Al Tahawi
1. پاکی کا بیان
الطحاوي
1
Al Tahawi۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ بْنِ رَاشِدِ ڑ الْبَصَرِیُّ قَالَ : ثَنَاالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّہٗ یُلْقٰی فِیْہِ الْجِیَفُ وَالْمَحَائِضُ فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ لَا یَنْجُسُ )۔
١: حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیر بضاعہ سے وضو فرماتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں متعفن مردار اور حیض والے کپڑوں کے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٤ حدیث ٦٦، ترمذی فی الطہارۃ باب ٤٩ نمبر ٦٦، ابن ماجہ فی الطہارۃ باب الرخصۃ بفضل وضوء المرأۃ حدیث ٣٧٠، نسائی فی المیاہ باب ٢، دارقطنی فی سننہ کتاب الطہارۃ ١؍٣١۔
اللغات : بضاعہ۔ یہ مدینہ منورہ میں دار بنی ساعدہ کا مشہور کنواں ہے۔ الجیف۔ جمع جیفۃ۔ مردہ لاش، متعفن مردار۔ محائض۔ جمع محیضۃ۔ حیض کے خون سے ملوث کپڑے کا ٹکڑا۔
خلاصۃ المرام : پانی میں نجاست گرنے سے جب تک اس کے تین اوصاف میں سے کسی میں تبدیلی نہ ہو خواہ پانی تھوڑا ہو یا زیادہ ‘ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ ! اس کو امام مالک ‘ سعید بن المسیّب ‘ ابراہیم نخعی ‘ عکرمہ (رح) نے اختیار کیا ہے۔ " پانی میں نجاست گرجائے اگر قلیل ہو تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر زیادہ ہو تو نجاست گرنے سے اس وقت ناپاک ہوگا جب تین اوصاف میں سے ایک وصف بدلے۔ اس کو شوافع ‘ حنابلہ و احناف (رح) نے اختیار کیا ہے۔ (بدائع و بدایۃ المجتہد)
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٤ حدیث ٦٦، ترمذی فی الطہارۃ باب ٤٩ نمبر ٦٦، ابن ماجہ فی الطہارۃ باب الرخصۃ بفضل وضوء المرأۃ حدیث ٣٧٠، نسائی فی المیاہ باب ٢، دارقطنی فی سننہ کتاب الطہارۃ ١؍٣١۔
اللغات : بضاعہ۔ یہ مدینہ منورہ میں دار بنی ساعدہ کا مشہور کنواں ہے۔ الجیف۔ جمع جیفۃ۔ مردہ لاش، متعفن مردار۔ محائض۔ جمع محیضۃ۔ حیض کے خون سے ملوث کپڑے کا ٹکڑا۔
خلاصۃ المرام : پانی میں نجاست گرنے سے جب تک اس کے تین اوصاف میں سے کسی میں تبدیلی نہ ہو خواہ پانی تھوڑا ہو یا زیادہ ‘ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ ! اس کو امام مالک ‘ سعید بن المسیّب ‘ ابراہیم نخعی ‘ عکرمہ (رح) نے اختیار کیا ہے۔ " پانی میں نجاست گرجائے اگر قلیل ہو تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر زیادہ ہو تو نجاست گرنے سے اس وقت ناپاک ہوگا جب تین اوصاف میں سے ایک وصف بدلے۔ اس کو شوافع ‘ حنابلہ و احناف (رح) نے اختیار کیا ہے۔ (بدائع و بدایۃ المجتہد)
2
Al Tahawi۲ : حَدَّثَنَا ِابْرَاہِیْمُ بْنُ أَبُوْ دَاوٗدَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ الْأَسَدِیُّ قَالَا : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ ڑالْوَہْبِیُّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَلِیْطِ بْنِ أَیُّوْبَ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیِّ قَالَ : (قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، إِنَّہٗ یُسْتَقٰی لَکَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ وَہِیَ بِئْرٌ یُطْرَحُ فِیْہَا عَذِرَۃُ النَّاسِ ، وَمَحَائِضُ النِّسَائِ ، وَلَحْمُ الْکِلَابِ فَقَالَ إِنَّ الْمَائَ طَہُوْرٌ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْ).
٢ : حضرت ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ آپ کے لیے پینے کا پانی بیر بضاعہ سے لایا جاتا ہے اور وہ ایسا کنواں ہے جس میں انسانی غلاظت، حیض کے چیتھڑے، کتوں کا گوشت وغیرہ پھینکا جاتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
اللغات : عذرۃ الناس۔ پائخانہ۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٤ حدیث : ٦٧، نسائی فی المیاہ باب ٢
اللغات : عذرۃ الناس۔ پائخانہ۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٤ حدیث : ٦٧، نسائی فی المیاہ باب ٢
3
Al Tahawi۳ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْبِرْکِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمِ ڑالْقَسْمَلِیُّ قَالَ : ثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِیْ نَوْفٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ سَعِیْدِ ڑالْخُدْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (انْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، أَتَتَوَضَّأُ مِنْہَا وَہِیَ یُلْقٰی فِیْہَا مَا یُلْقٰی مِنَ النَّتْنِ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَائُ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْ).
٣ : حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ میں آپ کی خدمت میں اس وقت پہنچا جب کہ آپ بیر بضاعہ سے وضو فرما رہے تھے میں نے گزارش کی کیا آپ بیر بضاعہ سے وضو فرما رہے ہیں ؟ جبکہ یہ وہ کنواں ہے جس میں متعفن چیزیں ڈالی جاتی ہیں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی۔
اللغات : النتن۔ بدبودار چیز۔
تخریج : ابو داؤد باب ٣٤ کتاب الطھارۃ، نسائی فی المیاہ باب ٢ ترمذی فی الطھارۃ باب ٤٩ ابن ماجہ فی الطھارۃ ٣٧٠،
اللغات : النتن۔ بدبودار چیز۔
تخریج : ابو داؤد باب ٣٤ کتاب الطھارۃ، نسائی فی المیاہ باب ٢ ترمذی فی الطھارۃ باب ٤٩ ابن ماجہ فی الطھارۃ ٣٧٠،
4
Al Tahawi۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ: ثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ یَحْیَی الْأَسْلَمِیِّ عَنْ أُمِّہٖ قَالَتْ : ( دَخَلْنَا عَلٰی سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ فِیْ أَرْبَعِ نِسْوَۃٍ فَقَالَ لَوْ سَقَیْتُکُمْ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ لَکَرِہْتُمْ ذٰلِکَ وَقَدْ سَقَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہَا بِیَدَیَّ )
٤ : ابو یحییٰ اسلمی اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں چار عورتوں کے ساتھ حضرت سہل بن سعد (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو وہ فرمانے لگے اگر میں تمہیں بیر بضاعہ کا پانی پلاؤں تو تم ناپسند کرو گی حالانکہ میں نے خود اس کنوئیں کا پانی اپنے ہاتھ سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پلایا۔
اللغات : سقی یسقی۔ پینا پلانا۔
تخریج : دارقطنی فی سننہ کتاب الطھارۃ ١؍٣٢، الطبرانی فی المعجم الکبیر ٦؍٢٠٧ مسند احمد ٥؍٣٣٧، ٣٣٨،
اللغات : سقی یسقی۔ پینا پلانا۔
تخریج : دارقطنی فی سننہ کتاب الطھارۃ ١؍٣٢، الطبرانی فی المعجم الکبیر ٦؍٢٠٧ مسند احمد ٥؍٣٣٧، ٣٣٨،
5
Al Tahawi۵ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ یَحْیٰی قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدِ ڑ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : أَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّخَعِیُّ عَنْ طَرِیْفِ ڑ الْبَصَرِیِّ عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرٍ أَوْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ (کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرِنَا فَانْتَہَیْنَا اِلٰی غَدِیْرٍ وَجِیْفَۃٍ فَکَفَفْنَا وَکَفَّ النَّاسُ حَتّٰی أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَکُمْ لَا تَسْتَقُوْنَ ؟ فَقُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، ھٰذِہِ الْجِیْفَۃُ ، فَقَالَ اسْتَقُوْا ، فَإِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْئٌ فَاسْتَقَیْنَا وَارْتَوَیْنَا )فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ ، فَقَالُوْا : لَا یُنَجِّسُ الْمَائَ شَیْ وَقَعَ فِیْہِ ، إِلَّا أَنْ یُغَیِّرَ لَوْنَہٗ، أَوْ طَعْمَہٗ، أَوْ رِیْحَہٗ ، فَأَیُّ ذٰلِکَ اِذَا کَانَ ، فَقَدْ نَجِسَ الْمَائُ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنََ فَقَالُوْا أَمَّا مَا ذَکَرْتُمُوْہُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَلَا حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْہِ لِأَنَّ بِئْرَ بُضَاعَۃَ قَدِ اخْتَلَفَتْ فِیْہَا مَا کَانَتْ فَقَالَ قَوْمٌ کَانَتْ طَرِیْقًا لِلْمَائِ إِلَی الْبَسَاتِیْنِ فَکَانَ الْمَائُ لَا یَسْتَقِرُّ فِیْہَا فَکَانَ حُکْمُ مَائِہَا کَحُکْمِ مَائِ الْأَنْہَارِ وَھٰکَذَا نَقُوْلُ فِیْ کُلِّ مَوْضِعٍ کَانَ عَلٰی ھٰذِہِ الصِّفَۃِ وَقَعَتْ فِیْ مَائِہِ نَجَاسَۃٌ فَلَا یَنْجُسُ مَاؤُہٗ إِلَّا أَنْ یَغْلِبَ عَلٰی طَعْمِہٖ أَوْ لَوْنِہٖ أَوْ رِیْحِہٖ أَوْ یَعْلَمُ أَنَّہَا فِی الْمَائِ الَّذِیْ یُؤْخَذُ مِنْہَا ، فَإِنْ عَلِمَ ذٰلِکَ کَانَ نَجَسًا ، وَإِنْ لَمْ یَعْلَمْ ذٰلِکَ کَانَ طَاہِرًا .وَقَدْ حُکِیَ ھٰذَا الْقَوْلُ الَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ عَنِ الْوَاقِدِیِّ ، حَدَّثَنِیْہِ أَبُوْ جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعِ ڑالثَّلْجِیِّ عَنِ الْوَاقِدِیِّ أَنَّہَا کَانَتْ کَذٰلِکَ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا أَنَّہُمْ قَدْ أَجْمَعُوْا أَنَّ النَّجَاسَۃَ اِذَا وَقَعَتْ فِی الْبِئْرِ فَغَلَبَتْ عَلٰی طَعْمِ مَائِہَا أَوْ رِیْحِہِ أَوْ لَوْنِہِ ، أَنَّ مَائَ ہَا قَدْ فَسَدَ .وَلَیْسَ فِیْ حَدِیْثِ بِئْرِ بُضَاعَۃَ مِنْ ھٰذَا شَیْ إِنَّمَا فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَقِیْلَ لَہٗ : إِنَّہُ یُلْقٰی فِیْہَا الْکِلَابُ وَالْمَحَائِضُ فَقَالَ (إِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ ).وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ بِئْرًا لَوْ سَقَطَ فِیْہَا مَا ہُوَ أَقَلُّ مِنْ ذٰلِکَ لَکَانَ مَحَالًا أَنْ لَا یَتَغَیَّرَ رِیْحُ مَائِہَا وَطَعْمُہٗ، ھٰذَا مِمَّا یُعْقَلُ وَیُعْلَمُ .فَلَمَّا کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ وَقَدْ أَبَاحَ لَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَائَ ہَا وَأَجْمَعُوا أَنَّ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ وَقَدْ دَاخَلَ الْمَائَ التَّغْیِیْرُ مِنْ جِہَۃٍ مِنَ الْجِہَاتِ اللَّاتِیْ ذَکَرْنَا ؛ اسْتَحَالَ عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - أَنْ یَکُوْنََ سُؤَالُہُمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ مَائِہَا وَجَوَابُہُ إِیَّاہُمْ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا أَجَابَہُمْ ، کَانَ وَالنَّجَاسَۃُ فِی الْبِئْرِ .وَلَکِنَّہُ - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - کَانَ بَعْدَ أَنْ أُخْرِجَتَ النَّجَاسَۃُ مِنَ الْبِئْرِ فَسَأَلُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ : ہَلْ تَطْہُرُ بِإِخْرَاجِ النَّجَاسَۃِ مِنْہَا فَلَا یَنْجُسُ مَاؤُہَا الَّذِیْ یَطْرَأُ عَلَیْہَا بَعْدَ ذٰلِکَ ؟ وَذٰلِکَ مَوْضِعٌ مُشْکِلٌ لِأَنَّ حِیْطَانَ الْبِئْرِ لَمْ تُغْسَلْ وَطِیْنُہَا لَمْ یَخْرُجْ فَقَالَ لَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (إِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجَّسُ) یُرِیْدُ بِذٰلِکَ الْمَائَ الَّذِیْ طَرَأَ عَلَیْہَا بَعْدَ إِخْرَاجِ النَّجَاسَۃِ مِنْہَا لَا أَنَّ الْمَائَ لَا یَنْجُسُہٗ اِذَا خَالَطَتْہُ النَّجَاسَۃُ وَقَدْ رَأَیْنَاہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (الْمُؤْمِنُ لَا یَنْجُسُ)۔
٥ : حضرت جابر یا حضرت ابو سعیدالخدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے چلتے ہوئے ہم ایک جوہڑ کے پاس پہنچے جس کے پاس مردار بھی پڑا تھا ہم نے اور دیگر لوگوں نے وہاں کے پانی کے استعمال سے ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا۔ تم پانی پلاتے کیوں نہیں ؟ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ : یہ مردار پڑا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانی پیؤ پلاؤ بلاشبہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی پس ہم نے پانی پیا اور سیر ہوگئے۔ علماء کی ایک جماعت نے ان مذکورہ آثار کو اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پانی میں جو چیز بھی گرجائے وہ پانی کو نجس نہیں کرسکتی سوائے اس صورت کے کہ اس کا رنگ ذائقہ اور بو تبدیل ہوجائے۔ ان میں سے جو علامت پائی جائے گی اس سے پانی نجس ہوجائے گا ۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے چنانچہ انھوں نے فرمایا گزشتہ روایت میں تم نے بیربضاعہ کا ذکر کیا اس میں تمہارے حق میں کوئی دلیل نہیں ملتی کیونکہ بیر بضاعہ کے بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں بعض لوگوں نے کہا یہ باغات کی طرف جانے والے راستہ میں پڑتا تھا اور پانی اس میں مستقل طور پر نہ ٹھہرتا تھا۔ پس اس کے پانی کا حکم دریا کے پانی جیسا ہے اور ہم اسی طرح ہر اس مقام پر حکم دیں گے جو اس صفت پر مشتمل ہوگا کہ اگر اس کے پانی میں نجاست پڑجائے تو اس کا پانی پلید نہ ہوگا سوائے اس صورت کے کہ اس کے ذائقہ یا رنگ یا بو پر نجاست کا غلبہ ہوجائے یا جہاں سے پانی لیا جا رہا ہے اس کا نجس ہونا معلوم ہوجائے تو وہ پانی نجس شمار ہوگا۔ اور اگر ایسا معلوم نہیں ہوا تو وہ پانی پاک شمار ہوگا یہ قول جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے اس کو بیئر بضاعہ کے سلسلے میں امام واقدی (رح) نے نقل کیا ہے چنانچہ ہمارے استاد احمد نے ابو عبداللہ محمد بن شجاع ثلجی نے واقدی سے بیئر بضاعہ کے متعلق اس طرح نقل کیا ہے اور اس میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نجاست جب کنوئیں میں گرکر اس کے پانی کے ذائقہ بو یا رنگ کو بدل ڈالے تو اس کا پانی پلید ہوجائے گا اور بیئر بضاعہ میں اس ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی اس میں صرف اتنی بات ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیئر بضاعہ کے بارے میں یہ بتا کر سوال کیا گیا کہ اس میں کتے اور حیض والے کپڑے ڈالے جاتے ہیں تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پانی کوئی چیز بھی پلید نہیں کرسکتی اور ہم بخوبی جانتے ہیں اگر کسی بھی کنوئیں میں کوئی ایسی چیز گرجائے جو اس سے بہت کم ہو تو یہ بات ناممکن ہے کہ اس کنوئیں کے پانی کی بو اور ذائقہ اور رنگ تبدیل نہ ہو اتنی بات تو عقل اور تجربہ سے جانی پہچانی ہے جب یہ بات اسی طرح ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے اس کے پانی کو مباح قرار دیا ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ان مذکورہ اطراف میں سے کسی لحاظ سے پانی میں تبدیلی آگئی (ـاور پھر اس کو استعمال کیا گیا) اور ہر چیز بھی ہمارے ہاں ناممکن ہے (واللہ اعلم) کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام (رض) نے اس پانی کے متعلق سوال کیا ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وہ جواب دیا ہو جو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا اور نجاست بھی کنوئیں میں موجود ہو (واللہ اعلم) لیکن یہ تمام بات کنوئیں سے نجاست نکال دینے کے بعد تھی اور انھوں نے سوال بھی اس سلسلے میں کیا کہ آیا کہ کنوئیں سے نجاست نکال دینے کے بعد وہ پانی پلید نہیں ہوتا جو اس کے بعد کنوئیں میں سے نکلے اور یہ مشکل بات ہے کیونکہ کنوئیں کی دیواریں نہ دھوئی گئیں اور نہ اس کی مٹی نکالی گئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ پانی پلید نہیں ہوتا یعنی اس سے مراد وہی پانی تھا جو نجاست کے نکالنے کے بعد تازہ نکلا ہے یہ معنی نہیں تھا کہ پانی اس وقت بھی پلید نہیں جب اس کے ساتھ نجاست مل گئی چنانچہ ہمارے سامنے اسی انداز کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : (الْمُؤْمِنُ لَا یَنْجُسُ ) ہے ۔
اللغات : غدیر سیلاب گہری وادی میں جو پانی چھوڑ جائے اور رکا ہوا پانی۔
خلاصہ روایات : ان مذکورہ بالا پانچوں روایات کا حاصل یہ ہے کہ پانی قلیل ہو یا کثیر تبدیلی ٔوصف کے بغیر نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہوگا۔
مذاہب ِائمہ و امام طحاوی (رح) :
1 پانی میں نجاست کے پڑجانے سے جب تک اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو وہ ناپاک نہیں ہوتا خواہ پانی قلیل مقدار میں ہو یا کثیر یہ امام مالک ‘ سعید بن مسیب اور ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے۔
دوسری جماعت :
" قلیل پانی نجاست گرنے سے ناپاک ہوجاتا ہے کثیر پانی نجاست کے پڑنے سے اس وقت ناپاک ہوگا جبکہ اس کا ایک وصف بدل جائے امام شافعی و امام احمد بن حنبل اور ائمہ احناف اسی طرف گئے ہیں پھر امام شافعی (رح) کے ہاں قلتین سے کم مقدار ماء قلیل اور قلتین اور اس سے زائد کثیر ہے اور احناف قلیل و کثیر کی مقدار صاحب معاملہ کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد :
مذکورہ بالا تشریح تو امام طحاوی کے اشارہ کو سمجھانے کے لیے کی گئی ہے وہ پہلی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک جماعت نے ان آثار کو سامنے رکھ کر کہا کہ پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کا رنگ یا ذائقہ یا بو میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے جب ایک بدل جائے گا تو پانی نجس ہوجائے گا۔
نمبر ٢ : دوسرے ائمہ کے قول کی طرف اشارہ وخالفہم فی ذلک آخرون سے کردیا کہ دیگر ائمہ نے اس سے اختلاف کیا ہے اگلی سطور میں پہلے قول کے متعدد جوابات دیئے ہیں
پہلے مسلک کے جوابات :
جواب نمبر ١: روایات میں جس بیر بضاعہ کا تذکرہ ہے اس سے مسلک نمبر اول کا استدلال درست نہیں کیونکہ بیر بضاعہ کی کیفیت کے متعلق علماء کے قول بہت مختلف ہیں بعض کا قول یہ ہے کہ وہ کنواں باغات کی سیرابی کا کام دیتا تھا باغات کی طرف پانی جانے والے راستہ میں واقع تھا اس میں پانی برقرار نہیں رہتا تھا بلکہ منتقل ہوتا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ نہروں کے پانی کی طرح جاری پانی کے حکم میں تھا اس بات کی تصدیق ہمارے استاذ ابو جعفر احمد نے شجاع ثلجی کی وساطت سے واقدی سے نقل کی ہے۔
اور جو پانی ماء جاری کے حکم میں ہو اس کے متعلق ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر اس میں نجاست گرجائے تو وہ اس وقت تک نجس نہیں ہوتا جب تک اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ نہ بدل جائے یا اس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس سے حاصل کئے جانے والے پانی میں وہ نجاست مل کر آرہی ہے اگر ایسا معلوم ہو تو وہ نجس ہے ورنہ وہ پانی پاک رہے گا۔
جواب نمبر ٢: دوسری دلیل یہ ہے کہ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ نجاست کنوئیں میں گر کر پانی کے ذائقہ یا بو یا رنگ کو بدل دے تو وہ بالاتفاق نجس ہوجائے گا مذکورہ بالا روایات میں سے کسی روایت میں بھی یہ قید موجود نہیں تمہاری یہ قید قیاس سے ہوسکتی ہے تو قلیل و کثیر والی قید کیوں معتبر نہیں۔
جواب نمبر ٣: جب بالاتفاق اوصاف کی تبدیلی سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے تو بیر بضاعہ جیسا چھوٹا کنواں تو کیا ایسے چار کنوؤں میں ایک مردار کتا گرجائے تو سب کو متعفن کر دے گا پس ذرا سی سمجھ والا بیر بضاعہ والی روایت کے ظاہر سے استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ ان چیزوں کے گرنے سے تغیر نہ ہونا محال و ناممکن ہے جب یہ بات اسی طرح ہے حالانکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پانی کو مباح قرار دیا اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پانی میں کسی بھی اعتبار سے تغیر ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے استعمال کا حکم دیں۔
جواب نمبر ٤ واللہ اعلم۔ ہمارے نزدیک یہ بھی محال ہے کہ صحابہ کرام (رض) بیر بضاعہ کے متعلق ایسے وقت میں سوال کر رہے ہوں جبکہ یہ نجاسات اس میں موجود ہوں بلکہ (واللہ اعلم) ۔ یہ سوال کنوئیں سے ان نجاسات کے نکالے جانے کے بعد سے متعلق تھا کہ آیا وہ کنواں اور اس میں نیا نکلنے والا پانی پاک ہوجائے گا جبکہ کنوئیں کی دیواریں نہیں دھوئی گئیں اور نہ گابھ نکالی گئی۔ تو اس پر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان الماء لا ینجس “ الماء سے وہی پانی مراد ہے جو کنوئیں کی غلاظت سے صفائی کے بعد اس میں ظاہر ہوا ہے یہ معنی نہیں کہ نجاست پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اور یہ ارشاد نبوت علی اسلوب الحکیم ہے جیسا ان روایات میں ہے : ان المسلم لا ینجس اور ان الارض لاینجس۔ ان روایات کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان نجاست لگنے کے باوجود ناپاک نہیں ہوتا اور زمین نجاست پڑنے کے باوجود ناپاک نہیں ہوتی بلکہ صاف مطلب یہ ہے کہ ازالہ نجاست کے بعد وہ پاک ہوجاتے ہیں ہمیشہ ناپاک نہیں رہتے کہ پاک نہ ہو سکیں۔ واللہ اعلم
یہاں امام طحاوی (رح) نے دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں جو کہ لا ینجسہ کے مفہوم کی وضاحت کے لیے ہیں ۔
حَدَّثَنَاہُ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ حُمَیْدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ عَنْ ( أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَقِیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَمَدَّ یَدَہٗ إِلَیَّ فَقَبَضْتُ یَدَیَّ عَنْہُ وَقُلْتُ إِنِّیْ جُنُبٌ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ ) وَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ( إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجُسُ ) ۔
: حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حالت میں ملا کہ مجھے غسل جنابت کی حاجت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا میں تو حالت جنابت میں ہوں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ ۔ مطلب یہ کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
تخریج : بخاری فی الغسل باب ٢٣، مسلم فی الحیض ١١٥؍١١٦‘ مسند احمد ٢؍٢٣٥؍٣٨٣‘ ابن ابی شیبہ ١؍١٧٣، بیہقی السنن الکبریٰ ١؍١٨٩۔
لطیف طرز استدلال :
جنابت والے شخص کا نماز کی ادائیگی کے لحاظ سے تمام جسم حکماً ناپاک ہے۔ مگر کھانے پینے اور مصافحہ کے لحاظ سے سوائے نجاست والے مقام کے تمام جسم پاک ہے بالکل اسی طرح جب تک کنوئیں میں نجس پانی اور اشیاء ہیں تو حکماً تمام کنواں ناپاک ہے جب ناپاک پانی نکال لیا تو اب نیا پانی اور کنوئیں کی دیواریں اور گابھ سب پاک ہیں۔
پس لاینجس کا یہ معنی نہ ہوا کہ کوئی نجس چیز اس کو ناپاک نہیں کرسکتی۔
دوسری روایت : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان الارض لاتنجس ۔
اللغات : غدیر سیلاب گہری وادی میں جو پانی چھوڑ جائے اور رکا ہوا پانی۔
خلاصہ روایات : ان مذکورہ بالا پانچوں روایات کا حاصل یہ ہے کہ پانی قلیل ہو یا کثیر تبدیلی ٔوصف کے بغیر نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہوگا۔
مذاہب ِائمہ و امام طحاوی (رح) :
1 پانی میں نجاست کے پڑجانے سے جب تک اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو وہ ناپاک نہیں ہوتا خواہ پانی قلیل مقدار میں ہو یا کثیر یہ امام مالک ‘ سعید بن مسیب اور ابراہیم نخعی (رح) کا قول ہے۔
دوسری جماعت :
" قلیل پانی نجاست گرنے سے ناپاک ہوجاتا ہے کثیر پانی نجاست کے پڑنے سے اس وقت ناپاک ہوگا جبکہ اس کا ایک وصف بدل جائے امام شافعی و امام احمد بن حنبل اور ائمہ احناف اسی طرف گئے ہیں پھر امام شافعی (رح) کے ہاں قلتین سے کم مقدار ماء قلیل اور قلتین اور اس سے زائد کثیر ہے اور احناف قلیل و کثیر کی مقدار صاحب معاملہ کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد :
مذکورہ بالا تشریح تو امام طحاوی کے اشارہ کو سمجھانے کے لیے کی گئی ہے وہ پہلی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک جماعت نے ان آثار کو سامنے رکھ کر کہا کہ پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کا رنگ یا ذائقہ یا بو میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے جب ایک بدل جائے گا تو پانی نجس ہوجائے گا۔
نمبر ٢ : دوسرے ائمہ کے قول کی طرف اشارہ وخالفہم فی ذلک آخرون سے کردیا کہ دیگر ائمہ نے اس سے اختلاف کیا ہے اگلی سطور میں پہلے قول کے متعدد جوابات دیئے ہیں
پہلے مسلک کے جوابات :
جواب نمبر ١: روایات میں جس بیر بضاعہ کا تذکرہ ہے اس سے مسلک نمبر اول کا استدلال درست نہیں کیونکہ بیر بضاعہ کی کیفیت کے متعلق علماء کے قول بہت مختلف ہیں بعض کا قول یہ ہے کہ وہ کنواں باغات کی سیرابی کا کام دیتا تھا باغات کی طرف پانی جانے والے راستہ میں واقع تھا اس میں پانی برقرار نہیں رہتا تھا بلکہ منتقل ہوتا رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ نہروں کے پانی کی طرح جاری پانی کے حکم میں تھا اس بات کی تصدیق ہمارے استاذ ابو جعفر احمد نے شجاع ثلجی کی وساطت سے واقدی سے نقل کی ہے۔
اور جو پانی ماء جاری کے حکم میں ہو اس کے متعلق ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر اس میں نجاست گرجائے تو وہ اس وقت تک نجس نہیں ہوتا جب تک اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ نہ بدل جائے یا اس کے متعلق یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس سے حاصل کئے جانے والے پانی میں وہ نجاست مل کر آرہی ہے اگر ایسا معلوم ہو تو وہ نجس ہے ورنہ وہ پانی پاک رہے گا۔
جواب نمبر ٢: دوسری دلیل یہ ہے کہ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ نجاست کنوئیں میں گر کر پانی کے ذائقہ یا بو یا رنگ کو بدل دے تو وہ بالاتفاق نجس ہوجائے گا مذکورہ بالا روایات میں سے کسی روایت میں بھی یہ قید موجود نہیں تمہاری یہ قید قیاس سے ہوسکتی ہے تو قلیل و کثیر والی قید کیوں معتبر نہیں۔
جواب نمبر ٣: جب بالاتفاق اوصاف کی تبدیلی سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے تو بیر بضاعہ جیسا چھوٹا کنواں تو کیا ایسے چار کنوؤں میں ایک مردار کتا گرجائے تو سب کو متعفن کر دے گا پس ذرا سی سمجھ والا بیر بضاعہ والی روایت کے ظاہر سے استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ ان چیزوں کے گرنے سے تغیر نہ ہونا محال و ناممکن ہے جب یہ بات اسی طرح ہے حالانکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پانی کو مباح قرار دیا اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پانی میں کسی بھی اعتبار سے تغیر ہو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے استعمال کا حکم دیں۔
جواب نمبر ٤ واللہ اعلم۔ ہمارے نزدیک یہ بھی محال ہے کہ صحابہ کرام (رض) بیر بضاعہ کے متعلق ایسے وقت میں سوال کر رہے ہوں جبکہ یہ نجاسات اس میں موجود ہوں بلکہ (واللہ اعلم) ۔ یہ سوال کنوئیں سے ان نجاسات کے نکالے جانے کے بعد سے متعلق تھا کہ آیا وہ کنواں اور اس میں نیا نکلنے والا پانی پاک ہوجائے گا جبکہ کنوئیں کی دیواریں نہیں دھوئی گئیں اور نہ گابھ نکالی گئی۔ تو اس پر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان الماء لا ینجس “ الماء سے وہی پانی مراد ہے جو کنوئیں کی غلاظت سے صفائی کے بعد اس میں ظاہر ہوا ہے یہ معنی نہیں کہ نجاست پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اور یہ ارشاد نبوت علی اسلوب الحکیم ہے جیسا ان روایات میں ہے : ان المسلم لا ینجس اور ان الارض لاینجس۔ ان روایات کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان نجاست لگنے کے باوجود ناپاک نہیں ہوتا اور زمین نجاست پڑنے کے باوجود ناپاک نہیں ہوتی بلکہ صاف مطلب یہ ہے کہ ازالہ نجاست کے بعد وہ پاک ہوجاتے ہیں ہمیشہ ناپاک نہیں رہتے کہ پاک نہ ہو سکیں۔ واللہ اعلم
یہاں امام طحاوی (رح) نے دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں جو کہ لا ینجسہ کے مفہوم کی وضاحت کے لیے ہیں ۔
حَدَّثَنَاہُ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ حُمَیْدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ بَکْرٍ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ عَنْ ( أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَقِیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَمَدَّ یَدَہٗ إِلَیَّ فَقَبَضْتُ یَدَیَّ عَنْہُ وَقُلْتُ إِنِّیْ جُنُبٌ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ ) وَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ ( إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجُسُ ) ۔
: حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حالت میں ملا کہ مجھے غسل جنابت کی حاجت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا میں تو حالت جنابت میں ہوں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ ۔ مطلب یہ کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
تخریج : بخاری فی الغسل باب ٢٣، مسلم فی الحیض ١١٥؍١١٦‘ مسند احمد ٢؍٢٣٥؍٣٨٣‘ ابن ابی شیبہ ١؍١٧٣، بیہقی السنن الکبریٰ ١؍١٨٩۔
لطیف طرز استدلال :
جنابت والے شخص کا نماز کی ادائیگی کے لحاظ سے تمام جسم حکماً ناپاک ہے۔ مگر کھانے پینے اور مصافحہ کے لحاظ سے سوائے نجاست والے مقام کے تمام جسم پاک ہے بالکل اسی طرح جب تک کنوئیں میں نجس پانی اور اشیاء ہیں تو حکماً تمام کنواں ناپاک ہے جب ناپاک پانی نکال لیا تو اب نیا پانی اور کنوئیں کی دیواریں اور گابھ سب پاک ہیں۔
پس لاینجس کا یہ معنی نہ ہوا کہ کوئی نجس چیز اس کو ناپاک نہیں کرسکتی۔
دوسری روایت : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان الارض لاتنجس ۔
6
Al Tahawi۶ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ أَبُوْ بَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْبَکْرَاوِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُقَیْلِ ڑالدَّوْرَقِیُّ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ ( أَنَّ وَفْدَ ثَقِیفٍ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَہُمْ قُبَّۃً فِی الْمَسْجِدِ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، قَوْمٌ أَنْجَاسٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّہٗ لَیْسَ عَلَی الْأَرْضِ مِنْ أَنْجَاسِ النَّاسِ شَیْئٌ ؛ إِنَّمَا أَنْجَاسُ النَّاسِ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ) .فَلَمْ یَکُنْ مَعْنٰی قَوْلِہٖ (الْمُسْلِمُ لَا یَنْجُسُ) یُرِیْدُ بِذٰلِکَ أَنَّ بَدَنَہٗ لَا یَنْجُسُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ النَّجَاسَۃُ ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّہٗ لَا یَنْجُسُ لِمَعْنًی غَیْرِ ذٰلِکَ .وَکَذٰلِکَ قَوْلُہُ ( الْأَرْضُ لَا تَنْجُسُ ) لَیْسَ یَعْنِیْ بِذٰلِکَ أَنَّہَا لَا تَنْجُسُ، وَإِنْ أَصَابَتْہَا النَّجَاسَۃُ .وَکَیْفَ یَکُوْنُ ذٰلِکَ، وَقَدْ أَمَرَ بِالْمَکَانِ الَّذِیْ بَالَ فِیْہِ الْأَعْرَابِیُّ مِنَ الْمَسْجِدِ أَنْ یُصَبَّ عَلَیْہِ ذَنُوْبٌ مِنْ مَائٍ؟
٦: حضرت حسن بصری (رح) بیان کرتے ہیں کہ جب وفد ثقیف جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو ان کے لیے مسجد (کے صحن) میں خیمہ لگا دیا گیا اس پر صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یہ ناپاک لوگ ہیں (کافر ہیں) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زمین پر لوگوں کی (باطنی) نجاستوں سے کچھ اثر نہیں پڑتا بلاشبہ ان کی (باطنی) نجاستوں کا اثر ان کے دلوں میں ہوتا ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد المسلم لا ینجس اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کا بدن بھی پلید نہیں ہوتا اگرچہ اس کو نجاست پہنچ جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ اور معنی کے لحاظ سے یہ پلید نہیں ہوتا اور اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کہ زمین پلید نہیں ہوتی اس کا یہ مطلب نہیں اگر زمین کو نجاست پہنچ جائے تب بھی پلید نہیں ہوتی یہ کیسے کہا جاسکتا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد کے اس مقام پر جہاں بدو نے پیشاب کردیا تھا پانی کے ڈول بہانے کا حکم دیا۔
طریق استدلال :
مشرک کے جسم پر اگر ظاہری نجاست نہ ہو تو اس کے متعلق دو اعتبار ہیں نمبر ١: اگر اس کا جسم زمین پر لگ جائے تو زمین پاک رہے گی۔ نمبر ٢ : باطن اور دل کے لحاظ سے وہ نص قطعی ” انما المشرکون نجس “ سے ناپاک اور پلید ہے۔
نتیجہ : یہ ہوا کہ اس ارشاد میں ان الارض لا تنجس یا لیس علی الارض من انجاس الناس شیٔ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو ان کی باطنی نجاست پلید نہ کرے گی اسی طرح المسلم لا ینجس میں حکمی نجاست سے اس کا ظاہری بدن ناپاک نہ ہوگا کہ وہ مصافحہ کے قابل نہ رہے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زمین ظاہری نجاست کے گرنے سے بھی ناپاک نہیں ہوتی اور مسجد کے اس مقام پر جہاں اعرابی نے پیشاب کردیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کے ڈول بہانے کا حکم کیوں فرمایا ؟ جیسا کہ ان چار روایات سے ثابت ہے۔
طریق استدلال :
مشرک کے جسم پر اگر ظاہری نجاست نہ ہو تو اس کے متعلق دو اعتبار ہیں نمبر ١: اگر اس کا جسم زمین پر لگ جائے تو زمین پاک رہے گی۔ نمبر ٢ : باطن اور دل کے لحاظ سے وہ نص قطعی ” انما المشرکون نجس “ سے ناپاک اور پلید ہے۔
نتیجہ : یہ ہوا کہ اس ارشاد میں ان الارض لا تنجس یا لیس علی الارض من انجاس الناس شیٔ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو ان کی باطنی نجاست پلید نہ کرے گی اسی طرح المسلم لا ینجس میں حکمی نجاست سے اس کا ظاہری بدن ناپاک نہ ہوگا کہ وہ مصافحہ کے قابل نہ رہے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زمین ظاہری نجاست کے گرنے سے بھی ناپاک نہیں ہوتی اور مسجد کے اس مقام پر جہاں اعرابی نے پیشاب کردیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کے ڈول بہانے کا حکم کیوں فرمایا ؟ جیسا کہ ان چار روایات سے ثابت ہے۔
7
Al Tahawi۷ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ ثَنَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ الْیَمَامِیُّ قَالَ ثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ : (بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوْسًا اِذْ جَائَ أَعْرَابِیٌّ فَقَامَ یَبُوْلُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَہْ مَہْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعُوْہُ فَتَرَکُوْہُ حَتّٰی بَالَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَاہُ فَقَالَ لَہٗ : إِنَّ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَیْئٍ مِنْ ھٰذَا الْبَوْلِ وَالْعَذِرَۃِ ، إِنَّمَا ہِیَ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃِ وَقِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ .قَالَ عِکْرِمَۃُ : أَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَجَائَ ہُ بِدَلْوٍ مِنْ مَائٍ فَشَنَّہٗ عَلَیْہِ).
٧ : حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں دریں اثناء کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کہا رک رک : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو چھوڑدو۔ صحابہ کرام (رض) نے اس سے تعرض نہ کیا یہاں تک کہ وہ پیشاب کرچکا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلا کر فرمایا۔ بلاشبہ یہ مساجد پیشاب و پائخانہ جیسی غلاظت کے مناسب نہیں بلاشبہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ذکر ‘ نماز اور قراءت قرآن مجید کے لیے بنائی گئی ہیں۔ عکرمہ کی روایت میں اوکما قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یا جیسا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) کے الفاظ اور یہ الفاظ زائد ہیں : فامر رجلاً فجاء ہ بدلو من مائٍ فشنہ علیہ “ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم فرمایا (کہ وہ پانی لائے تو) وہ آپ کے پاس پانی کا ایک ڈول لایا اور اس پر بہا دیا۔
اللغات : اعرابی : بدو۔ اس کا نام ذوالخویصرہ تمیمی ہے۔ لا تصلح : مناسب نہیں ۔ العذرۃ : پائخانہ۔
تخریج : بخاری عن انس بن مالک فی الوضوء باب ٥٧‘ مسلم فی الطھارۃ حدیث ١٠٠ عن ابی ہریرہ فی الوضوء باب ٥٨ ۔
اللغات : اعرابی : بدو۔ اس کا نام ذوالخویصرہ تمیمی ہے۔ لا تصلح : مناسب نہیں ۔ العذرۃ : پائخانہ۔
تخریج : بخاری عن انس بن مالک فی الوضوء باب ٥٧‘ مسلم فی الطھارۃ حدیث ١٠٠ عن ابی ہریرہ فی الوضوء باب ٥٨ ۔
8
Al Tahawi۸ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ ثَنَا یَحْیٰی قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، أَنَّہٗ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَذْکُرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَہُ غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہٗ "إِنَّ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدَ" إِلٰی آخِرِ الْحَدِیْثِ وَرَوٰی طَاوٗسٌ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِمَکَانِہٖ أَنْ یُحْفَرَ)۔
٨ : حضرت انس (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ یہ الفاظ اس میں نہیں ” ان ھذہ المساجد “ تا آخرالحدیث۔
فرق روایت :
یہ روایت یحییٰ بن سعید نے نقل کی ہے جبکہ طاؤس کی روایت میں اس طرح ہے : ان النبی ا امر بمکانہ ان یحفر۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ کو کھودنے کا حکم فرمایا (کہ گندی مٹی کو کھود کر باہر پھینک دیا جائے)
اللغات : یحفر۔ حفر یحفر : زمین کھودنا۔
تخریج : ایضًا ۔
(زمین کی پاکیزگی میں احناف کا قول نمبر ١ پانی ڈال دیں اور زمین خشک ہوجائے نمبر ٢ گندی مٹی کو کھود کر پھینک دیا جائے) ۔
فرق روایت :
یہ روایت یحییٰ بن سعید نے نقل کی ہے جبکہ طاؤس کی روایت میں اس طرح ہے : ان النبی ا امر بمکانہ ان یحفر۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ کو کھودنے کا حکم فرمایا (کہ گندی مٹی کو کھود کر باہر پھینک دیا جائے)
اللغات : یحفر۔ حفر یحفر : زمین کھودنا۔
تخریج : ایضًا ۔
(زمین کی پاکیزگی میں احناف کا قول نمبر ١ پانی ڈال دیں اور زمین خشک ہوجائے نمبر ٢ گندی مٹی کو کھود کر پھینک دیا جائے) ۔
9
Al Tahawi۹ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ أَبُوْ بَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْبَکْرَاوِیُّ ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ طَاوٗسٍ بِذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ أَیْضًا ۔
٩ : عمر بن دینار نے طاؤس سے اس کو روایت کیا جبکہ یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
تخریج : روایت نمبر ٨ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
تخریج : روایت نمبر ٨ کی تخریج ملاحظہ ہو۔
10
Al Tahawi۱۰ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ الْحِمَّانِیُّ قَالَ ثَنَا أَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مَالِکِ ڑالْأَسَدِیِّ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ : ( بَالَ أَعْرَابِیٌّ فِی الْمَسْجِدِ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصُبَّ عَلَیْہِ دَلْوٌ مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ أَمَرَ بِہٖ فَحَفَرَ مَکَانَہُ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَکَانَ مَعْنٰی قَوْلِہٖ (إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَنْجُسُ) أَیْ أَنَّہَا لَا تَبْقَیْ نَجِسَۃً اِذَا زَالَتِ النَّجَاسَۃُ مِنْہَا لَا أَنَّہٗ یُرِیْدُ أَنَّہَا غَیْرُ نَجِسَۃٍ فِیْ حَالِ کَوْنِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا .فَکَذٰلِکَ قَوْلُہُ فِیْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ( إِنَّ الْمَائَ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْئٌ ) لَیْسَ ہُوَ عَلٰی حَالِ کَوْنِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا ؛ إِنَّمَا ہُوَ عَلٰی حَالِ عَدَمِ النَّجَاسَۃِ فِیْہَا .فَھٰذَا وَجْہُ قَوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ ( الْمَائُ لَا یُنَجِّسُہٗ شَیْئٌ) - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ - وَقَدْ رَأَیْنَاہُ بَیَّنَ ذٰلِکَ فِیْ غَیْرِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ .
١٠ : ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا (کہ اس پر پانی ڈالا جائے تو) اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دیا گیا پھر (پانی جذب ہونے کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جگہ کو کھودنے کا حکم فرمایا۔ ابو جعفر (رح) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد : (ان الارض لا تنجس) کا معنی یہ ہے کہ زمین سے جب نجاست دور کردی جائے تو وہ نجس باقی نہیں رہتی یہ معنی نہیں ہے کہ نجاست کے ہونے کے باوجود وہ پلید نہیں ہوتی چنانچہ اس طرح بیر بضاعہ کے بارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : (ان الماء لاینجسہ) نجاست کہ اس میں رہنے کی صورت میں نہیں بلکہ وہ نجاست کے نہ ہونے کی صورت میں ہے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کی (الماء یجنس) وجہ سے ۔ (واللہ اعلم) چنانچہ یہ وضاحت ہم نے اس حدیث کے علاوہ میں پائی ہے۔
اللغات : صب۔ پانی کا بہنا ‘ بہانا۔
تخریج : دار قطنی کتاب الطھارۃ ١؍١٣٢
تبصرہ طحاوی (رح) :
اس سے معلوم ہوا کہ ان الارض لا تنجس “ کا مطلب یہ ہے کہ جب نجاست زائل کردی جائے تو زمین ناپاک نہیں رہتی یہ مطلب نہیں کہ نجاست کے پائے جانے کی شکل میں وہ مقام ناپاک نہیں ہوتا۔
بالکل اسی طرح بیر بضاعہ کا معاملہ ہے کہ ان الماء لا ینجسہ شیٔ“ میں نجاست کے کنوئیں میں موجود ہونے کی حالت کا تذکرہ نہیں بلکہ نجاست کے نکال دیئے جانے کے بعد والی حالت کا ذکر ہے۔ ہم نے لا ینجسہ شیٔ کی جو وجہ بیر بضاعہ کے متعلق بیان کی ہے یہ اور کئی روایات سے بھی ثابت ہے جو ہمارے اس بیان کی تصدیق کرتی ہیں ان کو ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
اللغات : صب۔ پانی کا بہنا ‘ بہانا۔
تخریج : دار قطنی کتاب الطھارۃ ١؍١٣٢
تبصرہ طحاوی (رح) :
اس سے معلوم ہوا کہ ان الارض لا تنجس “ کا مطلب یہ ہے کہ جب نجاست زائل کردی جائے تو زمین ناپاک نہیں رہتی یہ مطلب نہیں کہ نجاست کے پائے جانے کی شکل میں وہ مقام ناپاک نہیں ہوتا۔
بالکل اسی طرح بیر بضاعہ کا معاملہ ہے کہ ان الماء لا ینجسہ شیٔ“ میں نجاست کے کنوئیں میں موجود ہونے کی حالت کا تذکرہ نہیں بلکہ نجاست کے نکال دیئے جانے کے بعد والی حالت کا ذکر ہے۔ ہم نے لا ینجسہ شیٔ کی جو وجہ بیر بضاعہ کے متعلق بیان کی ہے یہ اور کئی روایات سے بھی ثابت ہے جو ہمارے اس بیان کی تصدیق کرتی ہیں ان کو ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔