Al Tahawi
15. سود کا بیان
الطحاوي
5624
Al Tahawi۵۶۲۳: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ یَحْیٰی ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ یَزِیْدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ .
٥٦٢٣: عبیداللہ بن ابی یزید نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سود ادھار میں ہے۔
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ١٠١؍١٠٢‘ نسائی فی البیوع باب ٥٠‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٩‘ دارمی فی البیوع باب ٤٢‘ مسند احمد ٥‘ ٢٠٢؍٢٠٦‘ ٢٠٩۔
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ١٠١؍١٠٢‘ نسائی فی البیوع باب ٥٠‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٩‘ دارمی فی البیوع باب ٤٢‘ مسند احمد ٥‘ ٢٠٢؍٢٠٦‘ ٢٠٩۔
5625
Al Tahawi۵۶۲۴: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا الْخَطِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٥٦٢٤: عمرو بن دینار نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فرمایا ہے۔
5626
Al Tahawi۵۶۲۵: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْوَاسِطِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ہُوَ الْحَذَّائُ ، عَنْ عِکْرَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبَا اِلَّا فِی النَّسِیْئَۃِ .
٥٦٢٥: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف قرض میں سود ہے۔
5627
Al Tahawi۵۶۲۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ ، قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَطَائٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ لَقِیَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : أَرَأَیْتُ أَیْ أَخْبَرَنِیْ قَوْلَک فِی الصَّرْفِ یَعْنِی الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَبَیْنَہُمَا فَضْلٌ ، أَشَیْء ٌ سَمِعْتُہٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَوْ شَیْء ٌ وَجَدْتُہٗ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا کِتَابُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا أَعْلَمُہٗ، وَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ .وَلٰـکِنْ حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ .
٥٦٢٦: عطاء کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) کی ابن عباس (رض) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پوچھا بیع صرف میں تم کیا کہتے ہو۔ جبکہ درمیان میں اضافہ لیا جائے کیا تم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات سنی یا کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی ؟ تو ابن عباس (رض) کہنے لگے کتاب اللہ میں میں اس کے متعلق میں کوئی چیز نہیں جانتا البتہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ لیکن میں نے اسامہ بن زید سے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک سود قرض میں ہے۔
تخریج : مسلم فی المساقات ١٠٤‘ دارمی فی البیوع باب ٤٢‘ مسند احمد ٥‘ ٢٠٦؍٢٠٩۔
تخریج : مسلم فی المساقات ١٠٤‘ دارمی فی البیوع باب ٤٢‘ مسند احمد ٥‘ ٢٠٦؍٢٠٩۔
5628
Al Tahawi۵۶۲۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَیْتُ الَّذِیْ تَقُوْلُ ، اَلدِّیْنَارَیْنِ بِالدِّیْنَارِ ، وَالدِّرْہَمَیْنِ بِالدِّرْہَمِ ، أَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلدِّیْنَارُ بِالدِّیْنَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ ، لَا فَضْلَ بَیْنَہُمَا .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ :نَعَمْ .فَقَالَ فَاِنِّیْ لَمْ أَسْمَعْ ہٰذَا، اِنَّمَا أَخْبَرَنِیْہِ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ .قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ : وَنَزَعَ عَنْہَا ابْنُ عَبَّاسٍ .
٥٦٢٧: عطا بن یسار نے ابو سعید خدری سے نقل کیا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا دو دینار کی بیع ایک دینار کے بدلے دو درہم کی بیع ایک درہم کے بدلے کیا درست خیال کرتے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم بلاتفاضل (اضافہ) درست ہے۔
ابن عباس (رض) کہنے لگے کیا تم نے یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود سنا ہے میں نے کہا۔ جی ہاں۔ وہ کہنے لگے میں نے یہ نہیں سنا۔ مجھے تو اسامہ نے وہ بات بتلائی۔ ابو سعید کہتے ہیں ابن عباس (رض) نے اس بات سے رجوع کرلیا۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٩‘ مالک فی البیوع ٧٩‘ مسلم فی المساقات ٨٥؍٨٦‘ نسائی فی البیوع باب ٤٥؍٤٦‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٨؍٥٠‘ مالک فی البیوع ٢٩؍٣١‘ مسند احمد ٢‘ ٣٧٩؍٤٨٥۔
ابن عباس (رض) کہنے لگے کیا تم نے یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود سنا ہے میں نے کہا۔ جی ہاں۔ وہ کہنے لگے میں نے یہ نہیں سنا۔ مجھے تو اسامہ نے وہ بات بتلائی۔ ابو سعید کہتے ہیں ابن عباس (رض) نے اس بات سے رجوع کرلیا۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٩‘ مالک فی البیوع ٧٩‘ مسلم فی المساقات ٨٥؍٨٦‘ نسائی فی البیوع باب ٤٥؍٤٦‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٨؍٥٠‘ مالک فی البیوع ٢٩؍٣١‘ مسند احمد ٢‘ ٣٧٩؍٤٨٥۔
5629
Al Tahawi۵۶۲۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَیْسٌ ، وَہُوَ ابْنُ الرَّبِیْعِ ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِیْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ السَّمَّانِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِیْ سَعِیْدٍ : أَنْتَ تَنْہٰی عَنِ الصَّرْفِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ یَأْمُرُ بِہٖ .فَقَالَ : قَدْ لَقِیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ :مَا ہَذَا الَّذِیْ تُفْتِی بِہٖ فِی الصَّرْفِ ؟ أَشَیْء ٌ وَجَدْتُہٗ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ، أَوْ شَیْء ٌ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ .فَقَالَ : أَنْتُمْ أَقْدَمُ صُحْبَۃً لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنِّیْ ، وَمَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ اِلَّا مَا تَقْرَئُوْنَ ، وَلٰـکِنْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبَا اِلَّا فِی الدَّیْنِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ بَیْعَ الْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَالذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، مِثْلَیْنِ بِمِثْلٍ ، جَائِزٌ ، اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رَوَیْنَا عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ بَیْعُ الْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَلَا الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، سَوَائً بِسَوَائٍ ، یَدًا بِیَدٍ .وَکَانَتِ الْحُجَّۃُ لَہُمْ فِیْ تَأْوِیْلِ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنْ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، الَّذِیْ ذٰکَرْنَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ أَنَّ ذٰلِکَ الرِّبَا اِنَّمَا عَنَی بِہٖ رِبَا الْقُرْآنِ ، الَّذِیْ کَانَ أَصْلُہُ فِی النَّسِیْئَۃِ ، وَذٰلِکَ أَنَّ الرَّجُلَ کَانَ یَکُوْنُ لَہٗ عَلٰی صَاحِبِہٖ الدَّیْنُ ، فَیَقُوْلُ لَہٗ : أَجِّلْنِیْ مِنْہُ اِلَیْ کَذَا وَکَذَا بِکَذَا وَکَذَا دِرْہَمًا أَزِیْدُکہَا فِیْ دَیْنِکَ، فَیَکُوْنُ مُشْتَرِیًا لِأَجَلٍ بِمَالٍ ، فَنَہَاہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ ذٰلِکَ بِقَوْلِہٖ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ثُمَّ جَائَ تِ السُّنَّۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ بِتَحْرِیْمِ الرِّبَا فِی التَّفَاضُلِ ، فِی الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، وَالْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَسَائِرِ الْأَشْیَائِ ، الْمَکِیْلَاتِ وَالْمَوْزُوْنَاتِ ، عَلٰی مَا ذَکَرَہُ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا رَوَیْنَاہٗ عَنْہُ، فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ہَذَا فِی بَابِ بَیْعِ الْحِنْطَۃِ بِالشَّعِیْرِ فَکَانَ ذٰلِکَ رِبًا حُرِّمَ بِالسُّنَّۃِ وَتَوَاتَرَتْ بِہٖ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، حَتَّی قَامَتْ بِہَا الْحُجَّۃُ وَالدَّلِیْلُ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ الرِّبَا الْمُحَرَّمَ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، ہُوَ غَیْرُ الرِّبَا ، وَالَّذِیْ رَوَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رُجُوْعُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اِلَی مَا حَدَّثَہٗ بِہٖ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .فَلَوْ کَانَ مَا حَدَّثَہٗ بِہٖ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، مِنْ ذٰلِکَ ، فِی الْمَعْنَی الَّذِیْ کَانَ أُسَامَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَدَّثَہٗ بِہٖ اِذًا ، لَمَا کَانَ حَدِیْثُ أَبِیْ سَعِیْدٍ عِنْدَہُ بِأَوْلَی مِنْ حَدِیْثِ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .وَلٰـکِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ عَلِمَ بِتَحْرِیْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا الرِّبَا ، حَتَّی حَدَّثَہٗ بِہٖ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَعَلِمَ أَنَّ مَا کَانَ حَدَّثَہٗ بِہٖ أُسَامَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ فِیْ رِبًا غَیْرِ ذٰلِکَ الرِّبَا .فَمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَحْوِ مَا ذَکَرَہٗ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ،
٥٦٢٨: ابو صالح سمان کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری (رض) سے کہا تم بیع صرف میں تفاضل کو روکتے ہو اور ابن عباس (رض) اس کی اجازت دیتے ہیں۔ تو ابو سعید کہنے لگے میں ابن عباس (رض) سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تم بیع صرف میں تفاضل کا جو فتویٰ دیتے ہو اس کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا تم نے کتاب اللہ میں کوئی چیز پائی یا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سنا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے تمہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجھ سے زیادہ صحبت حاصل ہے میں قرآن مجید میں تو وہی پڑھتا ہوں جو تم پڑھتے ہو لیکن اسامہ بن زید نے مجھے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ربا صرف قرض میں ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سونا ‘ سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے دو مثل ایک مثل کے بدلے لے سکتے ہیں جبکہ نقد ہو۔ انھوں نے اسامہ بن زید (رض) کی اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔ چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے بدلے برابر برابر اور دست بدست لے دے سکتے ہیں۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ ابن عباس (رض) کی یہ روایت جس کو اسامہ بن زید (رض) سے روایت کیا گیا اس سے قرآن مجید میں مذکور ربا مراد ہے جس کی اصل ادھار پر تھی اور اس کی مثال اس طرح ہے کہ کسی آدمی کا اپنے ساتھی پر قرض ہوتا وہ اسے کہتا تم مجھے قرض کے سلسلہ میں اتنی اتنی مہلت اتنے دراہم کے بدلے میں دے دو جو تمہارے قرض میں شامل کردیئے جائیں گے۔ تو گویا وہ وقت مال کے بدلے خریدتا۔ پس جناب باری تعالیٰ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ” یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “ (البقرہ۔ ٢٧٨) پھر سنت نے اس کے بعد تفاضل میں ربا کو حرام قرار دیا۔ سونا بدلے سونے کے اور چاندی کے بدلے چاندی اور تمام مکیلی اور موزونی اشیاء میں تفاضل کو حرام قرار دیا گیا جیسا کہ عبادہ بن صامت (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے جو کہ باب ” بیع الحنطۃ بالشعیر “ میں گزری یہ وہ ربا ہے جس کو سنت سے حرام کیا اور اس سلسلہ میں متواتر روایات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہوئیں جن سے حجت قائم ہوگئی۔ اب رہی یہ بات کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ان روایات میں جس رباء کی حرمت کا تذکرہ ہے وہ ابن عباس (رض) عن اسامہ بن زید (رض) سے منقول روایت والے ربا سے الگ ہے۔ ابن عباس (رض) کا ابو سعید کی بات سن کر رجوع کرنا۔ اگر وہ روایات جو ابو سعید (رض) نے بیان کی اور اسامہ بن زید (رض) کی روایت کا ایک مفہوم ہوتا تو وہ ان کے ہاں اسامہ بن زید کی روایت سے مقدم نہ ہوتی مگر ان کو اس ربا کی حرمت کا اس وقت تک علم نہ تھا یہاں تک کہ ابو سعید (رض) نے ان کو روایت بیان کی۔ پس انھوں نے معلوم کرلیا کہ اسامہ (رض) کی روایت میں مذکور ربا اس سے مختلف ہے جو ابو سعید (رض) کی روایت میں وارد ہے جو کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔
5630
Al Tahawi۵۶۲۹: مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ حَازِمٍ ، قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مَوْلًی لَہُمْ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِیْ عَامِرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِیْعُوا الدِّیْنَارَ بِالدِّیْنَارَیْنِ ، وَلَا الدِّرْہَمَ بِالدِّرْہَمَیْنِ .
٥٦٢٩: مالک بن ابی عامر نے عثمان بن عفان (رض) سے روایت کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دینار کو دو دینار کے بدلے اور ایک درہم کو دو دراہم کے بدلے مت فروخت کرو۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٩‘ مسلم فی المساقاۃ ٧٨‘ نسائی فی البیوع باب ٤٥‘ ٤٦ مالک فی البیوع ٣٢‘ مسند احمد ٢؍١٠٩‘ ٥؍٢٠٦۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٩‘ مسلم فی المساقاۃ ٧٨‘ نسائی فی البیوع باب ٤٥‘ ٤٦ مالک فی البیوع ٣٢‘ مسند احمد ٢؍١٠٩‘ ٥؍٢٠٦۔
5631
Al Tahawi۵۶۳۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ ، أَنَّ حُمَیْدَ بْنَ قَیْسٍ حَدَّثَہٗ ، عَنْ مُجَاہِدٍ الْمَکِّیِّ ، أَنَّ صَائِغًا - ہُوَ عَامِلُ الْحُلِیِّ - سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ : اِنِّیْ أَصُوْغُ ثُمَّ أَبِیْعُ الشَّیْئَ مِنْ ذٰلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہٖ، وَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذٰلِکَ قَدْرَ عَمَلِیْ.فَنَہَاہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذٰلِکَ .فَجَعَلَ الصَّائِغَ یُرَدِّدُ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ ، وَیَأْبَاہُ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ، حَتَّی انْتَہٰی اِلَی دَابَّتِہٖ، أَوْ اِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ .فَقَالَ لَہٗ عَبْدُ اللّٰہِ الدِّیْنَارُ بِالدِّیْنَارِ ، وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ ، لَا فَضْلَ بَیْنَہُمَا ، ہٰذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا اِلَیْنَا ، وَعَہْدُنَا اِلَیْکُمْ .
٥٦٣٠: مجاہد مکی کہتے ہیں کہ ایک زرگر نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا میں (سونا ‘ چاندی) پگھلاتا ہوں پھر اس میں سے کچھ زیادہ وزن کے بدلے فروخت کرتا ہوں اور اپنے کام و محنت کی مقدار سے زائد لیتا ہوں جناب عبداللہ نے اس کو منع کیا۔ زرگر سوال دھراتا رہا اور آپ انکار فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ ابن عمر (رض) مسجد کے دروازے یا اپنے سواری کے جانور تک پہنچ گئے عبداللہ نے اسے فرمایا ۔ دینار کے بدلے دینار۔ درہم بدلے درہم کے ان میں تفاضل جائز نہیں یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے عہد لیا اور ہم تم سے عہد کر رہے ہیں۔
تخریج : مالک فی البیوع ٣١۔
تخریج : مالک فی البیوع ٣١۔
5632
Al Tahawi۵۶۳۱: وَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا عَفَّانَ ، قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : ثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیْلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَکِّیِّ ، عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ أَنَّہٗ شَہِدَ خُطْبَۃَ عُبَادَۃَ أَنَّہٗ حَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ اَلذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ کَیْلًا بِکَیْلٍ ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ ، وَلَا بَأْسَ بِبَیْعِ الشَّعِیْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالتَّمْرُ أَکْثَرُہُمَا ، یَدًا بِیَدٍ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبٰی .
٥٦٣١: مسلم مکی نے ابوالاشعث صنعانی سے روایت کی ہے کہ وہ عبادہ کے اس خطبہ میں موجود تھے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے برابر وزن سے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن سے اور گندم کا ماپ گندم کے برابر ناپ کر اور جو جو کے بدلے برابر ماپ سے اور جو کھجور کے بدلے اور کھجور زیادہ ہو جبکہ دست بدست ہو اور کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر وزن سے دیا جائے جس نے زیادہ لیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود کا کام کیا۔
تخریج : مسلم فی المساقات ٨٠‘ ٨٢‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٣‘ نسائی فی البیوع باب ٤٢‘ ٤٣‘ دارمی فی البیوع باب ٤١‘ مسند احمد ٥؍٢٧١‘ ٣٢٠۔
تخریج : مسلم فی المساقات ٨٠‘ ٨٢‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٣‘ نسائی فی البیوع باب ٤٢‘ ٤٣‘ دارمی فی البیوع باب ٤١‘ مسند احمد ٥؍٢٧١‘ ٣٢٠۔
5633
Al Tahawi۵۶۳۲: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ ، أَوَ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبٰی .
٥٦٣٢: ابوالاشعث نے عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا سونا سونے کے بدلے برابر وزن سے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن سے اور گندم گندم کے بدلے برابر سرابر اور جو جو کے بدلے برابر مقدار سے اور کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر لیا جائے جس نے اضافہ کیا یا بڑھایا اس نے سود کا کیا کیا۔
تخریج : مسند احمد ٥‘ ٣١٤؍٣٢٠۔
تخریج : مسند احمد ٥‘ ٣١٤؍٣٢٠۔