hadith book logo

Al Tahawi

13. جہاد کا بیان

الطحاوي

4966
Al Tahawi
۴۹۶۵: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ زِیَادٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نَضْلَۃَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ فَضَرَبَتْ اِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی بِعَمُوْدِ فُسْطَاطٍ أَوْ بِحَجَرٍ فَأَسْقَطَتْ .فَرُفِعَ ذٰلِکَ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الَّذِیْ یُخَاصِمُ کَیْفَ یُعْقَلُ أَوْ کَیْفَ یُوْدَی مَنْ لَا صَاحَ فَاسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ ؟ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ غُرَّۃً فَجَعَلَہٗ عَلَی قَوْمِہَا قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْغُرَّۃَ الْوَاجِبَۃَ فِی الْجَنِیْنِ اِنَّمَا تَجِبُ لِأُمِّ الْجَنِیْنِ لِأَنَّ الْجَنِیْنَ لَمْ یَعْلَمْ أَنَّہٗ کَانَ حَیًّا فِیْ وَقْتِ وُقُوْعِ الضَّرْبَۃِ بِأُمِّہِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : بَلْ تِلْکَ الْغُرَّۃُ الْمَحْکُوْمُ بِہَا الْجَنِیْنُ ثُمَّ یَرِثُہَا مَنْ کَانَ یَرِثُہُ لَوْ کَانَ حَیًّا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَیْ عَلَی الْمَحْکُوْمِ عَلَیْہِ بِالْغُرَّۃِ قَالَ کَیْفَ یَعْقِلُ مَنْ لَا أَکَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا نَطَقَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہِ غُرَّۃٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَۃٌ وَلَمْ یَقُلْ لِلَّذِیْ سَجَعَ ذٰلِکَ السَّجْعَ اِنَّمَا حَکَمْتُ بِہٰذَا لِلْجِنَایَۃِ عَلَی الْمَرْأَۃِ لَا فِی الْجَنِیْنِ .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا مَا رَوَیْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ فِیْ ہٰذَا الْکِتَابِ أَنَّ الْمَضْرُوْبَۃَ مَاتَتْ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْ الضَّرْبَۃِ فَقَضَیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْہَا بِالدِّیَۃِ مَعَ قَضَائِہِ بِالْغُرَّۃِ .فَلَوْ کَانَتِ الْغُرَّۃُ لِلْمَرْأَۃِ الْمَقْتُوْلَۃِ اِذًا لَمَا قَضَی لَہَا بِالْغُرَّۃِ وَلَکَانَ حُکْمُہَا حُکْمَ امْرَأَۃٍ ضَرَبَتْہَا امْرَأَۃٌ فَمَاتَتْ مِنْ ضَرْبِہَا فَعَلَیْہَا دِیَتُہَا وَلَا یَجِبُ عَلَیْہَا لِلضَّرْبَۃِ أَرْشٌ .فَلَمَّا حَکَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ دِیَۃِ الْمَرْأَۃِ بِالْغُرَّۃِ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْغُرَّۃَ دِیَۃٌ لِلْجَنِیْنِ لَا لَہَا فَہِیَ مَوْرُوْثَۃٌ عَنِ الْجَنِیْنِ کَمَا یُوَرَّثُ مَالُہُ لَہُ لَوْ کَانَ حَیًّا فَمَاتَ اتِّبَاعًا لِمَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٤٩٦٥: عبید بن نضلہ نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی کی دو عورتیں تھیں ایک نے دوسری کو خیمے کا کھونٹا دے مارا یا پتھر مارا۔ جس سے اس نے بچہ گرا دیا تو یہ معاملہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا تو جھگڑا کرنے والے نے کہا اس کی کس طرح دیت ہوگی یا کس طرح اس کی دیت ادا کی جائے گی جو نہ چیخا ‘ نہ چلّایا اور نہ اس نے کھایا اور نہ پیا۔ تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو دیہاتیوں کی طرح تک بندی کرتا ہے ‘ پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرما کر اس مارنے والی عورت کی قوم پر دیت کو ڈالا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ جنین کی وجہ سے جو غلام لازم ہوگا وہ جنین کی ماں کے لیے ہوگا کیونکہ معلوم نہیں کہ ماں کو مارتے وقت جنین زندہ تھا یا مردہ۔ جس غلام کا فیصلہ ہوا وہ جنین کا ہوگا پھر اس کے ورثاء وہی ہوں گے جو بچے کے ورثاء ہیں یعنی زندہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے۔ فریق ثانی کی دلیل ان روایات کے ضمن میں پائی جاتی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب غلام دینے کا فیصلہ فرمایا تو اس نے کہا اس کی دیت کس طرح دی جائے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ کلام کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں ایک غلام یا لونڈی ہے۔ آپ نے اس تک بندی والے کو یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ حکم اس لیے دیا ہے کہ عورت کو نقصان پہنچایا گیا ہے جنین کی وجہ سے یہ حکم نہیں ہے۔ اس بات پر وہ روایات دلالت کرتی ہیں جو اس کتاب میں پہلے مذکور ہوئیں کہ ضرب کے بعد مضروبہ عورت مرگئی۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلام کے فیصلہ کے ساتھ ساتھ دیت کا فیصلہ بھی فرمایا۔ اگر بالفرض وہ غلام اس مقتولہ عورت کا ہوتا تو آپ غلام کا فیصلہ نہ فرماتے اور اس کا حال اس عورت جیسا ہوتا جس کو دوسری عورت مارتے اور وہ اس کی ضرب سے مرجائے تو اس (قاتلہ) پر اس کی دیت لازم ہوتی ہے مارنے کی وجہ سے تاوان نہیں ہوا۔ پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کی دیت کے باوجود غلام کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ غلام اس جنین کی دیت ہے اس عورت کی نہیں۔ وہ عورت اس بچے کے مال میں اس طرح وارث ہوگی جس طرح اس کے زندہ رہنے کی صورت میں بھی (مرجانے) کی صورت میں۔ اس کی وارث ہوتی۔ اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : مسلم فی القسامۃ ٣٧؍٣٨‘ ابو داؤد فی الدیات باب ١٩‘ نسائی فی القسامۃ باب ٤٠؍٤١‘ مسند احمد ٤‘ ٢٤٥؍٢٤٦‘ ٢٤٩۔
قول امام طحاوی (رح) : علماء کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ جنین کی وجہ سے جو غلام لازم ہوگا وہ جنین کی ماں کے لیے ہوگا کیونکہ معلوم نہیں کہ ماں کو مارتے وقت جنین زندہ تھا یا مردہ۔
فریق ثانی کا مؤقف : جس غلام کا فیصلہ ہوا وہ جنین کا ہوگا پھر اس کے ورثاء وہی ہوں گے جو بچے کے ورثاء ہیں یعنی زندہ ہونے کی صورت میں وارث بنتے۔
فریق ثانی کی دلیل ان روایات کے ضمن میں پائی جاتی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب غلام دینے کا فیصلہ فرمایا تو اس نے کہا اس کی دیت کس طرح دی جائے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ کلام کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں ایک غلام یا لونڈی ہے۔ آپ نے اس تک بندی والے کو یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ حکم اس لیے دیا ہے کہ عورت کو نقصان پہنچایا گیا ہے جنین کی وجہ سے یہ حکم نہیں ہے۔
دلالت روایات :
اس بات پر وہ روایات دلالت کرتی ہیں جو اس کتاب میں پہلے مذکور ہوئیں کہ ضرب کے بعد مضروبہ عورت مرگئی۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غلام کے فیصلہ کے ساتھ ساتھ دیت کا فیصلہ بھی فرمایا۔ اگر بالفرض وہ غلام اس مقتولہ عورت کا ہوتا تو آپ غلام کا فیصلہ نہ فرماتے اور اس کا حال اس عورت جیسا ہوتا جس کو دوسری عورت مارے اور وہ اس کی ضرب سے مرجائے تو اس (قاتلہ) پر اس کی دیت لازم ہوتی ہے مارنے کی وجہ سے تاوان نہیں ہوتا۔
پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کی دیت کے باوجود غلام کے ساتھ فیصلہ فرمایا تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ غلام اس جنین کی دیت ہے اس عورت کی نہیں۔ وہ عورت اس بچے کے مال میں اس طرح وارث ہوگی جس طرح اس کے زندہ رہنے کی صورت میں پھر (مرجانے) کی صورت میں۔ اس کی وارث ہوتی۔ اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی روایات کی اتباع ہے۔
یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
4967
Al Tahawi
۴۹۶۶: حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ الْفِرْیَابِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیْدٍ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلٰی سَرِیَّۃٍ قَالَ لَہُ اِذَا لَقِیْتُ عَدُوَّک مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، فَادْعُہُمْ اِلَیْ اِحْدَی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَیَّتُہُنَّ أَجَابُوْک اِلَیْہَا ، فَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، وَکُفَّ عَنْہُمْ ، اُدْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ ، فَاِنْ أَجَابُوْکَ، فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، ثُمَّ اُدْعُہُمْ اِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ اِلَی دَارِ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَأَخْبِرْہُمْ أَنَّہُمْ اِنْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ ، أَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِیْنَ ، وَلَہُمْ مَا لَہُمْ ، فَاِنْ ہُمْ أَبَوْا ، فَأَخْبِرْہُمْ أَنَّہُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِیْنَ ، یَجْرِیْ عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِیْ یَجْرِیْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ، وَلَا یَکُوْنُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیْمَۃِ شَیْء ٌ ، اِلَّا أَنْ یُجَاہِدُوْا مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَاِنْ ہُمْ أَبَوْا أَنْ یَدْخُلُوْا فِی الْاِسْلَامِ ، فَسَلْہُمْ اِعْطَائَ الْجِزْیَۃِ ، فَاِنْ أَجَابُوْا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، وَکُفَّ عَنْہُمْ ، فَاِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاَللّٰہِ وَقَاتِلْہُمْ قَالَ عَلْقَمَۃُ : فَحَدَّثْتُ بِہٖ مُقَاتِلَ بْنَ حَیَّانَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِیْ مُسْلِمُ بْنُ ہَیْصَمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقْرِنٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٤٩٦٦: علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے تو اس کو فرماتے جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے مقابل ہوجاؤ تو ان کو تین باتوں میں سے ایک کی طرف بلاؤ (آپ نے لفظ خلال یا خصال فرمایا دونوں کا ایک ہی معنی ہے) وہ ان میں سے جس بات کو تسلیم کرلیں تم ان کی طرف سے قبول کرلو اور ہاتھ روک لو۔ ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ تسلیم کرلیں تو ان سے قبول کرلو اور ہاتھ روک لو۔ پھر ان کو اپنے علاقہ سے مسلمانوں کے ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ اگر وہ ایسا کرلیں تو ان پر وہی کچھ لازم ہوگا جو مہاجرین پر ہے اور انھیں وہی کچھ (حقوق) حاصل ہوں گے جو ان کو حاصل ہیں اور اگر وہ وہاں سے ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا وہ حکم جاری ہوگا جو عام مؤمنوں پر جاری ہوتا ہے۔ مگر ان کے لیے غنیمت اور مال فئی میں کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کریں۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انھیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اس کو تسلیم کرلیں تو ان کی یہ بات قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو۔ اگر وہ اس سے انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد چاہو اور ان سے لڑو۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات مقاتل بن حیان سے بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن (رض) سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح نقل کی ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٢‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ٨٢‘ ترمذی فی السیر ٣٠؍٤٧‘ ابن ماجہ فی الجہاد باب ٣٨‘ دارمی فی السیر باب ٣٨‘ مسند احمد ٥‘ ٣٥٢؍٣٥٨۔
4968
Al Tahawi
۴۹۶۷: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ حَدِیْثَ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ مُقَاتِلٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ہَیْصَمٍ
٤٩٦٧: ابو حذیفہ نے سفیان سے اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے البتہ انھوں نے روایت میں علقمہ کی روایت کو عن مقاتل عن مسلم بن ہیصم کا تذکر نہیں کیا۔
4969
Al Tahawi
۴۹۶۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ أَبُوْ صَالِحٍ .ح وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَحِ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ ، قَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ الْحَضْرَمِیِّ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٤٩٦٨: شعبہ بن حجاج نے علقمہ بن مرثد حضرمی سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
4970
Al Tahawi
۴۹۶۹: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّہَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ اِلَی خَیْبَرَ وَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُقَاتِلُہُمْ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مِثْلَنَا ؟ .قَالَ اُنْفُذْ عَلٰی رِسْلِک حَتّٰی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ ، ثُمَّ اُدْعُہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ ، وَأَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاللّٰہِ لَأَنْ یَہْدِیَ اللّٰہُ بِک رَجُلًا وَاحِدًا ، خَیْرٌ لَک مِنْ أَنْ تَکُوْنَ لَک حُمْرُ النَّعَمِ .
٤٩٦٩: ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت علی (رض) کو خیبر کی طرف بھیجا اور ان کو جھنڈا عنایت فرمایا تو حضرت علی (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہوجائیں۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے طریقے پر چلتے رہو یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں جا اترو۔ پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو بتلاؤ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق لازم ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
تخریج : بخاری فی الجہاد باب ١٤٣‘ فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب ٩‘ مسلم فی فضائل الصحابہ ٣٤‘ مسند احمد ٥؍٣٣٣۔
4971
Al Tahawi
۴۹۷۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ السَّفْطِیُّ ، قَالَ : ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَر ، عَنِ ابْنِ أَخِی أَنَسِ بْنَ مَالِکٍ ، عَنْ عَمِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ اِلَی قَوْمٍ یُقَاتِلُہُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ فِیْ أَثَرِہِ یَدْعُوْھُ ، وَقَالَ لَہُ لَا تَأْتِہِ مِنْ خَلْفِہٖ، وَائْتِہِ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ قَالَ : وَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا أَنْ لَا یُقَاتِلَہُمْ ، حَتّٰی یَدْعُوَہُمْ .
٤٩٧٠: عمر بن ذر نے انس بن مالک کے بھتیجے سے وہ اپنے چچا انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک قوم کی طرف جہاد کے لیے روانہ فرمایا پھر ان کے پیچھے کسی کو بلانے کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ ان کے پیچھے کی بجائے ان کے سامنے کی طرف سے آنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو حکم فرمایا۔ کہ جب تک ان (کفار) کو دعوت اسلام نہ دے لیں ان سے اس وقت تک لڑائی نہ کریں۔
4972
Al Tahawi
۴۹۷۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَا قَاتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَوْمًا ، حَتّٰی یَدْعُوَہُمْ .
٤٩٧١: ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی قوم کو دعوت اسلام دینے کے بغیر ان سے لڑائی نہیں کی۔
تخریج : مسند احمد ١؍٢٣١‘ ٢٣٦۔
4973
Al Tahawi
۴۹۷۲: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عِیْسَی بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ ثَنَا الْحَجَّاجُ ، قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِیْ نَجِیْحٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٤٩٧٢: حجاج نے عبداللہ بن نجیح سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
4974
Al Tahawi
۴۹۷۳: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِیْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ نَجِیْحٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٤٩٧٣: حجاج نے ابن ابی نجیح سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
4975
Al Tahawi
۴۹۷۴: حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْاِمَامَ وَأَہْلَ السَّرَایَا ، اِذَا أَرَادُوْا قِتَالَ الْعَدُوِّ ، دَعَوْہُمْ قَبْلَ ذٰلِکَ اِلَی مِثْلِ مَا رَوَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ بُرَیْدَۃَ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ ، وَقَالُوْا : اِنْ قَاتَلَہُمُ الْاِمَامُ أَوْ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ سَرَایَاہٗ، مِنْ غَیْرِ ہٰذَا الدُّعَائِ فَقَدْ أَسَائُوْا فِیْ ذٰلِکَ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِقِتَالِہِمْ وَالْغَارَۃِ عَلَیْہِمْ ، وَاِنْ لَمْ یُدْعَوْا قَبْلَ ذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٤٩٧٤: حفص بن غیاث نے حجاج سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ امام یا امیر لشکر جب دشمن سے قتال کا ارادہ کریں گے تو ان کو اسلام کی طرف دعوت دیں جیسا کہ روایت بریدہ (رض) میں نقل کیا گیا ہے اور انھوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے اور انھوں نے استدلال میں یہ بات کہی ہے کہ اگر امام ان سے لڑائی کرے یا چھوٹے لشکر کا کوئی آدمی لڑائی کرے اور دعوت نہ دی ہو تو وہ گناہ گار ٹھہریں گے۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ کفار سے بلادعوت قتال میں کوئی حرج نہیں اور ان پر شب خون مارنے میں بھی کوئی حرج نہیں خواہ ان کو دعوت نہ دی گئی ہو انھوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔