hadith book logo

Al Tahawi

12. تاوان لینے کا بیان

الطحاوي

4884
Al Tahawi
۴۸۸۴: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ الْبَغْدَادِیُّ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ قَالَ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ .ح
٤٨٨٤: اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔
4885
Al Tahawi
۴۸۸۵: وَحَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ سَلْمَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مَکَّۃَ قَتَلَتْ ہُذَیْلٌ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ بِقَتِیْلٍ کَانَ لَہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ .فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ : مَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیْلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ اِمَّا أَنْ یَقْتُلَ وَاِمَّا أَنْ یُوْدَی وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ .وَقَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ فِیْ حَدِیْثِہِ قَتَلَتْ خُزَاعَۃُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ذِکْرُ مَا یَجِبُ فِی النَّفْسِ خَاصَّۃً وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ ذٰلِکَ .
٤٨٨٥: یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکہ کو فتح کردیا تو ہذیل قبیلہ کے لوگوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور یہ قتل ایک مقتول کے بدلے میں تھا جو زمانہ جاہلیت میں پیش آیا تھا۔ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے خطبہ میں فرمایا جس کا کوئی آدمی مقتول ہوگیا تو دو باتوں میں ایک کو اختیار کرسکتے ہیں یا تو قاتل کو قتل کریں یا اولیاء مقتول کو دیت دی جائے گی یہ الفاظ محمد بن عبداللہ کے ہیں۔ ابو بکرہ نے اپنی روایت میں اس طرح ذکر کیا : ” قتلت خزاعۃ رجلا من بنی لیث “ خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی مار دیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں صرف وہ بات مذکور ہے جو صرف قتل نفس کی صورت میں لازم آتی ہے حضرت ابو شریح خزاعی (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس جیسی روایت کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الجنایات باب ٨‘ واللقطہ باب ٧‘ والعلم باب ٣٩‘ مسلم فی الحج ٤٤٧‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٤‘ ترمذی فی الدیات باب ١٣‘ نسائی فی القسامۃ باب ٢٩‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٣‘ مسند احمد ٢؍٢٣٨۔
لغات : خیرالنظرین۔ دونوں ہم مثلوں میں سے زیادہ بہتر۔ ہذیل۔ مشہور قبیلہ عرب ہے۔ خزاعہ۔ عرب کا معروف قبیلہ ہے۔
امام طحاوی (رح) کا قول : اس روایت میں صرف وہ بات مذکور ہے جو صرف قتل نفس کی صورت میں لازم آتی ہے حضرت ابو شریح خزاعی (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس جیسی روایت کی ہے۔
4886
Al Tahawi
۴۸۸۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ ذِئْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا شُرَیْحٍ الْکَعْبِیَّ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ خُطْبَتِہِ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ أَلَا اِنَّکُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ قَتَلْتُمْ ہٰذَا الْقَتِیْلَ مِنْ ہُذَیْلٍ وَاِنِّیْ عَاقِلُہُ فَمَنْ قُتِلَ لَہُ بَعْدَ مَقَالَتِی قَتِیْلٌ فَأَہْلُہُ بَیْنَ خِیْرَتَیْنِ بَیْنَ أَنْ یَأْخُذُوْا الْعَقْلَ وَبَیْنَ أَنْ یَقْتُلُوْا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ مِنْ غَیْرِ ہٰذَا الْوَجْہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا دُوْنَ النَّفْسِ مِثْلُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٤٨٨٦: سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے ابو شریح کعبی (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے روز اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا۔ اے بنو خراعہ سنو ! تم نے ہذیل کا یہ آدمی قتل کردیا ہے اور میں اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔ پس جو آدمی (آئندہ) قتل ہوگا اس کے ورثاء دو باتوں میں اختیار رکھتے ہیں دیت وصول کریں یا اس (قاتل) کو قتل کریں۔
تخریج : ابو داؤد فی الدیات باب ٤‘ مسند احمد ٦؍٣٨٥۔
لغات : عاقلہ۔ دیت ادا کرنے والا ہوں۔ بین خیرتین۔ وہ دو اختیاروں میں ہے حضرت ابو شریح (رض) سے نفس سے کم جنایت کے سلسلہ میں اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ وہ روایت یہ ہے۔
4887
Al Tahawi
۴۸۸۷: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَیْلٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أَبِی الْعَوْجَائِ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أُصِیْبَ بِدَمٍ أَوْ بِخَبْلٍ یَعْنِیْ بِالْخَبْلِ الْجِرَاحَ فَوَلِیُّہُ بِالْخِیَارِ بَیْنَ اِحْدَی ثَلَاثٍ بَیْنَ أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ فَاِنْ أَتَی الرَّابِعَۃَ فَخُذُوْا عَلَی یَدَیْہِ فَاِنْ قَبِلَ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہُ النَّارُ خَالِدًا فِیْہَا مُخَلَّدًا .
٤٨٨٧: سفیان بن ابی عوجاء نے ابو شریح خزاعی (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص قتل ہوجائے یا اس کو زخم پہنچے ۔ الخبل سے زخم مراد ہے۔ اس کے اولیاء کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔ معاف کر دے۔ بدلہ لے۔ دیت وصول کرے۔ اگر وہ کوئی چوتھی بات اختیار کرے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو یعنی منع کرو۔ اگر وہ ان تین باتوں میں ایک بات قبول کرنے کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
تخریج : ابو داؤد فی الدیات باب ٣‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ٣‘ دارمی فی الدیات باب ١‘ بمثلہ۔
لغات : الخبل۔ زخم۔
4888
Al Tahawi
۴۸۸۸: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ : ثَنَا عَبَّادٌ عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ قَالَ : أَخْبَرَنِی الْحَارِثُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ أَبِی الْعَرْجَائِ عَنْ أَبِیْ شُرَیْحٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ حُکْمَ الْجِرَاحِ الْعَمْدِ فِیْمَا یَجِبُ فِیْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنَ الْقِصَاصِ وَالدِّیَۃِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا قُتِلَ عَمْدًا فَوَلِیُّہُ بِالْخِیَارِ بَیْن أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ أَوْ یَقْتَصَّ رَضِیَ بِذٰلِکَ الْقَاتِلُ أَوْ لَمْ یَرْضَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَیْسَ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ اِلَّا بِرِضَائِ الْقَاتِلِ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ أَنَّ قَوْلَہُ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ عَلٰی مَا قَالَ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی وَیَجُوْزُ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ اِنْ أُعْطِیَہَا کَمَا یُقَالُ لِلرَّجُلِ خُذْ بِدَیْنِک اِنْ شِئْتُ دَرَاہِمَ وَاِنْ شِئْتُ دَنَانِیْرَ وَاِنْ شِئْت عُرُوْضًا وَلَیْسَ یُرَادُ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ یَأْخُذُ ذٰلِکَ رَضِیَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الدَّیْنُ أَوْ کَرِہَ وَلٰـکِنْ یُرَادُ اِبَاحَۃُ ذٰلِکَ لَہُ اِنْ أُعْطِیَہُ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : وَمَا حَاجَتُہُمْ اِلَی ذِکْرِ ہَذَا ؟ قِیْلَ لَہٗ : لِمَا قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .
٤٨٨٨: سفیان بن ابی العوجاء نے ابو شریح (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر زخمی کرنے کا حکم جان بوجھ کر قتل کرنے کے حکم کی طرح ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں قصاص یا دیت لازم ہوتی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جب کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا تو اس کے ولی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ معاف کر دے یا دیت وصول کرے یا قصاص لے خواہ قاتل اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا قاتل کی مرضی کے بغیر وہ دیت کو اختیار نہیں کرسکتے۔ انھوں نے ” او یأخذ الدیۃ “ کو پیش کیا۔ اگرچہ اس سے وہ بات بھی مراد ہوسکتی جو آپ نے مراد لی ہے مگر اس میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ دیت کا مطلقاً جواز مراد لیا جائے جبکہ اس کو دی جائے جیسا کہ محاورہ میں کسی شخص کو کہا جائے خذ بدینک ان شئت دراہم وان شئت دنانیر وان شئت عروضا “ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرض خواہ یہ چیز ضرور لے خواہ خواہ وہ اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کو اپنی مرضی سے پسند کرنے پر ان میں سے کسی چیز کے لینے کا جواز ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ ان کو اس بات کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے جیسا کہ یہ روایت ہے۔
لغات اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر زخمی کرنے کا حکم جان بوجھ کر قتل کرنے کے حکم کی طرح ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں قصاص یا دیت لازم ہوتی ہے۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ جب کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا تو اس کے ولی کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ معاف کر دے یا دیت وصول کرے یا قصاص لے خواہ قاتل اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : قاتل کی مرضی کے بغیر وہ دیت کو اختیار نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا ” او یأخذ الدیۃ “ کو پیش کیا۔ ! اگرچہ اس سے وہ بات بھی مراد ہوسکتی ہے جو آپ نے مراد لی ہے مگر اس میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ دیت کا مطلقاً جواز مراد لیا جائے جبکہ اس کو دی جائے جیسا کہ محاورہ میں کسی شخص کو کہا جائے خذ بدینک ان شئت دراہم وان شئت دنانیر وان شئت عروضا “ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرض خواہ یہ چیز ضرور لے خواہ وہ اس پر راضی ہو یا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کو اپنی مرضی سے پسند کرنے پر ان میں سے کسی چیز کے لینے کا جواز ہے۔
سوال : ان کو اس بات کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
جواب : حضرت ابن عباس (رض) سے اسی طرح مروی ہے جیسا کہ یہ روایت ہے۔
4889
Al Tahawi
۴۸۸۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ الْقِصَاصُ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَمْ یَکُنْ فِیْہِمْ دِیَۃٌ .فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِہٰذِہِ الْأُمَّۃِ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی الْحَرُّ بِالْحُرِّ اِلَی قَوْلِہٖ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ أَخِیْہِ شَیْء ٌ وَالْعَفْوُ فِیْ أَنْ یَقْبَلَ الدِّیَۃَ فِی الْعَمْدِ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِنْ رَبِّکُمْ مِمَّا کَانَ کُتِبَ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ .فَأَخْبَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا أَنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَمْ یَکُنْ فِیْہِمْ دِیَۃٌ ، أَیْ : أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ حَرَامًا عَلَیْہِمْ أَنْ یَأْخُذُوْھُ أَوْ یَتَعَرَّضُوْا بِالدَّمِ بَدَلًا أَوْ یَتْرُکُوْھُ حَتّٰی یَسْفِکُوْھُ وَأَنَّ ذٰلِکَ مِمَّا کَانَ کُتِبَ عَلَیْہِمْ .فَخَفَّفَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ وَنَسَخَ ذٰلِکَ الْحُکْمَ بِقَوْلِہٖ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ أَخِیْہِ شَیْء ٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَدَاء ٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ .مَعْنَاہُ اِذَا وَجَبَ الْأَدَائُ .وَسَنُبَیِّنُ مَا قِیْلَ فِیْ ذٰلِکَ فِیْ مَوْضِعِہٖ مِنْ ہٰذَا الْبَابِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .فَبَیَّنَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَلَی ہٰذِہِ الْجِہَۃِ فَقَالَ مَنْ قُتِلَ لَہُ وَلِیٌّ فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ أَنْ یَقْتَصَّ أَوْ یَعْفُوَ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ الَّتِیْ أُبِیْحَتْ لِہٰذِہِ الْأُمَّۃِ وَجَعَلَ لَہُمْ أَخْذَہَا اِذَا أُعْطَوْہَا ہَذَا وَجْہٌ یَحْتَمِلُہُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ .وَلَیْسَ لِأَحَدٍ اِذَا کَانَ حَدِیْثٌ مِثْلَ ہَذَا یَحْتَمِلُ وَجْہَیْنِ مُتَکَافِئَیْنِ أَنْ یَعْطِفَہُ عَلٰی أَحَدِہِمَا دُوْنَ الْآخَرِ اِلَّا بِدَلِیْلٍ مِنْ غَیْرِہِ یَدُلُّ أَنَّ مَعْنَاہُ عَلٰی مَا عَطَفَہُ عَلَیْہِ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ہَلْ نَجِدُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَقَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَقَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ أَخِیْہِ شَیْء ٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَدَاء ٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ الْآیَۃَ .فَأَخْبَرَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ أَنَّ لِلْوَلِیِّ أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَتَّبِعَ الْقَاتِلَ بِاِحْسَانٍ فَاسْتَدَلُّوْا بِذٰلِکَ أَنَّ لِلْوَلِیِّ - اِذَا عَفَا - أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ مِنَ الْقَاتِلِ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ اشْتَرَطَ ذٰلِکَ عَلَیْہِ فِیْ عَفْوِہِ عَنْہُ .قِیْلَ لَہُمْ : مَا فِیْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْتُمْ وَقَدْ یَحْتَمِلُ ذٰلِکَ وُجُوْہًا أَحَدُہَا مَا وَصَفْتُمْ .وَیَحْتَمِلُ أَیْضًا فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ أَخِیْہِ شَیْء ٌ عَلَی الْجِہَۃِ الَّتِیْ قُلْنَا بِرِضَائِ الْقَاتِلِ أَنْ یَعْفُوَ عَنْہُ عَلٰی مَا یُؤْخَذُ مِنْہُ .وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ فِی الدَّمِ الَّذِیْ یَکُوْنُ بَیْنَ جَمَاعَۃٍ فَیَعْفُو أَحَدُہُمْ فَیَتَّبِعُ الْبَاقُوْنَ الْقَاتِلَ بِحِصَصِہِمْ مِنْ الدِّیَۃِ بِالْمَعْرُوْفِ وَیُؤَدِّیْ ذٰلِکَ اِلَیْہِمْ بِاِحْسَانٍ .ہٰذِہِ تَأْوِیْلَاتٌ قَدْ تَأَوَّلَتِ الْعُلَمَائُ ہٰذِہِ الْآیَۃَ عَلَیْہَا فَلَا حُجَّۃَ فِیْہَا لِبَعْضٍ عَلَی بَعْضٍ اِلَّا بِدَلِیْلٍ آخَرَ فِیْ آیَۃٍ أُخْرَی مُتَّفَقٌ عَلٰی تَأْوِیْلِہَا أَوْ سُنَّۃٍ أَوْ اِجْمَاعٍ .وَفِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ شُرَیْحٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ أَنْ یَعْفُوَ أَوْ یَقْتُلَ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ فَجَعَلَ عَفْوَہُ غَیْرَ أَخْذِہِ الدِّیَۃَ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ اِذَا عَفَا فَلَا دِیَۃَ لَہُ وَاِذَا کَانَ لَا دِیَۃَ لَہُ اِذَا عَفَا عَنِ الدَّمِ ، ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الَّذِیْ کَانَ وَجَبَ لَہُ ہُوَ الدَّمُ وَأَنَّ أَخْذَہُ الدِّیَۃَ الَّتِیْ أُبِیْحَتْ لَہُ ہُوَ بِمَعْنَی أَخْذِہَا بَدَلًا مِنَ الْقَتْلِ .وَالْاِبْدَالُ مِنَ الْأَشْیَائِ لَمْ نَجِدْہَا تَجِبُ اِلَّا بِرِضَائِ مَنْ تَجِبُ عَلَیْہِ وَرِضَائُ مَنْ تَجِبُ لَہٗ۔فَاِذَا ثَبَتَ ذٰلِکَ فِی الْقَتْلِ ثَبَتَ مَا ذَکَرْنَا وَانْتَفَی مَا قَالَ الْمُخَالِفُ لَنَا .وَلَمَّا لَمْ یَکُنْ فِیْمَا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ مَا یَدُلُّ عَلَیْہِ نَظَرْنَا : ہَلْ لِلْآخَرِیْنَ خَبَرٌ یَدُلُّ عَلٰی مَا قَالُوْا ؟ فَاِذَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَدْ حَدَّثَانَا قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ .ح .
٤٨٨٩: مجاہد نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ قصاص تو بنی اسرائیل میں تھا مگر ان میں دیت نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو فرمایا : ” کتب علیکم القصاص۔۔۔ فمن عفی لہ من اخیہ شیء (البقرہ : ١٧٨) پس عفو یہ ہے کہ جان بوجھ کر قتل میں دیت کو قبول کرے یہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہے جو کہ پہلی امتوں پر فرض کی گئی تھی۔ اس روایت میں حضرت ابن عباس (رض) نے بتلایا کہ دیت بنی اسرائیل میں نہیں تھی یعنی ان کے لیے دیت کا لینا یا قصاص کا ترک کرنا حرام تھا اور قصاص بذریعہ خون ان کے لیے لازم تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر آسانی فرمائی اور اپنے اس ارشاد سے : فمن عفی لہ من اخیہ شیء ف اتباع بالمعروف و اداء الیہ باحسان۔ پس جس کو اپنے بھائی کی طرف سے کوئی چیز معاف کردی جائے تو وہ دستور کے مطابق اس کا مطالبہ کرے اور (وہ) عمدہ انداز سے ادا کرے۔ تو اس آیت نے سابقہ حکم کو منسوخ کردیا۔ عمدگی کے ساتھ ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی لازم ہو تو اچھے انداز سے ادا کر دے۔ اس سلسلہ میں گفتگو اسی باب میں ہم اپنے موقعہ پر ذکر کریں گے (ان شاء اللہ تعالیٰ ) تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو اس جہت سے بھی بیان فرمایا کہ جس کا کوئی رشتہ دار قتل ہوجائے تو اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا معاف کر دے یا دیت کرلے جو کہ اس امت کے لیے حلال کی گئی اور جب ان کو دیت دی جائے تو ان کے لیے اس کا لینا جائز ہے۔ اس روایت میں اس بات کا بھی احتمال ہے (دوسرا فریق اوّل والا بھی) تو کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ جب کسی روایت میں اس طرح کے دو مساوی احتمال ہوں تو وہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر محمول کرے۔ البتہ اس پر اگر کوئی دوسری دلیل پائی جائے جو اس معنی کے مراد ہونے پر دلالت کرے تو پھر وہی معنی لیا جائے گا جس پر دلیل کی دلالت ہے اور ایسی بات تلاش کرنی چاہیے جو ان میں سے ایک چیز پر دلالت کرے۔ فریق اوّل کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فمن عفی لہ من اخیہ شیء ف اتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتلائی ہے کہ ولی کو معاف کرنے اور قاتل سے اچھے انداز سے مطالبے کا حق حاصل ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ولی مقتول جب معاف کرے گا تو وہ قاتل سے دیت بھی لے سکتا ہے اگرچہ اس کو معاف کرتے وقت یہ شرط طے نہ کی گئی ہو۔ ان کو جواب میں عرض کریں گے کہ جو بات تم نے کہی ہے آیت میں اس کی کوئی دلیل نہیں۔ البتہ آیت میں کئی احتمالات ہیں ان میں سے ایک احتمال وہ ہے جس کا آپ نے تذکرہ کیا اور دوسرا احتمال وہ ہے جس کا ہم نے تذکرہ کیا کہ جس کو بھائی کی طرف سے کوئی چیز معاف کردی جائے کہ قاتل کی مرضی سے اس سے قصاص معاف کر دے اور اس کے بدلے دیت وصول کرے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ آیت اس خون سے متعلق ہو جو ایک جماعت کے مابین باہمی مشترک ہو اور ان میں سے ایک معاف کر دے تو باقی حضرات قاتل سے اپنے اپنے حصہ کی دیت اچھے انداز سے طلب کریں اور وہ بھی ان کو اچھے انداز سے ادا کرے۔ حاصل یہ ہوگیا کہ ان تمام معانی کو اس آیت سے متعلق علماء نے بیان کیا ہے مگر ان میں سے کسی کو دوسرے کے خلاف بطور حجت پیش نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک کہ کسی دوسری آیت کی دلیل نہ ملے جس کی تفسیر پر سب کا اتفاق ہو یا سنت و اجماع سے دلیل مل جائے۔ حضرت ابو شریح (رض) والی روایت میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ معاف کر دے یا قصاص لے یا دیت وصول کرے تو معافی اور دیت کی ادائیگی کو ایک دوسرے سے الگ اور غیر قرار دیا گیا ہے۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ جب وہ معاف کر دے تو دیت نہ ہوگی اور جب خون معاف کرنے کی صورت میں دیت لازم نہ ہوئی تو اس سے یہ بات خود نکل آئی کہ جو چیز اصل واجب ہے وہ قصاص ہے اور دیت کے لینے کو تو بدل کے طور پر جائز قرار دیا گیا اور جو چیزیں بدل ہوا کرتی ہیں وہ ہماری تحقیق کے مطابق جن لوگوں پر لازم ہوں ان کی مرضی سے لازم ہوتی ہیں اور ان کی رضامندی ضروری ہے۔ پس جب قتل کے سلسلہ میں یہ بات ثابت ہوگئی تو جو ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا وہ ثابت ہوگیا اور فریق اوّل کے دعویٰ کی نفی ہوگئی۔ جب فریق اوّل کے لیے اس بات پر کوئی دلیل نہ مل سکی تو اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا فریق ثانی کے ہاں کوئی ایسی روایت ہے جو اس پر دلالت کرے ؟ چنانچہ ابوبکرہ اور ابراہیم بن مرزوق کی سند سے یہ روایت موجود ہے۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٢ باب ٢٣‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٨‘ نسائی فی القسامہ باب ٢٧۔
4890
Al Tahawi
۴۸۹۰: وَحَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ قَالَا : ثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ بْنِ النَّضْرِ أَنَّ عَمَّتَہُ الرُّبَیِّعَ لَطَمَتْ جَارِیَۃً فَکَسَرَتْ ثَنِیَّتَہَا فَطَلَبُوْا اِلَیْہِمُ الْعَفْوَ فَأَبَوْا ، وَالْأَرْشَ ، فَأَبَوْا اِلَّا الْقِصَاصَ .فَاخْتَصَمُوْا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ .فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَتُکْسَرُ ثَنِیَّۃُ الرُّبَیِّعِ لَا وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا تُکْسَرُ ثَنِیَّتُہَا .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا أَنَسُ کِتَابُ اللّٰہِ الْقِصَاصُ فَرَضِیَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا .وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰہِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ یَزِیْدُ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ .فَلَمَّا کَانَ الْحُکْمُ الَّذِیْ حَکَمَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الرُّبَیِّعِ لِلْمَنْزُوْعَۃِ ثَنِیَّتُہَا ہُوَ الْقِصَاصُ وَلَمْ یُخَیِّرْہَا بَیْنَ الْقِصَاصِ وَأَخْذِ الدِّیَۃِ وَہَاجَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ حِیْنَ أَبَیْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ یَا أَنَسُ کِتَابُ اللّٰہِ الْقِصَاصُ فَعَفَا الْقَوْمُ فَلَمْ یَقْضِ لَہُمْ بِالدِّیَۃِ .ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الَّذِیْ یَجِبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّۃِ رَسُوْلِہِ فِی الْعَمْدِ ہُوَ الْقِصَاصُ لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَ یَجِبُ لِلْمَجْنِیِّ عَلَیْہِ الْخِیَارُ بَیْنَ الْقِصَاصِ وَبَیْنَ الْعَفْوِ مِمَّا یَأْخُذُ بِہٖ الْجَانِیْ اِذًا لَخَیَّرَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْلَمَہَا مَا لَہَا أَنْ تَخْتَارَہُ مِنْ ذٰلِکَ .أَلَا تَرَی أَنَّ حَاکِمًا لَوْ تَقَدَّمَ اِلَیْہِ رَجُلٌ فِیْ شَیْئٍ یَجِبُ لَہُ فِیْہِ أَحَدُ شَیْئَیْنِ فَثَبَتَ عِنْدَہُ حَقُّہُ أَنَّہٗ لَا یَحْکُمُ لَہُ بِأَحَدِ الشَّیْئَیْنِ دُوْنَ الْآخَرِ وَاِنَّمَا یَحْکُمُ لَہُ بِأَنْ یَخْتَارَ مَا أَحَبَّ مِنْ کَذَا وَمِنْ کَذَا فَاِنْ تَعَدَّیْ ذٰلِکَ فَقَدْ قَصُرَ عَنْ فَہْمِ الْحُکْمِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْکَمُ الْحُکَمَائِ .فَلَمَّا حَکَمَ بِالْقِصَاصِ وَأَخْبَرَ أَنَّہٗ کِتَابُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الَّذِی فِیْ مِثْلِ ذٰلِکَ ہُوَ الْقِصَاصُ لَا غَیْرُہٗ۔ فَلَمَّا ثَبَتَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا وَجَبَ أَنْ یُعْطَفَ عَلَیْہِ حَدِیْثُ أَبِیْ شُرَیْحٍ وَأَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَیُجْعَلَ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِمَا فَہُوَ بِالْخِیَارِ بَیْنَ أَنْ یَعْفُوَ أَوْ بَیْنَ أَنْ یَقْتَصَّ أَوْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ عَلَی الرِّضَائِ مِنَ الْجَانِیْ بِغُرْمِ الدِّیَۃِ حَتّٰی تَتَّفِقَ مَعَانِیْ ہٰذَیْنِ الْحَدِیْثَیْنِ وَمَعْنَیْ حَدِیْثِ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَاِنَّ النَّظَرَ یَدُلُّ عَلٰی مَا قَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی وَذٰلِکَ أَنَّ عَلَی النَّاسِ أَنْ یَسْتَحْیُوْا أَنْفُسَہُمْ .فَاِذَا قَالَ الَّذِی لَہُ سَفْکُ الدَّمِ قَدْ رَضِیتُ بِأَخْذِ الدِّیَۃِ وَتَرْکِ سَفْکِ الدَّمِ وَجَبَ عَلَی الْقَاتِلِ اسْتِحْیَائُ نَفْسِہِ فَاِذَا وَجَبَ ذٰلِکَ عَلَیْہِ أُخِذَ مِنْ مَالِہِ وَاِنْ کَرِہَ .فَالْحُجَّۃُ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ عَلَی النَّاسِ اسْتِحْیَائَ أَنْفُسِہِمْ کَمَا ذَکَرْتُ بِالدِّیَۃِ وَبِمَا جَاوَزَ الدِّیَۃَ وَجَمِیْعَ مَا یَمْلِکُوْنَ .وَقَدْ رَأَیْنَاہُمْ أَجْمَعُوْا أَنَّ الْوَلِیَّ لَوْ قَالَ لِلْقَاتِلِ قَدْ رَضِیتُ أَنْ آخُذَ دَارَک ہٰذِہِ عَلٰی أَنْ لَا أَقْتُلَک أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَی الْقَاتِلِ فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللّٰہِ تَسْلِیْمُ ذٰلِکَ لَہُ وَحَقْنُ دَمِ نَفْسِہِ فَاِنْ أَبَی لَمْ یُجْبَرْ عَلَیْہِ بِاتِّفَاقِہِمْ عَلٰی ذٰلِکَ وَلَمْ یُؤْخَذْ مِنْہُ ذٰلِکَ کُرْہًا فَیُدْفَعُ اِلَی الْوَلِیِّ .فَکَذٰلِکَ الدِّیَۃُ اِذَا طَلَبَہَا الْوَلِیُّ فَاِنَّہٗ یَجِبُ عَلَی الْقَاتِلِ فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَبِّہِ أَنْ یَسْتَحِیَ نَفْسَہُ بِہَا وَاِنْ أَبَیْ ذٰلِکَ لَمْ یُجْبَرْ عَلَیْہِ وَلَمْ یُؤْخَذْ مِنْہُ کُرْہًا .ثُمَّ رَجَعْنَا اِلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ قَوْلِہِمْ اِنَّ لِلْوَلِیِّ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ وَاِنْ کَرِہَ ذٰلِکَ الْجَانِی .فَنَقُوْلُ لَہُمْ : لَیْسَ یَخْلُو ذٰلِکَ مِنْ أَحَدِ وُجُوْہٍ ثَلَاثَۃٍ : اِمَّا أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ لِأَنَّ الَّذِی لَہٗ عَلَی الْقَاتِلِ ہُوَ الْقِصَاصُ وَالدِّیَۃُ جَمِیْعًا فَاِذَا عَفَا عَن الْقِصَاصِ فَأَبْطَلَہُ بِعَفْوِہِ کَانَ لَہٗ أَخْذُ الدِّیَۃِ .وَاِمَّا أَنْ یَکُوْنَ الَّذِی وَجَبَ لَہُ ہُوَ الْقِصَاصُ خَاصَّۃً وَلَہٗ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ بَدَلًا مِنْ ذٰلِکَ الْقِصَاصِ .وَاِمَّا أَنْ یَکُوْنَ الَّذِی وَجَبَ لَہُ ہُوَ أَحَدُ أَمْرَیْنِ اِمَّا الْقِصَاصُ وَاِمَّا الدِّیَۃُ یَخْتَارُ مِنْ ذٰلِکَ مَا شَائَ لَیْسَ یَخْلُو ذٰلِکَ مِنْ أَحَدِ ہٰذِہِ الثَّلَاثَۃِ الْوُجُوْہِ .فَاِنْ قُلْتُمْ : الَّذِی وَجَبَ لَہُ ہُوَ الْقِصَاصُ وَالدِّیَۃُ جَمِیْعًا فَہٰذَا فَاسِدٌ لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یُوْجِبْ عَلٰی أَحَدٍ فَعَلَ فِعْلًا أَکْثَرَ مِمَّا فَعَلَ فَقَدْ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ .فَلَمْ یُوْجِبْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی أَحَدٍ بِفِعْلٍ یَفْعَلُہُ أَکْثَرَ مِمَّا فَعَلَ وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ لَوَجَبَ أَنْ یُقْتَلَ وَیَأْخُذَ الدِّیَۃَ .فَلَمَّا لَمْ یَکُنْ لَہُ بَعْدَ قَتْلِہِ أَخَذُ الدِّیَۃِ دَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الَّذِیْ کَانَ وَجَبَ لَہُ خِلَافُ مَا قُلْتُمْ .وَاِنْ قُلْتُمْ : اِنَّ الَّذِی وَجَبَ لَہُ ہُوَ الْقِصَاصُ وَلٰـکِنْ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ الدِّیَۃَ بَدَلًا مِنْ ذٰلِکَ الْقِصَاصِ فَاِنَّا لَا نَجِدُ حَقًّا لِرَجُلٍ یَکُوْنُ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ بِہٖ بَدَلًا بِغَیْرِ رِضَائِ مَنْ عَلَیْہِ ذٰلِکَ الْحَقُّ فَبَطَلَ ہٰذَا الْمَعْنَی أَیْضًا .وَاِنْ قُلْتُمْ : اِنَّ الَّذِی وَجَبَ لَہٗ أَحَدُ أَمْرَیْنِ : اِمَّا الْقِصَاصُ وَاِمَّا الدِّیَۃُ یَأْخُذُ مِنْہُمَا مَا أَحَبَّ وَلَمْ یَجِبْ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ وَاحِدًا مِنْہُمَا دُوْنَ الْآخَرِ .فَاِنَّہٗ یَنْبَغِیْ اِذَا عَفَا عَنْ أَحَدِہِمَا بِعَیْنِہِ أَنْ لَا یَجُوْزَ عَفْوُہُ لِأَنَّ حَقَّہُ لَمْ یَکُنْ ہُوَ الْمَعْفُوَّ عَنْہُ بِعَیْنِہِ فَیَکُوْنُ لَہُ اِبْطَالُہُ اِنَّمَا کَانَ لَہٗ أَنْ یَخْتَارَہُ فَیَکُوْنُ ہُوَ حَقَّہُ أَوْ یَخْتَارُ غَیْرَہُ فَیَکُوْنُ ہُوَ حَقَّہُ فَاِذَا عَفَا عَنْ أَحَدِہِمَا قَبْلَ اخْتِیَارِہِ اِیَّاہُ وَقَبْلَ وُجُوْبِہٖ لَہُ بِعَیْنِہِ فَعَفْوُہُ بَاطِلٌ .أَلَا تَرَی أَنَّ رَجُلًا لَوْ جُرِحَ أَبُوْھُ عَمْدًا فَعَفَا عَنْ جَارِحِ أَبِیْھَاثُمَّ مَاتَ أَبُوْھُ مِنْ تِلْکَ الْجِرَاحَۃِ وَلَا وَارِثَ لَہُ غَیْرُہُ أَنَّ عَفْوَہُ بَاطِلٌ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا عَفَا قَبْلَ وُجُوْبِ الْمَعْفُوِّ عَنْہُ لَہٗ۔فَلَمَّا کَانَ مَا ذَکَرْنَا کَذٰلِکَ وَکَانَ الْعَفْوُ مِنَ الْقَاتِلِ قَبْلَ اخْتِیَارِہِ الْقِصَاصَ أَوْ الدِّیَۃَ جَائِزًا ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْقِصَاصَ قَدْ کَانَ وَجَبَ لَہُ بِعَیْنِہِ قَبْلَ عَفْوِہِ عَنْہُ وَلَوْلَا وُجُوْبُہٗ لَہُ اِذًا لَمَا کَانَ لَہُ اِبْطَالُہُ بِعَفْوِہِ کَمَا لَمْ یَجُزْ عَفْوُ الِابْنِ عَنْ دَمِ أَبِیْھَاقَبْلَ وُجُوْبِہٖ لَہٗ۔فَفِیْ ثُبُوْتِ مَا ذَکَرْنَا وَانْتِفَائِ ہٰذِہِ الْوُجُوْہِ الَّتِی وَصَفْنَا مَا یَدُلُّ أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَی الْقَاتِلِ عَمْدًا أَوْ الْجَارِحَ عَمْدًا ہُوَ الْقِصَاصُ لَا غَیْرُ ذٰلِکَ مِنْ دِیَۃٍ وَغَیْرِہَا اِلَّا أَنْ یَصْلُحَ ہُوَ اِنْ کَانَ حَیًّا أَوْ وَارِثُہُ اِنْ کَانَ مَیْتًا ، وَالَّذِی وَجَبَ ذٰلِکَ عَلَیْہِ عَلٰی شَیْئٍ ، فَیَکُوْنُ الصُّلْحُ جَائِزًا عَلٰی مَا اصْطَلَحَا عَلَیْہِ مِنْ دِیَۃٍ أَوْ غَیْرِہَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٨٩٠: حمیدالطویل نے حضرت انس بن مالک بن نصر (رض) سے روایت ہے کہ میری پھوپھی ربیع نے ایک لڑکی کو تھپڑ مار کر اس کا سامنے کا دانت توڑ دیا انھوں نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے انکار کردیا اور چٹی کا بھی انکار کردیا اور صرف قصاص چاہا۔ پھر وہ لوگ اپنا مقدمہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصاص کا حکم فرمایا تو انس بن نضر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے نہیں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اس ذات کی قسم ہے اس کا سامنے کا دانت نہ توڑا جائے گا اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے انس (رض) ! اللہ تعالیٰ کی کتاب تو قصاص کا حکم دیتی ہے پس وہ لوگ معافی پر راضی ہوگئے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کردیتے ہیں۔ بعض روات نے دوسروں سے زائد الفاظ نقل کئے ہیں۔ جبکہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس عورت کے دانت توڑے گئے تھے حضرت ربیع (رض) سے اس کا قصاص لینے کا فیصلہ فرمایا۔ اسے قصاص ودیت وصول کرنے کے درمیان اختیار نہیں دیا اور حضرت انس بن نضر (رض) نے جب انکار کرتے ہوئے اختلاف کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے انس ! اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تو قصاص کا حکم دیا گیا ہے تو ان لوگوں نے معاف کردیا پس آپ نے ان کے لیے دیت کا فیصلہ نہ فرمایا۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ قتل عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) کی صورت میں قرآن مجید اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف قصاص ثابت ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے قصاص اور معافی میں اختیار ہوتا کہ وہ اس کے بدلے میں جرم کرنے والے سے کچھ لے لے۔ تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اختیار دیتے اور انھیں بتلاتے کہ ان کو کیا کیا چیز اختیار کرنے کا حق ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی حاکم کے ہاں ایسا مقدمہ لے جائے جس میں اس کے لیے دو چیزوں میں سے ایک چیز واجب ہوتی ہو۔ تو حاکم کے ہاں اس کا یہ حق ثابت ہوگا کہ وہ (حاکم) کسی ایک چیز کا فیصلہ کرے اور دوسری چیز کو ترک کر دے بلکہ وہ اس کے لیے اس طرح فیصلہ کرے گا کہ فلاں فلاں چیزوں میں سے جس کو چاہے پسند کر کے اختیار کرے۔ پھر اگر وہ حاکم زیادتی کرتا ہے تو گویا اس نے فیصلے کی سمجھ میں کوتاہی کی۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصل ہیں۔ پھر جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصاص کا فیصلہ فرمایا اور بتلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا فیصلہ ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس قسم کی صورت میں صرف قصاص ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب جب کہ یہ روایت ثابت ہوگئی جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا تو حضرت ابو شریح اور ابوہریرہ (رض) کی روایات کو اس کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ کہ جہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد میں قصاص لینے ‘ معاف کرنے یا دیت لینے کے مباین اختیار کا تذکرہ ہے وہ مجرم کی رضامندی پر موقوف ہے کہ وہ تاوان کے طور پر دیت ادا کرے۔ تاکہ ان دونوں روایات کے معانی اور حدیث انس (رض) کا معنی ایک جیسا ہوجائے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ قیاس تو پہلے فریق کی تائید کا متقاضی ہے وہ اس طرح کہ لوگوں پر اپنی زندگی کی بقاء ضروری ہے تو جب وہ شخص جس کو خون بہانے کا حق ہے وہ کہے کہ میں دیت لینے پر راضی ہوں اور خون بہانے سے دست بردار ہوتا ہوں تو قاتل پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو زندہ بچائے۔ جب یہ اس پر لازم ہوگیا تو اب اس سے دیت لی جائے گی خواہ وہ اس کو ناپسندکرے۔ تو اس کے جواب میں کہیں گے کہ اگرچہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی جانیں بچائیں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے خواہ دیت کے ساتھ چیز سے ہو جو دیت سے بڑھ جائے بلکہ اپنی تمام املاک سے ہو اور یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ولی قاتل کو کہے کہ میں اس بات پر راضی ہوں کہ میں تمہارا یہ مکان لے لوں اور تجھے قتل نہ کروں تو اللہ تعالیٰ کے حق کی وجہ سے قاتل پر لازم ہے کہ وہ مکان دے کر اپنی جان بچائے۔ مگر اس پر بھی سب متفق ہیں کہ قاتل پر زبردستی نہیں کی جاسکتی اور اس کی مرضی کے خلاف مکان اس سے لے کر ولی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ بالکل دیت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ جب مقتول کا ولی اس کا مطالبہ کرے تو دیانۃً قاتل پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ادائیگی کر کے اپنے نفس کو بچائے لیکن اگر وہ انکار کرے تو اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی اور اس کی مرضی کے خلاف وصولی نہ کی جائے گی۔ سوال : فریق اوّل کے قول کہ ولی کو دیت لینے کا حق ہے اگرچہ مجرم اس کو ناپسند کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم گزارش کریں گے کہ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ حق اس لیے لازم ہے کہ قاتل پر قصاص اور دیت دونوں لازم ہیں جب اس نے قصاص معاف کر کے معافی کے سبب اس کو باطل کردیا تو اب اسے دیت لینے کا حق ہوگا۔ دوسرا یہ کہ قاتل پر صرف قصاص لازم ہوا تھا اور اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قصاص کے بدلے دیت لے لے۔ تیسرا قاتل پر لازم تو دونوں میں سے ایک ہوا خواہ وہ قصاص ہو یا دیت۔ اس کی مرضی ہے کہ دونوں میں سے ایک کا چناؤ کرے ان صورتوں سے زائد کوئی صورت نہیں بن سکتی۔ اب ہم آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر تم کہو کہ قصاص و دیت دونوں واجب ہیں تو یہ بات فاسد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی فعل کے کرنے والے پر اس کے فعل سے زائد کوئی چیز واجب نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس والعین بالعین۔۔۔ (المائدہ : ٤٥) اور ہم نے ان پر جان کے بدلے جان آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ لازم کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تو اس کے فعل سے زائد بدلہ لازم نہیں کیا۔ اگر یہ بات اس طرح مان لی جائے تو پھر لازم آئے گا کہ وہ قاتل کو قتل بھی کرے اور دیت بھی وصول کرے۔ تو جب قصاص میں قتل کے بعد دیت نہیں لی جاسکتی تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جو کچھ لازم ہے وہ آپ کے قول کے مخالف ہے۔ نمبر 2: اور اگر تم یہ کہو کہ واجب تو صرف قصاص ہے مگر وہ اس کے عوض دیت لے سکتا ہے تو ہم شریعت میں ایسی صورت نہیں پاتے کہ کوئی حق والا اس کی مرضی کے خلاف جس کے ذمہ حق ہے اس کا بدل وصول کرے۔ پس یہ صورت بھی باطل ٹھہری۔ نمبر 3: اب صرف ایک صورت رہ گئی کہ دو میں سے ایک واجب ہے یا تو قصاص ہوگا یا دیت لی جائے گی لیکن صاحب حق کو کسی ایک کے پسند کا اختیار ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی کو لے کہ دوسری نہ لے سکتا ہو۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب دونوں میں سے کسی ایک معین کو معاف کردیا تو یہ معاف کرنا جائز نہ ہو۔ کیونکہ جو کچھ اس نے معاف کیا یہ اس کا معین حق نہ تھا۔ پس وہ اس کو باطل کرسکتا ہے اس کو اس بات کا حق تھا کہ وہ اس کو اختیار کرے (اگر وہ کرلیتا تو اس کا حق ہوجاتا) یا پھر دوسری کو اختیار کرتا تو وہ اس کا حق ہوجاتا۔ پس جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرے اور معینہ طور پر اس کے لازم ہونے سے پہلے دوسرے حق کو معاف کر دے تو یہ معاف کرنا باطل ہوگا۔ کیا تم اس بات کو نہیں دیکھتے کہ اگر کسی شخص نے کسی کے والد کو جان بوجھ کر زخمی کردیا۔ اب بیٹے نے اپنے والد کو زخمی کرنے والے شخص کو معاف کردیا پھر اس کا والد اسی زخم سے مرگیا اور مرنے والے کا یہ معاف کرنے والا بیٹا اکلوتا وارث ہے تو اس بیٹے کا معاف کرنا باطل ہوگا۔ کیونکہ اس نے معافی کا حق ملنے سے پہلے معاف کردیا۔ پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے جب اس کا معاملہ اسی طرح ہے اور قصاص یا دیت لینے سے پہلے قاتل کو معاف کرنا جائز ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ معاف کرنے سے پہلے صرف قصاص واجب تھا اور اگر وہ واجب نہ ہوتا تو وہ معافی کے ذریعہ اسے باطل نہ کرسکتا جیسا کہ بیٹا اپنے باپ کا خون اس وقت تک معاف نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اس کے لیے واجب نہ ہو۔ پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کے ثبوت اور ان تین وجوہ کی نفی جن کو ہم نے بیان کیا ہے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جناب بوجھ کر قتل کرنے والے یا جان بوجھ کر زخمی کرنے والے پر قصاص واجب ہے کوئی دوسری چیز (دیت وغیرہ) لازم نہیں۔ اتنی بات ضرور ہے کہ زندہ ہونے کی صورت میں قاتل خود اور اس کے مرجانے کی صورت میں اس کے ورثا کسی چیز پر باہمی صلح کرلیں تو وہ چیز واجب ہوگی اور دیت یا کسی دوسری چیز پر صلح جائز ہوگی۔ یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) و ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کا ہے۔
تخریج : بخاری فی الصلح باب ٨‘ تفسیر سورة ٢‘ باب ٢٣‘ سورة ٥‘ باب ٦‘ مسلم فی القسامہ ٢٣‘ ابو داؤد فی الدیات باب ٢٨‘ نسائی فی القسامۃ باب ١٦‘ ابن ماجہ فی الدیات باب ١٦‘ مسند احمد ٣‘ ١٢٨؍١٦٧۔
لغات : لطمت۔ تھپڑ مارنا۔ الثنیہ۔ سامنے والے دانت۔ الارش۔ دیت۔ لاوالذی۔ یہ الفاظ انس (رض) کے فضل و رحمت پر کامل یقین کی بنیاد پر کہے کہ وہ معافی کی صورت پیدا فرما دیں گے چنانچہ اسی طرح ہوا۔ یہ شرع کو حاشاوکلا رد کرنے کے لیے نہیں۔
جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس عورت کے دانت توڑے گئے تھے حضرت ربیع (رض) سے قصاص لینے کا فیصلہ فرمایا۔ اسے قصاص ودیت وصول کرنے کے درمیان اختیار نہیں دیا اور حضرت انس بن نضر (رض) نے جب انکار کرتے ہوئے اختلاف کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے انس ! اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تو قصاص کا حکم دیا گیا ہے تو ان لوگوں نے معاف کردیا پس آپ نے ان کے لیے دیت کا فیصلہ نہ فرمایا۔
پس اس سے ثابت ہوگیا کہ قتل عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) کی صورت میں قرآن مجید اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صرف قصاص ثابت ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اسے قصاص اور معافی میں اختیار ہوتا کہ وہ اس کے بدلے میں جرم کرنے والے سے کچھ لے لے۔ تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اختیار دیتے اور انھیں بتلاتے کہ ان کو کیا کیا چیز اختیار کرنے کا حق ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی حاکم کے ہاں ایسا مقدمہ لے جائے جس میں اس کے لیے دو چیزوں میں سے ایک چیز واجب ہوتی ہو۔ تو حاکم کے ہاں اس کا یہ حق ثابت ہوگا کہ وہ (حاکم) کسی ایک چیز کا فیصلہ کرے اور دوسری چیز کو ترک کر دے بلکہ وہ اس کے لیے اس طرح فیصلہ کرے گا کہ فلاں فلاں چیزوں میں سے جس کو چاہے پسند کر کے اختیار کرے۔ پھر اگر وہ حاکم زیادتی کرتا ہے تو گویا اس نے فیصلے کی سمجھ میں کوتاہی کی۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصل ہیں۔ پھر جب جناب رسول اللۃ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصاص کا فیصلہ فرمایا اور بتلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا فیصلہ ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس قسم کی صورت میں صرف قصاص ہوتا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
نوٹ : اب جب کہ یہ روایت ثابت ہوگئی جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا تو حضرت ابو شریح اور ابوہریرہ (رض) کی روایات کو اس کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ کہ جہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد میں قصاص لینے ‘ معاف کرنے یا دیت لینے کے مباین اختیار کا تذکرہ ہے وہ مجرم کی رضامندی پر موقوف ہے کہ وہ تاوان کے طور پر دیت ادا کرے۔ تاکہ ان دونوں روایات کے معانی اور حدیث انس (رض) کا معنی ایک جیسا ہوجائے۔
سوال : اگر کوئی یہ کہے کہ قیاس تو پہلے فریق کی تائید کا متقاضی ہے وہ اس طرح کہ لوگوں پر اپنی زندگی کی بقاء ضروری ہے تو جب وہ شخص جس کو خون بہانے کا حق ہے وہ کہے کہ میں دیت لینے پر راضی ہوں اور خون بہانے سے دست بردار ہوتا ہوں تو قاتل پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو زندہ بچائے۔ جب یہ اس پر لازم ہوگیا تو اب اس سے دیت لی جائے گی خواہ وہ اس کو ناپسندکرے۔
جواب : اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی جانیں بچائیں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے خواہ دیت کے ساتھ چیز سے ہو جو دیت سے بڑھ جائے بلکہ اپنی تمام املاک سے ہو اور یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر ولی قاتل کو کہے کہ میں اس بات پر راضی ہوں کہ میں تمہارا یہ مکان لے لوں اور تجھے قتل نہ کروں تو اللہ تعالیٰ کے حق کی وجہ سے قاتل پر لازم ہے کہ وہ مکان دے کر اپنی جان بچائے۔
مگر اس پر بھی سب متفق ہیں کہ قاتل پر زبردستی نہیں کی جاسکتی اور اس کی مرضی کے خلاف مکان اس سے لے کر ولی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔
بالکل دیت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ جب مقتول کا ولی اس کا مطالبہ کرے تو دیانۃً قاتل پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ادائیگی کر کے اپنے نفس کو بچائے لیکن اگر وہ انکار کرے تو اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی اور اس کی مرضی کے خلاف وصولی نہ کی جائے گی۔
اعتراض : فریق اوّل کے قول کہ ولی کو دیت لینے کا حق ہے اگرچہ مجرم اس کو ناپسند کرے۔
جواب ہم گزارش کریں گے کہ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ حق اس لیے لازم ہے کہ قائل پر قصاص اور دیت دونوں لازم ہیں جب اس نے قصاص معاف کر کے معافی کے سبب اس کو باطل کردیا تو اب اسے دیت لینے کا حق ہوگا۔ دوسرا یہ کہ قاتل پر صرف قصاص لازم ہوا تھا اور اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قصاص کے بدلے دیت لے لے۔ تیسرا قاتل پر لازم تو دونوں میں سے ایک ہوا خواہ وہ قصاص ہو یا دیت۔ اسی کی مرضی ہے کہ دونوں میں سے ایک کا چناؤ کرے ان صورتوں سے زائد کوئی صورت نہیں بن سکتی۔
اب ہم آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر تم کہو کہ قصاص و دیت دونوں واجب ہیں تو یہ بات فاسد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی فعل کے کرنے والے پر اس کے فعل سے زائد کوئی چیز واجب نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس والعین بالعین۔۔۔ (المائدہ : ٤٥) اور ہم نے ان پر جان کے بدلے جان آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ لازم کیا۔
پس اللہ تعالیٰ نے تو اس کے فعل سے زائد بدلہ لازم نہیں کیا۔ اگر یہ بات اس طرح مان لی جائے تو پھر لازم آئے گا کہ وہ قاتل کو قتل بھی کرے اور دیت بھی وصول کرے۔
تو جب قصاص میں قتل کے بعد دیت نہیں لی جاسکتی تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جو کچھ لازم ہے وہ آپ کے قول کے مخالف ہے۔
نمبر 2: اور اگر تم یہ کہو کہ واجب تو صرف قصاص ہے مگر وہ اس کے عوض دیت لے سکتا ہے تو ہم شریعت میں ایسی صورت نہیں پاتے کہ کوئی حق والا اس کی مرضی کے خلاف جس کے ذمہ حق ہے اس کا بدل وصول کرے۔ پس یہ صورت بھی باطل ٹھہری۔
نمبر 3: اب صرف ایک صورت رہ گئی کہ دو میں سے ایک واجب ہے یا تو قصاص ہوگا یا دیت لی جائے گی لیکن صاحب حق کو کسی ایک کے پسند کا اختیار ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ ان میں سے کسی ایک ہی کو لے کہ دوسری نہ لے سکتا ہو۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب دونوں میں سے کسی ایک معین کو معاف کردیا تو یہ معاف کرنا جائز نہ ہو۔ کیونکہ جو کچھ اس نے معاف کیا یہ اس کا معین حق نہ تھا۔ پس وہ اس کو باطل کرسکتا ہے اس کو اس بات کا حق تھا کہ وہ اس کو اختیار کرے (اگر وہ کرلیتا تو اس کا حق ہوجاتا) یا پھر دوسری کو اختیار کرتا تو وہ اس کا حق ہوجاتا۔ پس جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرے اور معینہ طور پر اس کے لازم ہونے سے پہلے دوسرے حق کو معاف کر دے تو یہ معاف کرنا باطل ہوگا۔ کیا تم اس بات کو نہیں دیکھتے کہ اگر کسی شخص نے کسی کے والد کو جان بوجھ کر زخمی کردیا۔ اب بیٹے نے اپنے والد کو زخمی کرنے والے شخص کو معاف کردیا پھر اس کا والد اسی زخم سے مرگیا اور مرنے والے کا یہ معاف کرنے والا بیٹا اکلوتا وارث ہے تو اس بیٹے کا معاف کرنا باطل ہوگا۔ کیونکہ اس نے معافی کا حق ملنے سے پہلے معاف کردیا۔
خلاصہ کلام : جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے جب اس کا معاملہ اسی طرح ہے اور قصاص یا دیت لینے سے پہلے قاتل کو معاف کرنا جائز ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ معاف کرنے سے پہلے صرف قصاص واجب تھا اور اگر وہ واجب نہ ہوتا تو وہ معافی کے ذریعہ اسے باطل نہ کرسکتا جیسا کہ بیٹا اپنے باپ کا خون اس وقت تک معاف نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اس کے لیے واجب نہ ہو۔
پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کے ثبوت اور ان تین وجوہ کی نفی جن کو ہم نے بیان کیا ہے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والے یا جان بوجھ کر زخمی کرنے والے پر قصاص واجب ہے کوئی دوسری چیز (دیت وغیرہ) لازم نہیں۔ اتنی بات ضرور ہے کہ زندہ ہونے کی صورت میں قاتل خود اور اس کے مرجانے کی صورت میں اس کے ورثا کسی چیز پر باہمی صلح کرلیں تو وہ چیز واجب ہوگی اور دیت یا کسی دوسری چیز پر صلح جائز ہوگی۔
یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) و ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کا ہے۔
4891
Al Tahawi
۴۸۹۱: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ یَہُوْدِیًّا رَضَّ رَأْسَ صَبِیْ بَیْنَ حَجَرَیْنِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُرَضَّ رَأْسُہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَلَّدُوْھُ وَقَالُوْا : یُقْتَلُ کُلُّ قَاتِلٍ بِمَا قُتِلَ بِہٖ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : کُلُّ مَنْ وَجَبَ عَلَیْہِ قَوَدٌ لَمْ یُقْتَلْ اِلَّا بِالسَّیْفِ .وَقَالُوْا : ہٰذَا الْحَدِیْثُ الَّذِیْ رَوَیْتُمُوْھُ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی أَنَّ ذٰلِکَ الْقَاتِلَ یَجِبُ قَتْلُہُ لِلّٰہِ اِذْ کَانَ اِنَّمَا قَتَلَ عَلَی مَالٍ قَدْ بَیَّنَ ذٰلِکَ فِیْ بَعْضِ الْحَدِیْثِ .
٤٨٩١: قتادہ (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے۔ کہ ایک یہودی نے ایک بچے کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں ‘ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے کہا جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کا قتل واجب ہے اس لیے کہ اسے مال کی خاطر قتل کیا گیا اور یہ حدیث و اضح موجود ہے۔
تخریج : بخاری فی الخصومات باب ١‘ والوصایا باب ٥‘ والدیات باب ٤‘ ١٢‘ مسلم فی القسامہ ١٧‘ ابو داؤد فی الدیات باب ١٠‘ ابن ماجہ فی الدیات۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد : بعض علماء کا قول یہ ہے کہ قاتل کو اسی چیز سے قتل کیا جائے گا جس چیز سے اس نے قتل کیا۔ انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : جس شخص پر قصاص لازم ہوا ہو اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے گا۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : مندرجہ بالا روایت جس سے آپ نے استدلال کیا اس میں احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قتل اللہ تعالیٰ کی خاطر لازم سمجھا ہو (جیسا کسی ڈاکو کا قتل) اس لیے کہ اس نے مال کی خاطر اس بچے کو قتل کیا تھا اس کا ثبوت مندرجہ ذیل روایات میں ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
4892
Al Tahawi
۴۸۹۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأُوَیْسِیُّ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَدَا یَہُوْدِیٌّ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰیْ جَارِیَۃٍ فَأَخَذَ أَوْضَاحًا کَانَتْ عَلَیْہَا ، وَرَضَخَ رَأْسَہَا .فَأَتَی بِہَا أَہْلُہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ فِیْ آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ وَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَک ؟ أَفُلَانٌ ؟ لِغَیْرِ الَّذِیْ قَتَلَہَا فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَیْ : لَا .فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَیْرَ الَّذِیْ قَتَلَہَا ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَیْ : لَا فَقَالَ فَفُلَانٌ لِقَاتِلِہَا ، فَأَشَارَتْ أَیْ : نَعَمْ .فَأَمَرَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسَہُ بَیْنَ حَجَرَیْنِ .فَاِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ دَمَ ذٰلِکَ الْیَہُوْدِیِّ قَدْ وَجَبَ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَمَا یَجِبُ دَمُ قَاطِعِ الطَّرِیْقِ لِلّٰہِ تَعَالٰی .فَکَانَ لَہٗ أَنْ یُقْتَلَ کَیْفَ شَائَ بِسَیْفٍ أَوْ بِغَیْرِ ذٰلِکَ وَالْمُثْلَۃُ حِیْنَئِذٍ مُبَاحَۃٌ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْعُرَنِیِّیْنَ .
٤٨٩٢: ہشام بن زید نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے ایک یہودی نے ایک بچی پر زیادتی کی کہ اس کے پازیب اتار لیے جو اس نے زیب تن کر رکھے تھے اور اس کا سر دو پتھروں سے کچل دیا۔ اس بچی کے اعزاء اس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے ابھی اس میں زندگی کے آثار باقی تھے اور اس کی زبان بند ہوچکی تھی۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں کس نے قتل کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ قاتل کے علاوہ کا نام لیا تو اس نے سر سے انکار کا اشارہ کیا پھر ایک اور کا نام لیا جو قاتل کے علاوہ تھا اس نے اپنے سر سے انکار کا اشارہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا فلاں اور اس کے قاتل کا نام لیا تو اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ اگر یہودی کا خون اللہ تعالیٰ کی خاطر لیا گیا ہوتا جیسا کہ ڈاکو کا خون کرنا لازم ہوتا ہے تو پھر آپ کے لیے اسے جس طرف مناسب ہوتا تلوار یا کسی اور چیز سے قتل جائز تھا اور اس وقت تو مثلہ بھی جائز تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل عرینہ کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ اس پر مندرجہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔
تخریج : بخاری فی الطلاق باب ٢٤‘ نسائی فی القسامۃ باب ١٣‘ مسند احمد ٣؍٢٦٢۔
اگر یہودی کا خون اللہ تعالیٰ کی خاطر لیا گیا ہوتا جیسا کہ ڈاکو کا خون کرنا لازم ہوتا ہے تو پھر آپ کے لیے اسے جس طرح مناسب ہوتا تلوار یا کسی اور چیز سے قتل جائز تھا اور اس وقت تو مثلہ بھی جائز تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل عرینہ کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔
اس پر مندرجہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔
4893
Al Tahawi
۴۸۹۳: فَاِنَّہٗ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَدِمَ ثَمَانِیَۃُ رَہْطٍ مِنْ عُکْلٍ فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِیْنَۃَ فَبَعَثَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی ذٰوْدٍ لَہٗ فَشَرِبُوْا مِنْ أَلْبَانِہَا .فَلَمَّا صَحُّوْا ارْتَدُّوْا عَنِ الْاِسْلَامِ وَقَتَلُوْا رَاعِیَ الْاِبِلِ وَسَاقُوْا الْاِبِلَ .فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آثَارِہِمْ فَأُخِذُوْا فَقَطَعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتَرَکَہُمْ حَتَّی مَاتُوْا .
٤٨٩٣: ابو قلابہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی آئے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کے موافق نہ آنے کی وجہ سے وہ بیمار ہوگئے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اونٹوں کے گلہ کی طرف بھیجا پس انھوں نے ان کے دودھ استعمال کئے۔ جب وہ صحت یاب ہوگئے تو اسلام سے پھرگئے اور انھوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے ان کو پکڑ لیا گیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں لگائی گئیں اور ان کو (میدان میں) اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ١٥‘ (المحاربین باب ١) مسلم فی القسامۃ ٩‘ ١٤‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣‘ ترمذی فی الطہارۃ باب ٥٥‘ نسائی فی التحریم باب ٧‘ ٨‘ ٩‘ ابن ماجہ فی الحدود باب ٢٠‘ مسند احمد ٣‘ ١٦٣؍١٧٧‘ ١٩٨۔
لغات : عکل۔ ایک عرب قبیلہ ہے۔ استوخم۔ ہوا کا موافق نہ ہونا۔ ذود۔ تین سے دس تک اونٹ۔ بعث۔ مقرر کرنا۔ بھیجنا۔ آثار۔ نشان قدم۔ سمل گرم سلاخ کا آنکھ میں لگانا۔