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ.
4283 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : دو سال گزرجانے کے بعد رضاعت کا اعتبار نہیں ہوتا۔
4284
Sunan Al Daraqutni4284 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دُبَيْسِ بْنِ أَحْمَدَ وَغَيْرُهُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ الأَنْطَاكِىُّ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ رَضَاعَ إِلاَّ مَا كَانَ فِى الْحَوْلَيْنِ ». لَمْ يُسْنِدْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ حَافِظٌ.
4284 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : دو سال کے اندر جو ہو صرف وہی رضاعت معتبر ہوتی ہے۔