hadith book logo

Al Tahawi

9. غلام آزاد کرنے کا بیان

الطحاوي

4578
Al Tahawi
۴۵۷۸: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ کَثِیْرِ بْنِ عُفَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ دَاوٗدَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ شُرَکَائِہٖ، قُوِّمَ عَلَیْہِ قِیْمَتُہٗ، وَعَتَقَ
٤٥٧٨: عمرو بن دینار نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روایت کی ہے کہ جس نے ایسا غلام فروخت کیا جو مشترک ہے تو اس کے ذمہ اس کی قیمت ہوگی اور وہ غلام مکمل آزاد ہوجائے گا۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ٤‘ مسلم فی العتق ١‘ مسند احمد ٢‘ ١٠٥؍١٤٢۔
4579
Al Tahawi
۴۵۷۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ أَعْتَقَ جُزْئً ا لَہٗ مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ ، حُمِلَ عَلَیْہِ مَا بَقِیَ فِیْ مَالِہٖ ، حَتّٰی یَعْتِقُ کُلُّہُ جَمِیْعًا قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ بَیْنَ رَجُلَیْنِ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُہُمَا نَصِیْبَہٗ، ضَمِنَ قِیْمَۃَ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ مُوْسِرًا کَانَ أَوْ مُعْسِرًا وَقَالُوْا : قَدْ جُعِلَ الْعَتَاقُ مِنِ الشَّرِیْکِ ، جِنَایَۃً عَلٰی نَصِیْبِ شَرِیْکِہٖ، یَجِبُ عَلَیْہِ بِہَا ضَمَانُ قِیْمَتِہِ فِیْ مَالِہٖ ، وَکَأَنَّ مَنْ جَنَیْ عَلَی مَالٍ لِرَجُلٍ وَہُوَ مُوْسِرٌ أَوْ مُعْسِرٌ ، وَجَبَ عَلَیْہِ ضَمَانُ مَا أَتْلَفَ بِجِنَایَتِہٖ، وَلَمْ یَفْتَرِقْ حُکْمُہٗ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ کَانَ مُوْسِرًا أَوْ مُعْسِرًا ، فِیْ وُجُوْبِ الضَّمَانِ عَلَیْہِ قَالُوْا : فَکَذٰلِکَ لَمَّا وَجَبَ عَلَی الشَّرِیْکِ ضَمَانُ قِیْمَۃِ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ لِعَتَاقِہٖ، لَمَّا کَانَ مُوْسِرًا ، وَجَبَ عَلَیْہِ ضَمَانُ ذٰلِکَ أَیْضًا اِذَا کَانَ مُعْسِرًا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجِبُ الضَّمَانُ عَلَیْہِ لِقِیْمَۃِ نَصِیْبِ شَرِیْکِہِ لِعَتَاقِہِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مُوْسِرًا وَقَالُوْا : حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ہٰذَا، اِنَّمَا الضَّمَانُ الْمَذْکُوْرُ فِیْہِ، عَلَی الْمُوْسِرِ خَاصَّۃً ، دُوْنَ الْمُعْسِرِ ، قَدْ بُیِّنَ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ غَیْرِ ہٰذِہِ الْآثَارِ فَمَا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٥٧٩: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جس شخص نے اپنے غلام یا لونڈی کا کوئی حصہ آزاد کردیا اس کا بقیہ مال (یعنی قیمت) اس پر ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ غلام مکمل آزاد ہوجائے گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ اپنے شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضامن ہوگا خواہ وہ مالدار ہو یا تنگ دست نیز یہ کہ ایک شریک کی طرف سے غلام کو آزاد کرنا دوسرے شریک کے حصہ میں جنایت و جرم قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے مال میں شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضمان ہوتا ہے اور جو آدمی کسی کے مال کو نقصان پہنچاتا ہے وہ مالدار ہو یا تنگدست اس پر اس چیز کی ضمان لازم آتی ہے جس مال کو اس نے جنایت کر کے ضائع کیا اور ان کے ہاں وجوب ضمان کے سلسلہ میں تنگدست اور مالدار میں کوئی فرق نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح جب غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ایک شریک پر دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بطور ضمان اس کے مالدار ہونے کی صورت میں لازم ہوتی ہے تو تنگدستی کی حالت میں بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے۔ ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آزادی کی صورت میں شریک کے حصہ کی قیمت اسی صورت میں لازم ہوگی جب وہ خوش حال ہو۔ انھوں نے کہا کہ روایت ابن عمر (رض) میں مذکورہ ضمان خوش حال ہونے کی حالت میں مذکور ہے تنگ دست ہونے کی حالت اس میں داخل نہیں اور یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود ابن عمر (رض) کی دوسری روایت میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو تو وہ اپنے شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضامن ہوگا خواہ وہ مالدار ہو یا تنگ دست نیز یہ کہ ایک شریک کی طرف سے غلام کو آزاد کرنا دوسرے شریک کے حصہ میں جنایت و جرم قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے مال میں شریک کے حصہ کے مطابق قیمت کا ضمان ہوتی ہے اور جو آدمی کسی کے مال کو نقصان پہنچاتا ہے وہ مالدار ہو یا تنگدست اس پر اس چیز کی ضمان لازم آتی ہے جس مال کو اس نے جنایت کر کے ضائع کیا اور ن کے ہاں وجوب ضمان کے سلسلہ میں تنگدست اور مالدار میں کوئی فرق نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ اسی طرح جب غلام آزاد کرنے کی وجہ سے ایک شریک پر دوسرے شریک کے حصہ کی قیمت بطور ضمان اس کے مالدار ہونے کی صورت میں لازم ہوتی ہے تو تنگدستی کی حالت میں بھی اسی طرح واجب ہوتی ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : دوسرے علماء کہتے ہیں کہ آزادی کی صورت میں شریک کے حصہ کی قیمت اسی صورت میں لازم ہوگی جب وہ خوش حال ہو۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : روایت ابن عمر (رض) میں مذکورہ ضمان خوش حال ہونے کی حالت میں مذکور ہے تنگ دست ہونے کی حالت اس میں داخل نہیں اور یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کر رہے ہیں بلکہ خود ابن عمر (رض) کی دوسری روایت میں مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
4580
Al Tahawi
۴۵۸۰: مَا قَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ عَبْدٍ ، فَکَانَ لَہُ مَالٌ یَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ، قُوِّمَ عَلَیْہِ قِیْمَۃُ الْعَبْدِ ، فَأَعْطَی شُرَکَائَ ہُ حِصَصَہُمْ ، وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ وَاِلَّا فَقَدْ عَتَقَ عَلَیْہِ مَا عَتَقَ
٤٥٨٠: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس آدمی نے غلام مشترک میں اپنا حصہ آزاد کردیا اور اس کے پاس اتنی رقم ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ سکے تو غلام کی قیمت کا اندازہ کر کے وہ اپنے شرکاء کو ان کا حصہ ادا کرے یہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا ورنہ اس کی طرف سے اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا وہ آزاد کرے گا۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ٤‘ واشر کہ باب ٥‘ مسلم فی العتق ١‘ والایمان ٤٧؍٤٨‘ ابو داؤد فی العتاق باب ٦‘ ترمذی فی الاحکام باب ١٤‘ ابن ماجہ فی العتق باب ٧‘ مسند احمد ٢؍١٥‘ ٧٧‘ ١١٢‘ ١٥٦؍١٤٢۔
4581
Al Tahawi
۴۵۸۱: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُوْبَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ ، وَکَانَ لِلَّذِیْ یَعْتِقُ نَصِیْبُہُ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَہٗ، فَہُوَ عَتِیْقٌ کُلُّہُ
٤٥٨١: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنے مشترک غلام کو آزاد کیا اور وہ جو اپنا حصہ آزاد کررہا ہے اس کے پاس اگر اتنی رقم ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتی ہو تو وہ غلام تمام کا تمام آزاد ہوجائے گا۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ٤‘ نسائی فی البیوع باب ١٠٦‘ مسند احمد ٢؍١٥۔
4582
Al Tahawi
۴۵۸۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أُسَامَۃَ ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ ، فَعَلَیْہِ عِتْقُہُ کُلِّہٖ، اِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ یَبْلُغُ ثَمَنَہٗ، وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ ، فَیُقَوَّمُ قِیْمَۃَ عَدْلٍ عَلَی الْمُعْتِقِ ، وَقَدْ عَتَقَ بِہٖ مَا عَتَقَ
٤٥٨٢: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنا مشترک غلام فروخت کیا تو اس پر لازم ہے کہ اس سارے کو آزاد کرے بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ سکتا ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو پھر غلام کی قیمت لگائی جائے اور یہ انصاف والی قیمت آزاد کرنے والے کے ذمہ ہوگی اور جتنا اس نے آزاد کیا وہ اتنا ہی آزاد ہوگا۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ٤؍١٧‘ مسلم فی الایمان ٤٨‘ ابو داؤد فی العتاق باب ٦‘ مسند احمد ٦؍٥٣‘ ١٤٢۔
4583
Al Tahawi
۴۵۸۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ ، فَقَدْ عَتَقَ کُلُّہٗ، فَاِنْ کَانَ لِلَّذِی أَعْتَقَہٗ مِنَ الْمَالِ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَہٗ، فَعَلَیْہِ عِتْقُہُ کُلِّہِ
٤٥٨٣: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے مشترک غلام آزاد کیا تو گویا وہ تمام آزاد ہوگیا اگر آزاد کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ سکتا ہو۔ تو غلام کو پورا آزاد کرنا اس پر لازم ہوگیا۔
سابقہ تخریج کو ملاحظہ فرمائیں۔
4584
Al Tahawi
۴۵۸۴: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، قَالَ : ثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یُفْتِیْ فِی الْعَبْدِ أَوْ الْأَمَۃِ ، یَکُوْنُ أَحَدُہُمَا بَیْنَ شُرَکَائَ ، فَیُعْتِقُ أَحَدُہُمْ نَصِیْبَہٗ مِنْہٗ، فَاِنَّہٗ یَجِبُ عِتْقُہُ عَلَی الَّذِی أَعْتَقَہُ اِذَا کَانَ لَہٗ مِنَ الْمَالِ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَہُ یُقَوَّمُ فِیْ مَالِہِ قِیْمَۃَ عَدْلٍ، فَیَدْفَعُ اِلَی شُرَکَائِہٖ أَنْصِبَائَ ہُمْ ، وَیُخَلِّیْ سَبِیْلَ الْعَبْدِ ، یُخْبِرُ بِذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ ابْنُ عُمَرَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٤٥٨٤: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ ابن عمر (رض) اس غلام یا لونڈی کے متعلق فتویٰ دیتے جو مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے۔ تو اب جس نے آزاد کیا اسے سارے غلام کو آزاد کرنا لازم ہوگیا جبکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت تک پہنچ سکتا ہو۔ چنانچہ انصاف سے اس کے مال میں قیمت لگائی جائے اور اس کے شرکاء کو ان کے حصہ جات ادا کرے اور غلام کا راستہ چھوڑ دے اور عبداللہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے اسی طرح سنا ہے۔
4585
Al Tahawi
۴۵۸۵: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیْہَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا کَانَ الْعَبْدُ بَیْنَ اثْنَیْنِ ، فَأَعْتَقَ أَحَدُہُمَا نَصِیْبَہٗ، فَاِنْ کَانَ مُوْسِرًا ، فَاِنَّہٗ یُقَوَّمُ عَلَیْہِ بِأَعْلَی الْقِیْمَۃِ ، ثُمَّ یَعْتِقُ قَالَ سُفْیَانُ : وَرُبَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ قِیْمَۃَ عَدْلٍ ، لَا وَکْسَ فِیْہَا وَلَا شَطَطَ .فَثَبَتَ بِتَصْحِیْحِ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، أَنَّ مَا رَوَاہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ ، اِنَّمَا ہُوَ فِی الْمُوْسِرِ خَاصَّۃً .فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِیْ حُکْمِ عَتَاقِ الْمُعْسِرِ کَیْفَ ہُوَ ؟ فَقَالَ قَائِلُوْنَ : قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْہُ مَا عَتَقَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ مَا بَقِیَ مِنَ الْعَبْدِ لَمْ یَدْخُلْہُ عَتَاقٌ ، فَہُوَ رَقِیْقٌ لِلَّذِی لَمْ یُعْتِقْ عَلٰی حَالِہِ وَخَالَفَہُمْ آخَرُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَالُوْا : بَلْ یَسْعَی الْعَبْدُ فِیْ نِصْفِ قِیْمَتِہِ لِلَّذِی لَمْ یُعْتِقْہُ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَدْ رَوَیْ ذٰلِکَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَمَا رَوَاہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَزَادَ عَلَیْہِ شَیْئًا بَیَّنَ بِہٖ کَیْفَ حُکْمُ مَا بَقِیَ مِنَ الْعَبْدِ بَعْدَ نَصِیْبِ الْمُعْتِقِ
٤٥٨٥: سالم نے اپنے والد سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا جب غلام میں دو شریک ہوں ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا اگر وہ خوش حال ہے تو غلام کی اعلیٰ قیمت لگائی جائے گی پھر وہ غلام آزاد ہوجائے گا۔ سفیان کہتے ہیں عمرو بن دینار نے بعض اوقات قیمت عدل ” لاوکس فیہا ولا شطط “ کہا کہ انصاف والی قیمت لگائی جائے نہ کم نہ زیادہ کے لفظ استعمال کئے۔ ان روایات نے یہ ثابت کردیا کہ ابن عمر (رض) کی ابتداء باب میں مذکورہ روایات میں عتاق موسر کا تذکرہ ہے۔ اب ہم عتاق معسر کا حکم دیکھنا چاہیں گے کہ وہ کیا ہے تو کہنے والوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر وہ خوشحال نہیں تو اس نے جتنا آزاد کیا آزاد ہوجائے گا اس سے ثابت ہوا کہ غلام کا جو حصہ باقی ہے اس پر آزادی کا اثر نہیں ہوا پس جس نے حصہ آزاد نہیں کیا وہ اس کا اسی طرح غلام رہے گا۔ غلام دوسرے شریک کے لیے جس نے آزاد نہیں کیا سعی کرے گا (اور کما کر قیمت کا بقیہ حصہ ادا کرے گا) اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے جیسا کہ ابن عمر (رض) نے اس کو روایت کیا اور اس میں کچھ اضافہ نقل کیا ہے جس میں آزاد کرنے والے کے آزاد کرنے کے بعد بقیہ حصہ داروں کے حصہ کا حکم واضح بیان فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری فی العتق باب ٤‘ مسلم فی الایمان ٥‘ ابو داؤد فی العتاق باب ٦‘ ترمذی فی البیوع باب ٦٥‘ مسند احمد ٢؍١١۔
حاصل روایات ان روایات نے یہ ثابت کردیا کہ ابن عمر (رض) کی ابتداء باب میں مذکورہ روایات میں عتاق موسر کا تذکرہ ہے۔
عتاق معسر کا حکم :
اب ہم عتاق معسر کا حکم دیکھنا چاہیں گے۔
فریق اوّل کا مؤقف : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر وہ خوشحال نہیں تو اس نے جتنا آزاد کیا آزاد ہوجائے گا اس سے ثابت ہوا کہ غلام کا جو حصہ باقی ہے اس پر آزادی کا اثر نہیں ہوا پس جس نے حصہ آزاد نہیں کیا وہ اس کا اسی طرح غلام رہے گا۔
فریق ثانی کا مؤقف : غلام دوسرے شریک کے لیے جس نے آزاد نہیں کیا سعی کرے گا (اور کما کر قیمت کا بقیہ حصہ ادا کرے گا) اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے جیسا کہ ابن عمر (رض) نے اس کو روایت کیا اور اس میں کچھ اضافہ نقل کیا ہے جس میں آزاد کرنے والے کے آزاد کرنے کے بعد بقیہ حصہ داروں کے حصہ کا حکم واضح بیان فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو۔
4586
Al Tahawi
۴۵۸۶: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِیْرِ بْنِ نَہِیْکٍ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِیْبًا أَوْ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ ، فَعَلَیْہِ خَلَاصُہُ کُلِّہِ فِیْ مَالِہٖ ، فَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ ، اُسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ غَیْرُ مَشْقُوْقٍ عَلَیْہِ
٤٥٨٦: بشیر بن نھیک نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس آدمی نے اپنا حصہ یا غلام میں شراکت کو آزاد کردیا تو اس پر لازم ہوگیا کہ وہ تمام کو اپنے مال میں سے آزاد کرائے اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام کمائی کرے مگر اس پر اتنا کام ڈالا جائے جتنا وہ کرسکے۔
لغات : استسعاء۔ کمانا۔ غیر مشقوق علیہ۔ اس پر سخت کام نہ ڈالا جائے۔
4587
Al Tahawi
۴۵۸۷: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : ثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔
٤٥٨٧: ابان بن یزید نے قتادہ سے نقل کیا پھر انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی۔