Al Tahawi
18. کتاب الاوائل
الطحاوي
5721
Al Tahawi۵۷۲۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ أَبِیْ حَازِمٍ عَنْ کَثِیْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ قَالَ الْمُسْلِمُوْنَ عِنْدَ شُرُوْطِہِمْ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی اِجَازَۃِ الْعُمْرَی وَجَعَلُوْہَا رَاجِعَۃً اِلَی الْمُعْمِرِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُعْمَرِ لَہٗ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : اِنَّمَا وَقَعَ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہٰذَا عَلَی الشُّرُوْطِ الَّتِی قَدْ أَبَاحَ الْکِتَابُ اشْتِرَاطَہَا وَجَائَ تْ بِہٖ السُّنَّۃُ وَأَجْمَعَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ .فَأَمَّا مَا نَہٰی عَنْہٗ الْکِتَابُ أَوْ نَہَتْ عَنْہٗ السُّنَّۃُ فَہُوَ غَیْرُ دَاخِلٍ فِیْ ذٰلِکَ. أَلَا یَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ حَدِیْثِ بَرِیْرَۃَ کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَاِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ .وَمَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ مَا کَانَ مَنْصُوْصًا فِیْہِ أَوْ مَا قَالَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا وَجَبَ قَبُوْلُہُ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِذْ یَقُوْلُ فِیْہِ مَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْھُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَہُوْا .وَلَیْسَ کُلُّ شَرْطٍ یَشْرِطُہُ الْمُسْلِمُوْنَ یَدْخُلُ فِی قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُوْنَ عِنْدَ شُرُوْطِہِمْ لِأَنَّہٗ لَوْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ لَجَازَ الشَّرْطَانِ فِی الْبَیْعِ اللَّذَانِ قَدْ نَہٰی عَنْہُمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَکَانَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ مُعَارِضًا لِذٰلِکَ وَلِقَوْلِہٖ کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَاِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ .فَلَمَّا لَمْ یَجْعَلْ ذٰلِکَ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی وَاِنَّمَا جَعْل عَلَی خَاص مِنِ الشُّرُوْطِ وَقَدْ وَقَفْنَا عَلَیْہَا وَعَرَفْنَاہَا فَأَعْلَمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہٖ الْمُسْلِمُوْنَ عِنْدَ شُرُوْطِہِمْ أَنَّہُمْ عِنْدَ تِلْکَ الشُّرُوْطِ الَّتِی قَدْ أَجَازَ لَہُمْ اشْتِرَاطَہَا حَتّٰی لَا یَجِبَ لِمَنْ ہِیَ لَہُمْ عَلَیْہِ نَقْضُہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٥٧٢٠: ولید بن رباح نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں۔ ابن ابی داؤد نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمان اپنی شروط پر پورے اترنے والے ہیں۔ (بخاری فی الاجارہ باب ٢‘ ابوداؤد فی الاقضیہ باب ١٢) امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : فقہاء کی ایک جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ عمریٰ جائز ہے اور جس کے لیے وہ چیز عمر بھر کے لیے دی جائے گی وہ اس کی موت کے بعد اس کی طرف لوٹ آئے گی انھوں نے مندرجہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے وہ شرائط مراد ہیں جن کو قرآن مجید اور سنت جائز قرار دے اس پر سب کا اتفاق ہے جن شرائط کی ممانعت کتاب و سنت سے ثابت ہو وہ اس میں داخل و شامل نہیں کیا فریق اول والے احباب کو یہ نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث بریرہ میں یہ بات فرمائی کہ جو شرائط قرآن مجید کے مطابق نہ ہوں وہ باطل ہیں خواہ وہ سو شرائط ہی کیوں نہ ہوں اور قرآن مجید کے مطابق وہ شرائط ہیں جن کے متعلق نصوص وارد ہیں یا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلائی ہیں اس لیے کہ ان کو قبول کرنا بھی کتاب اللہ کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نہٰکم عنہ فانتہوا “ (الحشر ٧) یہ بات نہیں کہ جو شرط بھی مسلمان لگا لیں وہ اس قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے کیونکہ اگر اس طرح ہوتا تو سودے میں وہ شرائط جائز ہوتیں جن سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا اور یہ حدیث اس کے معارض بنتی اور اس صورت میں آپ کے اس قول کے بھی خلاف ہوتی ” کل شرط “ الحدیث جو جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرائط ہوں جب آپ نے اس کا یہ معنی نہیں لیا بلکہ اس سے خاص شرائط مراد لی ہیں جن سے ہم واقف و مطلع ہوچکے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس ارشاد سے ہمیں یہ بتلا دیا ” المسلمون عند شروطہم “ یعنی مسلمان انہی شرائط پر رہیں گے جن کی ان کو اجازت دی گئی ہے وہ ایسی شرائط نہ لگائیں جن کا توڑنا لازم ہوجائے خود ارشاد نبوت اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔
تخریج : بخاری فی الاجارہ باب ١٤‘ ابو داؤد فی الاقضیہ باب ١٢۔
عمری بروزن فعلی : عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دینا۔
فریق اول : اگر کسی کو عمر بھر کے لیے چیز دی تو موت کے بعد وہ دینے والے کی طرف لوٹ آئے گی۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ عمر بھر کے لیے چیز دینے پر وہ مالک بن جائے گا اس کو واپس نہ کیا جائے۔
فریق اول کا مؤقف اور دلیل : جس کو عمر بھر کے لیے چیز دی گئی ہے اس کی موت کے بعد وہ واقف کی طرف لوٹ آئے گی۔ اس کی دلیل یہ روایت ہے۔
ارشادِ نبوت سے اس کی تائید :
تخریج : بخاری فی الاجارہ باب ١٤‘ ابو داؤد فی الاقضیہ باب ١٢۔
عمری بروزن فعلی : عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دینا۔
فریق اول : اگر کسی کو عمر بھر کے لیے چیز دی تو موت کے بعد وہ دینے والے کی طرف لوٹ آئے گی۔
فریق ثانی کا قول یہ ہے کہ عمر بھر کے لیے چیز دینے پر وہ مالک بن جائے گا اس کو واپس نہ کیا جائے۔
فریق اول کا مؤقف اور دلیل : جس کو عمر بھر کے لیے چیز دی گئی ہے اس کی موت کے بعد وہ واقف کی طرف لوٹ آئے گی۔ اس کی دلیل یہ روایت ہے۔
ارشادِ نبوت سے اس کی تائید :
5722
Al Tahawi۵۷۲۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ قَالَ : ثَنَا کَثِیْرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیّ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُوْنَ عِنْدَ شُرُوْطِہِمْ اِلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا .فَدَلَّ ہٰذَا أَنَّ الشُّرُوْطَ الَّتِی الْمُسْلِمُوْنَ عِنْدَہَا ہِیَ بِخِلَافِ ہٰذِہِ الشُّرُوْطِ الْمُسْتَثْنَاۃِ .وَکَانَتِ الشُّرُوْطُ فِی الْعُمْرَی قَدْ وَقَّفَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی بُطْلَانِہَا فِیْ آثَارٍ قَدْ جَائَ تْ عَنْہٗ مَجِیْئًا مُتَوَاتِرًا .
٥٧٢١: کثیر بن عبداللہ المزنی نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے دادا سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے۔ مسلمان اپنی شرائط پر قائم رہیں گے سوائے اس شرط کے جو کسی حرام کو حلال کر دے یا کسی حرام کو حلال کرے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ شرائط جن پر مسلمانوں کا قائم رہنا ضروری ہے وہ ان مستثنیٰ شرائط کے علاوہ ہیں اور عمریٰ میں لگائی جانے والی شرائط کے بطلان کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متواتر روایات میں اطلاع دی ہے ہم چند آثار نقل کرتے ہیں۔ بطلان عمریٰ کی روایات :
تخریج : ترمذی فی الاحکام باب ١٧۔
تخریج : ترمذی فی الاحکام باب ١٧۔
5723
Al Tahawi۵۷۲۲: فَمِنْہَا مَا قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍوْ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ أَمِیْرًا کَانَ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ یُقَالُ لَہٗ طَارِقٌ قَضٰی بِالْعُمْرَی لِلْوَارِثِ عَنْ قَوْلِ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٧٢٢: سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ایک امیر کا نام طارق تھا اس نے وارث کے لیے عمریٰ کا فیصلہ کیا اس نے حضرت جابر عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دلیل بنایا۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢٩‘ مسند احمد ٣؍٣٨١‘ ٥؍١٨٢۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢٩‘ مسند احمد ٣؍٣٨١‘ ٥؍١٨٢۔
5724
Al Tahawi۵۷۲۳: أَخْبَرَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍوْ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ حَجَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضٰی بِالْعُمْرَی لِلْوَارِثِ .فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْعُمْرَی لِلْوَارِثِ فَقَطَعَ بِذٰلِکَ شَرْطَ الْعُمْرَی .فَقَالَ الْأَوَّلُوْنَ : فَلَمْ یُبَیِّنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ذٰلِکَ الْوَارِثَ وَارِثَ مَنْ ہُوَ مَعَہٗ؟ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ وَارِثَ الْمُعْمِرِ .قِیْلَ لَہٗ : ہٰذَا مُحَالٌ عِنْدَنَا لِأَنَّہٗ اِنَّمَا کَانَ الذِّکْرُ عَلٰی شَیْئٍ قَدْ جُعِلَ لِلْمُعْمَرِ حَیَاتَہُ عَلٰی أَنْ یَعُوْدَ بَعْدَ الْمَوْتِ اِلَی الْمُعْمِرِ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ لِلْوَارِثِ أَیْ: جَعَلَ لِوَارِثِ الْمُعْمَرِ مَا قَدْ کَانَ اشْتَرَطَ فِیْہِ الْمُعْمِرُ أَنْ لَا یَکُوْنَ مِیْرَاثًا .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ بَحْرِ بْنِ مَطَرٍ ۔
٥٧٢٣: حجر نے زید بن ثابت (رض) سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمریٰ کے متعلق وارث کے لیے فیصلہ فرمایا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وارث کو عمریٰ دینے کا فیصلہ فرمایا اور عمریٰ کی شرط کو باطل قرار دیا۔ روایت میں وارث کی وضاحت نہیں کہ کون ہے وہ وارث جس کے ساتھ وہ رہتا ہے یا معمر کا وارث مراد ہے۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات ہمارے ہاں ناممکن ہے کیونکہ یہاں تک اس چیز کا تذکرہ ہے جو معمر کو زندگی بھر کے لیے دی گئی ہے اور اس شرط پر دی گئی ہے کہ معمر کی طرف لوٹے گی معمر کے ورثاء کو نہ ملے گی اب مطلب یہی ہے کہ معمر کے ورثاء کو ملے گی معمر کی وراثت نہ ہوگی اس کی دلیل یہ روایت ہے۔
تخریج : نسائی فی العمریٰ باب ١‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣۔
تخریج : نسائی فی العمریٰ باب ١‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣۔
5725
Al Tahawi۵۷۲۴: حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِیُّ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْمَرَ شَیْئًا حَیَاتَہٗ فَہُوَ لَہٗ وَلِوَارِثِہِ .فَدَلَّ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہٰذَا عَلَی الْوَارِثِ الْمَحْکُوْمِ بِہَا لَہٗ فِی الْحَدِیْثِ الَّذِیْ ذٰکَرْنَاہُ فِی الْفَصْلِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا أَنَّہٗ وَارِثُ الْمُعْمَرِ .
٥٧٢٤: طاوس نے زید بن ثابت (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنی زندگی کے لیے کوئی چیز کسی کو دی وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جس وارث کے لیے فیصلہ کیا وہ معمر کا وارث ہے (اور شرط باطل ہے)
تخریج : نسائی فی الرقی باب ٢‘ والعمریٰ باب ٢‘ ٤‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣‘ مسند احمد ٢‘ ٣٤؍٧٣‘ ٣‘ ٢٩٣؍٣١٧۔
حاصل روایت : اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جس وارث کے لیے فیصلہ کیا وہ معمر کا وارث ہے (اور شرط باطل ہے)
تخریج : نسائی فی الرقی باب ٢‘ والعمریٰ باب ٢‘ ٤‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣‘ مسند احمد ٢‘ ٣٤؍٧٣‘ ٣‘ ٢٩٣؍٣١٧۔
حاصل روایت : اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ جس وارث کے لیے فیصلہ کیا وہ معمر کا وارث ہے (اور شرط باطل ہے)
5726
Al Tahawi۵۷۲۵ : وَقَدْ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ حُجْرَ بْنَ قَیْسٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَی مِیْرَاثٌ .
٥٧٢٥: طاوس کہتے ہیں کہ حجر بن قیس نے بتلایا کہ زید بن ثابت (رض) نے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمریٰ وراثت ہے۔ (مرنے والے کی اولاد کو ملے گی)
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ٣٢‘ مسلم فی الہبات ٣٠؍٣١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨٥‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٥‘ نسائی فی الرقبیٰ باب ٢‘ والعمریٰ باب ١‘ ٢‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٤‘ مسند احمد ١؍٢٥٠‘ ٢‘ ٣٤٧؍٤٢٩‘ ٣‘ ٢٩٧؍٣١٩‘ ٤؍٩٧‘ ٥‘ ٨؍١٣۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ٣٢‘ مسلم فی الہبات ٣٠؍٣١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨٥‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٥‘ نسائی فی الرقبیٰ باب ٢‘ والعمریٰ باب ١‘ ٢‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٤‘ مسند احمد ١؍٢٥٠‘ ٢‘ ٣٤٧؍٤٢٩‘ ٣‘ ٢٩٧؍٣١٩‘ ٤؍٩٧‘ ٥‘ ٨؍١٣۔
5727
Al Tahawi۵۷۲۶: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ طَاوُسٍ الْمَدَرِیِّ عَنْ حُجْرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبِیْلُ الْعُمْرٰی سَبِیْلُ الْمِیْرَاثِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَہٰذَا أَیْضًا مَعْنَاہُ مِثْلُ مَا قَبْلَہٗ۔
٥٧٢٦: حجر نے زید بن ثابت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمریٰ کا طریق کار میراث والد ہے۔ یہ روایت بھی اس کے ہم معنی ہے۔
5728
Al Tahawi۵۷۲۷: وَقَدْ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیْ عَنْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَی جَائِزَۃٌ لِأَہْلِہَا .فَقَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : أَہْلُہَا ہُمْ الَّذِیْنَ أَعْمَرُوْہَا .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ ۔
٥٧٢٧: محمد بن علی نے حضرت معاویہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ عمریٰ معمر کے گھر والوں کے لیے انعام ہے۔ فریق اول کہتے ہیں کہ اس روایت میں اہلھا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمریٰ کیا ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٣٦٨‘ ٣؍٣٠٣‘ ٤‘ ٩٩‘ ٥‘ ١٣؍٢٢‘ ١٨٩۔
ایک استدلال :
فریق اول کہتے ہیں کہ اس روایت میں اہلھا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمریٰ کیا ہے۔
جواب : یہ روایت ملاحظہ کریں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٣٦٨‘ ٣؍٣٠٣‘ ٤‘ ٩٩‘ ٥‘ ١٣؍٢٢‘ ١٨٩۔
ایک استدلال :
فریق اول کہتے ہیں کہ اس روایت میں اہلھا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے عمریٰ کیا ہے۔
جواب : یہ روایت ملاحظہ کریں۔
5729
Al Tahawi۵۷۲۸: أَنَّ فَہْدًا حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ بْنُ یَعِیْشَ قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ قَالَ : قَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَی فَہِیَ لَہٗ یَرِثُہَا مِنْ عَقِبِہٖ مَنْ یَرِثُہُ .فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَلٰی أَنَّ أَہْلَہَا الَّذِیْنَ جَازَتْ لَہُمْ ہُمُ الْمُعْمَرُوْنَ لَا الْمُعْمِرُوْنَ .
٥٧٢٨: محمد بن حنفیہ کہنے لگے مجھے حضرت معاویہ نے کہا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے جس نے عمریٰ کیا تو معمر اس چیز کا مالک ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء اس کے وارث ہوں گے (عمریٰ کرنے والا نہیں) اس روایت سے معلوم ہوا کہ اہلھا سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو انعام دیا گیا وہ معمر ہیں۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢١؍٢٢‘ نسائی فی العمریٰ باب ٣‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣‘ مسند احمد ٣؍٣٦٠۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢١؍٢٢‘ نسائی فی العمریٰ باب ٣‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣‘ مسند احمد ٣؍٣٦٠۔
5730
Al Tahawi۵۷۲۹: وَقَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ الْبَغْدَادِیُّ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ یَحْیَی بْنُ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَی لِمَنْ وُہِبَتْ لَہٗ .
٥٧٢٩: یحییٰ بن ابی سلمہ نے جابر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ عمریٰ کا وہی مالک ہے جس کو وہ ہبہ کیا گیا۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨٥‘ نسائی فی العمریٰ باب ٤‘ مسند احمد ٣‘ ٣٠٤؍٣٩٣۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢٥‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨٥‘ نسائی فی العمریٰ باب ٤‘ مسند احمد ٣‘ ٣٠٤؍٣٩٣۔