hadith book logo

Al Tahawi

17. ہبہ کا بیان

الطحاوي

5682
Al Tahawi
۵۶۸۱: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ وَہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْعَائِدُ فِیْ ہِبَتِہٖ، کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہٖ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْوَاہِبَ لَیْسَ لَہٗ أَنْ یَرْجِعَ فِیْمَا وَہَبَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَقَالُوْا : لَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَ الرُّجُوْعَ فِی الْہِبَۃِ کَالرُّجُوْعِ فِی الْقَیْئِ وَکَانَ رُجُوْعُ الرَّجُلِ فِیْ قَیْئِہِ حَرَامًا عَلَیْہِ کَانَ کَذٰلِکَ رُجُوْعُہٗ فِیْ ہِبَتِہٖ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لِلْوَاہِبِ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہٖ اِذَا کَانَتْ قَائِمَۃً عَلٰی حَالِہَا لَمْ تُسْتَہْلَکْ وَلَمْ یَزِدْ فِیْ بَدَنِہَا بَعْدَ أَنْ یَکُوْنَ الْمَوْہُوْبُ لَہُ لَیْسَ بِذِیْ رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنَ الْوَاہِبِ وَبَعْدَ أَنْ یَکُوْنَ لَمْ یُثِبْہُ أَیْ : لَمْ یُعْطِہِ مِنْہَا ثَوَابًا .فَاِنْ کَانَ أَثَابَہٗ مِنْہَا ثَوَابًا وَقَبِلَ ذٰلِکَ الثَّوَابَ مِنْہُ أَوْ کَانَ الْمَوْہُوْبُ لَہُ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنَ الْوَاہِبِ فَلَیْسَ لِلْوَاہِبِ أَنْ یَرْجِعَ فِیْہَا .فَاِنْ لَمْ یَکُنِ الْوَاہِبُ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ لِلْمَوْہُوْبِ لَہٗ وَلٰـکِنَّہَا امْرَأَۃٌ وَہَبَتْ لِزَوْجِہَا أَوْ زَوْجٌ وَہَبَ لِامْرَأَتِہِ فَہُمَا فِیْ ذٰلِکَ کَذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ وَلَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنْ یَرْجِعَ فِیْمَا وَہَبَ لِصَاحِبِہٖ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْعَائِدَ فِیْ ہِبَتِہٖ وَلَمْ یُبَیِّنْ لَنَا مَنِ الْعَائِدُ فِیْ قَیْئِہٖ۔ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ الرَّجُلَ الْعَائِدَ فِیْ قَیْئِہِ فَیَکُوْنَ قَدْ جَعَلَ الْعَائِدَ فِیْ ہِبَتِہٖ کَالْعَائِدِ فِیْمَا ہُوَ حَرَامٌ عَلَیْہِ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ مَا قَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ الْکَلْبَ الْعَائِدَ فِیْ قَیْئِہِ وَالْکَلْبُ غَیْرُ مُتَعَبِّدٍ بِتَحْرِیْمٍ وَلَا تَحْلِیْلٍ فَیَکُوْنُ الْعَائِدُ فِیْ قَیْئِہِ عَائِدًا فِیْ قَذَرٍ کَالْقَذَرِ الَّذِیْ یَعُوْدُ فِیْہِ الْکَلْبُ فَلَا یَثْبُتُ بِذٰلِکَ مَنْعُ الْوَاہِبِ مِنَ الرُّجُوْعِ فِی الْہِبَۃِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ہَلْ نَجِدُ فِی الْآثَارِ مَا یَدُلُّنَا عَلٰی مُرَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ مَا ہُوَ ؟
٥٦٨١: حضرت سعید ابن مسیب (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے والا قے کر کے لوٹانے والے کی طرح ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ‘ علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے ہبہ والا دی ہوئی چیز کو واپس نہیں کرسکتا انھوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ سے رجوع کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے کی طرح قرار دیا اور قے کر کے واپس کرنا حرام ہے تو ہبہ میں رجوع کا بھی یہی حکم ہے۔ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے جب تک کہ وہ چیز اپنی اسی حالت پر قائم ہو اور ہلاک نہ ہوئی ہو اور نہ اس کے بدن میں کوئی اضافہ ہوا ہو۔ جس کو ہبہ کیا گیا وہ اس کا رشتہ دار نہ ہو اس کی طرف سے اسے کوئی بدلہ بھی نہ ملا ہو۔ اگر اس نے اس کے بدلے کچھ دے دیا اور اس نے قبول بھی کرلیا یا ہبہ کیا ہوا شخص اس کا قریبی رشتہ دار ہو تو پھر ہبہ کرنے والا واپس نہیں کرسکتا اگر ہبہ کیا ہو اشخص اس کا رشتہ دار نہ ہو بلکہ اس کی بیوی نے اپنے خاوند کو یا خاوند نے اپنی بیوی کو ہبہ کیا ہو تو یہ دونوں اس معاملے میں قریبی رشتہ دار کی طرح ہیں ان میں سے ایک بھی دوسرے کو دی ہوئی چیز واپس نہیں کرسکتا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ کر کے واپس کرنے والے کو قے کر کے واپس لوٹانے والے سے تشبیہ دی۔ البتہ قے کر کے اسے واپس لوٹانے والے کے بارے میں یہ نہیں بتلایا کہ اس سے کون مراد ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہو جو قے کر کے اسے واپس لوٹاتا ہے تو آپ نے ہبہ کر کے لوٹانے والے کو قے کر کے اسے چاٹنے والے کی طرح قرار دیا اور یہ حرام ہے اس سے پہلے قول والوں کی بات ثابت ہوجائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ کتا ہو جو قے کر کے چاٹتا ہو اور کتا حرام و حلال کا مکلف نہیں فلہذا ہبہ کو لوٹانے والا گویا گندگی کو لوٹانے والا ہے جو اس گندگی کی طرح ہے جس کو کتا لوٹاتا ہے۔ اس صورت میں اس سے یہ بات ثابت نہ ہوگی کہ واہب کو ہبہ سے رجوع کرنا منع ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا روایات میں کوئی ایسی روایت موجود ہے جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس مراد پر دلالت کرنے والی ہے جو پہلی روایات سے ظاہر ہو رہی ہے۔
تخریج : بخاری فی الہبۃ باب ١٤؍٣٠‘ الزکوۃ باب ٥٩‘ والجہاد باب ١٣٧‘ مسلم فی الہبات ١‘ ٧‘ ٨‘ ٢‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨١‘ ترمذی فی البیوع باب ٦٢‘ نسائی فی الزکوۃ باب ١٠‘ والہبہ باب ٢؍٣‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٥‘ مالک فی الزکوۃ ٤٩‘ مسند احمد ١‘ ٢١٧؍٢٥‘ ٢؍١٨٢۔
5683
Al Tahawi
۵۶۸۲: فَاِذَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوْئِ الرَّاجِعُ فِیْ ہِبَتِہٖ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ .
٥٦٨٢: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے اور انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے ہمارے سامنے بری حالت کی مثال بیان فرمائی کہ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو چاٹتا ہے۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ٣٠‘ والخیل باب ١٤‘ ترمذی فی البیوع باب ٦١۔
5684
Al Tahawi
۵۶۸۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ : ثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاوٗسٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِیْ ہِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَقِیئُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ .فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا أَرَادَ بِمَا قَدْ ذَکَرْنَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ تَنْزِیْہَ أُمَّتِہِ عَنْ أَمْثَالِ الْکِلَابِ لَا أَنَّہٗ أَبْطَلَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُمْ الرُّجُوْعُ فِیْ ہِبَاتِہِمْ .وَقَدْ رُوِیَ ہٰذَا الْکَلَامُ أَیْضًا الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
٥٦٨٣: عبداللہ بن طاوس نے ابن عباس (رض) سے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ ہبہ کو واپس کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر اپنی قے کرودوبارہ لوٹا لیتا ہے۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پہلی روایت میں جو ہم نے ذکر کی ہے آپ نے اپنی امت کو کتوں کے اوصاف اپنانے سے بچانے کا ارادہ فرمایا ہے یہ بات نہیں کہ ہبہ کی ہوئی اشیاء کو واپس کرنے کو آپ نے باطل قرار دیا۔
تخریج : بخاری باب الخیل باب ١٤‘ مسلم فی الہباب ٨‘ مسند احمد ١؍٣٢٧‘ ٢؍١٢٨۔
5685
Al Tahawi
۵۶۸۴: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ ثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .ح
٥٦٨٤: عوف نے حسن سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔
5686
Al Tahawi
۵۶۸۵: وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ قَالَ : ثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍوْ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِیْ یَعُوْدُ فِیْ عَطَائِہِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ عَادَ فِیْ قَیْئِہٖ فَأَکَلَہٗ۔وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ ہٰذَا الْکَلَامِ فِیْ مَعْنًی غَیْرِ ہٰذَا الْمَعْنٰی۔
٥٦٨٥: خلاس بن عمرو کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے عطیہ کو لوٹاتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہتا ہے جب سیر ہوجاتا ہے تو قے کردیتا ہے اور پھر اسے چاٹ کر واپس کرلیتا ہے۔
5687
Al Tahawi
۵۶۸۶: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَا : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَوَجَدَہٗ یُبَاعُ بَعْدَ ذٰلِکَ فَأَرَادَ أَنْ یَشْتَرِیَہٗ فَأَتَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَہٗ فِیْ ذٰلِکَ .فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَعُدْ فِیْ صَدَقَتِک فَلِذٰلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا یَرٰی أَنْ یَبْتَاعَ مَالًا جَعَلَہٗ صَدَقَۃً .
٥٦٨٦: ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا اس کے بعد اسے فروخت ہوتا ہوا پایا تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا اپنے صدقہ کو واپس مت لو۔ اسی بات کے پیش نظر ابن عمر (رض) اس بات کو جائز نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی جس مال کو صدقہ کرے اسی کو خریدے۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٥٩‘ نسائی فی الزکوۃ باب ١٠٠‘ ابن ماجہ فی الصدقات باب ٢۔
5688
Al Tahawi
۵۶۸۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : سَمِعْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ حَمَلْتُ عَلٰی فَرَسٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَأَضَاعَہُ الَّذِیْ کَانَ عِنْدَہُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَہُ مِنْہُ وَظَنَنْتُ أَنَّہٗ بَائِعُہٗ بِرُخْصٍ ہُوَ ضِدُّ الْغَلَائِ .فَسَأَلْتُ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْہُ وَاِنْ أَعْطَاکَہٗ بِدِرْہَمٍ وَاحِدٍ وَلَا تَعُدْ فِیْ صَدَقَتِکَ فَاِنَّ الْعَائِدَ فِیْ صَدَقَتِہٖ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ .
٥٦٨٧: زید بن اسلم نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے ایک گھوڑا ایک شخص کو جہاد کے لیے دیا اس نے اس کو ضائع کردیا میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا اور سوچا کہ وہ اسے کم قیمت میں فروخت کر دے گا۔ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اسے مت خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم کے بدلے دے اور اپنا صدقہ واپس نہ کرو کیونکہ صدقہ واپس کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹ لیتا ہے۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٥٩‘ والجہاد باب ١٣٧‘ مسلم فی الہبات ١‘ نسائی فی الزکوۃ باب ١٠٠‘ مالک فی الزکوۃ ٤٩‘ مسند احمد ١؍٤٠۔
5689
Al Tahawi
۵۶۸۸: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عُمَرَ أَنَّہٗ أَبْصَرَ فَرَسًا تُبَاعُ فِی السُّوْقِ وَکَانَ تَصَدَّقَ بِہٖ فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِیْہٖ؟ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرِہِ وَلَا شَیْئًا مِنْ نِتَاجِہِ أَیْ مِمَّا یُنْتِجُہُ مِنَ الْوَلَدِ .فَمَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْ یَبْتَاعَ مَا کَانَ تَصَدَّقَ بِہٖ أَوْ شَیْئًا مِنْ نِتَاجِہِ وَجَعَلَہُ اِنْ فَعَلَ ذٰلِکَ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ۔ فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ بِمُوْجِبِ حُرْمَۃِ ابْتِیَاعِ الصَّدَقَۃِ عَلَی الْمُتَصَدِّقِ بِہَا وَلٰـکِنْ تَرْکُ ذٰلِکَ أَفْضَلُ لَہٗ۔فَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا قَبْلَ ہَذَا لِمَا ذُکِرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الرُّجُوْعِ فِی الْہِبَۃِ لَیْسَ عَلَی تَحْرِیْمِ ذٰلِکَ سَوَاء ٌ وَلٰـکِنَّہٗ لِأَنَّ تَرْکَہُ أَفْضَلُ .
٥٦٨٨: زید بن اسلم نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے بازار میں ایک گھوڑا فروخت ہوتے دیکھا اور وہ وہی گھوڑا تھا جو صدقہ میں دیا جا چکا تھا چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ کیا میں اس کو خرید لوں تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے مت خریدو اور نہ اس کے بچوں میں سے کسی کو خریدو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو اس چیز کے خریدنے سے روک دیا جس کو انھوں نے صدقہ کیا تھا۔ اسی طرح اس کی اولاد کی خریداری سے روک دیا اور اس فعل کو اس کتے کے فعل کی طرح قرار دیا جو قے کر کے لوٹاتا ہے تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ کے مال کو خریدنا حرام ہے بلکہ اس کو چھوڑنا (نہ خریدنا) افضل ہے۔ اسی طرح جو پہلے ذکر ہوا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ کو واپس لینے کے سلسلہ میں جو کچھ فرمایا اس سے اس کی حرمت مراد نہیں بلکہ (اس سے کراہت دلا کر) اس کے چھوڑنے کا افضل ہونا ظاہر فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ٣٧‘ مسند احمد ١؍٢٥‘ ٣٧۔
5690
Al Tahawi
۵۶۸۹: وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیْرِیُّ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ذَرِیْعٍ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ طَاوٗسٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَحِلُّ لِوَاہِبٍ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہِ اِلَّا الْوَالِدُ لِوَلَدِہِ .فَقَالَ قَائِلٌ فَقَدْ دَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَلَی تَحْرِیْمِ الرُّجُوْعِ فِی الْہِبَۃِ مِنَ الرَّجُلِ لِغَیْرِ وَلَدِہٖ۔ قِیْلَ لَہٗ : مَا دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْتُ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَفَ ذٰلِکَ الرُّجُوْعَ بِأَنَّہٗ لَا یَحِلُّ لِتَغْلِیظِہِ اِیَّاہُ لِکَرَاہِیَۃِ أَنْ یَکُوْنَ لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِہِ مَثَلُ السُّوْئِ .وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِذِیْ مَرَّۃٍ سَوِی فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عَلَی مَعْنَی أَنَّہَا تَحْرُمُ عَلَی الْأَغْنِیَائِ وَلٰـکِنَّہَا عَلَی مَعْنَی لَاتَحِلُّ لَہٗ مِنْ حَیْثُ تَحِلُّ لِغَیْرِہِ مِنْ ذَوِی الْحَاجَۃِ وَالزَّمَانَۃِ .فَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا لَا یَحِلُّ لِوَاہِبٍ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہِ اِنَّمَا ہُوَ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَحِلُّ لَہُ ذٰلِکَ کَمَا تَحِلُّ لَہُ الْأَشْیَائُ الَّتِی قَدْ أَحَلَّہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِعِبَادِہٖ۔ وَلَمْ یَجْعَلْ لِمَنْ فَعَلَہَا مَثَلًا کَالْمَثَلِ الَّذِیْ جَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْعَائِدِ فِیْ ہِبَتِہٖ۔وَقَدْ دَخَلَ فِیْ ذٰلِکَ الْعَوْدُ فِیْہَا بِالرُّجُوْعِ وَالِابْتِیَاعِ وَغَیْرِہِ ثُمَّ اسْتَثْنَی مِنْ ذٰلِکَ مَا وَہَبَ الْوَالِدُ لِوَلَدِہٖ۔ فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - عَلَی اِبَاحَتِہِ لِلْوَالِدِ أَنْ یَأْخُذَ مَا وَہَبَ لِابْنِہِ فِیْ وَقْتِ حَاجَتِہِ اِلَی ذٰلِکَ وَفَقْرِہِ اِلَیْہِ لِأَنَّ مَا یَجِبُ لِلْوَلَدِ مِنْ ذٰلِکَ لَیْسَ بِفِعْلٍ یَفْعَلُہُ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ رُجُوْعًا مِنْہُ یَکُوْنُ مَثَلُہُ فِیْہِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ الْمُتَرَاجِعِ فِیْ قَیْئِہٖ۔ وَلٰـکِنَّہٗ شَیْء ٌ أَوْجَبَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ لِفَقْرِہِ فَلَمْ یُضَیِّقْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ کَمَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا فِیْ غَیْرِ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٥٦٨٩: طاوس نے ابن عمر (رض) اور ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ہبہ کرنے والے کو جائز نہیں کہ وہ ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس کرے البتہ باپ اپنے بیٹے سے ہبہ واپس لے سکتا ہے۔ اس روایت سے ثابت ہو رہا ہے کہ کسی آدمی کو ہبہ واپس کرنا حرام ہے البتہ اپنے لڑکے سے ہبہ لوٹا سکتا ہے۔ ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ روایت میں تو آپ کی بات پر کوئی دلالت موجود نہیں ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات لایحل بطور تغلیظ فرمائی ہو کیونکہ آپ اپنے کسی امت میں بھی بری مثال کا انطباق پسند نہ فرماتے تھے۔ جیسا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کسی تندرست ٹھیک ٹھاک آدمی کے لیے صدقہ حلال نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس پر حرام ہے جس طرح کہ مالدار لوگوں پر حرام ہے بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح دیگر حاجتمندوں اور اپاہجوں کے لیے حلال ہے اسی طرح اس کے لیے حلال نہیں۔ پس اسی طرح جو ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی نقل کیا کہ ہبہ کرنے والے کو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینا حلال نہیں کا مطلب ہے کہ اس کے لیے یہ اس طرح حلال نہیں جس طرح دیگر اشیاء ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال قرار دیا ہے اور ان کو لینے والے لوگوں کے لیے ایسی مثال بیان نہیں فرمائی۔ جیسی کچھ ہبہ کر کے واپس کرنے والے کے لیے بیان فرمائیں اور اس رجوع کرنے کے ماتحت ہبہ شدہ چیز کو واپس لینا اس کو خریدنا اور دیگر صورتیں شامل ہیں۔ پھر اس سے والد کا بیٹے کو دیا ہوا مال مستثنیٰ کیا۔ واللہ اعلم۔ مگر احناف کے ہاں یہ بھی جائز ہے جبکہ باپ کو حاجت ہو اور احتیاج ہو کیونکہ اس سلسلہ میں جو کچھ والد کے لیے واجب ہے وہ ایسا فعل نہیں ہے جس کے کرنے سے وہ واپسی کرنے میں کتے کے اپنی قے کے چاٹنے کے مترادف ہو بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس (والد) کے فقر کی حالت میں بیٹے کے لیے واجب کیا ہے اور اس سلسلہ میں اسے کسی تنگی میں نہیں ڈالا جیسا کہ دیگر احادیث میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔
تخریج : ترمذی فی البیوع باب ٦١‘ ولولاء باب ٧‘ نسائی فی الہبہ باب ٢؍٤‘ ابن ماجہ فی الہبہ باب ٢‘ مسند احمد ٢؍٢٧‘ ٢٨۔
تشریح اس روایت سے ثابت ہو رہا ہے کہ کسی آدمی کو ہبہ واپس کرنا حرام ہے البتہ اپنے لڑکے سے ہبہ لوٹا سکتا ہے۔
روایات ملاحظہ ہوں :
5691
Al Tahawi
۵۶۹۰: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍوْ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیْمِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَجُلًا أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ أَعْطَیْتُ أُمِّیْ حَدِیْقَۃً وَاِنَّہَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُکْ وَارِثًا غَیْرِیْ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ صَدَقَتُکَ وَرَجَعَتْ اِلَیْکَ حَدِیْقَتُکَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : أَفَلَا تَرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَبَاحَ لِلْمُتَصَدِّقِ صَدَقَتَہُ لَمَّا رَجَعَتْ اِلَیْہِ بِالْمِیْرَاثِ وَمَنَعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِنِ ابْتِیَاعِ صَدَقَتِہٖ۔فَثَبَتَ بِہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ اِبَاحَۃُ الصَّدَقَۃِ الرَّاجِعَۃِ اِلَی الْمُتَصَدِّقِ بِفِعْلِ اللّٰہِ وَکَرَاہَۃُ الصَّدَقَۃِ الرَّاجِعَۃِ اِلَیْہِ بِفِعْلِ نَفْسِہٖ۔ فَکَذٰلِکَ وُجُوْبُ النَّفَقَۃِ لِلْأَبِ عَنْ مَالِ الِابْنِ لِحَاجَتِہٖ وَفَقْرِہِ وَجَبَتْ لَہُ بِاِیجَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی اِیَّاہَا لَہٗ۔فَأَبَاحَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ ارْتِجَاعَ ہِبَتِہٖ وَاِنْفَاقَہَا عَلٰی نَفْسِہِ وَجَعَلَ ذٰلِکَ کَمَا رَجَعَ اِلَیْہِ بِالْمِیْرَاثِ لَا کَمَا رَجَعَ اِلَیْہِ بِالِابْتِیَاعِ وَالِارْتِجَاعِ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ خَصَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ الْوَالِدَ الْوَاہِبَ دُوْنَ سَائِرِ الْوَاہِبِیْنَ .أَفَیَکُوْنُ حُکْمُ الْوَلَدِ فِیْمَا وَہَبَ لِأَبِیْھَاخِلَافَ حُکْمِ الْوَالِدِ فِیْمَا وَہَبَ لِوَلَدِہٖ؟ قِیْلَ لَہٗ : بَلْ حُکْمُہُمَا فِیْ ہٰذَا سَوَاء ٌ فَذِکْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدَہُمَا عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ ذٰکَرْنَا یُجْزِئُ مِنْ ذِکْرِہِ اِیَّاہُمَا وَمِنْ ذِکْرِ غَیْرِہِمَا مِمَّنْ حُکْمُہٗ فِیْ ہٰذَا مِثْلُ حُکْمِہِمَا .وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالَاتُکُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ.فَحَرَّمَ ہٰؤُلَائِ جَمِیْعًا بِالْأَنْسَابِ .ثُمَّ قَالَ وَأُمَّہَاتُکُمُ اللَّاتِیْ أَرْضَعْنَکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی التَّحْرِیْمِ بِالرَّضَاعَۃِ غَیْرَ ہَاتَیْنِ .فَکَانَ ذِکْرُہُ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عَلٰی أَنَّ سَائِرَ مَنْ حُرِّمَ بِالنَّسَبِ فِیْ حُکْمِ الرَّضَاعِ سَوَاء ٌ وَأَغْنَاہُ ذِکْرُ ہَاتَیْنِ بِالتَّحْرِیْمِ بِالرَّضَاعِ عَنْ ذِکْرِ مَنْ سِوَاہُمَا فِیْ ذٰلِکَ اِذْ کَانَ قَدْ جَمَعَ بَیْنَہُنَّ فِی التَّحْرِیْمِ بِالْأَنْسَابِ فَجَعَلَ حُکْمَہُنَّ حُکْمًا وَاحِدًا .فَدَلَّ تَحْرِیْمُہُ بَعْضَہُنَّ أَیْضًا بِالرَّضَاعِ أَنَّ حُکْمَہُنَّ فِیْ ذٰلِکَ حُکْمٌ وَاحِدٌ .فَکَذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہِ فَعَمّ بِذٰلِکَ النَّاسَ جَمِیْعًا .ثُمَّ قَالَ اِلَّا الْوَالِدُ لِوَلَدِہِ عَلَی الْمَعْنَی الَّذِیْ ذٰکَرْنَا- دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَنْ سِوَی الْوَالِدِ مِنَ الْوَاہِبِیْنَ فِیْ رُجُوْعِ الْہِبَاتِ اِلَیْہِمْ یُرِدْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِیَّاہَا کَذٰلِکَ وَأَغْنَاہُ ذِکْرُ بَعْضِہِمْ عَنْ ذِکْرِ سَائِرِہِمْ .فَلَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ہٰذِہِ الْآثَارِ مَا یَدُلُّنَا عَلٰی أَنَّ لِلْوَاہِبِ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہِ بِنَقْضِہِ اِیَّاہَا حَتّٰی یَأْخُذَہَا مِنَ الْمَوْہُوْبِ لَہُ وَیَرُدَّہَا اِلَی مِلْکِہِ الْمُتَقَدِّمِ الَّذِی أَخْرَجَہَا مِنْہُ بِالْہِبَۃِ .فَنَظَرْنَا ہَلْ نَجِدُ فِیْمَا رُوِیَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا .
٥٦٩٠: عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنی والدہ کو ایک باغ کا عطیہ دیا ہے اب اس کا انتقال ہوگیا اور اس نے میرے علاوہ کوئی وارث نہیں چھوڑا۔ آپ نے فرمایا تمہارا صدقہ واجب ہوگیا (ادا ہوچکا) اور تیرا باغ تیری طرف لوٹ آیا۔ اگر کوئی معترض کہے کہ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ کرنے والے والد کو خاص کیا ہے باقی ہبہ کرنے والے کے لیے یہ حکم کیسے ہوسکتا ہے اگر بیٹا باپ کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اس کا حکم باپ کے بیٹے کو ہبہ کرنے کے خلاف ہے۔ تو اس کے جواب میں کہے اس سلسلے میں دونوں کا حکم یکساں ہے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سبب سے جس کو کہ ہم نے ذکر کیا ایک کا تذکرہ دونوں کے ذکر کو کفایت کرنے والا ہے بلکہ ان دونوں کے علاوہ کے لیے بھی کافی ہے جن کا یہی حکم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ تم پر تمہاری مائیں تمہاری بیٹیاں ‘ تمہاری بہنیں ‘ تمہاری پھوپھیاں ‘ تمہاری خالائیں ‘ تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں حرام کی گئیں یہ نسبی رشتہ کے اعتبار سے ہیں پھر فرمایا تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں بھی حرام ہیں دودھ کے رشتہ میں صرف ان دو کے ذکر پر اکتفا کیا ان دو کا ذکر کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ جو عورتیں نسب کے لحاظ سے حرام ہیں۔ دودھ کی وجہ سے بھی ان تمام کا حکم وہی ہے دودھ کی وجہ سے ان دو کے حرام ہونے کے تذکرے نے باقی کے تذکرے سے بےنیاز کردیا کیونکہ نسب کی وجہ سے حرام ہونے میں تمام کا ذکر کردیا اور ان تمام کے لیے ایک ہی حکم قرار دیا (یعنی حرمت) تو اس سے اس بات پر دلالت مل گئی کہ رضاعت کی وجہ سے بعض کے حرام ہونے سے دوسری رضاعی رشتہ دار عورتوں کا حکم بھی یہی ہے۔ اسی طرح جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ فرمایا کہ کسی شخص کو ہبہ میں رجوع درست نہیں تو یہ حکم تمام لوگوں کو شامل ہے پھر فرمایا سوائے باپ کے جو کہ اپنے بیٹے کو ہبہ کرے یہ بات جو کہ ہم نے کہی ہے اس کی بنا پر یہ اس بات پر دلالت ہے کہ والد کے علاوہ ہبہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے حکم سے رجوع کریں تو یہی حکم ہوگا۔ تو والد کے تذکرے نے دوسروں کے تذکرہ سے بےنیاز کردیا۔ فلہذا ان روایات میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی جو اس بات پر دلالت کرنے والی ہو کہ ہبہ کرنے والا اپنے ہبہ کو توڑ کر موہوب لہ سے واپس لے اور اسے اپنی سابقہ ملکیت میں لائے۔ جس ملکیت سے اس نے ہبہ کر کے اس شئی کو نکالا تھا۔ اب ہم دیکھنا چاہتے کہ آیا آثار صحابہ کرام میں ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے جس سے کوئی دلالت میسر آجائے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الصدقات باب ٣۔
سوال : اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ کرنے والے والد کو خاص کیا ہے باقی ہبہ کرنے والے کے لیے یہ حکم کیسے ہوسکتا ہے اگر بیٹا باپ کو کوئی چیز ہبہ کرے تو اس کا حکم باپ کے بیٹے کو ہبہ کرنے کے خلاف ہے۔
جواب اس سلسلے میں دونوں کا حکم یکساں ہے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سبب سے ججس کو کہ ہم نے ذکر کیا ایک کا تذکرہ دونوں کے ذکر کو کفایت کرنے والا ہے بلکہ ان دونوں کے علاوہ کے لیے بھی کافی جن کا یہی حکم ہو۔
آثار صحابہ (رض) سے اس کی تلاش :
اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا آثار صحابہ کرام میں ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے جس سے کوئی دلالت میسر آجائے۔