hadith book logo

Al Tahawi

31. وصیت کا بیان۔

الطحاوي

7239
Al Tahawi
۷۲۳۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ ، مَرَضًا أَشْفَیْتُ مِنْہُ عَلَی الْمَوْتِ .فَأَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدنِیْ، فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّ لِیْ مَالًا کَثِیْرًا ، وَلَیْسَ یَرِثُنِیْ اِلَّا ابْنَتِی أَفَأَتَصَدَّقُ بِمَالِیْ کُلِّہٖ؟ قَالَ لَا .قَالَ : أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟ قَالَ لَا قَالَ : فَالشَّطْرِ ؟ قَالَ لَا قَالَ : فَالثُّلُثِ ؟ قَالَ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔
٧٢٣٦: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ میں فتح مکہ والے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کو جھانکنے لگا تو میرے پاس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں اپنا تمام مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں میں نے دوبارہ استفسار کیا کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں تو فرمایا نہیں پھر تیسری مرتبہ پوچھا کہ نصف مال ؟ تو ارشاد ہوا نہیں پھر عرض کیا ایک ثلث مال تو فرمایا تیسرا حصہ اور تیسرا حصہ بہت ہے۔
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٣٧‘ مانقب الانصار باب ٤٩‘ والفرائض باب ٦‘ والمرضیٰ باب ١٦‘ والدعوات باب ٤٣‘ والمغازی باب ٧٧‘ مسلم فی الوصیۃ باب ٥‘ ابو داؤد فی الوصایا باب ٢‘ نسائی فی الوصیۃ باب ٣٢‘ ابن ماجہ فی الوصیۃ باب ٥‘ مالک فی الوصایۃ ٤‘ مسند احمد ١؍١٧٩۔۔۔ خلاصہ الزام :
اس سلسلہ میں دو قول ہیں :
مکمل ٣؍١ میں وصیت کرے۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ ٣؍١ سے کم میں وصیت کرے وہی نافذالعمل ہوگی ۔ یہ ائمہ احناف کا قول ہے۔
فریق اوّل کی مستداول روایات :
7240
Al Tahawi
۷۲۳۷ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ بَکْرٍ ، قَالَ : ثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِی ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْہَ قَالَ : عَادَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْت ، أُوْصِیْ بِمَالِیْ کُلِّہٖ ؟ قَالَ : لَا قُلْتُ : فَالنِّصْفِ ؟ قَالَ لَا قُلْتُ : فَالثُّلُثِ ؟ قَالَ نَعَمْ ، وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔
٧٢٣٧: مصعب بن سعد نے حضرت سعد سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کیا میں اپنے تمام مال کی (صدقہ میں) وصیت کر جاؤں ؟ فرمایا نہیں۔ میں نے کہا پھر آدھا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں نے تیسری بار عرض کیا تیسرا حصہ آپ نے فرمایا ہاں۔ اور ثلث بہت ہے۔
7241
Al Tahawi
۷۲۳۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : قَالَ سَعْدٌ ، ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَہٗ۔قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ ، فَتَکَلَّمَ النَّاسُ فِی الرَّجُلِ ، ہَلْ یَسَعُہُ أَنْ یُوْصِیَ بِثُلُثِ مَالِہٖ ، أَوْ یَنْبَغِی أَنْ یَقْصُرَ عَنْ ذٰلِکَ ؟ فَقَالَ قَوْمٌ : لَہٗ أَنْ یُوْصِیَ بِثُلُثِ مَالِہِ کَامِلًا ، فِیْمَا أَحَبَّ ، بِمَا یَجُوْزُ فِیْہِ الْوَصَایَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِاِبَاحَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ ، أَنْ یُوْصِیَ بِثُلُثِ مَالِہٖ ، بَعْدَ مَنْعِہِ أَنْ یُوْصِیَ بِمَا ہُوَ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ .
٧٢٣٨: عطاء بن سائب نے ابو عبدالرحمن سے وہ کہتے ہیں کہ سعد (رض) نے کہا پھر اسی طرح روایت نقل کی۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : لوگوں نے اس آدمی کے متعلق اختلاف کیا ہے کہ آیا ثلث مال یا اس سے کم کی وصیت کرنا درست ہے۔
ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ ثلث کامل کی وصیت کرے جن اموال میں وصیت درست ہے انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد کو ثلث حصہ مال کی وصیت کے لیے اجازت مرحمت فرمائی اس کے بعد کہ اس سے زائد سے روکا جیسا کہ سابقہ آثار میں مذکور ہوا۔
7242
Al Tahawi
۷۲۳۹ : وَبِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ طَلْحَۃُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِیُّ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ، جَعَلَ لَکُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِکُمْ ، آخِرَ أَعْمَارِکُمْ ، زِیَادَۃً فِیْ أَعْمَالِکُمْ۔ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا یَنْبَغِیْ لِلْمُوْصِیْ أَنْ یَقْصُرَ فِیْ وَصِیَّتِہِ عَنْ ثُلُثِ مَالِہِ ؛ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الثُّلُثُ ، وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔فَمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَمَّنْ ذَہَبَ اِلَیْہِ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ ۔
٧٢٣٩: عطاء نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے ثلث مال کو مقرر فرمایا تاکہ آخری عمر میں اپنے اعمال میں اضافہ کرسکو۔ فریق ثانی کا مؤقف ہے کہ وصیت کرنے والے کو ثلث سے کم کی وصیت کرنی چاہیے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیسرا حصہ ‘ تیسرا حصہ تو بہت زیادہ ہے۔ اس قول کو متقدمین کی ایک جماعت سے اختیار کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو)
7243
Al Tahawi
۷۲۴۰ : مَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ : اسْتَقْصِرُوْا عَنْ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّہٗ لَکَثِیْرٌ۔
٧٢٤٠: عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کہا کرتے تھے کہ انہ لکثیر کے ارشاد گرامی سے قلت کا معنی مراد لو۔
7244
Al Tahawi
۷۲۴۱ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَنَا حُمَیْدٌ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ أَقْصَیْتُ أَبِیْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ : مَا کُنْتُ لِأَقْبَلَ وَصِیَّۃَ رَجُلٍ لَہٗ وَلَدٌ ، یُوْصِیْ بِالثُّلُثِ .فَمِنَ الْحُجَّۃِ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَنَّ الْوَصِیَّۃَ بِالثُّلُثِ ، لَوْ کَانَتْ جَوْرًا اِذًا ، لَأَنْکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ ، عَلٰی سَعْدٍ ، وَلَقَالَ لَہٗ : أَقْصِرْ عَنْ الثُّلُثِ ، فَلَمَّا تَرَکَ ذٰلِکَ ، کَانَ قَدْ أَبَاحَہُ اِیَّاہُ .وَفِیْ ذٰلِکَ ثُبُوْتُ مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی . ثُمَّ تَکَلَّمَ النَّاسُ بَعْدَ ہٰذَا فِیْ ھِبَاتِ الْمَرِیْضِ وَصَدَقَاتِہٖ، اِذَا مَاتَ فِیْ مَرَضِہِ ذٰلِکَ .فَقَالَ قَوْمٌ ، وَہُمْ أَکْثَرُ الْعُلَمَائِ : ہِیَ مِنْ الثُّلُثِ کَسَائِرِ الْوَصَایَا ، وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلَی ذٰلِکَ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَالَتْ فِرْقَۃٌ : ہُوَ مِنْ جَمِیْعِ الْمَالِ ، کَأَفْعَالِہٖ ، وَہُوَ صَحِیْحٌ ، وَہٰذَا قَوْلٌ ، لَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ ، قَالَہٗ۔وَقَدْ رَوَیْنَا فِیْمَا تَقَدَّمَ ، مِنْ کِتَابِنَا ہٰذَا، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : نَحَلَنِیْ أَبُوْبَکْرٍ جِدَادَ عِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ مَالِہٖ ، بِالْعَالِیَۃِ .فَلَمَّا مَرِضَ ، قَالَ لِی : اِنِّیْ کُنْتُ نَحَلْتُک جِدَادَ عِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ مَالِیْ بِالْعَالِیَۃِ ، فَلَوْ کُنْتُ جَدَدْتِیْہِ وَحُزْتِیْہٖ، کَانَ لَکَ، وَاِنَّمَا ہُوَ الْیَوْمَ مَالُ وَارِثٍ ، فَاقْتَسِمُوْھُ بَیْنَکُمْ ، عَلَی کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالَی۔فَأَخْبَرَ أَبُوْبَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہَا لَوْ قَبَضَتْ ذٰلِکَ فِی الصِّحَّۃ تَمَّ لَہَا مِلْکُہُ وَأَنَّہَا لَا تَسْتَطِیْعُ قَبْضَہُ فِی الْمَرَضِ قَبْضًا تَتِمُّ لَہَا بِہٖ مِلِکُہٗ، وَجَعَلَ ذٰلِکَ غَیْرَ جَائِزٍ ، کَمَا لَا تَجُوْزُ الْوَصِیَّۃُ لَہَا ، وَلَمْ تُنْکِرْ ذٰلِکَ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، وَلَا سَائِرُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَذْہَبَہُمْ جَمِیْعًا فِیْہٖ، کَانَ مِثْلَ مَذْہَبِہٖ .فَلَوْ لَمْ یَکُنْ لِمَنْ ذَہَبَ اِلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنَ الْحُجَّۃِ ، لِقَوْلِہِمْ الَّذِیْ ذٰہَبُوْا اِلَیْہٖ، اِلَّا مَا فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَمَا تَرْکِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِنَ الْاِنْکَارِ فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِیْ بَکْرٍ - لَکَانَ فِیْہِ أَعْظَمُ الْحُجَّۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا .
٧٢٤١: بکیر کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید بن عبدالرحمن حمیری سے یہ بات حاصل کی کہ وہ فرماتے تھے میں اس شخص کی وصیت قبول نہ کروں گا جس کی اولاد موجود ہو اور وہ ثلث مال کی وصیت کر جاتے۔ اگر ثلث کی وصیت ظلم و زیادتی ہوتی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا انکار کرتے اور سعد کو منع کرتے ہوئے فرماتے کہ ثلث سے باز رہو۔ پس جب آپ نے ان کو اس حال میں چھوڑ دیا تو گویا آپ نے اس کو مباح قرار دیا اس سے فریق اوّل اور ان کی بات ثابت ہوگئی جنہوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ ان میں امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) محمد (رح) ہیں۔ علماء نے اس کے بعد مریض کے ہبات و صدقات میں کلام کیا ہے جبکہ وہ مریض اپنی اسی مرض میں مرجائے جس میں کلام کیا ہے۔ یہ اکثر علماء کا قول ہے کہ یہ تمام وصایا کی طرح ثلث مال سے ہوگا امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔ وہ اس کے تمام مال سے ہوگا جیسا کہ صحت کی حالت میں اس کے افعال کا حکم ہے ہمارے علم میں متقدمین میں سے یہ کسی کا بھی قول نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اپنی اسی کتاب میں حضرت عائشہ (رض) کی یہ روایت نقل کرچکے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں جناب ابوبکر (رض) نے مجھے مقام عالیہ کی اتری ہوئی کھجوروں میں سے بیس وسق کھجوریں دیں۔ جب وہ بیمار ہوئے تو انھوں نے مجھے فرمایا میں نے تمہیں عالیہ کی بیس وسق اتری ہوئی کھجوریں دی تھیں اگر تم کاٹ کر ان کو اپنی حفاظت میں لے لیتیں تو وہ تمہاری ہوجاتیں اور آج وہ وارث کا مال بن چکی ہیں۔ ان کو اپنے مابین تقسیم کرلینا جیسا کہ قرآن مجید کا حکم ہے۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے اس ارشاد سے بتلا دیا اگر وہ ان کھجوروں کو ان کے مال میں سے الگ کر کے قبضہ کرلیتیں تو وہ انہی کی ملک تھیں وہ اس کی مالک بن جاتیں اب اس کو اسی طرح ناجائز قرار دیا جس طرح وصیت ان کے لیے ناجائز تھی اور حضرت عائشہ (رض) نے اس کا انکار نہ کیا اور نہ ہی دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار کیا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ان تمام کا مذہب وہی تھا جو حضرت صدیق (رض) کا تھا جو لوگ اس طرف گئے ہیں اگر ان کے پاس اپنے مذہب کے لیے اور کوئی دلیل بھی نہ ہوتی تو یہی دلیل کافی تھی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صدیق اکبر (رض) کے اس فعل پر انکار نہیں کیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ایسی روایات وارد ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔
7245
Al Tahawi
۷۲۴۲ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : ثَنَا مَنْصُوْرُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا ، أَعْتَقَ سِتَّۃَ أَعْبُدٍ لَہٗ عِنْدَ الْمَوْتِ .لَا مَالَ لَہٗ غَیْرُہُمْ .فَأَقْرَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَہُمْ ، فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔
٧٢٤٢: حسن نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کردیئے اور اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔
تخریج : مسلم فی الایمان روایت ٧٦‘ ابو داؤد فی الاعتاق باب ١٠‘ نسائی فی الجنائز باب ٦٥‘ ابن ماجہ فی الاحکام باب ٢٥‘ مسند احمد ٤؍٤٢٦‘ ٤٤٠‘ ٥؍٣٤١۔
7246
Al Tahawi
۷۲۴۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔
٧٢٤٣: حسن نے عمران سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
7247
Al Tahawi
۷۲۴۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : ثَنَا عَطَائٌ الْخُرَاسَانِیُّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، وَأَیُّوْبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، وَقَتَادَۃُ ، وَحُمَیْدٌ ، وَسِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔
٧٢٤٤: ابن سیرین نے عمران ابن حصین سے اور حسن نے عمران ابن حصین سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔
7248
Al Tahawi
۷۲۴۵ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوْبَ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ فَہٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ جَعَلَ الْعَتَاقَ فِی الْمَرَضِ ، مِنْ الثُّلُثِ ، فَکَذٰلِکَ الْہِبَاتُ وَالصَّدَقَاتُ .وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ مَنْ ذَہَبَ اِلٰی ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَیْضًا بِحَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْہِ‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَادَہٗ فِیْ مَرَضِہٖ فَقَالَ : أَتَصَدَّقُ بِمَالِیْ کُلِّہٖ؟ فَقَالَ لَا حَتّٰی رَدَّہُ اِلَی الثُّلُثِ، عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .قَالَ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ قَدْ جَعَلَ صَدَقَتَہُ فِیْ مَرَضِہِ مِنْ الثُّلُثِ ، کَوَصَایَاہُ مِنْ الثُّلُثِ ، مِنْ بَعْدِ مَوْتِہٖ۔وَیَدْخُلُ لِمُخَالِفِہِ عَلَیْہٖ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ، عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ سُؤَالَہٗ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ ، اِنَّمَا کَانَ عَلَی الْوَصِیَّۃِ بِالصَّدَقَۃِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا عَنْہُ، فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .فَلَیْسَ مَا احْتَجَّ ہُوَ بِہٖ ، مِنْ حَدِیْثِ عَامِرٍ ، بِأَوْلٰی مِمَّا احْتَجَّ بِہٖ عَلَیْہِ مُخَالِفُہٗ، مِنْ حَدِیْثِ مَصْعَبٍ .ثُمَّ تَکَلَّمَ النَّاسُ بَعْدَ ہٰذَا، فِیْمَنْ أَعْتَقَ سِتَّۃَ أَعْبُدٍ لَہٗ عِنْدَ مَوْتِہٖ، لَا مَالَ لَہٗ غَیْرُہُمْ ، فَأَبَی الْوَرَثَۃُ أَنْ یُجِیزُوْا .فَقَالَ قَوْمٌ ، یُعْتَقُ مِنْہُمْ ثُلُثُہُمْ ، وَیَسْعَوْنَ فِیْمَا بَقِیَ مِنْ قِیْمَتِہِمْ ، وَمِمَّنْ قَالَ ذٰلِکَ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٌ ، رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَالَ آخَرُوْنَ : یَعْتِقُ مِنْہُمْ ثُلُثُہُمْ ، وَیَکُوْنُ مَا بَقِیَ مِنْہُمْ ، رَقِیْقًا لِوَرَثَۃِ الْمُعْتِقِ .وَقَالَ آخَرُوْنَ : یُقْرَعُ بَیْنَہُمْ ، فَیُعْتَقُ مِنْہُمْ مَنْ قُرِعَ مِنْ الثُّلُثِ ، وَرُقَّ مَنْ بَقِیَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا ذَکَرْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ حَدِیْثِ عِمْرَانَ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لِأَہْلِ الْمَقَالَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ عَلٰی أَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ أَنَّ مَا ذَکَرُوْا مِنَ الْقُرْعَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْ حَدِیْثِ عِمْرَانَ ، مَنْسُوْخٌ لِأَنَّ الْقُرْعَۃَ قَدْ کَانَتْ فِیْ بَدْئِ الْاِسْلَامِ ، لَا تُسْتَعْمَلُ فِیْ أَشْیَائَ ، فَحُکِمَ بِہَا فِیْہَا ، وَیُجْعَلُ مَا قُرِعَ مِنْہَا وَہُوَ الشَّیْئُ الَّذِیْ کَانَتِ الْقُرْعَۃُ مِنْ أَجْلِہٖ بِعَیْنِہٖ۔ مِنْ ذٰلِکَ ، مَا کَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَکَمَ بِہٖ ، فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْیَمَنِ .
٧٢٤٥: ابوالمہلب نے عمران سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الموت میں آزادی کو ثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ ان روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض الموت میں آزادی کو ثلث مال میں نافذ فرمایا ہبر اور صدقہ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس مذہب کے بعض علماء نے زہری کی عامر بن سعد والی روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپ شدید بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو حضرت سعد نے تمام مال صدقہ کرنے کی اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رد فرما کر تہائی مال میں اجازت دی جیسا کہ یہ روایت شروع باب میں ذکر کی گئی ہے اس روایت میں بیماری کے صدقہ کو موت کے بعد نافذ ہونے والی وصیت کی طرح تیسرا حصہ مال میں جائز قرار دیا گیا۔ مصعب بن سعد نے اس روایت کاس طرح بیان کیا کہ ان کا یہ سوال کرنا موت کے بعد صدقے کی وصیت کے سلسلے میں تھا جیسا کہ ہم نے شروع باب میں ذکر کیا۔ حضرت عامر کی روایت سے ان کا استدلال کرنا ان کے مخالفین کے اس استدلال سے بہتر نہیں جو انھوں نے مصہب کی روایت سے کیا ہے فقہاء نے اس شخص کے بارے میں جس نے موت کے بعد چھ غلام آزاد کئے اور اس کا اور مال بھی نہیں تھا اور ورثاء نے اس کی وصیت کو جائز بھی نہ قرار دیا بہت کچھ کلام کیا ہے۔ ان کا تہائی آزاد ہوجائے گا اور بقیہ غلام اپنی قیمت کے متعلق محنت و مشقت کریں گے اس بات کو امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) اور محمد (رح) نے اختیار کیا۔ بعض علماء نے یہ کہا کہ دو غلام تو آزاد ہوجائیں گے اور بقیہ غلام ورثاء کی ملکیت میں برقرار رہیں گے۔ بعض نے یہ کہا ثلث کے بارے میں ان میں قرعہ اندازی کی جائے گی اور وہ آزاد ہوجائیں گے اور بقیہ غلامی میں برقرار رہیں گے اس سلسلے میں انھوں نے حضرت عمران والی روایت کو دلیل بنایا۔ تیسرے قول والوں کے خلاف پہلے دو اقوال والوں کی دلیل یہ ہے کہ روایت عمران میں جس قرعہ اندازی کا تذکرہ ہے وہ منسوخ ہے کیونکہ قرعہ شروع اسلام میں تھا پھر یہ منسوخ ہوگیا شروع اسلام میں اس کے جائز ہونے کی وجہ یہ تھی تاکہ اشیاء پر اس کے ذریعے حکم لگایا جائے اور جس چیز کی وجہ سے قرعہ اندازی کی گئی ہے وہ بعینہٖ وہی سمجھی جائے جو قرعے میں نکلی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی (رض) نے یمن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اس کو استعمال فرمایا جیسا کہ اس روایت میں ہے۔