Al Tahawi
26. شکار اور ذبیحوں سے متعلق
الطحاوي
6153
Al Tahawi۶۱۵۱: مَا حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ وَنَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَا : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَجِیْدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِیْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، وَعَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنِ الطَّیْرِ .
٦١٥١: عاصم بن ضمرہ علی المرتضی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنجے والے پرندے کے گوشت سے منع فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الذبائح باب ٢٨‘ مسلم فی الصید روایت ١٢‘ ١٣‘ ابو داؤد فی الاطمہ باب ٣٢‘ ترمذی فی الصید باب ٩‘ نسائی فی الصید باب ٧٦‘ مسند احمد جلد ١؍١٤٧‘ ٢٤٤‘ جلد ٣؍٣٢٣‘ جلد ٤؍٨٩‘ ٩٠۔
تخریج : بخاری فی الذبائح باب ٢٨‘ مسلم فی الصید روایت ١٢‘ ١٣‘ ابو داؤد فی الاطمہ باب ٣٢‘ ترمذی فی الصید باب ٩‘ نسائی فی الصید باب ٧٦‘ مسند احمد جلد ١؍١٤٧‘ ٢٤٤‘ جلد ٣؍٣٢٣‘ جلد ٤؍٨٩‘ ٩٠۔
6154
Al Tahawi۶۱۵۲: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ ، عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، وَعَنْ کُلِّ ذِیْ مِخْلَبٍ مِنِ الطَّیْرِ .
٦١٥٢: میمون بن مہران نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہر پنجے والے پرندے اور کملیوں والے درندے کے (گوشت) سے منع فرمایا۔
6155
Al Tahawi۶۱۵۳: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، وَقَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦١٥٣: ابو عوانہ نے ابو بشر سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا۔
6156
Al Tahawi۶۱۵۴: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنَ الْمَرْوَزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٦١٥٤: علی بن حسن بن شقیق نے ابو عوانہ سے روایت نقل کی پھر انھوں نے اپنی سند اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
6157
Al Tahawi۶۱۵۵: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٦١٥٥: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی۔
6158
Al Tahawi۶۱۵۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُوْمِیِّ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ .
٦١٥٦: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر کچلیوں والے درندے کے کھانے سے منع کیا۔
6159
Al Tahawi۶۱۵۷: وَحَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ اِدْرِیْسَ الْخَوْلَانِیِّ ، عَنْ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٦١٥٧: ابو ادریس خولانی نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) سے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔
6160
Al Tahawi۶۱۵۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْبِرْکِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔فَقَدْ قَامَتِ الْحُجَّۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِنَہْیِہِ عَنْ أَکْلِ کُلِّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، وَتَوَاتَرَتْ بِذٰلِکَ الْآثَارُ عَنْہُ .فَلَا یَجُوْزُ أَنْ یَخْرُجَ مِنْ ذٰلِکَ الضَّبُعُ ، اِذَا کَانَتْ ذَاتَ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، اِلَّا بِمَا یَقُوْمُ عَلَیْنَا بِہٖ الْحُجَّۃُ بِاِخْرَاجِہَا مِنْ ذٰلِکَ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٦١٥٨: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہوگئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جاسکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معروف ہے پس اس کو خارج کرنے کے لیے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے۔ طرح درخت کا بھی کاٹنا درست نہیں۔ اس قول کو امام مالک ‘ شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔ دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ منورہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے (العینی والمرقات)
حاصل : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہوگئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جاسکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معرو ہے پس اس کو خارج کرنے کے لیے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
حاصل : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچلیوں والے درندے کو کھانے کی ممانعت میں ان متواتر روایات سے حجت قائم ہوگئی اب جائز نہیں کہ بجو کو اس سے خارج کیا جاسکے کیونکہ اس کا کچلیوں والا درندہ ہونا تو معرو ہے پس اس کو خارج کرنے کے لیے اسی طرح کی مضبوط دلیل چاہیے یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
6161
Al Tahawi۶۱۵۹: حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ قَالَ : ثَنَا أَبِی قَالَ ثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ التَّیْمِیُّ ، قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی مِنْبَرٍ مِنْ آجُر ، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ فِیْہِ صَحِیْفَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ بِہٖ ، فَقَالَ : وَاللّٰہِ مَا عِنْدَنَا مِنْ کِتَابٍ نَقْرَؤُہُ اِلَّا کِتَابَ اللّٰہِ، وَمَا فِیْ ہٰذِہٖ الصَّحِیْفَۃِ ثُمَّ نَشَرَہَا ، فَاِذَا فِیْہَا الْمَدِیْنَۃُ حَرَامٌ ، مِنْ عَیْرٍ اِلَی ثَوْرٍ .
٦١٥٩: ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں علی (رض) نے عیدوں کے منبر پر خطبہ دیا اس وقت انھوں نے تلوار پہن رکھی تھی اور اس میں ایک خط لٹک رلا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہمارے پاس پڑھنے کے لیے کتاب اللہ کے سوا اور کوئی کتاب نہیں اور جو کچھ اس خط میں ہے پھر آپ نے اس کو پھیلا دیا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ مدینہ منورہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرمت والا ہے۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦٧‘ والعتق روایت ٢٥‘ مسند احمد ١؍٨١۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے۔ اس طرح درخت کا بھی کاٹنا اسی طرح درست نہیں۔ اس قول کو امام مالک ‘ شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔
دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ منورہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے (العینی والمرقات)
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦٧‘ والعتق روایت ٢٥‘ مسند احمد ١؍٨١۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مدینہ کی حدود میں بھی شکار کا حکم وہی ہے جو حرم مکہ کا ہے۔ اس طرح درخت کا بھی کاٹنا اسی طرح درست نہیں۔ اس قول کو امام مالک ‘ شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے اختیار کیا ہے۔
دوسرا فریق یہ کہتا ہے مدینہ منورہ کی عظمت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی حدود میں شکار اور درختوں کا وہ حکم نہیں جو حرم مکہ کا ہے۔ اس قول کو ائمہ احناف نے اختیار کیا ہے اور ثوری اور ابن مبارک رحمہم اللہ کا قول بھی ہے (العینی والمرقات)
6162
Al Tahawi۶۱۶۰: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَکِبَ اِلَی قَصْرِہِ بِالْعَقِیْقِ ، فَوَجَدَ غُلَامًا یَقْطَعُ شَجَرَۃً أَوْ یَحْتَطِبُہُ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَظُنُّ فِیْہِ فَأَخَذَ سَلَبَہُ فَلَمَّا رَجَعَ ، أَتَاہُ أَہْلُ الْغُلَامِ ، فَکَلَّمُوْھُ أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِہِمْ .فَقَالَ : مَعَاذَ اللّٰہِ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا نَفَّلَنِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَأَبَی أَنْ یَرُدَّہُ اِلَیْہِمْ .
٦١٦٠: عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد مقام عقیق میں اپنے محل کی طرف سوار ہو کر تشریف لے جا رہے تھے کہ انھوں نے ایک غلام کو پایا جو درخت یا لکڑیاں کاٹ رہا تھا طحاوی (رح) کہتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس کے اندر یہ الفاظ بھی ہیں کہ انھوں نے اس کا سامان لے لیا جب وہ واپس لوٹے تو غلام کے مالک آئے اور انھوں نے گفتگو کی کہ جو کچھ ان کے غلام سے لیا گیا ہے وہ واپس کردیا جائے تو حضرت سعد نے فرمایا معاذاللہ میں اس چیز کو واپس نہیں کرسکتا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور غنیمت مجھے دی ہے اور اس چیز کو ان کی طرف واپس کرنے سے انکار کردیا۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦١‘ مسند احمد ١؍١٦٨۔
تخریج : مسلم فی الحج روایت ٤٦١‘ مسند احمد ١؍١٦٨۔