Al Tahawi
27. مشروبات کا بیان
الطحاوي
6283
Al Tahawi۶۲۸۱: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ ، النَّخْلَۃِ ، وَالْعِنَبَۃِ .
٦٢٨١: ابو کثیر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ کھجور۔ ! انگور۔
تخریج : مسلم فی الاشربہ ١٣؍١٤‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤‘ ترمذی فی الاشربہ باب ٨‘ ابن ماجہ فی الاشربہ باب ٥‘ مسند احمد ٢٧٩؍٤٠٩۔
ایک علماء کی جماعت کا خیال یہ ہے کہ شراب صرف کھجور اور انگور دونوں سے ہوتی ہے۔
فریق ثانی : شراب جس کی حرمت نص میں وارد ہے وہ شراب انگوری ہے یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے بقیہ شرابوں کی حرمت قیاسی ہے۔ امام ابو یوسف (رح) کے ہاں انگور کا پانی جوش مارے اگرچہ جھاگ پیدا نہ کرے تب بھی وہ شراب ہے۔
تخریج : مسلم فی الاشربہ ١٣؍١٤‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤‘ ترمذی فی الاشربہ باب ٨‘ ابن ماجہ فی الاشربہ باب ٥‘ مسند احمد ٢٧٩؍٤٠٩۔
ایک علماء کی جماعت کا خیال یہ ہے کہ شراب صرف کھجور اور انگور دونوں سے ہوتی ہے۔
فریق ثانی : شراب جس کی حرمت نص میں وارد ہے وہ شراب انگوری ہے یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے بقیہ شرابوں کی حرمت قیاسی ہے۔ امام ابو یوسف (رح) کے ہاں انگور کا پانی جوش مارے اگرچہ جھاگ پیدا نہ کرے تب بھی وہ شراب ہے۔
6284
Al Tahawi۶۲۸۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، وَعِکْرَمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، وَہِشَامٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔
٦٢٨٢: ابو کثیر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
6285
Al Tahawi۶۲۸۳: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُمْرَانَ ، قَالَ : ثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ التَّوْأَمِ الرَّقَاشِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُو کَثِیْرٍ الْیَمَامِیُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ مِنَ الْیَمَامَۃِ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ ، لَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ الْاِخْتِلَافَ فِی النَّبِیذِ ، لِأَلْقَی أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، فَأَسْأَلَہٗ عَنْ ذٰلِکَ ، فَلَقِیْتہ فَقُلْتُ :یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، اِنِّیْ أَتَیْتُک مِنَ الْیَمَامَۃِ أَسْأَلُک عَنِ النَّبِیذِ ، فَحَدِّثْنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَا تُحَدِّثْنِیْ عَنْ غَیْرِہٖ۔ فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الْخَمْرُ مِنَ الْکَرْمَۃِ وَالنَّخْلَۃِ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْخَمْرَ مِنْ التَّمْرِ وَالْعِنَبِ جَمِیْعًا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا الْخَمْرُ الْمُحَرَّمَۃُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالٰی ، ہِیَ الْخَمْرُ الَّتِی مِنْ عَصِیرِ الْعِنَبِ اِذَا نَشَّ الْعَصِیرُ وَأَلْقَی بِالزَّبَدِ ، ہٰکَذَا کَانَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ یَقُوْلُ .وَقَالَ أَبُوْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ : اِذَا نَشَّ ، وَاِنْ لَمْ یَلْقَ بِالزَّبَدِ ، فَقَدْ صَارَ خَمْرًا .وَلَیْسَ الْحَدِیْثُ الَّذِیْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ ، بِخِلَافِ ذٰلِکَ عِنْدَنَا ، لِأَنَّہٗ یَحْتَمِلُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِقَوْلِہٖ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ اِحْدَاہُمَا ، فَعَمَّہُمَا بِالْخِطَابِ وَأَرَادَ اِحْدَاہُمَا دُوْنَ الْأُخْرٰی کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ وَاِنَّمَا یَخْرُجُ مِنْ أَحَدِہِمَا .وَکَمَا قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ وَالرُّسُلُ مِنَ الْاِنْسِ لَا مِنَ الْجِنِّ .وَکَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ حَدِیْثِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اِذْ أَخَذَ عَلٰی أَصْحَابِہٖ فِی الْبَیْعَۃِ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ أَنْ لَا تُشْرِکُوْا ، وَلَا تَسْرِقُوْا ، وَلَا تَزْنُوْا .ثُمَّ قَالَ مَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوْقِبَ بِہٖ ، فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہٗ .
٦٢٨٣: ابو کثیر یمامی کہتے ہیں کہ میں یمامہ سے مدینہ آیا جبکہ لوگوں کے درمیان نبیذ کے اختلاف نے زور پکڑا میں نے اپنے آپ کو کہا کہ میں ضرور ابوہریرہ (رض) سے ملاقات کروں گا اور اس کے متعلق ان سے سوال کروں گا۔ چنانچہ میں ان سے ملا اور میں نے کہا اے ابوہریرہ (رض) ! میں نبیذ کے متعلق پوچھنے کے لیے یمامہ سے حاضر ہوا ہوں میں نے کہا آپ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد میرے سامنے نقل کیجئے اور کوئی بات نقل مت کریں۔ تو وہ فرمانے لگے میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ شراب انگور کی بیل اور کھجور سے بنتی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ شراب کھجور اور انگور دونوں سے ہوتی ہے انھوں نے اس روایت کو دلیل بنایا۔ وہ شراب جس کو کتاب اللہ میں حرام کہا گیا وہ انگور کا نچوڑ ہے جبکہ اسے جوش آئے اور وہ جھاگ پھینکے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔ قول ابو یوسف (رح) یہ ہے جب وہ جوش کرے اگرچہ وہ جھاگ پیدا نہ کرے وہ شراب بن جائے گی۔ شروع باب میں مذکورہ حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت وہ اس کے مخالف نہیں ہے۔ ” الخمر من ہاتین الشجرتین “ خطاب اگرچہ عام ہے مگر مراد ایک ہے جیسا کہ اس ارشاد الٰہی میں ” یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان “ (الرحمن۔ ٢٢) ان میں سے ایک سے یہ مونگے موتی نکلتے ہیں جیسا کہ فرمایا ” یٰمعشرالجن والانس “ (الانعام ١٣٠) دونوں اجناس کا ذکر فرما کر مراد انسان لیے ہیں کیونکہ رسول تو صرف انسانوں سے آئے ہیں نہ کہ جنات سے۔ جس طرح کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کہ حضرت عبادہ بن صامت والی روایت میں مذکور ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح صحابیات سے لی۔ ان لاتشرکو۔۔۔ کہ شرک نہ کرنا ‘ چوری نہ کرنا اور زنا نہ کرنا پھر فرمایا جو ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا پھر اسے سزا مل گئی وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ (بخاری فی الایمان باب : ١١)
تخریج : بخاری فی الایمان باب ١١‘ والحدود باب ٨‘ مسلم فی الحدود روایت ٤١‘ ترمذی فی الحدود باب ١٢‘ دارمی فی الیسیر باب ١٦‘ مسن داحمد ٥؍٣١٤۔
تخریج : بخاری فی الایمان باب ١١‘ والحدود باب ٨‘ مسلم فی الحدود روایت ٤١‘ ترمذی فی الحدود باب ١٢‘ دارمی فی الیسیر باب ١٦‘ مسن داحمد ٥؍٣١٤۔
6286
Al Tahawi۶۲۸۴: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ یُوْنُسُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِیْ اِدْرِیْسَ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ عَلِمْنَا مَنْ أَشْرَکَ ، فَعُوْقِبَ بِشِرْکِہِ فَلَیْسَ ذٰلِکَ بِکَفَّارَۃٍ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّہٗ اِنَّمَا أَرَادَ ، مَا سِوَی الشِّرْکِ ، مِمَّا ذَکَرَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .فَلَمَّا کَانَتْ ہٰذِہِ الْأَشْیَائُ ، قَدْ جَائَ تْ ظَاہِرُہَا عَلَی الْجَمْعِ ، وَبَاطِنُہَا عَلَی خَاص مِنْ ذٰلِکَ ، احْتَمَلَ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ ، النَّخْلَۃِ ، وَالْعِنَبَۃِ ظَاہِرَ ذٰلِکَ عَلَیْہِمَا ، وَبَاطِنَہٗ عَلٰی أَحَدِہِمَا ، فَیَکُوْنُ الْخَمْرُ الْمَقْصُوْدُ فِیْ ذٰلِکَ مِنَ الْعِنَبَۃِ ، لَا مِنَ النَّخْلَۃِ .وَیَحْتَمِلُ أَیْضًا قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ أَنْ یَکُوْنَ عَنَی بِہٖ الشَّجَرَتَیْنِ جَمِیْعًا وَیَکُوْنُ مَا خَمَرَ مِنْ ثَمَرِہِمَا خَمْرًا ، کَمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٌ فِیْمَا یُنْقَعُ مِنْ الزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ ، فَجَعَلُوْھُ خَمْرًا .وَیَحْتَمِلُ قَوْلُہٗ الْخَمْرُ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ : الْخَمْرَ مِنْہُمَا ، وَاِنْ کَانَتْ مُخْتَلِفَۃً ، عَلٰی أَنَّہَا مِنْ الْعِنَبِ ، مَا قَدْ عَلِمْنَاہُ مِنَ الْخَمْرِ ، وَعَلٰی أَنَّہَا مِنْ التَّمْرِ ، مَا یُسْکِرُ ، فَیَکُوْنُ خَمْرُ الْعِنَبِ ہِیَ عَیْنُ الْعَصِیرِ ، اِذَا اشْتَدَّ وَخَمْرُ التَّمْرِ ، ہُوَ الْمِقْدَارُ مِنْ نَبِیذِ التَّمْرِ الَّذِیْ یُسْکِرُ .فَلَمَّا احْتَمَلَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ہٰذِہِ الْوُجُوْہَ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، لَمْ یَکُنْ أَحَدُہَا بِأَوْلَی مِنْ بَقِیَّتِہَا ، وَلَمْ یَکُنْ لِمُتَأَوِّلٍ أَنْ یَتَأَوَّلَہٗ عَلٰی أَحَدِہَا اِلَّا کَانَ لِخَصْمِہِ أَنْ یَتَأَوَّلَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَمَا مَعْنَیْ حَدِیْثِ عُمَرَ ؟
٦٢٨٤: ابو ادریس خولانی نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جس آدمی نے شرک کیا پھر اس کو شرک کی سزا دے دی گئی یہ اس کے لیے کفارہ نہیں بنے گا جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ شرک کے علاوہ مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد شرک کے علاوہ گناہ ہیں جن کا تذکرہ اس روایت میں آیا ہے جب ان اشیاء کو ظاہری طور پر اکٹھا ذکر کیا حالانکہ حقیقی طور پر ان میں بعض خاص ہیں تو اسی طرح روایت : ” الخمر من ہاتین الشجرتین النخلۃ والعنبۃ “ ظاہری طور پر دونوں مذکور ہیں اور حقیقی طور پر ایک مراد ہے پس مقصودی شراب انگور سے بنتی ہے۔ ممکن ہے کہ دونوں کے درخت بھی مراد ہوں اور جو ان دونوں کے پھلوں میں سے خمر بنائی جائے وہ خمر ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہ قول ہے کہ جو کھجور اور انگور میں سے نچوڑ کر بنائی جائے وہ خمر ہے۔ اس خمر والی روایت سے مراد یہ ہے کہ شراب دونوں سے ہے اگرچہ وہ مختلف ہے جیسا کہ انگور سے ہم جانتے ہی ہیں اور کھجور میں سے وہ جو نشہ پیدا کرے پس اس لحاظ سے انگور کی شراب تو بعینہٖ وہی نچوڑ ہے جبکہ وہ گاڑھا ہوجائے اور کھجور کی شراب نبیذ تمر کی ایسی مقدار جو نشہ آور ہوجائے جب اس روایت میں ان وجوہات کا احتمال ہوا تو پھر ایک احتمال دوسرے سے کسی طور پر بھی اولیٰ نہیں ہر ایک اس کو دلیل بنا سکتا ہے۔ اس حدیث عمر کا پھر کیا مطلب ہوگا (روایت یہ ہے)
6287
Al Tahawi۶۲۸۵: یُرِیْدُ مَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ اِدْرِیْسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَیَّانَ التَّیْمِیَّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْت عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ أَمَّا بَعْدُ أَیُّہَا النَّاسُ ، اِنَّہٗ نَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ ، وَہِیَ یَوْمئِذٍ مِنْ خَمْسَۃٍ : التَّمْرِ ، وَالْعِنَبِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَۃِ ، وَالشَّعِیْرِ ، وَالْخَمْرُ : مَا خَامَرَ الْعَقْلَ .وَقَدْ رُوِیَ مِثْلُ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَالنُّعْمَانِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٦٢٨٥: شعبی نے ابن عمر (رض) سے اور وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) سے سنا وہ منبر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ فرما رہے تھے : اما بعد ! اے لوگو ! شراب کی حرمت اتری ان دنوں شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی : کھجور ‘ انگور ‘ شہد ‘ گندم ‘ جو اور خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔
تخریج : بخاری فی الاشربہ باب ٥‘ ٦‘ مسلم فی التفسیر روایت ٣٢‘ ٣٣‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ١‘ نسائی فی الاشربہ باب ٢٠۔
اس جیسی روایت ابن عمروالنعمان نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
تخریج : بخاری فی الاشربہ باب ٥‘ ٦‘ مسلم فی التفسیر روایت ٣٢‘ ٣٣‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ١‘ نسائی فی الاشربہ باب ٢٠۔
اس جیسی روایت ابن عمروالنعمان نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
6288
Al Tahawi۶۲۸۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْجِیزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ أَبِی النَّضْرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیْہِ‘ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا ، وَأَنْہَاکُمْ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ .
٦٢٨٦: سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انگور میں خمر ہے اور میں تمہیں ہر نشے والی چیز سے منع کرتا ہوں۔
تخریج : بخاری فی الاشربہ باب ١٠‘ مسلم فی الاشربہ روایت ٧٢‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤‘ مسند احمد ٤؍٢٧٣۔
تخریج : بخاری فی الاشربہ باب ١٠‘ مسلم فی الاشربہ روایت ٧٢‘ ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤‘ مسند احمد ٤؍٢٧٣۔
6289
Al Tahawi۶۲۸۷: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ مُوْسَی ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہٗ وَأَنْہَاکُمْ عَنْ کُلِّ مُسْکِرٍ .قِیْلَ لَہٗ : یَحْتَمِلُ ہٰذَانِ الْحَدِیْثَانِ ، جَمِیْعَ الْمَعَانِی الَّتِیْ یَحْتَمِلُہَا الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ ، غَیْرَ مَعْنًی وَاحِدٍ ، وَہُوَ مَا احْتَمَلَہُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ مِمَّا حَمَلَہٗ عَلَیْہِ مَنْ ذَہَبَ اِلٰی کَرَاہَۃِ نَقِیعِ التَّمْرِ وَالزَّبِیْبِ ، فَاِنَّہٗ لَا یَحْتَمِلُہُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، لِأَنَّہٗ قَرَنَ مَعَ ذٰلِکَ خَمْرَ الْحِنْطَۃِ وَخَمْرَ الشَّعِیْرِ ، وَہُمْ لَا یَقُوْلُوْنَ ذٰلِکَ ، لِأَنَّہُمْ لَا یَرَوْنَ بِنَقِیعِ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ بَأْسًا ، وَیُفَرِّقُوْنَ بَیْنَہُمَا وَبَیْنَ نَقِیعِ التَّمْرِ وَالزَّبِیْبِ ، فَذٰلِکَ التَّأْوِیْلُ ، لَا یَحْتَمِلُہُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ وَلٰـکِنَّہٗ یَحْتَمِلُ التَّأْوِیْلَاتِ الْأُخَرَ کَمَا یَحْتَمِلُہُ الْحَدِیْثُ الْأَوَّلُ .فَاِنْ احْتَجَّ فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رُوِیَ عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ :
٦٢٨٧: شعبی نے نعمان ابن بشیر (رض) اور انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت ذکر کی البتہ اس میں ” انہاکم عن کل مسکر “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ان دونوں روایاتوں میں وہ تمام احتمالات ہیں جو پہلی روایت میں ہم نے ذکر کئے البتہ ایک معنی کا احتمال نہیں جو کہ فقط پہلی روایت میں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جنہوں نے کھجور اور کشمش کے رس کو مکروہ قرار دیا ہے ان روایات میں اس معنی کا حتمال اس لیے نہیں کیونکہ پہلی روایت میں گندم اور جو اور شہد کی خمر کو بھی ساتھ ملایا گیا ہے اور فریق اول اس کا قائل نہیں کیونکہ ان کے خیال میں جو اور گندم کے نچوڑ میں کوئی حرج نہیں اسی لیے وہ ان کے نچوڑ اور کھجور اور کشمش کے نچوڑ میں فرق کرتے ہیں تو اس روایت میں اس تاویل کا احتمال نہیں بلکہ اس کے علاوہ تاویلات کا احتمال ہے۔ اگر کوئی معترض کہے کہ کچی اور پکی کھجوروں کا رس بھی ان کے ہاں خمر میں شمار ہوتا تھا جیسا کہ یہ روایات دلالت کرتی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤۔
تخریج : ابو داؤد فی الاشربہ باب ٤۔
6290
Al Tahawi۶۲۸۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ : ثَنَا أَبُو اِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیُّ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کُنَّا فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَنْبِذُ الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِیْمُ الْخَمْرِ أَہْرَقْنَاہُمَا مِنَ الْأَوْعِیَۃِ ، ثُمَّ تَرَکْنَاہُمَا .
٦٢٨٨: یزید بن ابی مریم نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کچی اور پکی کھجوروں کا نبیذ بناتے تھے جب شراب کی حرمت اتری تو ہم نے ان دونوں کو بھی برتنوں سے گرا دیا اور اس کو چھوڑ دیا۔
6291
Al Tahawi۶۲۸۹: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَسُہَیْلُ بْنُ الْبَیْضَائِ ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ عِنْدَ أَبِیْ طَلْحَۃَ وَأَنَا أَسْقِیْھِمْ مِنْ شَرَابٍ ، حَتّٰی کَادَ أَنْ یَأْخُذَ فِیْہِمْ .قَالَ : فَمَرَّ بِنَا مَارٌّ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَنَادَی أَلَا ہَلْ شَعَرْتُمْ ؟ اِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَوَاللّٰہِ مَا انْتَظَرَ أَنْ أَمَرُوْنِیْ أَنْ أُلْقِیَ مَا فِی الْآنِیَۃِ ، فَفَعَلْتُ فَمَا عَادُوْا فِیْ شَیْئٍ مِنْہَا ، حَتّٰی لَقُوْا اللّٰہَ ، وَاِنَّہَا لَلْبُسْرُ وَالتَّمْرُ وَاِنَّہَا لَخَمْرُنَا یَوْمئِذٍ .
٦٢٨٩: حمیدالطویل کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے ذکر کیا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جرح ‘ سہیل بن بیضاء اور ابی ابن کعب حضرت ابو طلحہ کے پاس مہمان تھے اور میں ان کو شراب پلا رہا تھا قریب تھا کہ شراب ان پر اپنا اثر کر جائے کہ ہمارے پاس سے ایک مسلمان کا گزر ہوا اس نے زور سے آواز دی۔ سنو کیا تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ شراب حرام کردی گئی ہے اللہ کی قسم ! انھوں نے ذرا انتظار نہیں کیا مجھے حکم دیا کہ جو کچھ برتنوں میں ہے۔ میں وہ سب انڈیل دوں میں نے فوراً ایسا کردیا پھر وہ اس میں سے کسی چیز کی طرف بھی نہیں لوٹے۔ یہاں تک کہ ان کی وفات ہوئی اور بلاشبہ وہ کچی اور پکی کھجور تھی اور ان دنوں ہماری وہی شراب تھی۔
6292
Al Tahawi۶۲۹۰: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ ، قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَہٗ۔
٦٢٩٠: حمید نے حضرت انس (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔