hadith book logo

Al Tahawi

4. زکوۃ کا بیان

الطحاوي

2881
Al Tahawi
۲۸۸۱ : حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمَ بْنِ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ‘ عَنْ عِکْرَمَۃَ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (قَدِمَتْ عِیْرٌ الْمَدِیْنَۃَ‘ فَاشْتَرٰی مِنْہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَتَاعًا فَبَاعَہٗ بِرِبْحِ أَوَاقٍ فِضَّۃً فَتَصَدَّقَ بِہَا عَلٰی أَرَامِلِ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ قَالَ : لَا أَعُوْدُ أَنْ أَشْتَرِیَ بَعْدَہَا شَیْئًا أَبَدًا وَلَیْسَ ثَمَنُہٗ عِنْدِیْ) .
٢٨٨١: عکرمہ نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ایک قافلہ مدینہ میں آیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ن ٢ اس سے کچھ سامان خریدا پھر کئی اوقیہ چاندی کے بدلے فروخت کیا اور اس چاندی کو بنی عبدالمطلب کی رانڈ عورتوں پر خرچ کیا پھر فرمایا میں آئندہ ایسی کوئی چیز کبھی نہ خریدوں گا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔ (اوقیہ چالیس درہم کی مقدار ہے) ۔
تخریج : ابو داؤد فی البویع باب ٩‘ نمبر ٢٣٤٤‘ مسند احمد ١؍٢٣٥۔
اس روایت میں تصدق کا لفظ صدقہ پر دلالت کررہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ بنی عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر صدقہ لگ سکتا ہے تبھی آپ نے عنایت فرمایا۔
کتاب الزکوۃ
اس میں ١٠ باب اور ٢٠٨ روایات و آثار ہیں
تمہید :
زکوۃ اسلام کا اہم رکن ہے حضرت صدیق اکبر (رض) نے نماز و زکوۃ کے درمیان ماننے اور نہ ماننے سے فرق کرنے والے کے خلاف اعلان جہاد فرمایا قرآن مجید میں ان دونوں ارکان کو اکٹھا ذکر کیا گیا ہے اسی وجہ سے فقہا رحمہم اللہ قرآن مجید کے انداز کو دیکھ کر کتاب الصلاۃ کے بعد کتاب الزکوۃ کو لاتے ہیں۔
اس کا لغوی معنی نمو ‘ اضافہ اور ستھرائی و پاکیزگی ہے اس کے وجوب کے لیے مال کی ایک مخصوص مقدار مقرر ہے اس سے پہلے لازم نہیں اور جس کے پاس اتنی مقدار نہ ہو اس پر لازم نہیں اس کی ادائیگی کے لیے مال کا الگ حساب کرتے ہوئے تمام مقدار میں نیت زکوۃ کرلینا ہے یا وقتی طور پر ادائیگی کے وقت نیت کرنا جس مال میں سے دی جائے اس کا قرضے اور ضروریات سے فارغ ہونا شرط ہے دنیا میں اس کی ادائیگی فریضہ کی ادائیگی اور آخرت میں عظیم اجر کا استحقاق ہے اس کے دینے کا مقصد بخل اور حب مال میں افراط کا ازالہ کرنا ہے اور محتاجوں کی ضروریات کی کفالت ہے اس کی رکنیت کا منکر کافر ہے۔
حاصل روایات : ! محتاج کو جو شے اجر وثواب کی خاطر دی جائے وہ صدقہ ہے " اور ہدیہ جو عطیہ اضافہ محبت کے لیے دیا جائے #اور ہبہ بلا عوض کوئی چیز کسی کو دے دینا ہے اور زکوۃ وہ مال جو مال نامی پر سال گزرنے کے بعد اڑھائی فیصد کے حساب سے کسی غیر ہاشمی مسلمان فقیر کو دیا جائے بنی ہاشم سے مراد زکوۃ کے سلسلہ میں نمبر ١ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مونث اولاد نمبر ٢ حضرت عباس (رض) نمبر ٣ حضرت حارث (رض) نمبر ٤ حضرت علی (رض) ‘ عقیل (رض) ‘ جعفر (رض) کی اولاد مراد ہوگی بنو لہب اور بنو مطلب اس میں شامل نہ ہوں گے۔ بنی ہاشم کو ہدیہ تو دیا جاسکتا ہے زکوۃ نہیں دی جاسکتی خواہ بنی ہاشم ہی کو اپنی زکوۃ ہو نفلی صدقہ ان کے لیے بلااختلاف جائز ہے موالی بنی ہاشم بھی صدقات واجبہ میں اپنے آقاؤں کے حکم میں ہوں گے زکوۃ و صدقات کو۔
۔۔۔
2882
Al Tahawi
۲۸۸۲ : قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَبَاحُوا الصَّدَقَۃَ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ الصَّدَقَۃُ مِنَ الزَّکَوَاتِ وَالتَّطَوُّعِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ‘ وَہُمْ کَالْأَغْنِیَائِ فَمَا حَرُمَ عَلَی الْأَغْنِیَائِ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَہِیَ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ حَرَامٌ‘ فُقَرَائَ کَانُوْا أَوْ أَغْنِیَائَ .وَکُلُّ مَا یَحِلُّ لِلْأَغْنِیَائِ مِنْ غَیْرِ بَنِیْ ہَاشِمٍ‘ فَہُوَ حَلَالٌ لِبَنِیْ ہَاشِمٍ فُقَرَائِہِمْ وَأَغْنِیَائِہِمْ .وَلَیْسَ عَلٰی أَہْلِ ھٰذِہِ الْمَقَالَۃِ عِنْدَنَا حُجَّۃٌ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ‘ لِأَنَّہٗ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ مَا تَصَدَّقَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ عَلٰی أَرَامِلِ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمْ یَجْعَلْہُ مِنْ جِہَۃِ الصَّدَقَۃِ الَّتِیْ تَحْرُمُ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ فِیْ قَوْلِ مَنْ یُحَرِّمُہَا عَلَیْہِمْ وَلٰـکِنْ جَعَلَہَا مِنْ جِہَۃِ الصَّدَقَۃِ الَّتِیْ تَحِلُّ لَہُمْ .فَإِنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْأَغْنِیَائَ مِنْ غَیْرِ بَنِیْ ہَاشِمٍ قَدْ یَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ عَلٰی أَحَدِہِمْ بِدَارِہٖ أَوْ بِعَبْدِہٖ، فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ جَائِزًا حَلَالًا‘ وَلَا یُحَرِّمُہٗ عَلَیْہِ مَالُہٗ .فَکَانَ مَا یَحْرُمُ عَلَیْہِ بِمَالِہٖ مِنَ الصَّدَقَاتِ‘ ہُوَ الزَّکَوَاتُ وَالْکَفَّارَاتُ وَالصَّدَقَاتُ الَّتِیْ یُتَقَرَّبُ بِہَا إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی .فَأَمَّا الصَّدَقَاتُ الَّتِیْ یُرَادُ بِہَا طَرِیْقُ الْہِبَاتِ وَإِنْ سُمِّیَتْ صَدَقَاتٍ فَلاَ‘ فَکَذٰلِکَ بَنُو ہَاشِمٍ حَرُمَ عَلَیْہِمْ لِقَرَابَتِہِمْ مِنَ الصَّدَقَاتِ مِثْلُ مَا حَرُمَ عَلَی الْأَغْنِیَائِ بِأَمْوَالِہِمْ .فَأَمَّا مَا کَانَ لَا یَحْرُمُ عَلَی الْأَغْنِیَائِ بِأَمْوَالِہِمْ‘ فَإِنَّہٗ لَا یَحْرُمُ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ بِقَرَابَتِہِمْ .فَلِھٰذَا جَعَلْنَا مَا کَانَ تَصَدَّقَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی أَرَامِلِہِمْ مِنْ جِہَۃِ الْہِبَاتِ وَإِنْ سُمِّیَ ذٰلِکَ صَدَقَۃً‘ وَھٰذَا الَّذِیْ یَنْبَغِیْ أَنْ یُحْمَلَ تَأْوِیْلُ ذٰلِکَ الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ عَلَیْہِ .لِأَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا قَدْ ۔: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ وَحَمَّادٌ ابْنَا زَیْدٍ‘ عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ مُوْسَی بْنِ سَالِمٍ‘ عَنْ (عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : مَا اخْتَصَّنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ دُوْنَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلاَثِ أَشْیَائَ ‘ إِسْبَاغِ الْوُضُوْئِ‘ وَأَنْ لَا نَأْکُلَ الصَّدَقَۃَ‘ وَأَنْ لَا نُنْزِیَ الْحُمُرَ عَلَی الْخَیْلِ) .
٢٨٨٢: عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم ابن عباس (رض) کی خدمت میں گئے ‘ انھوں نے کہا ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین چیزوں کے ساتھ باقی لوگوں میں سے خاص کیا ہے کامل طور پر وضو کرنا صدقہ نہ کھانا گدھے کی جفتی گھوڑے پر نہ کرائیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کچھ علماء اس طرف گئے ہیں چنانچہ انھوں نے بنی ہاشم کے لیے صدقات کو مباح قرار دیا ہے۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے کہا کہ زکوۃ اور نفلی صدقات نبی ہاشم پر درست نہیں وہ مالداروں کی طرح ہیں جو مالداروں پر حرام وہی ان پر بھی حرام ہے خواہ بنو ہاشم تنگ دست ہوں یا مالدار اور ہر وہ چیز جو بنی ہاشم کے علاوہ مالداروں کے لیے درست ہے وہ بنی ہاشم کے فقراء واغنیاء سب پر حلال ہے۔ ہمارے نزدیک اس قول کے قائلین کے لیے اس روایت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے متعلق یہ کہنا درست ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بنی عبد اعطلب کی بیوہ عورتوں کو صدقہ دیا ہو اس صدقے کے طور پر نہ دیا ہو جو بنی ہاشم پر حرام ہے بقول ان لوگوں کے جوان پر حرام قرار دیتے ہیں بلکہ اس صدقہ کے طور پر دیا ہو جو ان کے لیے حلال ہے۔ اس لیے کہ ہم غیر نبی ہاشم کے مالداروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بعض دوسروں کو اپنا مکان یا غلام صدقہ کردیتے ہیں پس یہ اس لینے والے کے لیے جائز و حلال ہے اور یہ چیز اس پر اس کے مال کو حرام نہیں کرتا ۔ اس کا وہ مال جو اس پر حرام ہے وہ صدقات زکوفۃ کفارات اور ایسے صدقات تقرب الیٰ اللہ کے لیے دیے جاتے ہیں۔ رہے ایسے صدقات جن سے مقصود رہبہ کرنا ہو خواہ اس کو صدقے کا نام بھی دے دیا جائے وہ حرام نہیں ہوتا۔ بعینہٖ یہی صورت بنو ہاشم کے سلسلہ میں ہے کہ ان پر قرابت کی وجہ سے صدقات اسی طرح حرام ہیں جیسا اغنیاء پر ان کے مال کے پائے جانے کی صورت میں ہے۔ رہے وہ صدقات جو اغنیاء پر ان کے مالوں کی موجودگی میں حرام نہیں وہ بنی ہاشم پر بھی قرابت کی وجہ سے حرام نہیں اسی وجہ سے ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس صدقہ کو جو آپ نے بیوگان پر کیا ہبہ کی مدد سے شمار کرتے اگرچہ نام اس کا صدقہ رکھا گیا ہے اور اس حدیث اول کی یہ تاویل مناسب ہے کیونکہ یہ روایت حضرت ابن عباس (رض) اس طرح نقل کی گئی ہے۔
تخریج : ابوداؤد فی الصلاۃ باب ١٢٧‘ نمبر ٨٠٨‘ ترمذی فی الجہاد باب ٢٣‘ نمبر ١٧٠١‘ نسائی فی الطہارۃ باب ١٠٥‘ الخیل باب ١٠‘ مسند احمد ١؍٧٨‘ ٩٥‘ ٢٣٤‘ ٢٤٩‘۔
بنی ہاشم پر صدقات حرام ہیں وہ اغنیاء کی طرح ہیں خواہ فقراء ہوں یا اغنیاء اور بنی ہاشم کے علاوہ جو چیز اغنیاء کے لیے حلال ہے وہ بنی ہاشم کے فقراء اور اغنیاء کے لیے حلال ہے آئندہ سطور میں دلائل پیش ہوں گے اس سے پہلے روایت سابقہ کا جواب ملاحظہ ہو۔
الجواب : روایت میں تصدق کا لفظ احتمال رکھتا ہے اس لیے ان کے موضوع پر دلیل نہیں بن سکتا آپ نے جو صدقہ ان بیواؤں و بیکسوں پر کیا وہ فرض نہ ہو بلکہ نفلی ہو ہم کئی اغنیاء کو دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی ان کے غلام و لونڈیوں پر صدقہ کرتا ہے اور وہ غنی کے لیے بھی حلال ہوجاتا ہے کیونکہ غلام کا مال آقا کو حلال ہے کیونکہ اغنیاء اور بنی ہاشم کو صدقات فرضیہ ‘ کفارات و صدقات جن سے تقرب الی اللہ مقصود ہو (نذر ‘ نیاز وغیرہ) وہ حرام ہیں۔
رہا تبرعات اور ہبات و عطیات وہ تو درست ہیں اگرچہ ان کو صدقات کا نام دیا جاتا ہے تو جو مال اغنیاء پر حرام نہیں وہ بنی ہاشم پر بھی حرام نہیں اسی وجہ سے شروع باب والی روایت میں صدقہ سے ہبہ و تبرع مراد ہے اگرچہ لفظ تصدق کا ہے۔
2883
Al Tahawi
۲۸۸۳: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادٍ مِثْلَہٗ .
٢٨٨٣: حماد بن زید نے ابو جہضم سے پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
2884
Al Tahawi
۲۸۸۴ :حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا مُرَجَّی بْنُ رَجَائٍ ‘ عَنْ أَبِیْ جَہْضَمٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اخْتَصَّہُمْ أَنْ لَا یَأْکُلُوْا الصَّدَقَۃَ .فَلَیْسَ یَخْلُو الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ مِنْ أَنْ یَّکُوْنَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِی الْفَصْلِ الْأَوَّلِ‘ فَیَکُوْنُ مَا أَبَاحَ لَہُمْ فِیْہٖ‘ غَیْرَ مَا حَرَّمَ عَلَیْہِمْ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ الثَّانِیْ‘ وَیَکُوْنُ مَعْنٰی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلٰی مَا ذَکَرْنَا .أَوْ یَکُوْنُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ یُبِیْحُ مَا مَنَعَ مِنْہُ ھٰذَا الْحَدِیْثُ الثَّانِیْ‘ فَیَکُوْنُ ھٰذَا الْحَدِیْثُ الثَّانِیْ نَاسِخًا لَہٗ‘ لِأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ فِیْہِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ مَخْصُوْصُوْنَ بِہٖ دُوْنَ النَّاسِ‘ فَلاَ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ ذٰلِکَ إِلَّا وَہُوَ قَائِمٌ فِیْ وَقْتِہِ ذٰلِکَ .فَإِنْ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ اِبَاحَۃِ الصَّدَقَۃِ عَلَیْہِمْ بِصَدَقَاتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَذَکَرَ مَا
٢٨٨٤ : مرجی بن رجاء نے ابوجہضم سے انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس (رض) اس روایت میں خبر دے رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس بات کے ساتھ خاص کیا کہ وہ صدقہ نہ کھائیں۔ پس پہلی روایت اس سے خالی نہیں کہ اس کا معنیٰ وہ کیا جائے جو ہم نے فصل اول میں بیان کیا تو اس صورت میں جس چیز کو ان کے لیے مباح کیا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جو ان کے لیے اس دوسری روایت ذکر کی گئی اور ہر روایت کا مفہوم اپنے اپنے مقام پر درست رہا۔ یا پھر اس طرح کہا جائے کہ اول روایت میں اس صدقے کو مباح قرار دیا جب کہ اس دوسری روایت سے روک دیا پس اس صورت میں یہ ناسخ ہوگی کیونکہ ابن عباس (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وفات کے بعد بتلا رہے ہیں کہ ہم بنی ہاشم کے لیے دوسروں کو چھوڑ کر یہ چیز خاص کی گئی اور یہ اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے جب کہ یہ ان کے زمانہ میں قائم و موجود ہو اگر کوئی معترض صدقہ کے مباح ہونے کے لیے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کو دلیل بناتے اور ان روایات کو پیش کرے۔
حاصل روایات : یہ روایات تو صدقے کو حرام قرار دے رہی ہیں اور پہلی روایت انہی ابن عباس (رض) کی صدقے کو حلال قرار کیسے دے سکتی ہے کہ ایک آدمی دو متضاد باتیں کہہ رہا ہے ان دونوں کی مطابقت کی صورت وہی ہے جو گزشتہ سطور میں مذکور ہوئی کہ وہاں صدقہ سے تبرعات مراد لیے جائیں۔
اب دونوں روایات اپنے اپنے مقامات پر درست رہیں۔ یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ حدیث اول میں جس چیز کو مباح قرار دیا گیا دوسری روایت میں اس کو حرام کہا گیا تو پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور اس کے لیے قرینہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ ابن عباس (رض) آپ کی وفات کے بعد کا ہے اور وہ تبھی خبر دے رہے ہیں جبکہ وہ اس بات پر قائم ہیں۔
جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فدک وغیرہ کے خمس کو بنی ہاشم پر صدقہ فرمایا اس سے کسی کو انکار نہیں جیسا ان روایات میں وارد ہے۔
2885
Al Tahawi
۲۸۸۵ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَالِدِ بْنُ مُسَافِرٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلٰی أَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تَسْأَلُہٗ مِیْرَاثَہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَفَاطِمَۃُ حِیْنَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَفَدَکَ‘ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ .فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (إِنَّا لَا نُوْرَثُ‘ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ) إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِیْ ھٰذَا الْمَالِ .وَإِنَی وَاللّٰہِ لَا أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْ صَدَقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِہَا الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَلَأَعْمَلَنَّ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا عَمِلَ فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔
٢٨٨٥: عروہ بن زبیر نے عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کی طرف پیغام بھیجا وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اپنی وراثت مانگ رہی تھیں جو کہ مال فئی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی تھیں اور فاطمہ (رض) اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدقہ کا مال جو مدینہ اور فدک اور خمس خیبر سے بچا تھا وہ مانگ رہی تھیں تو ابوبکر (رض) نے کہا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم وارث نہیں بنائے جاتے جو مال ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس مال میں خرچہ ملے گا میں اللہ کی قسم ! جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کو ان کی اس حالت سے نہ بدلوں گا جس حالت میں وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے اور ان کے متعلق میں وہ عمل جاری رکھوں گا جو ان میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے تھے۔
تخریج : بخاری فی الخمس باب ١‘ فضائل اصحاب باب ١٢‘ المغازی باب ١٤‘ ٣٨‘ والنفقات باب ٣‘ والفرائض باب ٣‘ والاعتصام باب ٥‘ مسلم فی الجہاد ٤٩؍٥٠‘ ٥١‘ ٥٢‘ ٥٤‘ ٥٦‘ ابو داؤد فی الامارہ باب ١٩‘ ترمذی فی اسیر باب ٤٤‘ نسائی فی الفئی باب ٩‘ ١٦‘ موطا مالک نمبر ٢٧‘ مسند احمد ١‘ ٤‘ ٦‘ ٩‘ ١٠‘ ٤٨‘ ٤٩‘ ٦٠‘ ١٦٢‘ ١٧٩‘ ٢٠٨‘ ٢؍٤٠٣‘ ٦؍١٤٥‘ ٢٦٢۔
2886
Al Tahawi
۲۸۸۶ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ وَابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَا : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ .
٢٨٨٦: ابن مرزوق اور ابو داؤد دونوں نے عبداللہ بن صالح سے نقل کیا۔
2887
Al Tahawi
۲۸۸۷ : وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ‘ قَالَ ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ‘ قَالَا : ثَنَا اللَّیْثُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .
٢٨٨٧: لیث کہتے ہیں کہ مجھے عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔
2888
Al Tahawi
۲۸۸۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مَہْدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ‘ قَالَ أَنَا مَعْمَرٌ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّضْرِیُّ‘ قَالَ أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ فَقَالَ إِنَّہٗ قَدْ حَضَرَ الْمَدِیْنَۃَ أَہْلُ أَبْیَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ وَقَدْ أَمَرْنَا لَہُمْ بِرَضْخٍ فَاقْسِمْہُ فِیْہِمْ .فَبَیْنَا أَنَا کَذٰلِکَ اِذْ جَائَ ہُ یَرْفَأُ‘ فَقَالَ : ھٰذَا عُثْمَانُ‘ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ‘ وَسَعْدٌ‘ وَالزُّبَیْرُ‘ وَلَا أَدْرِیْ، أَذَکَرَ طَلْحَۃَ أَمْ لَا‘ یَسْتَأْذِنُوْنَ عَلَیْکَ‘ فَقَالَ : ائْذَنْ لَہُمْ .قَالَ ثُمَّ مَکَثْنَا سَاعَۃً‘ فَقَالَ : ھٰذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَسْتَأْذِنَانِ عَلَیْکَ‘ فَقَالَ : ائْذَنْ لَہُمَا .فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْضِ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ھٰذَا الرَّجُلِ‘ وَہُمَا حِیْنَئِذٍ فِیْمَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ بَنِی النَّضِیْرِ .فَقَالَ الْقَوْمُ : اقْضِ بَیْنَہُمَا یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَأَرِحْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہٖ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ (أَیْ أَسْأَلُکُمْ بِاَللّٰہِ) الَّذِیْ بِإِذْنِہِ تَقُوْمُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ‘ أَتَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (لَا نُوْرَثُ‘ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃً) قَالُوْا : قَدْ قَالَ ذٰلِکَ .ثُمَّ قَالَ لَہُمَا مِثْلَ ذٰلِکَ‘ فَقَالَا : نَعَمْ .قَالَ : فَإِنِّیْ سَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ھٰذَا الْفَیْئِ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِیَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ لَمْ یُعْطِہٖ غَیْرَہٗ‘ فَقَالَ (مَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوَجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ) .فَکَانَتْ ھٰذِہِ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصَّۃً ثُمَّ وَاللّٰہِ مَا احْتَازَہَا دُوْنَکُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِہَا عَلَیْکُمْ‘ وَلَقَدْ قَسَمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَکُمْ وَبَثَّہَا فِیْکُمْ حَتّٰی بَقِیَ مِنْہَا ھٰذَا الْمَالُ فَکَانَ یُنْفِقُ مِنْہُ عَلٰی أَہْلِہٖ رِزْقَ سَنَۃٍ ثُمَّ یَجْمَعُ مَا بَقِیَ مِنْہُ فَجَمَعَ مَالَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ .فَلَمَّا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ (أَنَا وَلِیُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ بَعْدَہٗ أَعْمَلُ فِیْہَا بِمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْمَلُ) ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیْثَ .
٢٨٨٨: معمر نے زہری سے انھوں نے مالک بن اوس بن حدثان نضری سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر (رض) نے بلوایا اور فرمایا مدینہ منورہ میں تمہاری قوم کے کچھ لوگ آئے ہیں ہم نے ان کو کچھ عطیہ دیا ہے وہ تم ان میں تقسیم کر دو اسی دوران یرفاء آگیا اور اس نے کہا یہ عثمان ‘ عبدالرحمن ‘ سعد ‘ زبیر ] ۔ اور مجھے یاد نہیں کہ طلحہ (رض) کا نام لیا یا نہیں وہ آپ کے پاس داخلے کی اجازت چاہ رہے ہیں آپ نے فرمایا ان کو اجازت ہے راوی کہتا ہے پھر ہم کچھ دیر ٹھہرنے پائے تھے تو یرفاء نے کہا یہ عباس (رض) و علی (رض) آپ کے ہاں آنے کی اجازت چاہتے ہیں آپ نے فرمایا انھیں اجازت دے دو جب عباس (رض) آئے تو کہنے لگے اے امیرالمؤمنین ! میرے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ کیجئے وہ اس وقت دونوں بنی نضیر کے اموال فئی پر نگران مقرر تھے دوسرے حضرات نے بھی کہا ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں اور رضامندی کرا دیں عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم وارث نہیں بنائے جاتے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ان سب نے کہا واقعی آپ نے یہ بات فرمائی ہے پھر خاص طور پر ان دونوں کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا ان دونوں نے بھی اس کا اقرار کیا پھر عمر (رض) کہنے لگے میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز سے خاص کیا ہے جو اس نے اور کسی کو نہیں دی فرمایا :{ مَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوَجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَاب } (الحشر : ٩) اور وہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور مال فئی دے دیا تم نے اس پر گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں۔ پس یہ مال خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوگئے آپ نے ان اموال کو تمہیں چھوڑ کر جمع نہیں کیا اور نہ اپنے کو تم پر ترجیح دی بلکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے درمیان تقسیم کیا اور تم میں بھیجا اور پھیلایا یہاں تک کہ اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا آپ اس میں سے اپنے اہل پر سال کے دوران خرچ کرتے پھر جو بچ جاتا وہ جمع کردیتے وہ اللہ تعالیٰ کا مال جمع ہوتا (یعنی بیت المال میں جمع کردیتے) جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو ابوبکر (رض) نے فرمایا میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان اموال میں نائب و ولی ہوں میں ان میں وہی کروں گا جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے پھر روایت اسی طرح ذکر کیا۔
تخریج : مسلم فی الجہاد نمبر ٤٨۔
حاصل روایات : الرضخ۔ عطیہ۔ افاء۔ بطور فئی دینا۔
2889
Al Tahawi
۲۸۸۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ وَأَثْبَتَ أَنَّ طَلْحَۃَ کَانَ فِی الْقَوْمِ وَلَمْ یَقُلْ " وَبَثَّہَا فِیْکُمْ " .
٢٨٨٩: عمرو بن دینار نے ابن شہاب سے نقل کیا پھر اسناد سے اسی طرح روایت کی البتہ فرق یہ ہے کہ طلحہ کو آنے والوں میں ثابت کیا اور بثھافیکم کے لفظ نہیں کہے۔
2890
Al Tahawi
۲۸۹۰ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ وَأَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَا : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ‘ قَالَ : ثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ وَقَالَ : فَکَانَ یُنْفِقُ مِنْہَا عَلٰی أَہْلِہٖ .
٢٨٩٠: مالک بن انس نے ابن شہاب سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی البتہ : فَکَانَ یُنْفِقُ مِنْھَا عَلٰی أَھْلِہٖکے الفاظ مختلف ہیں۔